الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع
بلاوجہ کسی حدیث کو موضوع کہدینا گناہ سے خالی نہیں ہے اور یہ صریح ممنوع ہے۔ کماوردعن سلیمان قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کذب علی معتمدا فلیتبوا بیتا فی النار ومن ردحدیثا بلغہ عنی فانا نخاصمہ یوم القیامۃ واذا بلغکم عنی حدیث فلم تعرفونہ فقولوا اللّٰہ اعلم طب کذافی کنزالعمال ۔ یعنی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے قصداً جھوٹ بات بناکر اس کی نسبت میری طرف کی تو چاہئے کہ وہ شخص اپنا گھر دوزخ میں بنالے اور جس نے رد کیا اس حدیث کو جو پہنچی ہے اس کو مجھ سے تو قیامت کے دن میں اس کا دشمن ہوں گا اور جو پہنچے تم کو ایسی حدیث جو نہ جانتے ہو تم بہ سبب نہ معروف ونہ مشہور ہونے اس کے تو (اللہ اعلم کہہ دو) روایت کی اس کو طبرانی نے۔ بہرحال حدیث کو بلاوجہ ردکردینا یااس سے انکار کرنا سوائے اس کے نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن بنالینا ہے۔ عیاذاً باللہ۔ اگر سمجھ میں نہ آئے تو سکوت چاہیے نہ یہ کہ حکم بالوضع کرنا جو من وجہ رد ہے۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تعقبات میں لکھا ہے کہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا من احتجم یوم الاربعاء و یوم السبت فاصابہ مرض فلایلومن الانفسہ یعنی جس نے چہارشنبہ یا شنبہ کے دن پچنے لگا یا اور کسی بیماری میں مبتلا ہوگیا تو وہ اپنے کو ملامت کرے۔ پھر آخر بحث میںیہ واقعہ نقل کیا کہ محمد بن جعفر بن مطر نیشاپوری کو اس حدیث میں کلام تھا وہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں اور اس کی پروا نہ کرکے (چہارشنبہ کے دن) فصدلی ساتھ ہی مرض برص مجھ پر نمایاں ہوا۔ خوش قسمتی سے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اپنی حالت عرض کی۔ فرمایا خبردار اب سے میری حدیث کی کبھی استہانت نہ کرنا۔ یہ عبارت تعلیقات کی اس پر شاہد ہے ثم روی الدیلمی بسندہ عن ابن عمرومحمد بن جعفر بن مطرالنیشابوری قال قلت یوما ان ہذا الحدیث لیس بصحیح فاقتصدت یوم الاربعاء فاصابنی برص فرایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی النوم فشکوت الیہ حالی فقال ایاک والاستہانۃ بحدیثی
اس پر اور ایک بات معلوم ہوئی کہ محمد بن جعفر نیشاپوری نے جو اس قصہ کو ذکر کیا اور بعد اس خواب کے ان کو اس حدیث کی پوری تصدیق ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ پورا واقعہ بیان کیا کرتے تھے۔ اسی طرح تعلیقات مذکور میں لکھا ہے حدیث من عزی مصابافلہ مثل اجرہ یعنی جو شخص کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے اس کو بھی مثل اسی مصیبت زدہ کے ثواب ہوتا ہے۔ یہ روایت علی بن عاصم نے محمد بن سوقہ سے کی ہے جن میں محدثین کو کلام ہے چنانچہ اسی وجہ سے ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا ہے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں لکھا ہے کہ محمد بن ہارون کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خواب میں دیکھا اور عرض کیا یا رسول اللہ علی بن عاصم حدیث (من عزی مصابا) ابن سوقہ سے روایت کرتے ہیں کیا وہ آپ نے فرمایا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ بیہقی لکھتے ہیں کہ اس کے بعد محمد بن ہارون جب کبھی اس حدیث کو روایت کرتے رو دیتے کما قال واخرج البیہقی فی شعب الایمان عن محمد بن ہارون وکان ثقۃ صدوقا قال رایت النبی صلی اللہ علیہ و سلم فی المنام فقلت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن عاصم الذی یرویہ عن ابن سوقۃ ’’من عزی مصابا‘‘۔ ہل عنک قال نعم فکان محمد بن ہرون کلما حدث ہذا الحدیث بکی اور صحیح مسلم میں ہے حدثنا علی بن مسھر قال سمعت انا و حمزۃ الزیات من ابان ابن ابی عباس نحو من الف حدیث قال علی لقیت حمزۃ فاخبرنی انہ رائی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام فعرض علیہ ماسمع ما ابان فما عرف الاشیا یسیر اخمسۃ اوستۃ ۔ یعنی علی بن مسہر کہتے ہیں کہ میں نے اور حمزہ زیات نے ابان بن ابی عباس سے قریب ہزار حدیثوں کے سنی بعد چند روز کے ہمزہ زیات سے میں نے ملاقات کی تو مجھکو کہنے لگے کہ میں خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت سے مشرف ہوا اور جتنی حدیثیں ابان سے سنی تھیں وہ پیش کیں۔ حضرت نے سوائے پانچ چھ حدیثوں کے کسی حدیث کی تصدیق نہیں فرمائی۔ امام مسلم نے اس روایت کو ان روایات میں ذکر کیا ہے جن میں ان کو راویوں کے عیوب بیان کرنا مقصود ہے۔ غرض یہ کہ ابان کی حدیثیں قابل اعتبار نہیں پس ان قرائن اور تصریحات اور ان احادیث سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے باب میں وارد ہیں مثل من رانی فی المنام فقدرای الحق وغیرہ کے یہ بات سمجھ میں آسکتی کہ مثل محدثین کے اولیاء اللہ بھی بہت سے حدیثیں خواب میں یا کشف صحیح سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تصحیح کرلیتے ہوں گے جب عموماً کسی بزرگ کی ولایت مسلم ہوجائے تو اس بناء پر ان کی نقل کی ہوئی حدیثوں کو مان لینے میں کوئی محل تردد نہ ہوگا۔ اگر بالیقین یہ مسلمہ مسئلہ معلوم کرنا ہو کہ اولیاء اللہ عالم بیداری میں کس قدر دریافت کرسکتے ہیں تو کواکب زاہرہ میں دیکھ لیں جس کو شیخ ابوالفضل عبدالقادر بن حسین رحمۃاللہ علیہ نے صرف اس مسئلہ کی تحقیق میں تصنیف کی ہے اور بدلائل عقلیہ و نقلیہ ثابت کردیا کہ حالت بیداری میں رویت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نہ صرف ممکن بلکہ واقعی ہوتی ہے۔ 
تیسرا قرینہ وضع کا جو نفس حدیث میں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ تھوڑے کام پر زیادہ ثواب یا وعید سخت ہو چنانچہ ’’تدریب الراوی‘‘ میں لکھا ہے ومنہا الافراط بالوعید الشدید علی الامر الصغیر والوعدالعظیم علی الفعل الحقیر و ہذا کثیر فی حدیث القصاص والاخیر راجع الی الرکۃ۔
مگر اس پر بھی قطعیت وضع کی معلوم نہیں ہوسکتی کیونکہ کثرت ثواب کا مدار تو فضل الہٰی پر ہے۔ دیکھ لیجئے ایک رات کی عبادت کا ہزار مہینے کی عبادت پر فضیلت ہونا قرآن شریف سے ثابت ہے قال اللہ تعالیٰ، لیلۃ القدر خیر من الف شہر اور حدیث بطاقہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کما فی المواہب وشرحہ للزرقانی حدیث البطاقۃ مشہور قد رواہ الترمذی وقال حسن غریب وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم و صححہ البیہقی من حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص یرفعہ بلفظ ان اللہ یتشخص رجلا من امتی علی رؤس الخلائق یوم القیامۃ فینشر علیہ تسعۃ وتسعون سجلا کل سجل منہا مثل مدالبصر ثم یقول اتنکر من ہذا شیئا اظلمک کتبتی الحافظون فیقول لایارب فیقول افلک عذر فیقول لایارب لفظ الحدیث عند المذکورین فیقول افلک عذر اوحسنۃ فہاب الرجل فیقول لایارب فیقول بلی ان لک عندنا حسنۃ وانہ لا ظلم علیک الیوم فتخرج بطاقۃ فیہا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد اعبدہ و رسولہ فیقول احضر وزن فیقول یارب ماہذہ البطاقۃمع ہذہ السجلات فقال انک لا تظلم قال فوضع السجلات فی کفۃ والبطاقۃ کفۃ فطاشت السجلات وثقلت البطاقۃ فلا یثقل مع اسم اللہ شی۔
