آداب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
قبل اس کے کہ صحابہ کے آداب بیان کئے جائیں مناسب سمجھا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فضائل بیان کئے جائیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ آدمی اسی کا ادب کرتا ہے جس کی عظمت اس کے دل میں ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب آدم علیہ السلام جنت سے نکلے تو دیکھا کہ ساقِ عرش پر اور جنت میں ہر جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ لکھا ہوا ہے، عرض کیا یارب یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ ارشاد ہوا کہ وہ تمہارے فرزند ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ عرض کیا یارب اس فرزند کی حرمت سے اس والد پر رحم کر۔ نداء آئی کہ اے آدم اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے کل زمین آسمان والوں کے حق میں سفارش کرتے تو بھی ہم قبول کرلیتے۔
اور ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آدم علیہ السلام سے گناہ صادر ہوا تو عرش کی طرف سر اٹھاکر دعا کی کہ الٰہی بحق محمدصلی اللہ علیہ وسلم مجھے بخش دے۔ ان پر وحی ہوئی کہ محمد کون۔ عرض کیا الٰہی جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں عرش کی طرف سر اٹھاکر دیکھا تو اس پر لکھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس سے میں نے جانا کہ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے اس سے زیادہ کسی شخص کا مرتبہ تیرے پاس بلند نہ ہوگا وحی آئی کہ اے آدم تمہاری اولاد میں وہ سب نبیوں کے آخر ہوں گے اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو بھی نہ پیداکرتا انتہی۔
یہ روایتیں اور اسی قسم کی دوسری کئی روایتیں جن میں مذکور ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک جنت کے ہر مقام میںاور ہر درخت کے پتوں اور حوروں کے سینوں وغیرہ میں مکتوب ہے ہم نے ’’انوار احمدی‘‘ میں نقل کرکے ان سے متعلق ضروری مباحث بھی کیے ہیں۔ یہاں کئی امور قابل توجہ ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ساق عرش پر اور جنت کے ہر مقام میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کو لکھا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدیم سے لکھا ہوا ہے کیوں کہ آدم علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی جب سر اٹھاکر دیکھا تو نامِ مبارک کو عرش پر لکھا پایا۔ یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نامِ مبارک کوعرش پر اور جنت کے ہر مقام میں لکھنے سے کیا غرض ہوگی۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ معاذ اللہ کسی قسم کی شرکت ملائکہ وغیرہ کو معلوم کرواناہو جیساکہ مشترکہ کارخانوں میں شرکاء کے نام جگہ جگہ لکھے رہتے ہیں پھر یہ لکھنا اس زمانہ میں تھا کہ حضرت کا وجود بھی نہ تھا۔ اگر لکھنے کے وقت حضرت موجود ہوتے تو یہ خیال کیا جاسکتا کہ کوئی کام حضرت کا پسند آگیا ہوگا۔ اس لئے خاطر سے یا خوش کرنے کے لئے لکھا گیا۔ ادنیٰ تامل سے یہی ثابت ہوگا کہ حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ تمام عالم علوی میں آپ کی عظمت متمکن اور ذہن نشین ہوجائے کیوں کہ اس عالم کے رہنے والوں کی نظر جب اس نام پاک پر ہر وقت پڑتی رہے گی اور معلوم ہوگا کہ حق تعالیٰ نے اپنے نام مبارک کے ساتھ ہر جگہ آپ کا نام لکھا ہے تو ضرور ہر شخص کا خیال اس طرف متوجہ ہوگا جب عالم علوی کے موجودہ اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں سے کسی معزز و مکرم فرشتہ کا نام نہیں لکھا گیا اور جس کا نام مبارک لکھا گیا وہ موجود نہیں تو وہ ضرور ایسے شخص ہیں کہ تمام اولین و آخرین میں سب سے افضل اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک سب سے معظم و مکرم ہیں اور ان کے قدوم میمنت لزوم کی آمد آمد کے انتظار میں تمام عالم علوی رہے گا۔ اب غور کیجئے کہ اگر کسی ملک کا بادشاہ اپنے نام کے ساتھ کسی معزز شخص کا نام مختلف مقامات میں لکھ کر لگائے تو تمام ملک میں وہ شخص کیسا معزز سمجھا جائے گا پھر جب خدائے تعالیٰ نے حضرت کے نام مبارک کو تمام عالم علوی میں ہر جگہ اپنے نام کے ساتھ لکھا تو ساری خدائی میں آپ کی کس قدر عزت و عظمت سمجھنی چاہئے ۔ مگر بات یہ ہے کہ عالم علوی کے حالات کو سوائے اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے کون جانے عالم سفلی میں ابوالبشر علیہ السلام کی نظر کا کوئی شخص ہو تو وہ جان سکتا ہے بادشاہ کے نام کے ساتھ جس کا نام لکھاہو اس کی عزت وہی کرے گا جو آدمی ہو جانوروں کو اس سے کیا تعلق۔ اسی طرح ناواقف بہائم سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو کیاجانیں۔
الحاصل حق تعالیٰ نے عرش اور جنتوں میں جو آپ کا نام ہر مقام میں لکھا اس سے یہی ثابت کرنا مقصود ہے کہ تمام عالم میں آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسا عظمت و عزت والا نہ کوئی فرشتہ ہے نہ آدمی۔
روایات مذکورہ میں جو وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ عرش وغیرہ پر لکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہے جیسا کہ دوسری روایت سے ثابت ہے اس سے ظاہر ہے کہ کلمہ طیبہ جس پر ہمارے دین میں مدارِ اسلام ہے وہ قدیم ہے۔ کل فرشتے بھی وہی کلمہ پڑھتے تھے اور جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہی بات اس حدیث شریف سے بھی ثابت ہے جو حضرت نے فرمایا کہ میں اس وقت نبی تھا کہ آدم ہنوز پانی اور کیچڑ میں تھے، کیوں کہ اس وقت کوئی فرشتہ نہیں جانتا تھا کہ آدم علیہ السلام یا ان کی اولاد میں کوئی نبی ہونے والے ہیں بلکہ سب یہی جانتے تھے کہ اگر رسول اللہ ہیں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب یہ امر بخوبی مسلمانوں کے ذہن نشین ہوجائے تو اس کے بعد ابن عبدالوہاب نجدی جس کی طرف فرقہ وہابیہ منسوب ہے اس کی تقریر پر بھی غور کرلیا جائے کہ اس نے مسلمانوں کو کیسے دھوکہ میں ڈال دیا۔ اس کا مقصد یہ تھاکہ سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کی عظمت ثابت نہ ہونے پائے اس لئے جتنی آیات و احادیث حضور کی فضیلت میں وارد ہیں ان پر کلام کرکے ان آیات واحادیث کو پیش کیا جن میں بظاہر کسر شان معلوم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس فرقہ کی تعلیم میں یہ بات داخل ہے کہ اس قسم کی آیات و احادیث کو ازبر کرادیتے ہیں اور فضائل سے متعلق نصوص میں اقسام کی تاویلات اور توجیہات کرتے ہیں۔
چنانچہ رسول کے معنی میں جس قدر عظمت و علو شان تھی اسی قدر لفظ رسول سے اس نے توہین نکالی۔ لکھا ہے کہ رسول ایسے کم درجے کے نوکر کو کہتے ہیں جو کسی معزز شخص کے پاس پیام پہنچانے کی غرض سے بھیجا جاتا ہے۔ اس وجہ سے معزز و معظم وہی ہوگا جس کے پاس رسول بھیجا جائے۔ دیکھئے تعصب نے اسے کہاں سے کہاں لے گیا اور ایک جماعت اس کے تابع ہوگئی، چنانچہ تلاحق افکار سے اس میں موشگافیاں ہوتے ہوتے اب تو یہ نوبت آگئی کہ محمد رسول اللہ کو کلمہ ہی سے نکالدیا چنانچہ یہ فرقہ حیدرآباد میں اس وقت موجود ہے اب ان سے پوچھئے تو بھی کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو پیام پہنچاکر چلے گئے۔ اب ان سے تعلق ہی کیا۔ عمل کرنے کیلئے قرآن موجود ہے، اس دھوکہ میں بے علم مسلمان آجاتے ہیں اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے یہ لوگ غور کریں کہ جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اس وقت فرشتے حضور کا کلمہ پڑھتے تھے، حالانکہ حضور نے کوئی انہیں پیام نہیں پہنچایا جس سے آپ کو رسول ماننے کی ضرورت ہو۔ بخلاف ہمارے کہ ہم حضرت کی امت میں ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ بخاری مسلم وغیرہ کی روایتوں سے ثابت ہے کہ جب مردہ قبر میں رکھا جاتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ان کے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتا ہے، ایماندار تو کہدے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، فرشتے اس کیلئے جنت کی کھڑکی کھول دیں گے، جس سے جنت کی ٹھنڈی ہوا آتی رہے گی ا ور وہ اس کی سیر کرتا رہے گا اور منافق و کافر کہیں گے کہ میں نہیں جانتا لوگ جیسا کہتے تھے میں بھی کہتا تھا۔ فرشتے لوہے کے گرزوں سے اسے خوب ماریں گے۔ انتہی ملخصا۔
