موئے مبارک ،انوار و برکات
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کا ہر جزہمہ تن نور ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کا ہر جزہمہ تن نور ہے۔ جس کو اہل بصیرت جانتے ہیں اس میں وہ برکت اور فضیلت رکھی ہوئی ہے کہ کسی دوسری چیز میں نہیں۔ اس کو اپنے باطن میں پہنچانا باعث ترقی روحانی ہے ان حضرات کے اس خیال پر یہ روایت بھی گواہ ہے جس کو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے شفاء میں نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشاب کو پی لیا آپ نے اس بی بی کو فرمایا کہ پیٹ کی بیماریوں کی شکایت اب تمہیں کبھی نہ ہوگی۔اس سے تو ثابت ہے کہ فضلات کی نسبت بھی صحابہ علیہم الرضوان کا یہی اعتقاد تھا کہ وہ سب تبرک ہیں۔ اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ وہ دواء امراض جسمانی بھی ہیںجس کی بالطبع آدمی کو رغبت ہوا کرتی ہے جب ہم خیال کرتے ہیں کہ پینے کے وقت انہیں کوئی مرض لاحق نہ تھا جس کے علاج کااُنہیں خیال آیا ہو۔ تو اس سے ظاہر ہے کہ ان حضرات کے عقیدہ میں یہ بات مستحکم تھی کہ وہ فضلات اپنی جان سے افضل اور باعث ترقی روحانی ہیں۔
بخاری شریف وغیرہ میں ہے کہ صحابہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو بیٹھتے تو ایسے سر جھکائے ہوئے بیٹھتے تھے جیسے کسی کے سر پر پرندہ بیٹھا ہے اور وہ شخص اس خیال سے کہ کہیں وہ اڑ نہ جائے سر جھکائے ہوئے بیٹھتا ہے۔ اور کوئی شخص حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو آنکھ بھر کے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ایسے مؤدب حضرات کے وہ خلاف شان اور گستاخانہ حرکات قابل تعجب ہیںاور اس پر سکوت اور رضا مندی حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے زیادہ حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے مگر بات یہ ہے کہ صحابہ کے پیش نظر اس وقت یہ امر ہوتا تھا کہ اس پانی سے جو جسم مبارک تک پہنچ کرسراپا برکت ہوگیا تھا برکت حاصل کریں۔ اور وہ فضلات جس کو حضرت کے جسم مبارک سے متصل ہونے کی فضیلت حاصل ہوگئی تھی اپنے چہروں پر مل کر دارین میں سرخروئی حاصل کریں۔ اور ان اشیائے فاضلہ کے استعمال کی بدولت اپنے جسم میں یہ صلاحیت پیدا ہو کہ روح پر جو جسم سے متصل یا متعلق ہے اثر ڈالے اور اسکی ترقی کا باعث بنے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود اصلی یہی تھا کہ اہل ایمان کو ترقی روحانی حاصل ہو۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ظاہری بے ادبی کو نظر انداز فرمادیتے تھے اور یہ سکوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو جرات دلاتا تھا کہ دل کھول کر یہ کام کیا جائے ورنہ کس کی مجال تھی کہ حضور نبوی میں ایسے بے ادبانہ حرکات کرسکتا۔ غرضکہ وہ فضلات بلا شبہ باعث ترقی روحانی سمجھے جاتے تھے۔ اب اہل انصاف غور فرمائیں کہ صحابہ ان فضلات کو اپنے سے افضل بلکہ باعث حصول فضیلت سمجھتے تھے اور صحابہ کے مقابلے میں اپنے آپ کو لاکر دیکھ لیا جائے کہ عقلا و شرعا وہ ہم سے افضل تھے یا نہیں؟ اسکے بعد خود فیصلہ ہوجائیگا کہ ہم تو کیا ہم سے افضل لوگوں سے وہ فضلات افضل تھے۔ اب جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کے ساتھ ہمسری کا دعویٰ رکھتے ہیں ان روایتوں کو پیش نظر رکھیں تو سمجھ جائیں گے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بول وبراز بھی ہم سے بدر جہا افضل تھا۔
موئے مبارک روزانہ دست بدست 
سب تقسیم ہوجاتے:
موئے مبارک کا حال حدیث موصوف سے معلوم ہوگیا کہ روزانہ جو وضو کے وقت گرتے وہ دست بدست تقسیم ہوجاتے تھے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصلاح بنوارہے تھے اور صحابہ ارد گر بیٹھے نوبت بہ نوبت اپنے ہاتھ پھیلا پھیلا کر موئے مبارک کوحاصل کرتے تھے۔ ’’المواھب اللدنیہ‘‘ میں ’بخاری ‘و ’مسلم‘ سے منقول ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے حجۃ الوداع میں اصلاح بنوالی تو سر مبارک کے بال ایک ایک دو دو لوگوں میں تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔ انتہی ملخصا۔ شارح زرقانیرحمۃاللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ایک ایک دو دو بال تقسیم کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حاضرین کثرت سے تھے اور اس سے غرض یہ تھی کہ ہمیشہ ان کے پاس وہ برکت باقی رہے اور آئندہ کے لئے یاد گار ہو۔ ان احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ موئے مبارک اس غرض سے حاصل کیا کرتے تھے کہ بطور تبرک ان کو اپنے پاس رکھیں اور اپنے احباب میں تقسیم کریں وہ تبرکات کچھ تو اپنے ورثاء میں تقسیم کئے اور کچھ انہوں نے اپنے احباب کو دےئے ہونگے اور خود صحابہ جب انکی قدر کرتے تھے تو وہ جن کے پاس گئے وہاں بھی بطور تبرکات رکھے جاتے تھے جیسا کہ اب تک باوجود تیرہ سو سال منقضی ہونے کے تبرکات ہی کے حیثیت سے رکھے جاتے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ اس موقع میں جہاں اس تعظیم وتوقیر کا منشاء قائم ہورہا تھا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سکوت فرمانا اسی غرض سے تھا کہ اہل اسلام دل کھول کر ان تبرکات سے برکت حاصل کیا کریں اور بڑی غرض اس سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو عشاق نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیدار جہاں آرا سے محروم ہیں وہ اس متبرک جز کو سر اور آنکھوں پر رکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کریں اور سر فراز ہوں۔ اب رہی یہ بات کہ بعض جعل سازوں نے بھی بغرض دنیوی کار سازیاں کی ہوں گی جس سے ہر ایک میں اشتباہ واقع ہو گیا تو وہ اصل مقصود کے منافی نہیں اس لئے کہ تعظیم کرنے والا اس کو موئے مبارک سمجھتا ہے اس کے اعتقاد کے مطابق خدائے تعالی اس کو برکت عطا فرمائیگا۔ جیسا کہ اس حدیث شریف سے بھی واضح ہوسکتا ہے۔(انما الاعمال بالنیات)۔