یعنی روایت ہے عبداللہ بن عمرو ابن العاص صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلائے گا حق تعالیٰ میرے امتیوں میں سے ایک شخص کو تمام خلائق کے روبرو قیامت کے دن پس کھولے گا اس کے روبرو ننانوے 99 سجل ہر سجل اتنا ہوگا جہاں تک نگاہ پہونچتی ہے اور فرمائے گا کیا تجھے انکار ہے اس سے کسی چیز کا کیا تجھ پر ظلم کیا لکھنے والے میرے فرشتوں نے وہ عرض کرے گا نہیں اے پروردگار پھر فرمائے گا کیا تیرے پاس کوئی عذر یا کوئی نیک کام ہے سوائے اس کے۔ یہ سن کر اُس شخص کو ہیبت ہوجائے گی اور عرض کرے گا اے پروردگار اس کے سوا نہ کوئی نیک کام ہے نہ کوئی عذر۔ پھر ارشاد ہوگا کہ کیوں نہیں۔ ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے اور آج تجھ پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ پھر نکالے گا حق تعالیٰ ایک پرچہ کاغذ کا جس میں اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد اعبدہ ورسولہ لکھا ہوگا اور حکم ہوگا کہ اب جا اپنے اعمال تلنے کی جگہ وہ عرض کرے گا اے پروردگار ان دفتروں کے مقابلہ میں یہ پرچہ کیا چیز ہے۔ ارشاد ہوگا تجھ پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔ فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رکھے جائیں گے وہ تمام دفتر ایک پلہ میں اور وہ پرچہ ایک پلہ میں اور جب وزن کیا جائے گا تو وہ تمام دفتر ہلکے ہوجائیں گے اور وہ پرچہ بھاری ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز بھاری نہ ہوگی۔ روایت کی اس کو ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن حبان اور حاکم نے اور کہا بیہقی نے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور کنزالعمال میں ہے کہ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مسند میں روایت کی اور حاکم نے مستدرک میں لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے شرط مسلم پر۔ اب دیکھئے کہ گناہوں کے اتنے بڑے بڑے ننانوے 99دفتر کے مقابلہ میں ایک چھوٹی چٹھی کلمۂ طیبہ کی کس شمار میں ہے مگر جب فضل خدا ہو تو وہ سب طے رکھے رہیں گے اور سینکڑوں برس کی عبادت کا جو نتیجہ ہوتا ہے ایک چھوٹی سی چٹھی سے نکل آیا۔ پس معلوم ہوگیا کہ تھوڑے کام پر زیادہ ثواب مستبعد نہیں۔ جب یہ بات صحیح حدیث سے ثابت ہوگئی تو اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی جس کے ماننے میں تردد ہو اور خواہ مخواہ اس کو قرینہ وضع کا بنالیا جائے۔ اور اسی طرح یہ حدیث مشکوٰۃ میں ہے عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال للعباس ابن عبدالمطلب یا عباس یا عماہ الا اعطیک الا امنحک الا احبوک الاافعل بک عشر خصال اذا انت فعلت ذلک غفر اللہ لک ذنبک اولہ واخرہ قدیمہ وحدیثہ خطا وعمدا صغیرۃ و کبیرۃ سرۃ وعلانیۃ ان تصلی اربع رکعات تقرا فی کل رکعۃ فاتحۃ الکتاب و سورۃ فاذا فرغت من القراۃ فی اول رکعۃ وانت قائم قل سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر خمس عشر مرۃ ثم ترکع فتقولہا وانت راکع عشرا ثم ترفع راسئک من الرکوع فتقولہا عشرا ثم تہوی ساجدا فتقولہا وانت ساجد عشرا ثم ترفع راسک من السجود فتقولہا عشرا ثم تسجد فتقولہا عشراثم ترفع راسک فتقولہا عشرا فذلک خمس وسبعون فی کل رکعۃ تفعل ذلک فی اربع رکعات ان استطعت تصلیہا فی کل یوم مرۃ فافعل فان لم تستطع ففی کل جمعۃ مرۃ فان لم تفعل ففی کل شہر مرۃ فان لم تفعل ففی کل سنۃ مرۃ فان لم تفعل ففی عمرک مرۃ رواہ ابو داود و ابن ماجہ والبیہقی فی الدعوات و روی الترمذی عن ابی رافع نحوہ اور ترمذی کی روایت میں ہے ولو کانت ذنوبک مثل رمل عالج غفرہا اللہ لک۔ 
