عمل بالحدیث کی حقیقت
یہ بات یاد رہے کہ اس زمانہ میں تقلید مذاہب اربعہ سے بہتر کوئی مستحکم قلعہ نہیں جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃاللہ علیہنے بھی لکھا ہے اگر تقلید آبائی کا فقرہ سن کر کسی کو عار آجائے اور اس قلعہ سے باہر نکل پڑے تو کسی نہ کسی مکار غدار کا ضرور شکار ہوجائے گا۔ کیونکہ ہر شخص کا کام نہیں کہ مخالفوں کے دلائل کو رد کرکے اپنا حقانی دین و مذہب ثابت کرسکے۔ اس صورت میں ضرور کسی ایسے شخص کی تقلید کرنی ہوگی کہ نہ اس کو دین سے کام ہے نہ مذہب سے غرض بلکہ صرف جاہلوں کا مقتدا بننا اور ان کو اپنے مقلد بنانا منظور ہوگا۔ اس موقع پر بعض لوگ یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم اپنی تقلید کرانا نہیں چاہتے بلکہ عمل بالحدیث چاہتے ہیں۔ یہ ایسا فقرہ ہے کہ بھولے بھالے مسلمانوں کے دلوں پر افسوں کا کام کر جاتا ہے مگر اہل علم سمجھتے ہیں کہ عمل بالحدیث ہر شخص کا کام اس کیلئے اعلیٰ درجہ کی قوت اجتہادیہ کی ضرورت ہے۔ دیکھئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے جب مناظرہ کیا کہ زکوٰۃ نہ دینے والوں سے جہاد درست نہیں اس وقت صحیح حدیث پیش کی جس کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی جانتے تھے۔ باوجود اس کے انھوں نے جہاد کی ضرورت سمجھی اور خدا جانے کونسی آیات و احادیث پیش نظر ہوگئی تھیں کہ انھوں نے اس حدیث پر عمل کرانا درست نہیں سمجھا۔ آخر کل صحابہ نے اس حدیث کو ترک کرکے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اجتہاد ہی کو مان لیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ وہی احادیث اور ان کے معنی دین میں معتبر ہیں جو مجتہدوں کے ذریعہ سے پہونچیں اگر صحیح حدیث کے پیش ہوتے ہی اس پر عمل واجب ہوتا تو صدیق اکبر کو اجتہاد پر کبھی جرات نہ ہوتی غرضکہ بخاری شریف کی حدیثیں اسی وقت واجب العمل ہوں گی کہ مستند مجتہد کے اجتہاد میں واجب العمل قرار پائیں۔ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے عقد الجید میں لکھا ہے کہ کسی خصوصیت مقام اور قرائن خاصہ کی وجہ سے صحت حدیث ثابت ہوتی ہے اور جدلی اُمور کلیہ سے اس کا ابطال کرنا چاہتا ہے سو اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کسی پتھر کو دیکھنے سے یقین ہوتا ہے کہ وہ پتھر ہے مگر جدلی اس میں شک ڈالنے کی غرض سے کہتا ہے کہ ہر چیز کی شناخت رنگ اور شکل وغیرہ سے ہوتی اور چونکہ اِن اُمور میں تشابہ ہوتا ہے اس لئے اس کے پتھر ہونے کا یقین نہیں ہوسکتا جب قرائن خاصہ سے حدیث کی صحت ثابت ہوجائے تو جدلی کا قول قابل اعتبار نہ ہوگا بلکہ ایسے موقع پر سکون اور اطمینان قلب دیکھا جاتا ہے جو مشاہدہ اور قرائن سے حاصل ہو انتہی۔ اس تقریر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی مسئلہ میں صحت کسی حدیث کی ثابت ہوجائے اور دوسرے احادیث یا قرائن سے مجتہد کو سکون اور اطمینان حاصل نہ ہو تو انکو ضرور ہوگا کہ اجتہاد کرکے ایسا حکم مستنبط کریں جس سے ان کو اطمیان حاصل ہو اسی وجہ سے اکثر ان کو صحیح حدیثیں چھوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ صحابہ کرام کے طریقہ عمل سے ثابت ہوا۔ 
