ایقان ۔ اساسِ ایمان
ہمارے دین میں یقین ایک ضروری چیز ہے اسی وجہ سے صوفیائے کرام کو خاص قسم کی توجہ اس کے حاصل کرنے کی طرف تھی اور اس باب میں وہ تمام فرق اسلامیہ میں ممتاز ہیں جیسا کہ کتب تصوف اور ان حضرات کے تذکروں سے واضح ہے۔
یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ یقین ایک کیفیت قلبی کا نام ہے جس کی نوعیت وجدان سے معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی بونٹی کھانے سے آدمی مرجائے تو دیکھنے والے کو ابتداء میں احتمال ہوگا کہ شاید وہ بونٹی زہریلی ہو پھر جب دس بیس آدمی اس کے روبرو کھائیں اور سب مرجائیں تو وہ احتمالی کیفیت زائل ہوکر ایک ایسی کیفیت دل میں پیدا ہوگی کہ جس کی وجہ سے آدمی وہ بونٹی نہ خود کھائے گا اور نہ کسی کوکھانے دے گا اور اگر کھانے دے گا تو اسی کو جس کا مرنا منظور ہو۔ یہ اس کیفیت کا اثر ہے جو اس کے دل میں اس بونٹی کی تاثیر کی نسبت پیدا ہوئی تھی اس قسم کی کیفیت محسوسات میں تو آدمی بذریعہ تجربہ وغیرہ اپنے اختیار سے حاصل کرسکتا ہے مگر جو چیز محسوس نہ ہو اس کی نسبت یہ کیفیت پیداکرنا آدمی کے اختیار سے خارج ہے کیوں کہ عقل ایسی باتیں تلاش کرتی ہے جن کی وجہ سے یقینی کیفیت پیدا نہ ہونے پائے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ خدائے تعالیٰ کے وجود کے قائل ہی نہیں اور انہوں نے عالم کا کام مادہ اور اجزائے دیمقراطیسی سے متعلق کردیا کہ جتنی چیزیں پیدا ہوتی ہیں مادہ کے انقلابات کا اثر ہے۔ ہر چند اس کے رد میں بہت سارے دلائل بیان کئے جاتے ہیں مگر ان کی عقلیں ان دلائل کے جوابات بھی تراش لیتی ہیں۔ غرضیکہ غیر محسوس امور کایقین حاصل کرنے میں عقلیں قاصر ہیں۔ جب تک منجانب اللہ وہ کیفیت دل میں ڈالی نہ جائے یقین حاصل نہیں ہوسکتا اسی وجہ سے حق تعالیٰ فرماتا ہے (افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فہو علی نورمن ربہ) جس کا مطلب یہ ہیکہ حق تعالیٰ کی طرف سے شرح صدر اور انکشاف نورانی ہوتا ہے جس سے آدمی اسلام کو قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد عقل اس پر دلائل بھی قائم کرلیتی ہے پھر اس شرح صدر کے مدارج مختلف ہیں اس لئے کہ جوشرح صدر انبیاء علیہم السلام کو ہوا تھا ممکن نہیں کہ عوام الناس کو ہو اسی وجہ سے یقین کے مدارج مختلف ہیں دیکھئے خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات و آیات کا یقین جو انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کو ہوتا ہے اس پر وہ آثار مرتب ہوتے ہیں جو عوام الناس کے یقین پر نہیں ہوسکتے ہر چند اس قسم کا ضعیف الیقین شخص بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔ مگر ضعف یقین کی وجہ سے اکثر وہ امور اس سے سرزد ہوں گے جو خلاف مرضی الٰہی ہیں جس کے باعث آدمی مستحق عذاب ہوتا ہے۔ بخلاف کامل الیقین حضرات کے کہ ان کو ہر وقت حق تعالیٰ اور اس کی ذات و صفات اور جزا و سزا کا گویا مشاہدہ رہتا ہے جس سے خلاف مرضی الٰہی امور کا ارتکاب محال یا دشوار ہو۔ چونکہ اسلامی دنیا میں یہ درجات نہایت بلند اور مقصود بالذات ہے اس کو حاصل کرنے کی یہ تدبیر بتائی گئی کہ عبادت الٰہی جہاں تک ہوسکے زیادہ کی جائے کیوں کہ عبادت کے معنی خصوع و تذلل کے ہیں اور تذلل کے معنی لغت میں فرماں بردار ہونے کے ہیں جب آدمی خدا تعالیٰ کے روبرو عاجزی کرے اور اعمال و اعتقادات میں فرماں بردار رہے تو امید قوی ہے کہ حق تعالیٰ اس کے صلہ میں اس کو وہ یقین عطا فرمائے گا جس کی وجہ سے کوئی امر خلاف مرضی الٰہی صادر نہ ہو چنانچہ ہر شخص کو ارشاد ہورہا ہے قولہ تعالیٰ واعبدربک حتی یا تیک الیقین یعنی عبادت کیا کرو تاکہ خدا کی طرف سے وہ یقین تمہیں عطا ہو جس کی وجہ سے مرضی الٰہی کے مطابق تم سے اعمال و افعال صادر ہوں اور عبادت یقین کے ساتھ ہونے لگے جس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث صحیح میں فرمایا ہے واعبدربک کانک تراہ یعنی عبادت اس یقین کیساتھ کیا کرو گویاخدا تعالیٰ کو تم دیکھ رہے ہوں شریعت میں اس کو احسان کہتے ہیں جیسا کہ اس روایت سے ثابت ہے جو مشکوٰۃ شریف کی کتاب الایمان میں بخاری اور مسلم سے منقول ہے کہ 
حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںحاضر تھے ایک شخص نہایت سفید لباس پہنا ہوا آکر حضرت کے روبرو زانو سے زانو ملاکر بیٹھ گیا اور پوچھا کہ اسلام کیا چیز ہے؟ 
حضرت نے فرمایا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دینی اور نماز ،زکوۃ ،روزے اور استطاعت ہو تو حج ادا کرنا ۔ کہاآپ نے سچ کہا 
پھر پوچھا ایمان کیاچیز ہے ؟
فرمایا یقین کرنا اللہ کااور اس کے ملائکہ اور کتابوں اور رسولوں کا اور یقین کرنا اس کا کہ خیروشر اللہ ہی کی طرف سے ہے کہا آپ نے سچ کہا۔ 
پھر پوچھا احسان کیا چیز ہے ؟
فرمایا ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک یعنی اس طورپر اللہ کی عبادت کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو کیوں کہ اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، جب وہ شخص چلاگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والے کون تھے؟ میں نے کہا اللہ و رسولہ اعلم 
فرمایا وہ جبرئیل تھے تم لوگوں کو دین کی تعلیم کرنے کی غرض سے آئے تھے انتہی ملخصا۔
اس ارشاد سے صاف ظاہر ہے کہ اعلیٰ درجہ کا یقین اور مشاہدہ حاصل ہونے کے بعد بھی عبادت کرنے کا حکم ہے بلکہ عبادت اسی قسم کے یقین کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ غرضیکہ آیت شریفہ واعبدربک حتی یاتیک الیقین سے درجہ احسان کی طرف اشارہ ہے جو درجہ ایمان سے بالاتر ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو یقین نہیں ہوسکتا باوجود اس کے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ عبادت کرتے تھے جس کا حال تمام اکابر صوفیہ قدست اسرارہم اپنی کتابوں میں ذکر فرماتے ہیں۔
ادنی تامل سے یہ بات معلوم ہوسکتی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی ذات اور صفات کے یقین سے عبادت یعنی خضوع اور تذلل کی ضرورت ہو تو یقین کے بعد تو بطریق اولیٰ ضرورت ہوگی کیا یہ ہوسکتا ہے کہ جس کو خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات کا یقین اعلیٰ درجہ کا ہو اور وہ اپنے خالق اور مالک کے روبرو عاجزی اور تذلل نہ کرکے خود سری اختیار کرے اور یہ کہے کہ میں تو کبھی اس کے روبرو سر نہ جھکاؤں گا ہاں یہ بات دوسری ہے کہ بے خود ہوجائے اور اس کو نہ اپنا خیال رہے نہ کھانے پینے وغیرہ حوائج کا ایسے شخص کو ’’مجذوب‘‘ کہتے ہیں اور وہ مثل شیرخوار لڑکوں کے ’’مرفوع القلم‘‘ ہوجاتا ہے مگر اس حالت کو یقین سے کوئی تعلق نہیں کیوں کہ یقین سمجھ سے متعلق ہے جیسے آفتاب کے روشن ہونے کا آدمی کو یقین ہوتا ہے اور باوجود اس کے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ از خود رفتہ مرفوع القلم ہوگیا اس لئے کہ اس کی سمجھ بوجھ باقی ہے۔ غرضیکہ جب تک آدمی میں سمجھ اور عقل باقی ہے کیسا ہی اعلیٰ درجہ کا یقین ہو مرفوع القلم نہیں ہوسکتا بلکہ اس یقین کی بدولت وہ سب سے زیادہ عبادت کرتاہے ۔ اسی وجہ سے جتنے اکابر صوفیہ گزرے ہیں سب نے عبادت الہٰی میں اعلیٰ درجہ کی جانفشانیاں کیں۔
الحاصل ان حضرات کے اصول وہی ہیں جو شریعت میںمصرح ہیں مگر ان کے یہاں اصل اصول عمل ہے، جس طرح علماء کو ذخیرۂ علمی بڑھانے کی طرف توجہ ہے۔ ان حضرات کو اعمال کا ذخیرہ بڑھانے کی فکر رہتی ہے کیوں کہ قرآن شریف میںہر جگہ ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر ہے اور جنت بھی بظاہر جزائے اعمال ہی معلوم ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے 
قولہ تعالیٰ، تلک الجنۃ التی اور ثتموہا بماکنتم تعملون 
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے 
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ و یغفرلکم ذنوبکم 
یعنی کہو ان سے اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری اتباع کرو جس سے خدائے تعالیٰ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