اسلام میں بیعت کی حقیقت
عرب میں دستور تھا کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو کسی کے ہاتھ بیچتا ہے تو پہلے اس چیز کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ اس کے بعد بیچنے والا کہتا ہے کہ میں نے اس قیمت پر اس چیز کو بیچا اور خریدنے والا کہتا ہے کہ میں نے اسے خرید لیا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے ہاتھ پرہاتھ رکھتا ہے۔یہ علامت اس بات کی تھی کہ طرفین سے معاہدہ ہوا اور یہ معاہدہ اور وعدہ مکمل ہوگیا اور طرفین سے کوئی وعدہ خلافی نہ کرے گا۔ نہ بائع چیز دینے سے انکار کرے گا اور نہ مشتری قیمت ادا کرنے سے ، یہ عام دستور تھا کہ جس وعدہ کو مستحکم کرنا منظور ہوتا تو ہاتھ میں ہاتھ ملاکر وہ وعدہ کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے عدۃ المومن کاخذ الکف یعنی مسلمان کا وعدہ ہاتھ میں ہاتھ ملانے سے کم نہیں۔ اس لئے بیع میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا کہ طرفین سے جو وعدہ خرید و فروخت ہوا ہے وہ ضرور پورا کیا جائے گا۔ اسی ہاتھ میں ہاتھ ملانے کا نام ’’بیعت ‘‘ہے ۔ چنانچہ لسان العرب میں لکھا ہے البیعۃ الصفقۃ علی ایجاب البیع اور صفقہکے معنی منتہی الارب میں لکھا ہے یک باردست زدن دربیع۔ غرضیکہ لفظ بیعت عرب میں بیع و شری کے موقع میں مستعمل تھا۔اسی بنا پر حق تعالیٰ بیعت اسلامی میں بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ اس آیت شریف سے صرف اسی قدر معلوم ہوا کہ مسلمان بیعت کیا کرتے تھے۔ یعنی کسی چیز کو بیچتے اور ہاتھ میں ہاتھ ملاکر اس کو موکد کرتے تھے۔ مگر یہ نہیں معلوم ہوا کہ بائع کون ہے اور مشتری کون اور کس چیز کو بیچے تھے سو اس کا ذکر دوسری آیت میں ہے جو ارشاد ہے۔ ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ یعنی خدا نے مسلمانوں کی جان و مال کو جنت کے بدلے خریدلیا۔
اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان بائع ہیں اور خدائے تعالیٰ مشتری اور ان کی جان و مال مبیع اور جنت قیمت ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام احکامِ الٰہی مسلمانوں کو پہونچادیئے اور یہ بھی معلوم کرادیا گیا کہ اگر تم یہ سب کام کرو گے تو خدائے تعالیٰ تمہیں جنت دے گا تو مسلمانوںنے بصدق دل اس کو قبول کرلیا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری ذاتوں میں اور مالوں میں جو تصرف خدائے تعالیٰ نے کیا ہے کہ فلاں کام اپنے اعضاء سے کرو اور فلاں مت کرو۔ اور مال فلاں اُمور میں خرچو اور فلاں میں مت خرچو سب ہمیں قبول ہے ہم یہ نہ کہیں گے کہ ہمارے مال میں یہ تصرف کیوں کیا جاتا ہے کہ اس میں سے ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں یا اسراف نہ کریں۔ اور ہمارے نفوس میں یہ تصرف کیوں کیا جاتا ہے کہ اپنی خواہشوں کو روکیں اور مثلاً حسد و بغض وغیرہ سے احتراز کریں۔ غرضکہ حق تعالیٰ نے جتنے خواہشات و صفات آدمی میں پیدا کئے سب میں اپنا تصرف جاری فرمایا۔ مثلاً فلاں قسم کی بات کرو فلاں قسم کی بات نہ کرو۔ اسی طرح دیکھنے سننے کھانے پینے وغیرہ اُمور طبعیہ میں ایک ایک حد مقرر کردی اور حکم دیا کہ انھیں اُمور میں ان کو استعمال کریں جن کی اجازت ہے۔ اسی طرح کل خواہشوں سے متعلق احکامت شرعیہ مقرر کئے اور نیز جتنے صفات پیدا کئے مثلاً سخاوت ، شجاعت ، دوستی ، دشمنی وغیرہ سب میں ایک ایک حد مقرر کردی۔ مثلاً دوستی رکھو تو خدا کے واسطے اور دشمنی رکھو تو خدا کے واسطے۔ علی ہذا القیاس کل اُمور طبعیہ کا حال یہی ہے کہ مطلق العنانی کے ساتھ مسلمان کوئی کام نہیںکرسکتا۔ ہر کام میں جو طریقہ بتایا گیا اسی طریقہ پر وہ کام کرنا چاہئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب نہ ان کے نفوس ان کے ہیں نہ ان کے اموال۔ بلکہ وہ سب ان کے پاس امانت ہیں جس طرح امانتی چیزوں کو آدمی خود مختاری سے اپنی خواہشوں میں استعمال نہیں کرسکتا بلکہ انہی کاموں میں استعمال کرسکتا ہے جن کی اجازت مالک نے دی ہو اسی طرح مسلمان ہاتھوں سے مثلاً کام لیں تو وہی جن کی اجازت ہے۔ پاؤں سے کام لے کر کہیں جائیں تو وہیں جہاں جانے کی اجازت ہے، آنکھوں سے کام لینا چاہیں تو وہی چیزیں دیکھیں جن کے دیکھنے کی اجازت ہے۔ کانوں سے سننا چاہیں تو وہی باتیں سنیں جن کے سننے کی اجازت ہے۔ خیال سے کام لینا چاہیں تو وہی خیال کریں جو منع نہیں۔ جان دینا چاہیں تو اسی موقع میں جہاں جان دینے کی اجازت ہے۔
الحاصل ان احکامات کے مقرر کرنے سے ثابت ہوگیا کہ جان و مال سب خدا کی ملک ہیں۔ ہمارے اختیارمیں صرف بطور امانت دیئے گئے ہیں نہ جان پر ہمارا خود مختارانہ تصرف رہا نہ اعضاء پر نہ مال پر۔ جب ان باتوں کو مسلمانوں نے قبول کرلیا تو گویا یہ کہہ دیا کہ ہم نے اپنا جان و مال جنت کے معاوضہ میں خدا کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔ اس کے جواب میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے ان اللّٰہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ یعنی تم نے اگر جان و مال کو بیچ دیا تو ہم نے بھی بمعاوضہ جنت خرید لیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان بائع ہیں۔ اور خدائے تعالیٰ مشتری۔ اور جان و مال مبیع ہیں اور جنت ان کی قیمت ۔جب یہ قرار طرفین سے ہوچکا تو حسب عادت صفقہ اور بیعت یعنی ہاتھ میں ہاتھ ملانے کی ضرورت ہوئی تاکہ بیع و شراء پوری اور حتمی وعدہ ہوجائے۔ اب مسلمان تو صفقہ کے لئے ہاتھ بڑھا سکتے ہیں مگر خدائے تعالیٰ کی شان نہیں کہ اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو ہمارا ہاتھ سمجھ لو۔ اور ان کی بیعت کو ہماری بیعت۔ چنانچہ ارشاد ہے ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لوگ ظاہراً آپ کے ہاتھ میں ہاتھ ملاتے ہیں وہ آپ کا ہاتھ نہیں ہمارا ہاتھ ہے۔ یداللّٰہ فوق ایدیہم کیونکہ پیشتر ہی سے مبیع اور اس کی قیمت کا تصفیہ ہوچکا ہے۔ اب اگر کوئی اس بیعت کو توڑ دے اور اپنی جان و مال میں اپنی ذاتی خواہش اور خود مختارانہ تصرف کرنے لگے اور یہ بھول جائے کہ وہ بطور امانت ہمارے پاس ہیں تو اس کا نقصان اسی کو ہوگا کہ ہم بھی قیمت یعنی جنت نہ دیں گے۔ کما قال، فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ اور جو شخص اس وعدہ کو جو ہاتھ میں ہاتھ دے کر کیا تھا جس سے تکمیل بیع ہوچکی تھی پورا کرے تو ہم اس کو اجر عظیم دیں گے کما قال اللہ تعالیٰ، ومن اوفی بما عاھد علیہ اللّٰہ فسیؤتیہ اجرا عظیما۔