اب غور کیجئے کہ جو لوگ کلمہ محمد رسول اللہ نہیں پڑھتے قبر میں ان کا کیا حال ہوگا اور جو لوگ پڑھتے ہیں وہ کیسے نازونعمت میں رہیں گے۔یہ لوگ اپنے کو مسلمان سمجھتے ہیں اور نماز و روزہ وغیرہ بھی بڑے اہتمام سے ادا کرتے ہیں اور اکثر اعتقادات میں اہل سنت وجماعت کے موافق بھی ہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء اولیاء کی تعظیم کے مسئلہ پر مخالفت کرتے ہیں، اس کا منشا یہ ہوا کہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی عظمت کو پیش نظر رکھ کر یہ خیال کیا کہ اگر کسی اور کی بھی تعظیم کی جائے تو خدائے تعالیٰ کی عظمت میں کمی ہوجائے گی، اس وجہ سے ایسے آیات و احادیث تلاش کرنے کی انہیں ضرورت ہوئی کہ جس سے ان مقربانِ بارگاہ الٰہی کی کسرِشان ہو اور یہ خیال یہاں تک انہیں پہنچایا کہ جن نصوص میں ان حضور کی عظمت وارد ہے ان میں بھی کلام کرنے لگے اور یہ خیال نہیں کیا کہ اس سے خدائے تعالیٰ پر الزام عائد ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ ہر طرح کی تعظیم کی جائے۔ معاذاللہ شرک کی بنیاد قائم کی دیکھئے حق تعالیٰ فرماتا ہے
انا ارسلناک شاہداومبشراونذیرا لتومنوا باللہ و رسولہ وتعزروہ وتوقروہ وتسبحوہ بکرۃ واصیلا ان الذین یبایعونک انمایبایعون اللّٰہ یداللّٰہ فوق ایدیہم 
اس آیت شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے آپ کو شاہد بناکر بھیجا۔یعنی اپنی امت اور جمیع انبیاء کے کاموں پر گواہی دینے والے اور فرمایا کہ آپ اہل ایمان کو خوش خبری دینے والے اور بے ایمانوں کو ڈرانے والے ہیں۔ یہاں تک تو حضرت کی طرف خطاب تھا اس کے بعد مسلمانوں کی طرف خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے ان کو اس واسطے بھیجا ہے کہ تم خدا اور رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام ان کی پاکی بیان کرتے رہو۔ اے رسول اللہ جو لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے صرف اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے انتہی۔ لیجئے یہاں توکچھ اور ہی معاملہ ہورہا ہے کہ غیریت اٹھادی جارہی ہے اور من توشدم تو من شدی کا مسلمانوں کو ارشاد ہورہا ہے کہ ان کی تعظیم و توقیر کرو۔ اب اگر کہا جائے کہ یہ تعظیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے تو بھی صحیح ہے اور اگر کہا جائے کہ خاص حق تعالیٰ کی وہ تعظیم و توقیر ہے تو بھی صحیح ہے، جس طرح بیعت میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور کسر شان کرے تو وہ بھی خدا کی توہین ہوگی۔ چنانچہ یہی بات صاف طور پر حدیث شریف میں وارد ہے من سبّنی فقد سبّ اللّٰہ یعنی جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو گالی دی۔ گالی وہی نہیں ہوتی جو عرف میں مشہور ہے بلکہ مقصود گالی سے فقط کسرِ شان مقصود ہوتاہے۔ اس وجہ سے جس بات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرِ شان بیان کی جائے وہی گالی ہوگی۔ درمنثور میں تعزروہ و توقیروہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت شریفہ کا مطلب یہ بیان کیاکہ امراللہ بتسویدہ وتفخیمہ و تشریفہ و تعظیمہ یعنی خدائے تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ حضرت کی سیادت تسلیم کرو اور ان کی تعظیم کرو اور ہر قسم کا شرف آپ کے لئے مسلم رکھواور نہایت بزرگ سمجھو۔ اب غور کیجئے کہ خدائے تعالیٰ تو حضرت کی سیادت اور تعظیم کے لئے ارشاد فرماتا ہے اور آخری زمانہ کے بعض لوگ رسول کے معنی ہر کارہ لیکر توہین کرتے ہیں۔کس قدر خدائے تعالیٰ کی مخالفت کی جارہی ہے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کے جوابات دے کر حضرت کی فضیلت ثابت کریں۔ استیعاب میں حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ مشرکینِ قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے کسی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہا کہ ہماری طرف سے آپ جواب دیجئے اور ان کی ہجو کیجئے۔ فرمایا اگر حضور مجھے اجازت دیں تو میںیہ کام کردوں گا۔ لوگوں نے حضور سے درخواست کی کہ علی کرم اللہ وجہہ کو اجازت دی جائے۔ فرمایا کہ علی اس باب میں اس درجہ میں نہیں ہیں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیاروں سے مدد کی۔ زبان سے مدد کرنے میںان کو کوئی چیز مانع ہے۔ یہ سن کر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آمادہ ہوئے ان سے فرمایا تم ان کی کس طرح ہجو کرو گے، حالانکہ میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں ابوسفیان کی تم کس طرح ہجو کرو گے وہ تو میرے چچا کا بیٹا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میں ان میں سے آپ کو ایسے علحدہ کرلوں گا جیسے خمیر سے بال، فرمایا ابوبکررضی اللہ عنہکے پاس جاؤ، کیوں کہ وہ ان لوگوں کے انساب سے تم سے زیادہ واقف ہیں، چنانچہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہکے پاس جاکر انساب سے وقفیت حاصل کی۔
مشکوٰۃ میں بخاری شریف سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابترضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر رکھواتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاخر و فضائل بیان کرتے اور کفار جو حضور کی ہجو کرتے اس کا جواب دیا کرتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تک حسان کفار کے جواب دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر بیان کرتے ہیں حق تعالیٰ روح القدس سے ان کو تائید اور مدد دیتا ہے۔انتہی
دیکھئے آنحضرت کے فضائل بیان کرنے اور ہجو کے جواب دینے کا بارگاہ نبوی میں کس قدر اہتمام تھا کہ جس طرح احکام شرعیہ بیان کرنے کے لئے منبر رکھاجاتا ہے، اس کے لئے بھی رکھا جاتا تھا اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہجو اس کام کے لئے موزوں تھے اس پر کھڑے ہوتے اور علی رؤس الاشہاد بطور خطبہ اشعار نعتیہ پڑھتے اور جو لوگ حضور کی ہجو کرتے ان کا جواب دیکر ان کی ہجو کرتے اور جب تک وہ اس کام میں مصروف رہتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی طرف سے روح القدس ان کی مدد کرتے رہتے۔ہر چند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں کمال درجہ کی تواضع اور حلم اور عفو تھا نشست و برخاست میں کسی قسم کی تعلی ظہور میں نہ آتی۔ جیسا کہ سیر میں مصرحہ ہے مگر جب کوئی ہجو کرتا ہے تو آپ منجانب اللہ مامور ہوتے کہ اس کا جواب آپ نہ دیں بلکہ کسی مسلمان سے دلوادیں اب اہلِ اسلام غور کریں کہ یہ جو لوگ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرِ شان کرتے ہیں ان کا جواب دینا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل ان کے مقابلہ میں بیان کرنا مسلمانوں کا فرض ہے یا نہیں، اور یہ امر مسنون سمجھا جائے گا یا نہیں پھر جو کہا جاتا ہے کہ واعظین بجائے وعظ و نصیحت کے اس قسم کے مضامین وعظ میں بیان کرتے ہیں اس کے اصلاح کی ضرورت ہے، یہ کہاں تک صحیح ہے۔ ان احادیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تک واعظین اور مصنفین اس کام میں مصروف رہیں، منجانب اللہ بذریعہ روح القدس ان کی تائید ہوتی رہے گی۔
(اقتباس مقاصد الاسلام حصہ یازدہم)