یعنی روایت ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہ اے عباس اے میرے چچا کیا نہ عطا کروں میں تم کو کیا نہ بخشش کروں میں تم پر کیا نہ دوں تم کو کیا نہ احسان کروں میں تمہارے ساتھ اس قسم کا کہ جب کرو تم وہ کام جو بتلاتا ہوں میں تم کو تو بخش دے گا حق تعالیٰ تمہارے گناہ اول و آخر کے۔ پرانے اور نئے۔ خطا سے کئے ہوئے یا قصداً ۔ چھوٹے اور بڑے ۔ پوشیدہ اور ظاہر اگرچہ بکثرت مثل ریتی کے ہوں وہ یہ ہے کہ پڑھو تم چار رکعت ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسرا ایک سورہ پھر بعد قرات کے حالت قیام میں کہو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پندرہ مرتبہ پھر رکوع کرو اور وہی کلمہ دس مرتبہ پڑھو۔ پھر رکوع سے سر اُٹھا کر دس مرتبہ پھر سجدہ میں دس مرتبہ۔ پھر جلسہ میں دس مرتبہ ، پھر سجدہ میں دس مرتبہ ، پھر سجدہ سے سر اٹھا کر قیام سے پہلے بیٹھ کر دس مرتبہ اسی کلمہ کو کہو۔ اس ترکیب سے ایک رکعت ہوئی جس میں پچہتر مرتبہ وہ کلمہ پڑھا گیا پھر ہر رکعت میں ایسا ہی کرو اگر تم سے ہوسکے تو یہ نماز ہر روز ورنہ ہر جمعہ میں ایک بار ورنہ ہر مہینے میں ایک بار ورنہ برس میں ایک بار اور جو یہ بھی نہ ہوسکے تو عمر بھر میں ایک بار پڑھو۔ روایت کی اس کو ابوداؤد اور ترمذی ابن ماجہ اور بیہقی رحمہم اللہ نے انتہی۔ دیکھئے کس قدر رحمت الٰہی ہے کہ صرف چار رکعت پڑھنے سے عمر بھر کے گناہ اگلے پچھلے صغیرہ کبیرہ وغیرہ سب معاف ہوجاتے ہیں۔ تھوڑے فعل سے کثرت ثواب اور کیا اس سے زیادہ ہوسکتا ہے مگر شاید اسی وجہ سے کہ بہ نسبت حیثیت عمل کے ثواب بہت زیادہ ہے۔ ابن جوزی نے اس حدیث کو بھی موضوعات میں داخل کردیا اور یہ علت قائم کی کہ اس کی اسناد میں صدقہ ضعیف ہیں۔ اور موسی بن عبدالعزیز مجہول اور موسی بن عبیدۃ غیر معتبر ہیں ۔امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تعقبات میں لکھا ہے کہ اکثر حفاظ حدیث نے ابن جوزی پر رد کیا ہے چنانچہ حافظ ابن حجر نے خصال مکفرہ میں لکھا ہے کہ برا کیا ابن جوزی نے جو اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا اور امالی وغیرہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام بخاری نے قرات خلف الامام اور ابو داؤد وابن ماجہ نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے ابن شاہین واجری و خطیب و ابو سعید سمعانی و ابو موسیٰ و ابوالحسن وابن الفضل منذری وابن صلاح و نووی رحمہم اللہ وغیرہم نے روایت کی ہے اور ابن مندہ نے خاص اس بات میں ایک رسالہ تصنیف کیا ہے اور کہا دیلمی نے فردوس میں کہ صلوۃ التسبیح اور نمازوں سے زیادہ تر صحیح ہے۔ روایت کی بیہقی وغیرہ نے ابی حامد مشرقی سے کہ ایک بار میں مسلم کے پاس بیٹھا تھا اور میرے ساتھ حدیث صلوۃ التسبیح تھی جو بہ روایت عکرمہ عن ابن عباس مروی ہے۔ مسلم نے دیکھ کر کہا کہ اس باب میں اس سے بہتر کوئی اسناد نہیں اور ذکر کیا ترمذی نے کہ ابن مبارک وغیرہ اہل علم نے بھی صلوٰۃ التسبیح پڑھی اور اس کی فضیلت بیان کی ہے اور کہا بیہقی نے کہ اس سے حدیث مرفوع کی تقویت ہوتی ہے۔ ابن حجر نے لکھا ہے کہ کئی طریقوں سے یہ حدیث مروی ہے جس کو ابن راہویہ و ابن خزیمہ و حاکم و طبرانی و دارقطنی وابن شاہین و ابونعیم و عبدالرزاق وغیرہم نے روایت کی ہے اور ابن جوزی نے جو صدقہ کی نسبت کلام کیا ہے سو شاید ان کو صدقہ ابن یزید خراسانی سمجھا ہے جو متروک ہیں۔ حالانکہ یہ صدقہ ابن عبداللہ ہیں جن کا لقب سمین ہے اور وہ متروک نہیں۔ اور جو موسیٰ بن عبیدہ میں کلام کیا ہے وہ بات مردود ہے اس لئے کہ موسیٰ کذاب نہیں ہے اور موسیٰ بن عبدالعزیز کو جو مجہول کہا اس میں بھی خطا کی اس لئے کہ یحیٰی بن معین اور نسائی نے اُن کی توثیق کی اور بہت لوگوں نے ان سے روایت لی ہے۔ انتہیٰ ملخصا پوری عبارت تعقبات کی یہ ہے۔ حدیث العباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فی صلوۃ التسبیح فیہ صدقۃ بن یزید الخراسانی ضعیف و حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہا فیہ موسی بن عبدالعزیز مجہول و حدیث ابی رافع فیہ موسی ابن عبیدۃ لیس بشی قلت قد اکثر الحفاظ من الرد علی ابن جوزی فی ہذا الحدیث قال الحافظ بن حجر فی الخصال المکفرۃ اساء ابن الجوزی یذکرہ ایاہ فی الموضوعات قال وقولہ ان موسی عبدالعزیز مجہول لم یصب فیہ فان ابن معین والنسائی وثقاہ قال فی امالیہ حدیث ابن عباس اخرجہ البخاری فی القراۃ خلف الامام و ابوداؤد و ابن ماجہ وابن خزیمۃ فی صحیحہ والحاکم فی مستدرکہ والبیہقی وغیرہم وقال ابن شاہین فی الترغیب سمعت ابابکر بن ابی داؤد یقول سمعت ابی یقول صح فی صلوۃ التسبیح ہذا قال موسیٰ بن عبدالعزیز وثقہ ابن معین والنسائی وابن حبان و روی عنہ خلق واخرج لہ البخاری فی القرأۃ ہذا الحدیث بعینہ واخرج فی الادب حدیثا فی سماع الرعد وببعض ہذا الامور ترفع الجہالۃ وممن صحح ہذا الحدیث اوحسنہ غیر من تقدم ابن مندہ والف فیہ کتابا واجری والخطیب و ابو سعید السمعانی و ابوموسیٰ و ابوالحسن وابن الفضل والمنذری وابن الصلاح والنووی فی تہذیب الاسماء واخرون وقال الدیلمی فی مسند الفردوس صلوٰۃ التسبیح اشہر الصلوۃ واصحہا اسنادا وروی البیہقی وغیرہ عن ابی حامد الشرقی قال کنت عند مسلم بن الحجاج ومعی ہذا الحدیث عن عبدالرحمن بن بشر یعنی حدیث صلوۃ التسبیح من روایۃ عکرمۃ عن ابن عباس فسمعت مسلما یقول لایروی فیہا اسنادا حسنا من ہذا وقال الترمذی قدروی ابن مبارک وغیرہ من اہل العلم صلوۃ التسبیح وذکر بی الفضل فیہ وقال البیہقی کان عبداللہ ابن المبارک یصلیہا و تداولہا الصالحون بعضہم عن بعض وفی ذلک تقویۃ للحدیث المرفوع قال الحافظ ابن حجر واقدم من روی عنہ عند فعلہا صریحا ابوالجوزاء اوس بن عبداللہ البصری من ثقات التابعین وثبت ذلک عن جماعۃ بعدہ واثبتہا ائمۃ الطریقین من الشافعیۃ ولحدیث ابن عباس ہذا طرق فتابع موسی بن عبدالعزیز عن الحکم بن ابان ابراہیم بن الحکم ومن طریقہ اخرجہ ابن راہویہ وابن خزیمۃ والحاکم وتابع عکرمۃ عن ابن عباس عطا واخرجہ الطبرانی و ابو نعیم بسند رجالہ ثقات و ابوالجوزا اخرجہ الطبرانی والدارقطنی فی صلوٰۃ التسبیح من طریق عنہ و مجاہد اخرجہ الطبر انی فی الاوسط فہذا ست طرق واما حدیث العباس فاخرجہ الدارقطنی فی الافراد و ابن شاہین فی الترغیب قال الحافظ ابن حجر وظن ابن الجوزی ان صدقۃ الذی فیہ ابن یزید الخراسانی ولیس کذلک انما ہو ابن عبداللہ المعروف بالسمین ضعفہ من قبل حفظہ وثقہ جماعۃ فیصلح فی المتابعات بخلاف الخراسانی فانہ متروک ولہ طرق اخری اخرجہا ابراہیم ابن احمد الحرفی فی فوائدہ وفی مسند حماد بن عمروالنصی کذبوہ و اما حدیث ابی رافع فاخرجہ الترمذی وابن ماجۃ قال الحافظ وقول ابن الجوزی ان موسی بن عبیدۃ علۃ الحدیث مردود فانہ لیس بکذاب مع مالہ من الشواہد وقد ورد حدیث صلوٰۃ التسبیح من حدیث الفضل بن العباس اخرجہ فی قربان المتقین وابن عمر واخرجہ ابو داؤد والدارقطنی وابن شاہین فی الترغیب والدارقطنی والطیبی من طرق عنہ وعلی اخرجہ الدارقطنی والواحدی فی الدعوات من طریق عنہ وجعفر بن ابی طالب اخرجہ عبدالرزاق والدارقطنی من طریق عنہ وانہ عبداللہ اخرجہ الدارقطنی ام سلمۃ اخرجہ ابو نعیم والانصاری ہوجابر بن عبداللہ وقال الحافظ انہ ابو کبشۃ الانماری ومن مرسل اسماعیل بن رافع اخرجہ سعید بن منصور والخطیب فی صلوٰۃ التسبیح انتہی ملخصا ۔ من امالی الاذکار۔