غرضکہ جن کو درجہ اجتہاد حاصل نہیں ان کو سکون اور اطمینان قلبی حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ تحقیق کرلیں کہ معتمد علیہ مجتہد نے بھی حدیث مبحوث عنہ کو واجب العمل قرار دیا یا نہیں اگر ہر طالب کے کہنے سے عمل بالحدیث کرنے لگیں تو ان طلبہ کے مقلد بازیچۂ اطفال بن جائیں گے۔ کیونکہ اس زمانہ میں مجتہد بننا ہرگز قرین قیاس نہیں اسی وجہ سے کہ مجتہد کو ضرور ہے کہ اجتہاد کرکے ہر مسئلہ میں اطمینانی کیفیت حاصل کرے کہ یہی شارع کی مراد ہے اور کسی مسئلہ دینیہ میں اطمینانی کیفیت اس وقت تک نہیں پیدا ہوسکتی کہ تمام آیات و احادیث اور تمام اقوال صحابہ جو اس مسئلہ سے متعلق ہیں پیش نظر نہ ہوں جیسا کہ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے انصاف میں لکھا ہے وثانیہما ان یجمع الاحادیث والاثر فیحصل احکامہا ویتنبہ بماخذ الفقہ ویجمع مختلفہا اور صحیح صحیح احادیث و آثار کا مفقود ہوجانا یقیناً ثابت ہے تو یہ چند موجودہ حدیثیں ان لاکھوں کے قائم مقام کیونکر ہوسکیں پھر احادیث میں قابل اعتماد وہ حدیثیں ہوتی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری قول یا فعل مذکور ہو جیسا کہ بخاری شریف میں ہے قال الزہری وانما یوخذ من امر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الاخر جب لاکھوں حدیثیں تلف ہوگئیں تو اس قسم کی بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں ضرور تلف ہوئی ہوں گی۔ ہاں اگر اصحاب صحاح ستہ یہ تصریح کردیتے کہ کل صحیح حدیثیں ہمیں پہونچ گئی ہیں مگر کسی مصلحت سے ہم نے بیکار حدیثوں کو ترک کردیا اور کام کام کی حدیثیں صحاح میں لکھ دیں تو ان کے اعتماد پر یہ کہنا ممکن تھا کہ تلف شدہ حدیثوں کو دین کے معاملہ میں کوئی دخل نہ تھا۔ اس لئے ان کا تلف ہونا ہی اچھا ہوا جس سے حفاظت کی مصیبت سر سے ٹل گئی مگر یہ بھی ثابت نہ ہوا اس لئے کہ کسی محدث نے یہ دعویٰ کیا ہی نہیں کہ مجھے کل صحیح حدیثیں پہونچی ہیں اور میں نے ان حدیثوں میں سے وہی حدیثیں انتخاب کرکے اپنی کتاب میں لکھی ہیں جن میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول اور فعل ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو صحاح ستہ میں ہر مسئلہ سے متعلق ایک ہی حدیث ہوتی۔ حالانکہ بخاری وغیرہ کتب صحاح میں اکثر متعارض حدیثیں موجود ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ صرف ناسخ اور معمول بہا حدیثوں کے لکھنے کا انھوں نے التزام نہیں کیا۔ دیکھئے بخاری شریف میں یہ حدیث موجود ہے قال ابوالدرداء کیف کان عبداللہ یقرؤ واللیل اذا یغشی قال والذکر والانثی فقال ابوالدرداء مازال ہولاء حتی کادوا یشکونی وقد سمعتہا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر بخاری شریف میں کل روایتیں واجب العمل ہوتیں تو سورۃ اللیل میں کوئی نہیں تو اہلحدیث ضرور والذکر والانثی پڑھتے حالانکہ غالباً وہ بھی ایسا نہ پڑھتے ہوں گے اس سے ظاہر ہے کہ بخاری شریف میں بھی واجب العمل اور غیر واجب العمل ہر قسم کی روایتیں موجود ہیں۔ اب بتایئے کہ کیا ممکن ہے کہ آخری زمانہ والے اجتہاد کے مدعی تمام صحیح اور ناسخ حدیثیں حاصل کرلیں جس سے اطمینانی کیفیت دل میں پیدا ہو۔ اس زمانہ میں اطمینانی کیفیت پیدا ہونے کی تدبیر سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ لاکھوں حدیثیں کان لم یکن فرض کرلیجائیںاور یہ خیال کرلیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرمایا ہی نہیں مگر یہ تصور خلاف واقع ہوگا اور جو اجتہاد اس پر متفرع ہوگا وہ بناء الفاسد علی الفاسد ہوگی۔