حسبِ عقیدت عطائے برکت
کنزالعمال کے ’’کتاب المواعظ والحکم‘‘ میں یہ حدیث شریف ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خدائے تعالی کی طرف سے کسی کو فضیلت کی کوئی بات پہنچے اور اس کو ایمان کی راہ سے قبول کر لیا اور اس میں ثواب کی امید رکھی تو حق تعالی اس کووہی ثواب عطا فرمائیگا جو اس کو معلوم ہوا ہے۔ اگرچیکہ وہ خلاف واقع ہو۔ انتھی ملخصا۔ مقصود یہ کہ کسی روایت سے یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں کام میں فضیلت ہے گو اس کا ثبوت باضابطہ نہوا ہو مگر عمل کرنے والا اعتقاد سے اس پر عمل کرلے تو وہی ثواب پائیگا جو اس میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی بزرگ کے پاس موئے مبارک کی زیارت ہوتی ہو اور انہوں نے کہہ دیا کہ یہ موئے مبارک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے تو اگر فی الواقع وہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک نہ بھی ہو تو جو برکت اصلی موئے مبارک کی زیارت میں حاصل ہونے والی ہو وہی برکت اس موئے مبارک کی زیارت میں بھی حاصل ہوگی۔ یہ خدائے تعالی کا ایک فضل ہے جو بطفیل حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت پر ہے واہی تباہی شبہات کی وجہ سے ایسی فضیلت سے محروم رہنا مقتضائے عقل نہیں۔ شیطان آدمی کا دشمن ہے وہ ہر گز نہیں چاہتا کہ کوئی فضیلت اور برکت کسی کو حاصل ہو۔ اس وجہ سے وہ ایسے شبہات پیش کرتا ہے جس کو عقل بھی مان لیتی ہے مگر ایمان آدمی کا مستحکم ہو تو دونوں کو جواب دیکر آدمی سعادت دارین حاصل کر سکتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہوگیا کہ دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہزارہا بلکہ لکھو کھا موئے مبارک موجود ہیں تو اب یہ خیال کرنے کی ضرورت ہی کیا کہ وہ کسی اور کا بال ہے۔ اگر صرف سو پچاس بال کا وجود احادیث سے ثابت ہو تا تو یہ کہنے کی گنجائش ہوتی کہ ہزار ہا موئے مبارک کہاں سے آگئے۔ جس کی زیارتیں ہورہی ہیں۔ میری دانست میں اس وقت موئے مبارک کی اس قدر کثرت نہیں جس قدر صحابہ کے زمانہ میں احادیث سے معلوم ہوتی ہے۔
پرستش قرار دے کر لوگوں کو زیارت سے روکنا
بہر حال موئے مبارک کی زیارت نہ کر کے اس برکت سے محروم رہنا جو صحابہ کے مد نظر تھی قرین مصلحت نہیں۔ بعض حضرات اس کو پرستش قرار دیکر لوگوں کو زیارت سے روکتے ہیں اگر ایسے امور پرستش قرار دئے جائیں تو ہندوؤں کا قول صادق آجائیگا کہ مسلمان بھی مثل دیول کے کعبے کے اطراف پھرتے ہیں اور اس کی پرستش کیا کرتے ہیں مگر ہندوؤں کے قول سے ہم ان امور کو ہرگز نہیںچھوڑ سکتے جو بہ تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ثابت ہوئے اور صحابہ ان پر عامل رہے ہیں۔
موئے مبارک کی برکت سے فتح ونصرت 
’’تاریخ واقدی‘‘ وغیرہ میں مروی ہے کہ جب شام میں خالد بن الولید رضی اللہ عنہ جبلہ بن ایہم کی قوم کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے ایک روز تھوڑی فوج کے ساتھ مقابل ہوئے اور رومیوں کے بڑے افسر کو مارلیا اس وقت جبلہ نے تمام رومی اور عرب مستنصرہ کو یکبارگی حملہ کرنے کا حکم دیا صحابہ کی حالت نہایت نازک ہوگئی رافع ابن عمر طائی نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: آج معلوم ہوتا ہے کہ ہماری قضا آگئی خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ کہتے ہو اسکی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی ٹوپی بھول آیا جس میں آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں۔ ادھر یہ حالت تھی اور ادھر رات ہی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ عنہ کو جو افسر فوج تھے خواب میں زجر فرمایا کہ تم اس وقت سوتے پڑے ہو اٹھو اور فوار خالد بن الولید کی مدد کو پہنچو کفار نے ان کو گھیر لیا ہے۔ اگر تم اس وقت جاؤ گے تو وقت پر پہنچ جاؤگے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اسی وقت لشکر میں پکاردئے کہ جلد تیار ہو جاؤ چنانچہ وہاں سے وہ مع فوج یلغار روانہ ہوئے۔ راستے میں دیکھاکہ فوج کے آگے آگے نہایت سرعت سے ایک سوار گھوڑا دوڑائے ہوئے چلاجارہا ہے اسطرح کہ کوئی اس کو پہنچ نہیں سکتا۔ انہوں نے خیال کیا کہ شاید کوئی فرشتہ ہے جو مدد کے لئے جارہا ہے مگر احتیاطاً چند تیز رفتار سواروں کو حکم کیا کہ اس سوار کا حال دریافت کریں۔ جب قریب پہنچے تو پکار کر کہا کہ اے جواں مرد سوار ذرا توقف کر۔ یہ سنتے ہی وہ ٹہر گیا دیکھا تو خالد بن ولید کی بی بی تھیں۔ ان سے حال دریافت کیا کہا کہ اے امیر جب رات میں میں نے سنا کہ آپ نے نہایت بے تابی سے لوگوں سے فرمایا کہ خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو دشمن نے گھیر لیاتو میں نے خیال کیا کہ وہ ناکام کبھی نہ ہوں گے کیونکہ ان کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں مگر جب ادھر ادھر دیکھا تو ان کی ٹوپی پر نظر پڑی جس میں موئے مبارک تھے۔ نہایت افسوس سے میں نے ٹوپی لی اور اب چاہتی ہوں کہ کسی طرح اس کو ان تک پہنچادوں۔ ابوعبیدہ نے فرمایا: جلدی سے جاؤ خدا تمہیں برکت دے۔ چنانچہ انہوں نے گھوڑے کو ایڑ کیا اور آگے بڑھ گئیں۔ رافع بن عمر جو خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے وہ کہتے ہیں کہ ہماری جب یہ حالت ہوئی کہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے تھے یکبار گی، تہلیل وتکبیر کی آواز آئی خالد رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے کہ یہ آواز کدھر سے آرہی ہے کہ یکبارگی روم کے سواروں پر نظر پڑی کہ بدحواس بھاگے چلے آرہے ہیں اور ایک سوار ان کا پیچھا کئے ہوئے ہے خالد رضی اللہ عنہ گھوڑا دوڑ ا کر اس سوار کے قریب پہنچے او رپوچھا کہ اے جواں مرد سوار تو کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں تمہاری بی بی ام تمیم ہوں تمہاری مبارک ٹوپی لائی ہوں جس سے دشمن پر فتح پا یا کرتے ہو تم نے اس کو اسی وجہ سے بھولا تھا کہ یہ مصیبت تم پر آنے والی تھی۔ الغرض وہ ٹوپی انہوں نے ان کو دی اس سے برق خاطف کی طرح نور نمایاں ہوا۔ راوی حدیث قسم کھا کر کہتے ہیں کہ خالد رضی اللہ عنہجب ٹوپی پہن کر کفار پر حملہ کیا تو لشکر کفار کے پیر اکھڑ گئے اور لشکر اسلام کی فتح ہوگئی۔ انتہی ملخصا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم موئے مبارک میں جو برکت سمجھتے تھے سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ کیا چیز ہے حسی ہے یا معنوی اور بالوں کے اندر رہتی ہے یا سطح بالائی پر کتنی ہی موشگافیاں کیا کیجئے اس کا سمجھنا مشکل تھا۔ اس روایت سے سب مشکلات حل ہوگئے۔ اور معلوم ہوگیا کہ مشکل سے مشکل کاموں میں آسانی اور جاں گداز واقعات میں امداد غیبی اس برکت کا ایک ادنی کرشمہ ہے۔ ’’شمس التواریخ‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے سارے فتوحات کے باعث یہی موئے مبارک ہوتے تھے۔ صاحب ’’الاصابۃ فی احوال الصحابہ‘‘ تحریر فرماتے ہیں کہ یرموک کی لڑائی میں یہ ٹوپی سر پر نہ تھی جب تک نہیں ملی حضرت خالد رضی اللہ عنہ نہایت الجھن میں رہے ملنے کے بعد اطمینان ہوا۔ اس وقت آپ نے یہ ماجرا بیان فرمایاکہ کل فتوحات کا مدار ان موئے مبارک پر تھا۔ انتہی۔ غرض کہ یہ تبرکات وہ ہیں جو بڑی جاں فشانیوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے حاصل کئے اور اس کی حفاظت کی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ایسے لوگ نہ تھے کہ فضول کام میں وہ اہتمام کرتے کہ دینی ضروریات سے بھی زیادہ ہو کیونکہ اس کے حاصل کرنے میں نوبت بہ جدال وقتال پہونچنے کو ہوتی۔ جیسا کہ لفظ حدیث کا دوا یقتلون سے ظاہر ہے بہ خلاف اس کے اور کسی دوسرے کام میں یہاں تک نوبت نہیں پہنچتی تھی۔ دیکھئے صف اول کی فضیلت ثابت ہے مگر جب یہاں تک نوبت پہنچی تو صاف ارشاد ہوگیا کہ صف ثانی میں بھی وہی فضیلت ہے اور اس جھگڑے کو یوں طے فرمادیا۔ بخلاف اس کے یہ حالت روزانہ ملاحظہ فرماتے اور خاموش رہ جاتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس اہتمام کو برانہیں سمجھتے تھے کیونکہ حضرت جانتے تھے کہ وہ برکات انکے دارین کی صلاح وفلاح کے باعث ہیں ایسی چیز سے انکو روکنا گویا ان کو سخت ضرر پہنچاناہے اور مقتضائے رحمت نبوی یہ نہ تھا کہ اپنے جاں نثاروں کو کسی قسم کا ضرر پہنچائیں۔ اہل انصاف غور فرماسکتے ہیں کہ صحابہ کا ہم پر کیسا احسان ہے کہ کیسی مصیبت سے انہوں نے وہ تبرکات حاصل کئے اور ان کی حفاظت نسلا بعد نسل کر کے ہم تک پہنچایا مگر افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں ان کی کچھ قدر نہ ہوئی کیونکہ باپ دادا کی کمائی کی آدمی کو وہ قدر نہیں ہوتی جو اپنی کمائی کی ہوتی ہے۔ ’’تاریخ واقدی‘‘ میں لکھا ہے کہ جنگ یرموک میں ایک روز خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ اپنی شجاعت بیان کرتے ہوئے لشکر کفار کی طرف بڑھے ادھر سے ایک پہلوان نکلا جس کا نام نسطور تھا اور دونوں کا دیر تک سخت مقابلہ ہورہا تھا کہ خالد رضی اللہ عنہ کا گھوڑا ٹھو کر کھا کر گرا اور خالد رضی اللہ عنہ اس کے سر پر آگئے اور ٹوپی زمین پر گر گئی نسطور موقع پاکر آپ کی پیٹھ پر آگیا اس حالت میں خالد رضی اللہ عنہ نے پکار کر اپنے رفقاء سے کہا کہ میری ٹوپی مجھے دوخدا تم پر رحم کرے ایک شخص آپ کی قوم بنی مخزوم سے تھا دوڑ کر ٹوپی دیدیا آپ نے اسکو پہن کر باندھ لیا اور نسطور پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کردیا۔ لوگوں نے اس واقعے کے بعد پوچھا کہ یہ آپ نے کیسی حرکت کی کہ دشمن قوی پیٹھ پر آپہنچا اور کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں رہی اس وقت آپ اپنی ٹوپی کی فکر میں تھے جو شاید دو چار آنے کی ہوگی آپ نے کہا وہ معمولی ٹوپی نہیں تھی اس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے۔
موئے مبارک کی وجہ سے ادنیٰ شی کی غیر معمولی قدر