ہر چند اس بحث میں تطویل ہوئی لیکن اس کے ضمن میں یہ بات معلوم ہوئی کہ محدثین کے اجتہاد و استدلال ایک قسم پر نہیں ہیں کسی کی نظر مصالح سے متعلق ہوتی ہے اور کسی کی نفس اسناد سے۔ کہا ابن جوزی نے کہ ان اسنادوں پر مجھے اطلاع نہ تھی سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا کہ ابن جوزی بڑے فاضل تھے ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے وفیات الاعیان میں ان کا حال لکھا ہے کہ وہ فن حدیث میں علامہ اور امام وقت تھے ان کے تصانیف اس قدر ہیںکہ ان کی عمر کا اور تصانیف کا حساب کیا گیا تو روزانہ نوجز ہوتے ہیں ان میں سے اکثر فن حدیث میں ہیں۔ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ( ابن جوزی) نے خاص کتابت حدیث کے لئے یہ اہتمام رکھا تھا کہ حدیث لکھنے کے لئے جب قلم تراشتے تو اس کا تراشہ اٹھا رکھتے وہ اس قدر جمع ہوگیا تھا کہ انتقال کے قریب وصیت کی کہ میرا غسل کا پانی اسی سے گرم کیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ تراشہ پانی گرم کرنے کے لئے کافی ہوا بلکہ کچھ بچ رہا۔ باوجود اس جلالت شان کے ان کی نظر ان کتب متداولہ پر جن سے تصحیح حدیث صلوۃ التسبیح ہوتی ہے کیا نہ ہوگی۔ غرض کوئی ایک علت قائم کرکے حدیث کو موضوع قرار دینے سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح سمجھی جائے تو لوگ اس پر اعتماد کرکے کہیں عمل نہ چھوڑ دیں۔ اسی طرح ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے زیارت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت میں اس قدر زور دیا کہ جتنی حدیثیں زیارت کے باب میں وارد ہیں ان سب کو موضوع قرار دیا۔ اس خیال سے کہ زیارت و توسل و استغاثہ وغیرہ سے شرک لازم آتا ہے۔ شیخ تقی الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی رد میں شفاء السقام تصنیف کی اور اس میں اس خیال کی تغلیط کرکے رجال اسانید اور تخریج احادیث کے متعلق محققانہ بحث کی ہے اور ثابت کردیا کہ وہ سب حدیثیں صحیح ہیں اور توسل وغیرہ درست ہے۔ چنانچہ مولانا محمد عبدالحی نور اللہ مرقدہ ظفرالامانی میں لکھتے ہیں قال السخاوی وممن افرد بعد ابن الجوزی فی الموضوع کرامیۃ الرضی الصنعانی اللغوی ذکر فیہا احادیث من الشبہات للفضاعی والنجم للاقلیشی وغیرہما کالاربعین لابن ودعان وفضائل العلماء لمحمد بن سرور البلخی والوصیۃ لعلی بن ابی طالب وخطبۃ الوداع و ادب النبی صلی اللہ علیہ وسلم و احادیث ابی الدنیا الاشج ونسطور و نعیم بن سالم و دینار الحبشی و ابی ہدبۃ ابراہیم و نسخۃ سمعان انس عن وجھہا الکثیر ایضا من الصحیح والحسن ومافیہ ضعف یسیر وللجوز فانی ایضا کتاب الاباطیل اکثر فیہ من الحکم بالوضع بمجرد مخالفۃ السنۃ وہو خطاء الا ان یتعذر الجمع وکذا صنف عمر بن بدر الموصلی کتابا سماہ المغنی عن الحفظ والکتاب بقولہم لم یصح شی فی ہذا الباب وعلیہ فیہ مواخذات کثیرۃ وان کان لہ فی کل من ابوابہ سلف من الائمۃ خصوصاً المتقدمین انتہی کلامہ قلت ومن ہذا القبیل رسالۃ الشوکانی المسماۃ الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ فان فیہا احادیث صحاحا وحسانا قد ادرجہا بسوء فہمہ وتقلیدہ بالمشد دین المتساہلین فی الموضوعات فعلی العارف الماہر لتوقف فی قبول کلامہ و تنقیح مرامہ فی ہذا الباب بل فی جمیع مسائل الذہنیۃ فان لہ فی تالیفاتہ الحدیثیۃ والفقہیۃ اختیارات شنیعۃ مخالفۃ لاجماع الامۃ وعلماء الملۃ وتحقیقات مخالفۃ للمعقول والمنقول کما لایخفی علی ماہر الفروع والاصول۔
یعنی موضوعات میں صنعانی نے ایک رسالہ اور جوزفانی نے کتاب الاباطیل اور عمر بن بدر موصلی نے مغنی لکھی جن میں صحیح اور حسن حدیثیں موجود ہیں اور اسی طرح شوکانی نے ایک رسالہ لکھا جس میں نافہمی اور تقلید سے صحیح اور حسن حدیثیں داخل کردیں اور سوائے اس کے انھوں نے اکثر تصانیف میں ایسے اُمور اختیار کئے جو مخالف اجماع ہیں ان کے اقوال میں توقف کرنا چاہئے غرض کبھی جرح و تعدیل میں قول معتمد علیہ کی تائید مقصود ہوتی ہے جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ علیہ حنفیہ کے استدلالی حدیث کی تردید کے وقت راویوں کے حال میں اقوال جرح نقل کرتے ہیں پھر اپنے مذہب کے استدلال میں جب کوئی حدیث انھیں راوی سے روایت کی جاتی ہے تو اس پر استدلال کرلیتے ہیں۔ اس بات کو علامہ علاء الدین ماردینی رحمۃ اللہ علیہ نے جوہر النقی میں متعدد جگہ ثابت کردیا ہے اسی طرح کنزالعمال میں حدیث فضائل عسقلانی کے بحث میں لکھا ہے کہ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوع کہا۔ لیکن ابن حجر عسقلانی نے قول مسدد میں اس کی تردید کی۔ الغرض اکثر یہ ہوتا ہے کہ بحسب مقتضی وشان طبیعت وغیرہ اک صحیح غرض محدثین کے پیش نظر ہوتی ہے جس کے لحاظ سے اسناد پر غور کرکے جرح و تعدیل میں ان اقوال پر اعتماد کرتے ہیں جو مفید مدعیٰ ہوں۔ دیکھ لیجئے حاکم رحمۃ اللہ علیہ کو مستدرک کی تصنیف کے وقت ملحوظ تھا کہ جس قدر روایتیں شیخین یا احدہما کی شرط پر مل جائیں جمع کردوں چنانچہ اس قسم کی روایتیں بکثرت جمع ہوگئیں جس کی نسبت ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نکت میں لکھتے ہیں۔
ان المستدرک للحاکم کتاب کثیر جدا یصفولہ منہ صحیح کثیر زائد علی مافی الصحیحین علی ماذکر المصنف بعد دہومع حرصہ علی جمع الصحیح الزائد علی الصحیحین واسع الحفظ کثیر الاطلاع غزیر الروایت فبعد کل البعد ان یوجد حدیث بشرط الصحۃ لم یخرجہ فی مستدرکہ۔ 
پھر ذہبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ محدثین اس کی تنقیح کی طرف متوجہ ہوئے اور بہت سی حدیثوں میں کلام کرکے ان کو ضعیف بلکہ موضوع ثابت کردیا وجہ اس کی یہ ہے کہ حاکم رحمۃ اللہ علیہ کی توجہ تصحیح کی طرف تھی اور ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی توجہ تنقیح کی طرف۔ ایسے موقع میں خواہ مخواہ بعض اُمور نظر سے فرو گذاشت ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے موضوعات اور ضعاف جمع کرنے کی طرف توجہ کی اور موضوعات میں ایک کتاب اور ضعاف میں ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’علل متناہیہ فی الاحادیث الواہیہ‘‘ ہے۔ اور اس قدر جمع کیا کہ بعض بخاری و مسلم کی حدیثوں کو بھی موضوعات اور ضعاف میں داخل کردیا۔ علی ہذا القیاس جو کوئی کسی خاص مسئلہ میں رسالہ لکھتا یا تقریر کرتا ہے ہمہ تن توجہ اس کی اس بات پر ہوتی ہے کہ جتنی حدیثیں اپنے مفید مدعی ہوسکیں سب ذکر کردیئے جائیں اور حتی الامکان ان کی ضعف و علل کے اٹھانے میں بحث کی جائے اگر کوئی اس کی تردید کی طرف متوجہ ہو تو معاملہ برعکس ہوجاتا ہے اس میں یہ ضروری نہیں کہ ان دونوں کا مبنی نفسانیت پر ہو بلکہ ہر ایک کی غرض صحیح ہوتی ہے جس کے پوری کرنے پر بمقتضائے طبع وہ مجبور ہے اور ممکن ہے کہ بمصداق حب الشی یعمی ویصم کے خطا بھی ہوجائے اصل مقصود سے تقریر خارج ہوگئی کلام تو اس میں تھا کہ تھوڑے کام پر زیادہ ثواب کا ہونا قرینہ وضع نہیں جیسا کہ حدیث صلوٰۃ التسبیح سے ثابت ہوااسی طرح چھوٹے گناہ پر سخت وعید کا ہونا موضوعیت حدیث پر قطعی قرینہ نہیں ہوسکتا اسی طرح ترغیب و ترہیب منذری۔ وزواجر وغیرہ کتب سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ریا وسمعہ وغیرہ پر کیسی کیسی وعیدیں وارد ہیں اور سوائے اس کے خود قرآن شریف میں ہے ومن قتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جہنم خالد افیہا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا الیما۔ 