اگر انصاف سے دیکھا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ چند صحاح ستہ کی حدیثیں اس وقت غنیمت اور کافی سمجھی جاتی کل احادیث کا ماحصل اور خلاصہ ہمارے پاس نہ ہوتا۔ مگر جب اکابرین کی شہادتوں سے ثابت ہوگیا کہ فقہ حنفیہ تقریباً کل حدیثوں کا ملخص ہے تو مقتضائے عقل یہی ہے کہ اسی کو قائم مقام کل حدیثوں کے تصور کرلیں۔ 
چونکہ گل رفت و گلستاں شد خراب
بوی گل را از کہ جویم از گلاب
یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خود محدثین نے کہا کہ ابو حنیفہ نے احادیث کو محفوظ کردیا۔
غرضکہ جب امام صاحب نے تمام آیات و احادیث و آثار کو جمع کرکے ان سے مسائل جزئیہ کے استخراج کا بارگراں اپنے ذمہ لیا اور اس کام میں جس قدر ضرورتیں پیش آئیں سب کو نہایت اہتمام اور احتیاط سے پوری کیا توان کی محنت شاقہ کو کان لم یکن کرکے طے شدہ اُمور کو بے بضاعتی کی حالت میں ازسرنو شروع کرنا کس قدر بے ضرورت اور فضول ہے اگر اسی فقہ پر ظن غالب کرلیا جائے کہ تمام احادیث و آثار کا خلاصہ ہے تو اس کو تائید دینے والے بہت سے اکابر دین کی شہادتیں موجود ہیں بخلاف اس کے اب جو اجتہاد کیا جائے گا اس پر ہرگزحسن ظن نہیں ہوسکتا کہ وہ کل احادیث کا خلاصہ ہے اور جب تک کسی چیز پر ظن غالب نہ ہو وہ شریعت میں قابل اعتبار نہیں اسی وجہ سے امت مرحومہ میں مذاہب حقہ وہی چار تسلیم کئے گئے ہیں جن کی تدوین صحاح ستہ کی تدوین سے پہلے ہوچکی ہے جس زمانہ میں تقریباً کل صحیح حدیثیں موجود تھیں اور اس کے بعد مفقود ہوگئیں۔ مولانا شاہ ولی اللہ صاحبرحمۃاللہ علیہ انصاف میں لکھتے ہیں کہ اہل حق کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ واجب اصلی یہ ہے کہ امت میں ایک شخص ایسا ہو کہ احکام فرعیہ اور تفصیلیہ سے معلوم کرے چونکہ مقدمہ واجب ہے تو اگر کسی واجب کے حاصل کرنے کے کئی طریقہ ہوں تو کسی ایک طریقہ کا حاصل کرنا واجب ہوگا اور جب ایک ہی طریقہ اس کا معین ہوجائے تو صرف اسی طریقہ کو حاصل کرنا واجب ہے مثلاً کوئی شخص حالت مخمصہ میں مبتلا ہو جس سے خوف ہلاکت ہو تو اس مخمصہ کو دفع کرنے کے لئے غذا خریدے یا جنگل سے میوے وغیرہ چن کر کھائے یا شکار کرے غرضیکہ ان مختلف طریقوں سے کوئی ایک طریقہ دفع ہلاکت کے لئے اختیار کرناضروری ہوگا۔ اور اگر سب طریقہ مسدود ہوں اور ایک ہی طریقہ کھلا ہو مثلاً خریدی غذا کا تو اس پر واجب ہوگا کہ کچھ خرید کر کھائے۔ انتہی دیکھئے جب کل احادیث خصوصاً ناسخ حدیثوں کے حاصل کرنے کے سب طریقے مسدود ہوگئے اس لئے کہ لاکھوں حدیثیں مفقود ہوگئیں تو اب واجب یہی ہے کہ فقہ کی تقلید کی جائے جس کے خلاصہ احادیث ہونے کاظن غالب ہے کیوں کہ بخاری وغیرہ پر ظن غالب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کل احادیث کامجموعہ یا خلاصہ ہے یہی وجہ ہے کہ لاکھوں علماء باوجود یکہ صحاح ستہ کو خوب جانتے تھے مگر مذہب کی تقلید کرتے رہے۔