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
آداب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
قبل اس کے کہ صحابہ کے آداب بیان کئے جائیں مناسب سمجھا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند فضائل بیان کئے جائیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ اس لئے کہ آدمی اسی کا ادب کرتا ہے جس کی عظمت اس کے دل میں ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب آدم علیہ السلام جنت سے نکلے تو دیکھا کہ ساقِ عرش پر اور جنت میں ہر جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ لکھا ہوا ہے، عرض کیا یارب یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ ارشاد ہوا کہ وہ تمہارے فرزند ہیں۔ اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ عرض کیا یارب اس فرزند کی حرمت سے اس والد پر رحم کر۔ نداء آئی کہ اے آدم اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے کل زمین آسمان والوں کے حق میں سفارش کرتے تو بھی ہم قبول کرلیتے۔
اور ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آدم علیہ السلام سے گناہ صادر ہوا تو عرش کی طرف سر اٹھاکر دعا کی کہ الٰہی بحق محمدصلی اللہ علیہ وسلم مجھے بخش دے۔ ان پر وحی ہوئی کہ محمد کون۔ عرض کیا الٰہی جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں عرش کی طرف سر اٹھاکر دیکھا تو اس پر لکھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اس سے میں نے جانا کہ جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے اس سے زیادہ کسی شخص کا مرتبہ تیرے پاس بلند نہ ہوگا وحی آئی کہ اے آدم تمہاری اولاد میں وہ سب نبیوں کے آخر ہوں گے اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو بھی نہ پیداکرتا انتہی۔
یہ روایتیں اور اسی قسم کی دوسری کئی روایتیں جن میں مذکور ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک جنت کے ہر مقام میںاور ہر درخت کے پتوں اور حوروں کے سینوں وغیرہ میں مکتوب ہے ہم نے ’’انوار احمدی‘‘ میں نقل کرکے ان سے متعلق ضروری مباحث بھی کیے ہیں۔ یہاں کئی امور قابل توجہ ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ساق عرش پر اور جنت کے ہر مقام میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کو لکھا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدیم سے لکھا ہوا ہے کیوں کہ آدم علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی جب سر اٹھاکر دیکھا تو نامِ مبارک کو عرش پر لکھا پایا۔ یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نامِ مبارک کوعرش پر اور جنت کے ہر مقام میں لکھنے سے کیا غرض ہوگی۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ معاذ اللہ کسی قسم کی شرکت ملائکہ وغیرہ کو معلوم کرواناہو جیساکہ مشترکہ کارخانوں میں شرکاء کے نام جگہ جگہ لکھے رہتے ہیں پھر یہ لکھنا اس زمانہ میں تھا کہ حضرت کا وجود بھی نہ تھا۔ اگر لکھنے کے وقت حضرت موجود ہوتے تو یہ خیال کیا جاسکتا کہ کوئی کام حضرت کا پسند آگیا ہوگا۔ اس لئے خاطر سے یا خوش کرنے کے لئے لکھا گیا۔ ادنیٰ تامل سے یہی ثابت ہوگا کہ حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ تمام عالم علوی میں آپ کی عظمت متمکن اور ذہن نشین ہوجائے کیوں کہ اس عالم کے رہنے والوں کی نظر جب اس نام پاک پر ہر وقت پڑتی رہے گی اور معلوم ہوگا کہ حق تعالیٰ نے اپنے نام مبارک کے ساتھ ہر جگہ آپ کا نام لکھا ہے تو ضرور ہر شخص کا خیال اس طرف متوجہ ہوگا جب عالم علوی کے موجودہ اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں سے کسی معزز و مکرم فرشتہ کا نام نہیں لکھا گیا اور جس کا نام مبارک لکھا گیا وہ موجود نہیں تو وہ ضرور ایسے شخص ہیں کہ تمام اولین و آخرین میں سب سے افضل اور خدائے تعالیٰ کے نزدیک سب سے معظم و مکرم ہیں اور ان کے قدوم میمنت لزوم کی آمد آمد کے انتظار میں تمام عالم علوی رہے گا۔ اب غور کیجئے کہ اگر کسی ملک کا بادشاہ اپنے نام کے ساتھ کسی معزز شخص کا نام مختلف مقامات میں لکھ کر لگائے تو تمام ملک میں وہ شخص کیسا معزز سمجھا جائے گا پھر جب خدائے تعالیٰ نے حضرت کے نام مبارک کو تمام عالم علوی میں ہر جگہ اپنے نام کے ساتھ لکھا تو ساری خدائی میں آپ کی کس قدر عزت و عظمت سمجھنی چاہئے ۔ مگر بات یہ ہے کہ عالم علوی کے حالات کو سوائے اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے کون جانے عالم سفلی میں ابوالبشر علیہ السلام کی نظر کا کوئی شخص ہو تو وہ جان سکتا ہے بادشاہ کے نام کے ساتھ جس کا نام لکھاہو اس کی عزت وہی کرے گا جو آدمی ہو جانوروں کو اس سے کیا تعلق۔ اسی طرح ناواقف بہائم سیرت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو کیاجانیں۔
الحاصل حق تعالیٰ نے عرش اور جنتوں میں جو آپ کا نام ہر مقام میں لکھا اس سے یہی ثابت کرنا مقصود ہے کہ تمام عالم میں آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسا عظمت و عزت والا نہ کوئی فرشتہ ہے نہ آدمی۔
روایات مذکورہ میں جو وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ عرش وغیرہ پر لکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہے جیسا کہ دوسری روایت سے ثابت ہے اس سے ظاہر ہے کہ کلمہ طیبہ جس پر ہمارے دین میں مدارِ اسلام ہے وہ قدیم ہے۔ کل فرشتے بھی وہی کلمہ پڑھتے تھے اور جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ یہی بات اس حدیث شریف سے بھی ثابت ہے جو حضرت نے فرمایا کہ میں اس وقت نبی تھا کہ آدم ہنوز پانی اور کیچڑ میں تھے، کیوں کہ اس وقت کوئی فرشتہ نہیں جانتا تھا کہ آدم علیہ السلام یا ان کی اولاد میں کوئی نبی ہونے والے ہیں بلکہ سب یہی جانتے تھے کہ اگر رسول اللہ ہیں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب یہ امر بخوبی مسلمانوں کے ذہن نشین ہوجائے تو اس کے بعد ابن عبدالوہاب نجدی جس کی طرف فرقہ وہابیہ منسوب ہے اس کی تقریر پر بھی غور کرلیا جائے کہ اس نے مسلمانوں کو کیسے دھوکہ میں ڈال دیا۔ اس کا مقصد یہ تھاکہ سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کی عظمت ثابت نہ ہونے پائے اس لئے جتنی آیات و احادیث حضور کی فضیلت میں وارد ہیں ان پر کلام کرکے ان آیات واحادیث کو پیش کیا جن میں بظاہر کسر شان معلوم ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس فرقہ کی تعلیم میں یہ بات داخل ہے کہ اس قسم کی آیات و احادیث کو ازبر کرادیتے ہیں اور فضائل سے متعلق نصوص میں اقسام کی تاویلات اور توجیہات کرتے ہیں۔
چنانچہ رسول کے معنی میں جس قدر عظمت و علو شان تھی اسی قدر لفظ رسول سے اس نے توہین نکالی۔ لکھا ہے کہ رسول ایسے کم درجے کے نوکر کو کہتے ہیں جو کسی معزز شخص کے پاس پیام پہنچانے کی غرض سے بھیجا جاتا ہے۔ اس وجہ سے معزز و معظم وہی ہوگا جس کے پاس رسول بھیجا جائے۔ دیکھئے تعصب نے اسے کہاں سے کہاں لے گیا اور ایک جماعت اس کے تابع ہوگئی، چنانچہ تلاحق افکار سے اس میں موشگافیاں ہوتے ہوتے اب تو یہ نوبت آگئی کہ محمد رسول اللہ کو کلمہ ہی سے نکالدیا چنانچہ یہ فرقہ حیدرآباد میں اس وقت موجود ہے اب ان سے پوچھئے تو بھی کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو پیام پہنچاکر چلے گئے۔ اب ان سے تعلق ہی کیا۔ عمل کرنے کیلئے قرآن موجود ہے، اس دھوکہ میں بے علم مسلمان آجاتے ہیں اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے یہ لوگ غور کریں کہ جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اس وقت فرشتے حضور کا کلمہ پڑھتے تھے، حالانکہ حضور نے کوئی انہیں پیام نہیں پہنچایا جس سے آپ کو رسول ماننے کی ضرورت ہو۔ بخلاف ہمارے کہ ہم حضرت کی امت میں ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے سے بھی انکار کرتے ہیں۔ بخاری مسلم وغیرہ کی روایتوں سے ثابت ہے کہ جب مردہ قبر میں رکھا جاتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ ان کے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتا ہے، ایماندار تو کہدے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، فرشتے اس کیلئے جنت کی کھڑکی کھول دیں گے، جس سے جنت کی ٹھنڈی ہوا آتی رہے گی ا ور وہ اس کی سیر کرتا رہے گا اور منافق و کافر کہیں گے کہ میں نہیں جانتا لوگ جیسا کہتے تھے میں بھی کہتا تھا۔ فرشتے لوہے کے گرزوں سے اسے خوب ماریں گے۔ انتہی ملخصا۔
اب غور کیجئے کہ جو لوگ کلمہ محمد رسول اللہ نہیں پڑھتے قبر میں ان کا کیا حال ہوگا اور جو لوگ پڑھتے ہیں وہ کیسے نازونعمت میں رہیں گے۔یہ لوگ اپنے کو مسلمان سمجھتے ہیں اور نماز و روزہ وغیرہ بھی بڑے اہتمام سے ادا کرتے ہیں اور اکثر اعتقادات میں اہل سنت وجماعت کے موافق بھی ہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء اولیاء کی تعظیم کے مسئلہ پر مخالفت کرتے ہیں، اس کا منشا یہ ہوا کہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کی عظمت کو پیش نظر رکھ کر یہ خیال کیا کہ اگر کسی اور کی بھی تعظیم کی جائے تو خدائے تعالیٰ کی عظمت میں کمی ہوجائے گی، اس وجہ سے ایسے آیات و احادیث تلاش کرنے کی انہیں ضرورت ہوئی کہ جس سے ان مقربانِ بارگاہ الٰہی کی کسرِشان ہو اور یہ خیال یہاں تک انہیں پہنچایا کہ جن نصوص میں ان حضور کی عظمت وارد ہے ان میں بھی کلام کرنے لگے اور یہ خیال نہیں کیا کہ اس سے خدائے تعالیٰ پر الزام عائد ہوتا ہے کہ بجائے اس کے کہ ہر طرح کی تعظیم کی جائے۔ معاذاللہ شرک کی بنیاد قائم کی دیکھئے حق تعالیٰ فرماتا ہے
انا ارسلناک شاہداومبشراونذیرا لتومنوا باللہ و رسولہ وتعزروہ وتوقروہ وتسبحوہ بکرۃ واصیلا ان الذین یبایعونک انمایبایعون اللّٰہ یداللّٰہ فوق ایدیہم 
اس آیت شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے آپ کو شاہد بناکر بھیجا۔یعنی اپنی امت اور جمیع انبیاء کے کاموں پر گواہی دینے والے اور فرمایا کہ آپ اہل ایمان کو خوش خبری دینے والے اور بے ایمانوں کو ڈرانے والے ہیں۔ یہاں تک تو حضرت کی طرف خطاب تھا اس کے بعد مسلمانوں کی طرف خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے ان کو اس واسطے بھیجا ہے کہ تم خدا اور رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام ان کی پاکی بیان کرتے رہو۔ اے رسول اللہ جو لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے صرف اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے انتہی۔ لیجئے یہاں توکچھ اور ہی معاملہ ہورہا ہے کہ غیریت اٹھادی جارہی ہے اور من توشدم تو من شدی کا مسلمانوں کو ارشاد ہورہا ہے کہ ان کی تعظیم و توقیر کرو۔ اب اگر کہا جائے کہ یہ تعظیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے تو بھی صحیح ہے اور اگر کہا جائے کہ خاص حق تعالیٰ کی وہ تعظیم و توقیر ہے تو بھی صحیح ہے، جس طرح بیعت میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور کسر شان کرے تو وہ بھی خدا کی توہین ہوگی۔ چنانچہ یہی بات صاف طور پر حدیث شریف میں وارد ہے من سبّنی فقد سبّ اللّٰہ یعنی جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو گالی دی۔ گالی وہی نہیں ہوتی جو عرف میں مشہور ہے بلکہ مقصود گالی سے فقط کسرِ شان مقصود ہوتاہے۔ اس وجہ سے جس بات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرِ شان بیان کی جائے وہی گالی ہوگی۔ درمنثور میں تعزروہ و توقیروہ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت شریفہ کا مطلب یہ بیان کیاکہ امراللہ بتسویدہ وتفخیمہ و تشریفہ و تعظیمہ یعنی خدائے تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ حضرت کی سیادت تسلیم کرو اور ان کی تعظیم کرو اور ہر قسم کا شرف آپ کے لئے مسلم رکھواور نہایت بزرگ سمجھو۔ اب غور کیجئے کہ خدائے تعالیٰ تو حضرت کی سیادت اور تعظیم کے لئے ارشاد فرماتا ہے اور آخری زمانہ کے بعض لوگ رسول کے معنی ہر کارہ لیکر توہین کرتے ہیں۔کس قدر خدائے تعالیٰ کی مخالفت کی جارہی ہے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کے جوابات دے کر حضرت کی فضیلت ثابت کریں۔ استیعاب میں حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ مشرکینِ قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے کسی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہا کہ ہماری طرف سے آپ جواب دیجئے اور ان کی ہجو کیجئے۔ فرمایا اگر حضور مجھے اجازت دیں تو میںیہ کام کردوں گا۔ لوگوں نے حضور سے درخواست کی کہ علی کرم اللہ وجہہ کو اجازت دی جائے۔ فرمایا کہ علی اس باب میں اس درجہ میں نہیں ہیں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیاروں سے مدد کی۔ زبان سے مدد کرنے میںان کو کوئی چیز مانع ہے۔ یہ سن کر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ آمادہ ہوئے ان سے فرمایا تم ان کی کس طرح ہجو کرو گے، حالانکہ میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں ابوسفیان کی تم کس طرح ہجو کرو گے وہ تو میرے چچا کا بیٹا ہے۔ انہوں نے عرض کیا میں ان میں سے آپ کو ایسے علحدہ کرلوں گا جیسے خمیر سے بال، فرمایا ابوبکررضی اللہ عنہکے پاس جاؤ، کیوں کہ وہ ان لوگوں کے انساب سے تم سے زیادہ واقف ہیں، چنانچہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہکے پاس جاکر انساب سے وقفیت حاصل کی۔
مشکوٰۃ میں بخاری شریف سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابترضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر رکھواتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مفاخر و فضائل بیان کرتے اور کفار جو حضور کی ہجو کرتے اس کا جواب دیا کرتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تک ا کفار کے جواب دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر بیان کرتے ہیں حق تعالی روح القدس سے ان کو تائید اور مدد دیتا ہے۔انتہی
دیکھئے آنحضرت کے فضائل بیان کرنے اور ہجو کے جواب دینے کا بارگاہ نبوی میں کس قدر اہتمام تھا کہ جس طرح احکام شرعیہ بیان کرنے کے لئے منبر رکھاجاتا ہے، اس کے لئے بھی رکھا جاتا تھا اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہجو اس کام کے لئے موزوں تھے اس پر کھڑے ہوتے اور علی رؤس الاشہاد بطور خطبہ اشعار نعتیہ پڑھتے اور جو لوگ حضور کی ہجو کرتے ان کا جواب دیکر ان کی ہجو کرتے اور جب تک وہ اس کام میں مصروف رہتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی طرف سے روح القدس ان کی مدد کرتے رہتے۔ہر چند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں کمال درجہ کی تواضع اور حلم اور عفو تھا نشست و برخاست میں کسی قسم کی تعلی ظہور میں نہ آتی۔ جیسا کہ سیر میں مصرحہ ہے مگر جب کوئی ہجو کرتا ہے تو آپ منجانب اللہ مامور ہوتے کہ اس کا جواب آپ نہ دیں بلکہ کسی مسلمان سے دلوادیں اب اہلِ اسلام غور کریں کہ یہ جو لوگ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرِ شان کرتے ہیں ان کا جواب دینا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل ان کے مقابلہ میں بیان کرنا مسلمانوں کا فرض ہے یا نہیں، اور یہ امر مسنون سمجھا جائے گا یا نہیں پھر جو کہا جاتا ہے کہ واعظین بجائے وعظ و نصیحت کے اس قسم کے مضامین وعظ میں بیان کرتے ہیں اس کے اصلاح کی ضرورت ہے، یہ کہاں تک صحیح ہے۔ ان احادیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تک واعظین اور مصنفین اس کام میں مصروف رہیں، منجانب اللہ بذریعہ روح القدس ان کی تائید ہوتی رہے گی۔
(اقتباس مقاصد الاسلام حصہ یازدہم)