یعنی جس نے قصداً کسی مسلمان کو قتل کیا تو جزا اس کی جہنم ہے اس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور غضب اور لعنت کرے گا حق تعالیٰ اِس پر اور مہیا کر رکھا ہے اس کے واسطے بڑا عذاب۔ اگرچہ قتل گناہ کبیرہ ہے مگر جزا اس کی مثل جزائے کفر کے خلود نار جو اس آیت شریفہ سے معلوم ہوتی ہے اور یہ جزا بہ نسبت اس فعل کے بہت سخت ہے۔ اگر کہا جائے کہ اس آیت شریفہ میں تاویل کی گئی ہے تو ہم کہیں گے اچھا ویسی ہی اس حدیث میں بھی تاویل کرسکتے ہیں۔ صرف قرینہ پر موضوع کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ الحاصل ان قرینوں سے یہی ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس سے حدیث قطعاً موضوع ہوجائے اب رہے وہ قرائن جو خارجی ہیں اور ان سے موضوعیت حدیث کی جانی جاتی ہے منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ کسی واقعہ میں ایک جماعت کثیرہ موجود ہو اور سوائے ایک شخص کے کسی نے اس کو روایت نہ کی ہو یہ بھی قرینہ وضع ہے اس لئے کہ اگر وہ خبر صحیح ہوتی تو اور لوگ بھی اس جماعت کے اس کو روایت کرتے۔ غور سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس سے بھی قطعیت وضع کی ثابت نہیں ہوسکتی اسلئے کہ کل حدیثیں تو محدثین کو پہونچی ہی نہیں تا یقین ہو کہ کسی دوسرے نے اس کو روایت نہیں کی اور کل احادیث کا نہ پہونچنا یوں ثابت ہوسکتا کہ محدثین کی کتابوں میں ایک لاکھ حدیثیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ جواہرالاصول میں شیخ ابوالفیض محمد بن علی فارسی رحمۃ اللہ علیہ نے قول ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کا نقل کیا۔ جس کا یہ ترجمہ ہے حصر احادیث کا امکان سے بعید ہے مگر ایک جماعت محدثین نے تتبع کتب میں کرکے نہایت کوشش کے ساتھ حساب کیا چنانچہ ابوالمکارم کہتے ہیں کہ متون احادیث جو آج تک موجود ہیں ایک لاکھ تک پہونچے ہیں۔ حالانکہ اوپر یہ بات معلوم ہوچکی کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ حدیثوں کی خبر دی ہے اور اگر تعمق نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوا کہ ساڑھے سات لاکھ میں انحصار کل احادیث کا نہیں ہوسکتا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اگر دن رات میں دس گیارہ ہی فرض کئے جائیں تو صرف ایام نبوت کے اقوال تقریباً ایک لاکھ ہوجاتے ہیں اور روایت پر قول کی اگر دس ہی صحابیوں سے ہو اس وجہ سے کہ ہر صحابی کی روایت منقول ایک حدیث سمجھی جاتی ہے تو صرف اقوال احادیث دس لاکھ سے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ بدیں لحاظ کہ مبنی نبوت کا کلام اور ارشادات پر ہے۔ اور صحابہ بھی ہزارہا تھے۔ دس لاکھ بھی بہت کم ہوں گے۔ پھر احادیث افعال و تقریر اور صحابہ و تابعین کے اقوال و افعال اور اخبار کتب ماضیہ وغیرہ امور جن پر کہ اطلاق حدیث کا ہوتا ہے باقی رہ جاتے ہیں۔ 
قال السخاوی رحمۃ اللہ علیہ فی الفتح المغیث وکذا اٰثار الصحابۃ والتابعین وغیرہم وفتاوٰہم مما کان السلف یطلقون علی کل حدیثا
اس پر ہر شخص خیال کرسکتا ہے کہ کل حدیثیں کس قدر ہوں گی۔ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول نکت میں نقل کرتے ہیں کہ ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ حدیثوں سے مسند حدیثوں کا انھوں نے انتخاب کیا ہے۔ امام ذہبی نے طبقات میں لکھا ہے کہ احمد بن فرات کا یہ قول تھا کتبت عن الف سبعماۂ شیخ وکتبت الف الف حدیث و خمسائۃ الف فعملت من ذلک فی التوالیفی خمسمائۃ الف یعنی سات لاکھ حدیثیں مجھے شیوخ سے پہونچی ہیں۔ پھر یہ احتمال نہیں کہ ان میں کوئی حدیث موضوع وغیرہ ہو۔ کیونکہ ابن عدی کا قول اسی میں نقل کیا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے کوئی منکر روایت کی ہے کیونکہ وہ اہل صدق اور حفظ سے تھے اسی طرح امام احمد بن حنبل وغیرہ اکابر محدثین نے ان کی روایتوں کی توثیق کی ہے۔ طبقات الحفاظ میں امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ ابو عسال کے احوال میں لکھا ہے وہ کہتے تھے کہ صرف قرات میں مجھے پچاس ہزار حدیثیں یاد ہیں۔