ترک تقلید:
یہاں یہ بات بھی معلوم کرنے کے لائق ہے کہ ابتدا کن لوگوں نے ترک ہیں مگر اس لحاظ سے بھی یہ لقب ان پر صادق آجاتا ہے کہ وہ تقلید سے خارج ہوگئے تھے بمناسب مقام تھوڑا سا حال ان کا یہاں لکھاجاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور معاویہ رضی اللہ عنہما میں متعدد جنگیں ہوئیں اور تجویز قرارپائی کہ طرفین سے حکم مقرر ہوں اور ان کی رائے پر فیصلہ قرار پایا۔ یہ بات ان لوگوں کو ناگوار ہوئی جن کو کمال تقویٰ اور علم کا دعویٰ تھا وہ لوگ علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر سے یہ کہہ کر علحدہ ہوگئے کہ حکم کرنا خدائے تعالیٰ کا کام ہے جب علی رضی اللہ عنہ دوسرے کے حکم بننے پر راضی ہوئے تو وہ کافر حلال الدم ہوگئے اب ان کی اتباع اور تقلید جائز نہیں۔ ابوالفرح ابن جوزی نے تلبیس ابلیس میں لکھا ہے کہ یہ لوگ اپنے علم میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے زیادہ سمجھتے تھے ہر چند ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ تمام مہاجرین و انصار ہیں جن میں قرآن نازل ہوا وہ تم سے زیادہ قرآن کے معنی جانتے ہیں ان کے جیسا ایک شخص بھی نہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور کئی سوال کئے جن میں ایک یہ تھا کہ خدائے تعالیٰ تو فرماتا ہے ان الحکم الا للہ اور علی رضی اللہ عنہ نے آدمیوں کو حکم مقرر کیا۔ آدمیوں کو حکم بننے سے کیا تعلق تلبیس ابلیس کی یہ عبارت ہے قالوا ما احدنہن فانہ حکم الرجال فی امراللہ و قال اللہ تعالیٰ ان الحکم الا للہ فماشان الرجال والحکم بعد قول اللہ اور اس میں لکھا ہے کہ خوارج میں سے حرقوص وغیرہ نے علی کرم اللہ وجہہ سے کہا لا حکم الا اللہ آپ نے بھی فرمایا لا حکم الا اللہ یہ سن کر اس نے کہا جب یہی بات ہے تو توبہ کرو اور اپنے فیصلہ سے رجوع کرو اور اگر ایسا نہ کروگے تو ہم تم سے جنگ کریں گے۔ لکھا ہے کہ جب جنگ شروع ہوئی تو خوارج کی فوج میں ہر ایک دوسرے سے کہتا تھا کہ تھئیو للقاء الرب الرواح الرواح الی الجنۃ۔ یعنی اپنے رب سے ملنے کے لئے آمادہ ہوجاؤ اور چلو جنت کی طرف جلدی چلو، بڑی عبرت کا مقام ہے کہ وہ کیسے قوی الایمان لوگ تھے کہ راہ خدا میں جان دینا ان پر ذر ابھی گراں نہ تھا بلکہ ان کے یہ چند گراں بہا معنی خیز الفاظ ان کے دلی ولولوں کو کس وضاحت سے بیان کررہے ہیں کہ ان کی عمر کا و ہ ایک ہی دن تھا جس میں عمر بھر کی سعی اور جانفشانیوں کا نتیجہ پیش نظر ہوگیا تھا ان کا ایمان اور صدق ہرگز گوارا نہیں کرتا تھا کہ وہ دن ٹل جائے موت کی تاخیر کو وہ ایک صدمہ جانکاہ سمجھتے تھے حوروقصور اور جنت کے تمام سامان پیش نظر ہوگئے تھے کہ اب کوئی دم میں وہاں پہنچ کر مصائب دنیوی سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کی ملاقات جس کی تمنا عمر بھر رہی اب ہونے کو ہے۔ مگر افسوس ہے کہ بزرگان دین کی توہین اور خودسری و ترک تقلید نے سب آرزوؤں کو خاک میںملادیا اور بجائے جنت کے دوزخ کا مستحق بنادیا۔ اگر چوں و چرا کرکے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی تقلید کرلیتے تو وہ آرزوئیں پوری ہوتیں بلکہ ان سے بھی زیاد کے مستحق ہوجاتے۔ (حقیقۃ الفقہ حصہ دوم صفحہ 51 تا 73