اب غور کیجئے کہ اس ٹوپی کا خیال اس وقت کہ دشمن کے پورے قابو میں ہیں کس غرض سے ہوگا۔ لوگوں کو جو تعجب تھا کہ ایسی کیا قیمت اس کی ہوگی جو ایسی حالت میں اس کا خیال آیا وہ پہلے ہی آپ نے دفع فرمادیا کہ کوئی قیمتی چیز نہ تھی لیکن اس میں موئے مبارک تھے۔ غرض کہ اس وقت توجہ موئے مبارک کی طرف تھی اور اس کی طرف توجہ کرنے کا سبب سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس ٹوپی سے صرف استعانت مقصود تھی کہ دشمن پر مدد حاصل ہو۔ اب غور کیجئے کہ ایسے جلیل القدر صحابی جن کی تعریف خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور سیف من سیوف اللہ فرمایا ان کی یہ حالت ہے کہ ایسے وقت میںکہ دشمن پورا قابو پاچکا ہے اور جانبری کی کچھ توقع نہیں اور دشمن خنجر بکف ہے موئے مبارک سے استمداد کر رہے ہیں اور یہ استمداد زبانی نہ تھی جیسا کہ اکثر شاعری میں استمدادی الفاظ کہدئے جاتے ہیں جن میں بندش مضمون زیادہ مقصود ہوتی ہے۔ بلکہ یہ مدد طلب کرنا عملی طور پر تھا اور زبان حال پکار پکار کرکہتی تھی اے حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے موئے مبارک یہی وقت مدد ہے دشمن قوی سے بچالیجئے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بفضلہ تعالی اس نازک حالت میں آپ ہی کو غلبہ ہوا اس میں شک نہیں کہ وہ خدا سے ضرور مدد مانگ رہے ہوں گے مگر ظاہرانہ انہوں نے کوئی دعا کی نہ ایسے الفاظ کہے جس سے معلوم ہو کہ وہ بال کوئی قابل توجہ نہیں بلکہ برخلاف اسکے صاف کہدیا کہ میرے سارے فتوحات کے باعث یہی موئے مبارک ہیں اہل انصاف اگر ادنی توجہ فرمائیں تو مسئلہ استعانت بالغیر جو آج کل معرکۃ الآراء بناہوا ہے اسی ایک واقعہ سے حل ہوسکتا ہے۔
موئے مبارک کی توہین خسارئہ دنیا و عقبیٰ
جلیل القدر صحابہ کے عمل سے جب یہ ثابت ہوگیا کہ موئے مبارک نہایت واجب التعظیم ہیں تو اس کے مقابلے میں آخری زمانے کے مسلمانوں کا یہ کہناکہ انکی تعظیم بدعت اور بت پرستی ہے ہر گز قابل اعتبار نہیں ہوسکتا۔ بڑی خرابی اس میں یہ ہے کہ موئے مبارک کی اس میں سخت توہین ہے کیونکہ اسے بت کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنی چیز کی توہین باعث عذاب ولعنت ہے کیونکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اذیت متصور ہے جو باعث لعنت وشقاوت: ابدی ہے۔
حق تعالی فرماتا ہے انّ الذین یؤذون اللّٰہ ورسولہ لعنھم اللّٰہ فی الدنیا والاٰخرۃ ولھم عذاب عظیم۔ یعنی جو لوگ اللہ اور رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا وآخرت میںخداکی لعنت ہے اور ان پر بڑا عذاب ہوگا۔ اور ’’کنزالعمال ‘‘میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جس نے میرے ایک بال کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی او ر جس نے مجھے ایذا دی اس نے خدا کو ایذا دی اور اس میں یہ روایت بھی ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناایک بال ہاتھ میں لیکر فرمایا کہ جس نے میرے بال کو ایذا دی اس نے مجھے ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے خدا کو ایذا دی اور جس نے خدا کو ایذا دی اس پر تمام آسمان اور زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ اور نہ اس کے نوافل قبول ہوں گے اور نہ فرائض۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر جنت حرام ہے۔ ظاہرا بال ایک ایسی چیز ہے کہ اس کو کاٹتے ہیں کترتے ہیں مگر اس کو ایذا نہیں ہوتی پھر کیا وجہ ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موئے مبارک کو ہاتھ میں لیکر اس کی ایذا کی تصریح فرمائی یوں تو آسان ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجازیا مبالغہ ہے۔ مگر نکتہ رس طبائع کا خلجان ایسی توجیہات سے دفع نہیں ہوسکتا۔
عالم کے تمام اشیاء کی حیات، اور انکا 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا:
میری دانست میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد خاص حقیقت شناسوں کے لحاظ سے فرمایا جو صحابہ تھے کیونکہ فیضان صحبت سے وہ سب حضرات حقیقت شناس ہوگئے تھے وہ جانتے تھے کہ عالم میں ہرچیز زندہ اور ذی فہم ہے کیونکہ حق تعالی فرماتا ہے۔ وان من شی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم ۔یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو خدائے تعالی کی تسبیح نہیں کرتی لیکن ان کی تسبیح کو تم نہیں سمجھتے۔ یہ ظاہر ہے کہ تسبیح اور تنزیہ کرنے والے کو جب تک اس امر کا ادراک نہ ہو کہ اس کا ایک خالق ہے اور اس کے جس قدر اوصاف ہیں سب کمالات ہیں اور سب عیبوں سے وہ منزہ ہے تسبیح کرنا صادق نہیں آتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تمام عالم کے اشیاء اچھی چیز کو اچھی اور بری چیز کو بری سمجھتے ہیں جو تنزیہ کا منشا ہے۔ اگر چہ اس آیۃ شریفہ میں بھی یہ احتمال تھا کہ ان کا تسبیح کرنا بزبان حال ہوگا مگر چونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس امر کا مشاہدہ تھا کہ جیسے انسان کے ادراک ہیں ان کے بھی ادراکات ہیں اسوجہ سے ان کو اس آیۃ شریفہ میں تاویل کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ ہمیشہ وہ دیکھا کرتے تھے کہ درخت وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کیا کرتے تھے۔ ’’کنزالعمال‘‘ کی ’’کتاب الفضائل‘‘ میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکان سے نکلا دیکھا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جس درخت اور پتھر پر گذر ہوتا وہ حضرت پر سلام کرتا تھا۔ اور مجمع عام میں ستون کا رونا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی گفت وشنود اور کنکروں کا بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھنا وغیرہ صدہا امور جو خصائص کبری وغیرہ کتب حدیث میں مذکور ہیں ہمیشہ پیش نظر تھے غرض کہ کثرت مشاہدات سے ان کو جمادات وغیرہ کے ادراکات میں ذرا بھی شک نہ تھا اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موئے مبارک کو ہاتھ میں لیکر فرمایا: میرے بال کو جو ایذا دے اسکو یہ سزائیں ہیں اور انہوں نے یقین کرلیا کہ بیشک موئے مبارک کو بعض امور سے اذیت ہوا کرتی ہے اس لئے انہوں نے اسکی تعظیم وتوقیر کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ اسکے روبرو مؤدب ہوجاتے اور اسکی نہایت تعظیم وتوقیر کرتے۔ بہر حال جب موئے مبارک کی نسبت کسی قسم کی گستاخی کی جائے تو ان کو اس سے اذیت ہوتی ہے اب رہی یہ بات کہ ان کو کان توہیں بھی نہیں پھر سننے کی کیا صورت تو اہل ایمان کے نزدیک یہ اعتراض قابل توجہ نہیں اس لئے کہ سماعت کو کان سے کوئی ذاتی تعلق نہیں بلکہ عطائی تعلق ہے چنانچہ ہم نے مقاصد الاسلام کے کسی حصہ میں اس سے متعلق بحث کی ہے کہ خدا تعالی جس طرح کان سے سماعت کو متعلق فرمایا جس چیز سے چاہے متعلق فرمادے سکتا ہے۔ مشکوۃ شریف کے باب الاذان میں یہ روایت ہے جو کتب صحاح سے منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب مؤذن اذان کہتاہے تو جہاں تک اسکی آواز پہنچتی ہے وہاں تک کل اشیاء خواہ وہ خشک ہوں یا تر سب قیامت میں اس کے حق میں گواہی دیں گے کہ اس شخص نے اذان کہی تھی۔ دیکھئے درخت پتھر ڈھیلے وغیرہ اگر مؤذن کی آواز سنتے نہ ہوں تو گواہی دینے کی صورت سے یہ بھی ثابت ہے کہ انکو اس کا علم وادراک بھی ہے۔ ’’کنزالعمال‘‘ کی کتاب الحج میں ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ سے یہ حدیث منقول ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص تلبیہ کہتا ہے۔ یعنی لبیک اللھم لبیک الخ تو جتنے پتھر ڈھیلے اور درخت اس کے داہنے اور بائیں بازو ہیں سب تلبیہ کہتے ہیں۔اس سے سماعت ان اشیاء کی ثابت ہے۔ اس کے سوا کثرت سے احادیث موجودہیںجن سے ثابت ہے کہ سوائے انسان اور حیوانات کے نباتات اور جمادات بھی سنتے اور سمجھتے ہیں غرض کہ موئے مبارک کا سننا اور انکے علمی ادراکات ثابت ہیں تو توہین سے ان کو ضرور اذیت ہوتی ہوگی اور یہ ایذا رسانی ان سزاوں کا باعث ہوتی ہے جس کی تصریح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی جو ابھی مذکور ہوئیں۔
جمادات و نباتات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار و تصرف:
کنزالعمال کی کتاب الفضائل میں یہ حدیث شریف ہے کہ اسیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو جارہے تھے ایک مقام میں مجھ سے فرمایا کہ دیکھو کوئی جگہ ایسی ہے جہاں حاجت بشری سے فراغت حاصل کی جائے وہ کہتے ہیں کہ میں بہت دور نکل گیا مگر جدھر دیکھا آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے کوئی جگہ ایسی نہیںدیکھی جہاں تخلیہ ہوسکے جب میں نے یہ حال عرض کیا فرمایا کہ کہیں کھجور کے چھوٹے چھوٹے درخت بھی نظر آتے ہیں جن کے بازو میں پتھروں کا ڈھیر ہو میں نے عرض کیا جی ہاں، یہ تو دیکھا ہے فرمایا: جاؤ اور ان درختوں سے کہدو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو حکم کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے ملجاؤ اور یہی بات پتھروں سے بھی کہدو، وہ کہتے ہے خدا کی قسم میں نے جب درختوں کو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پہنچادیا دیکھا کہ ان کی جڑیں اور مٹی حرکت کرنے لگی اور وہ تھوڑے عرصے میں ایسے مل گئے کہ ان میں بالکل فاصلہ نہ رہا او رجب پتھروں کو حکم پہنچایا تو پتھروں کو دیکھا کہ ایک کے اوپر ایک چڑھنے لگے یہاں تک کہ ایک دیوار بن گئی میں نے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی فرمایا ڈولچی میں پانی بھر لو میں پانی لیکر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگیا اور پاء خانے میں پانی رکھ کر میں دور ہٹ گیا۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حاجت سے فارغ ہوئے اور خیمہ مبارک میں تشریف لائے فرمایا کہ ان درختوں اور پتھروں سے کہدو کہ اپنی اپنی جگہ چلے جائیں چنانچہ بمجرد حکم پہنچانے کے ہر درخت اور پتھر اپنے اپنے مقام سابق پر آگیا انتہی ملخصا۔
اختیار و معجزہ میں لطیف فرق:
اس سے ظاہر ہے کہ نباتات وجمادات بات سنتے اور سمجھتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ یہ معجزہ تھا اس سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ کل نباتات وجمادات سنتے اور سمجھتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اس لحاظ سے اس کو معجزہ کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ مگر معجزے کی تعریف اس پرپوری طور سے صادق نہیں آتی اسلئے کہ معجزے کی ضرورت تو وہاں ہوتی ہے جہاں کفار کے ساتھ مقابلہ ہو اور بر سر مقابلہ دعوائے نبوت کیا جائے اور دلیل میں ایسا امر پیش کیا جائے کہ کفار میں سے کوئی وہ کام نہ کرسکے تاکہ حجت قائم ہوجائے اور یہاں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کی ضرورت تھی اور کوئی مقام ایسا نہ تھا کہ وہاں اس سے فارغ ہوں پائخانہ تیار کرنیکے لئے پتھروں اور درختوں پر حکم صادر فرمایادیا کہ فوراً تیار کردیں اور انہوں نے بطیب خاطر فرمانبرداری کی۔ نہ وہاں کوئی کافر تھا نہ کسی کو یہ حکومت بتلانے کی ضرورت تھی اگر ایسا ہوتا تو اعلان کر دیا جاتاکہ دیکھو ہم درختوں اور پتھروں سے یوں کام لیتے ہیں اور وہاں کل رفقائے سفر کا جو ہزارہا تھے اژدہام ہوجاتا دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ امر منکشف تھا کہ تمام ذرات عالم سمجھدار ہیں اگر چہ ہر کس ناکس کی بات پر وہ توجہ نہیں کرتے مگر جس کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس کا حکم نافذ ہے ممکن نہیں کہ اس کے حکم سے انحراف کریں اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غیر معروف شخص کی زبانی حکم بھیج دیا اور اس کی تعمیل فوراً انہوں نے کردی اس حکمرانی کو نبوت سے تعلق نہیں بلکہ اس کا منشاء وہ ہے جوآیت شریف میں ہے وسخر لکم مافی السموات وما فی الارض جمیعا الخ یعنی جو چیز زمین اور آسمان میں ہے ان سب کو تمہارے لئے مسخر کردیا۔ چنانچہ اولیاء اللہ سے بھی اس قسم کے خوارق عادات صادر ہوتے ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ من کان للہ کان اللہ لہ یعنی جو اللہ کا ہوگیا اللہ اس کا ہوگیا اور من لہ المولی فلہ الکل اور اللہ جس کا ہوگیا تو تمام عالم اس کا ہے۔ شعر
تو گردن زفرمان داور ہیچ نہ پیچند گردن زحکم توہیچ
یہ امر مشاہد ہے کہ جو لوگ سلاطین کے مقرب ہوتے ہیں ان کو سب مانتے ہیں اور ہر جگہ ان کی آوبھگت ہوتی ہے پھر جس قدر تقرب زائد ہوگا اسی قدر آؤبھگت زیادہ ہوگی یہ تو عام بات تھی۔ 
اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات پر نظر ڈالئے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے نور سے پیدا ہوئے اور تمام عالم حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے پیدا ہوا اور حق تعالی فرماتا ہے اگر آپ نہ ہوتے تو افلاک کو بھی پیدا نہ کرتا اور اس کے سوا بہت ساری خصوصیات ہیں جن کا حال کسی قدر ہم نے ’’انوار احمدی‘‘ میں لکھا ہے۔ اب کہئے کہ کونسی چیز ایسی ہوسکتی ہے کہ حضرتصلی اللہ علیہ وسلم کے حال سے واقف ہونے کے بعد سرتابی کرسکے؟ ایسے امور کا علم صرف جن وانس کو نہیں دیا گیا اس لئے کہ یہ معرض امتحان میں ہیں عقل اور شہوت ان کو دی گئیں اور غیبی امور پر اطلاع بھی دی گئی تاکہ عقل کی رہبری سے پہلی منزل طے کرلیں یعنی توحید اور نبوت کی ضرورت ثابت کرلیں بخلاف دوسری اشیاء کے کہ ان سے کوئی امتحان متعلق نہیں اسلئے ابتداء ہی میں ان کو ان امور کا علم دیا گیا جو الوہیت در عبودیت سے متعلق ہے غرضکہ کل عالم کی اشیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیادت کو تسلیم کئے ہوئے ہیں چنانچہ اس پر قرینہ یہ روایت ہے جس کو ہم نے انوار احمدی میں نقل کی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم میں تشریف فرماہوئے بمجرد ولادت مبارک ایک ابر نمودار ہوا اور آپ کو لیکر تمام بروبحر میں اور خدا جانے کہاں کہاں لے گیا جس سے مقصود صاف ظاہر ہے کہ جو اشیاء اپنے مقام سے حرکت کر کے حاضر خدمت نہیں ہوسکتے تھے وہ اپنے آقائے نامدار کے جمال جہاں آرا سے مشرف ہوجائیں اور معلوم ہوجائے کہ ایک زمانے سے جن کی آمد آمد کا شہرہ اور انتظار تھا وہ تشریف فرماہوچکے۔ جس سے ظاہر ہے کہ تمام ذرات عالم کو اس عالم میں انکی تشریف فرمائی کا حال معلوم ہوگیا تھا۔ جب ان درختوں اور پتھروں کو یہ خبر پہنچائی گئی کہ بہ نفس نفیس وہاں تشریف فرماہوں گے تو اس نعمت غیر مترقبہ کے حصول پر ان کی کیا حالت ہوئی ہوگی مارے خوشی کے اپنے میں پھولے نہ سماتے ہوں گے۔ ابھی آپ نے دیکھ لیا کہ حضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت سے ستون مسجد کو کس قدر غم کا صدمہ تھا۔ اسی طرح حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی مسرت کا اثر ان پر نمایاں ہوا کہ اس مژدئہ جاں فزا کے سنتے ہی فورا حرکت کر کے تعمیل حکم میں مشغول ہوگئے۔ الحاصل۔ جمادات کا ادراک اور ان کا غم وشادی ان روایات سے ثابت ہے اسی طرح ان کو ایذا پہنچنی بھی ثابت ہے۔ چنانچہ کنزالعمال کی کتاب الفضائل میں یہ روایت ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی بندہ مسجد میں تھوکنے کا ارادہ کرتا ہے تو مسجد کے ستون مضطرب ہوجاتے ہیں اور مسجد ایسی سکڑجاتی ہے جیسے چمڑا آگ میں سکڑتا ہے۔ انتہی ملخصا۔ یہ امر شاہد ہے کہ کوئی مکروہ چیز کسی پر ڈالی جائی تو وہ اس سے بچنے کی غرض سے سمٹ جاتا ہے منشا اس کا یہ ہے کہ اس مکروہ چیز کے جسم پر لگنے سے روحانی اذیت ہوتی ہے اور اس میں ایک دوسری روایت ہے کہ ریٹ کی وجہ سے بھی مسجد کا یہی حال ہوتا ہے یہ بات ظاہر بینوںکے سمجھ میں آنے کے قابل نہیں ہے کہ مسجد کے ستونوں کا اضطراب اور اس کا سمٹنا کیونکر ہوگا فی الحقیقت یہ امور محسوسات سے خارج ہیں مگر ایمانی دنیا میں ان امور کا وجود گو محسوس نہ ہو مگر قابل تصدیق ہے۔ جس طرح فلسفی دنیا میں تمام عالم کا اجزائے دیمقراطیسیہسے مرکب ہونا مسلم ہے اور اس قابل سمجھا گیا ہے کہ اس میں کلام کرنے کی ضرورت ہی نہیں حالانکہ اب تک کسی نے نہ اجزائے دیمقراطیسیہ کو دیکھا نہ انکے نظر آنے کی امید ہے نہ اسکی صلاحیت کیونکہ پتھر پانی ہو ا اور روشنی انہی اجزاء سے مرکب ہیں پتھر کے کتنے ہی باریک اجزا نکالے جائیں ہر جز پتھر کی ماہیت میں شریک ہوگا اور پانی کے کتنے باریک اجزاء کئے جائیں ہر جز پر پانی کا اطلاق ہوگا روشنی کا کوئی جزء ایسا نہ ہوگا کہ روشنی کی ماہیت اس میں پائی نہ جائے۔ اجزائے دیمقراطیسیہ تو ایسے سخت ہیں کہ ٹوٹ پھوٹ نہیں سکتے چاہیے کہ ان کے مجموعے میں بھی یہی بات ہو مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہوا کو ہاوند میں کوٹیں تو ذرا بھی سختی نہیں معلوم ہوتی حالانکہ کروڑہا سخت اجزاء اس میں موجود رہتے ہیں جب فلسفی دنیا میں ان غیر محسوس اجزاء کو بغیر اس کے کہ کوئی قرینہ ان کے وجود پر قائم ہو مان لیا گیا تو ایمانی دنیا میں جمادات کی غیر محسوس حرکت مان لینے میں کونسی چیز مانع ہے فرق ہے تو اسی قدر ہے کہ وہاں فلاسفہ کا قول ہے اور یہاں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کا اگر اہل اسلام فلاسفہ کے قول کے برابر بھی خدا اور رسول کے قول کی وقعت نہ کریں تو پھر دعویٰ اسلام سے فائدہ ہی کیا۔ شعر
آں کس کہ زقرآن وخبر زور نرہی
آنست جوابش کہ جوابش ندہی
ان تمام روایات اور پھر دوسری روایت سے ثابت ہے کہ جمادات اور نباتات کو ادراک ہے اور ان کو اذیت بھی ہوا کرتی ہے اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نے فرمایا کہ جس نے میرے بال کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی خدائے تعالی کو ایذا دی۔ ’’مشکوۃ شریف‘‘ کے ’’باب الطب والرقی‘‘ میں بخاری شریف سے ایک روایت منقول ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ عثمان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری زوجہ نے مجھکو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالہ پانی کا دیکر بھیجا اور ان کی عادت تھی کہ جب کسی کو نظر لگتی یا کوئی مرض ہوتا تو ایک بڑے برتن میں پانی دیکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتیں کیونکہ ان کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک ایک چاندی کی نلی میں رکھا ہوا تھا وقت ضرورت اس کو نکال کر پانی میں ہلادیتیں اور مریض وہ پانی پی لیتا۔ انتہی۔ بخاری شریف کی روایت سے بھی ثابت ہوگیا کہ صحابہ علیہم الرضوان موئے مبارک تبرکاً اپنے مکان میں رکھتے اور عموماً لوگ اس کی برکت حاصل کرتے اور امراض سے شفاء پاتے تھے۔
خصائص کبریٰ میں سنان بن طلق یمانی سے روایت ہے کہ وہ وفد بنی حنیفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیخدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سرمبارک دھورہے تھے فرمایا: تم بھی اپناسر دھولو۔ چنانچہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کے بچے ہوئے پانی سے میں نے اپنا سردھویا اور اسلام لایا۔ پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نینے مجھے کچھ لکھ دیا۔ جاتے وقت میں نے عرض کی کہ قمیص مبارک کا اگر ایک ٹکڑا عنایت ہو تو میں اس سے انست حاصل کروں گا۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ کپڑا ان کے پاس تھا جب کوئی بیمار بغرض شفا آتا تو اسے دھوکر اس کو پانی پلایا کرتے تھے۔ انتہی۔
موئے مبارک سے صرف عقیدت مند ہی 
مستفید ہوتے ہیں:
موئے مبارک کی زیارت سے ہر کس وناکس مستفید نہیں ہوسکتا اس کے اہل وہ لوگ ہیںجن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری عقیدت اور محبت ہو پھر جس قدر عقیدت ہوگی اسی قدر فوائد ہوں گے۔ مولانا شاہ سید محمد عمر صاحب نے رسالہ’’ استشفاء والتوسل‘‘ میں کتاب ’’انفاس العارفین‘‘ مولفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ کی عبارت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میرے والد یعنی شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃاللہ علیہ نے مجھ سے کہا کہ میں ایک بار ایسا سخت بیمار ہوا کہ زندگی کی امید نہ تھی شیخ عبدالعزیز میرے خواب میں آئے اور کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری عیادت کیلئے تشریف لاتے ہیں شاید اس دروازہ سے تشریف لائیں جدھر تمہارے پاؤں ہیں۔ میں اشارہ کر کے لوگوں سے کہا کہ پلنگ کا رخ پھیردیں چنانچہ پھیردیا گیا ۔ آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماہوئے اور ارشاد فرمایا کہ اے لڑکے تمہارا کیا حال ہے اس کلام جاں فزا کا مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ وجد کی سی حالت طاری ہوئی اور اتنا رویا کہ قمیص مبارک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے اشکوں سے تر ہوگیا کیونکہ حضرت مجھے اپنے گود میں لئے ہوئے تشریف رکھتے تھے اس طرح پر کہ ریش مبارک میرے سر پر تھی جب وہ حالت فرو ہوئی تو میرے خیال میں آیا کہ ایک مدت سے مجھے موئے مبارک کی آرزو ہے اگر اس وقت عطا ہوجائے تو کیا اچھا ہوگا اس خیال کے ساتھ ہی ریش مبارک کے دو بال مجھے عطا فرمائے۔ مجھے اس وقت یہ فکر ہوئی کہ یہ موئے مبارک عالم شہادت میں بھی میرے پاس رہیں گے یا نہیں اس خیال کے ساتھ ہی ارشاد ہوا اس عالم میں بھی رہیں گے چنانچہ میں جب بیدار ہوا وہ دونوں موئے مبارک موجود تھے میںنے ان کو محفوظ رکھا اور اسی روز مجھے صحت ہوگئی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ والد نے آخر عمر میں جب تبرکات تقسیم فرمائے مجھے بھی اس میںسے ایک موئے مبارک عطا فرمایا۔ انتہی۔ شاہ صاحب کے والد بزرگوار کس پایہ کے بزرگ ہونگے اور کس درجے کا ان کو عشق موئے مبارک سے ہوگا کہ اس حالت میں بھی ان کو موئے مبارک کا خیال لگا ہواتھا جس کے طفیل میں اس دولت عظمی سے مشرف ہوئے۔ یہاں ایک بہت بڑا معرکۃ الآرا مسئلہ بھی حل ہوگیا وہ یہ کہ خواب میں فقط خیالی صورتیں نظر آتی ہیں جو جسم نہیں ہوسکتیں کیونکہ خیال کا خزانہ دماغ کا ایک حصہ ہے اس میں اجسام کو کہاں گنجائش مگر موئے مبارک جو عطا ہوئے وہ جسم تھے۔ اور شاہ عبدالرحیم صاحب نے بچشم خود دیکھا کہ ریش مبارک سے علحدہ کر کے وہ دئے گئے جس سے ثابت ہے کہ ریش مبارک بھی خیالی نہ تھی بلکہ مجسم تھی پھر ریش مبارک کا حسی تعلق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے تھا جس سے ظاہر ہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت خیالی محسوس نہیں ہوئی بلک جسم مقدس کے ساتھ وہاں تشریف فرما ہوئے تھے گو دوسروں نے نہیں دیکھا جس طرح جبرئیل علیہ السلام مجلس اقدس میں بذات خود آتے تھے اور سوائے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کو کوئی نہیں دیکھتا تھا۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بنفس نفیس وہاں تشریف فرما ہونا تسلیم نہ کیا جائے تو شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے والد بزرگوار کی تکذیب ہوئی جاتی ہے ہمارا دل تو اس کو گوارا نہیں کر سکتا کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی تکذیب کیجائے کیونکہ ایک عالَم نے ان کے علم وفضل اور تقدس کو مان لیا ہے اور ان کو جھوٹ کہنے کی کوئی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ اس واقعے سے کوئی ان کا فائدہ متصور نہیں اب ان قرآئن اور اسباب سے اگر آنحضرت کا بہ نفس نفیس مع جسم تشریف لانا ثابت کیا جائے تو معمولی عقلیں گو اس کو نہیں مان سکتیں مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ معمولی عقلیں اکثر غلطی کرتی ہیں جیسا کہ ہم نے کتاب العقل میں ثابت کردیا ہے تواب ہمارا فرض ہے کہ ایمانی راہ سے اپنی عقلوں کو مجبور کریں جس سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ حدیث شریف میں جو وارد ہے من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لا یتمثل بی یعنی جس نے خواب میں مجھے دیکھا وہ مجھ ہی کو دیکھاکیونکہ شیطان میری صورت میں متمثل نہیں ہوسکتا اس حدیث پر پورا ایمان آجائیگا اور کوئی خلجان باقی نہ رہیگا۔
کنزالعمال کی کتاب الفضائل میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جو علی کرم اللہ وجہہ، کی والدہ تھیں ان کو میں نے اپنا قمیص دیا تاکہ جنت کا لباس انکو پہنایا جائے۔ ملخصا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس مبارک میں یہ برکت تھی کہ اس عالم میں اس کا اثر ظاہر ہو حالانکہ لباس مبارک کو کوئی ذاتی تعلق حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تھا پھر موئے مبارک جو جزو بدن تھا اس کے برکات کس قدر ہوں گے بہر حال جب شارع علیہ السلام نے تبرک کی علت اور وجہ کی تصریح فرمادی تواب کسی دوسرے کو کیا حق کہ اس میں کلام کرسکے۔ کنز العمال کی کتاب الفضائل میں ابو صالح سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس مشک تھا آپ نے وصیت کی کہ اپنے کفن میں وہ لگایا جائے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کو وہ لگا یا گیا تھا اس کا وہ بقیہ ہے۔ انتہی۔
منسوب کی طرف منسوب کو متبرک جاننا
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل کسی پر مخفی نہیں باوجود اس کے آپ نے وہ تبرک اٹھار کھا تھا کہ قبر میںاس کو اپنے ساتھ لے جائیں پھر اس تبرک کی یہ کیفیت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک اسے لگا تھا نہ کفن مبارک کو لگنے کا اسے شرف حاصل ہوا تھا صرف اس خیال سے وہ تبرک بنایا گیا کہ جو مشک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لا یا گیا تھا اس کا وہ بقیہ ہے اگر کہیں کہ کفن مبارک کو تو نہیں لگا مگر ایک نسبت اس میں لگ گئی تھی تو وہ بھی صحیح نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اگر نسبت تھی تو اس میں تھی جو استعمال میں آیا تھا۔ البتہ نسبت ہے تو اس قسم کی کہ بقیہ مشک مستعمل یعنے منسوب کی طرف منسوب تھا۔ حضرت علی کر م اللہ وجہہ نے اتنی ہی نسبت کو تبرک بنانے کے لئے کافی سمجھا۔ آپ خلفائے راشدین میںسے ہیں جن کے ارشاد پر عمل کرنا اہل ایمان کے لئے ضروری ہے جب آپ کو اس قسم کے تبرکات میں اس قدر اہتمام تھا تو معلوم ہوا کہ دین میں تبرکات کی کیسی وقعت ہے ایسی چیز کو جو لوگ بت پرستی وغیرہ کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کس قدر ان کی زیادتی ہے خدائے تعالی ایسے عقیدوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ کنز العمال کی کتاب الفضائل میں نافع رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہماکی عادت تھی کہ جہاں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ان مواقع کو تلاش کرتے یہاں تک کہ ایک درخت کے نیچے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی اس درخت کی نگہداشت کرتے اور اس کو پانی دیتے تاکہ وہ سوکھ نہ جائے۔ انتہی۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کا کامل اعتقاد تھا کہ ان مقامات میں ضرور برکت آگئی ہے اور تلاش کر کے ان مقامات کی زیارت کیا کرتے تھے اور یہ بھی خیال تھا کہ آئندہ نسلوں کے لئے وہ مقامات حتی الامکان باقی رکھنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ درخت کو پانی دینے سے معلوم ہوتا ہے۔