آیت موصوفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالی کے طرف سے بیعت کرنے والوں کے ہاتھ میں ہاتھ ملاتے تھے اور آپ کا ہاتھ خدائے تعالیٰ کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا اور یہ مقصود تھا کہ خدائے تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ تم نے اپنے جان و مال کو خدا کے ہاتھ بیچ دیا تو خدائے تعالیٰ بھی ان کی قیمت ادا کرے گا یعنی جنت دے گا۔ ظاہراً اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت خاص ہوگی کیونکہ یبایعونک کا خطاب خاص حضور صلی اللہ علیہ وسلمسے ہے اور یہ شرف کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ خدائے تعالیٰ کا ہاتھ ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لئے زیبا ہے مگر جب خلفائے راشدین نے بھی بیعت لی اور اس سے بھی یہی مقصود تھا کہ اہل اسلام معاہدہ پر قائم رہیں۔ اور خدائے تعالیٰ کی طرف سے خلفائے کرام وعدہ کرکے اس بیع و شراء کو مستحکم کریں تو اس سے معلوم ہوا کہ یداللّٰہ فوق ایدیہم وہاں بھی صادق ہے اس لئے کہ یہ بیع و شراء کوئی نئی نہیں۔ بیع وہی جان و مال ہیں۔ اور قیمت وہی جنت کیونکہ ان حضرات کا مقصود اس بیعت سے یہی تھا کہ مسلمان خدا اور رسول کی اطاعت کریں۔ پھر جب دنیادار بادشاہ بھی بیعت لینے لگے اور اس سے ان کا مقصود اسی قدر تھا کہ ہم کو مستقل بادشاہ مانو اور ہماری اطاعت کرو۔ خواہ موافق شریعت حکم دیں یا مخالف ورنہ ہم تمہیں قتل کرڈالیں گے تو یہ بیعت وہ نہ رہی جس میں جان و مال کے معاوضہ میں جنت تھی۔ اس وجہ سے یہاں یداللّٰہ فوق ایدیہم صادق نہیں آسکتا چونکہ وہ بیعت جو سنت نبوی تھی اس زمانہ میں فوت ہونے لگی تو بزرگان دین نے اس بیعت کا طریقہ جاری کردیا۔ اور اپنے مریدوں کو تلقین کی کہ اپنی جان و مال خدا کے ہاتھ بیچ دو۔ یعنی احکام الہٰی کی تعمیل کرو تو تمہیں خدائے تعالیٰ جنت دے گا۔ جب انھوں نے قبول کرکے بیعت کی یعنی ہاتھ میں ہاتھ ملایا اور ان حضرات نے بھی خدا کی طرف سے ہاتھ میں ہاتھ ملایا تو وہ اصلی بیعت پوری ہوگئی۔ اب اگر کوئی بیعت کے وقت ان اُمور کا لحاظ نہ رکھے اور وہ غرض جس کے لئے بیعت موضوع تھی فوت ہوجائے تو وہ بیعت بھی مثل بیعت سلاطین ہوجائے گی جس کو دین سے کوئی تعلق نہیں اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی پیر جی اپنے مریدوں کو احکام شرع شریف ادا کرنے سے روکیں یا توجہ نہ دلائیں اور تلقین کریں کہ نماز روزہ حج و زکوٰۃ جو قرآن و حدیث و فقہ میں مذکور ہیں کوئی چیز نہیں بلکہ ان کا مطلب ہی کچھ اور ہے اور ظاہر شریعت بیکار چیز ہے تو اس بیعت کو ہمارے نبی کریم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے کوئی علاقہ نہیں اس لئے مسلمانوں کو مشائخین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے وقت یہ خیال کرنا ضرور ہے کہ ہم نے اپنی جان و مال کو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دیا ہے اور پیر صاحب بھی یہی تعلیم و تلقین کریں کہ اب تمہیں ضرور ہے کہ ہر کام میں اپنی خواہشوں کو چھوڑ کر خدا اور رسول کی مرضی کے مطابق کام کیا کرو۔
’’روض الریاحین‘‘ میں امام یافعی رحمۃاللہ علیہ نے لکھا ہے کہ عبدالواحد بن زیدرحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم ایک روز اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تیاری جہاد میں مشغول تھے ایک شخص نے یہ آیت پڑھی ان اللّٰہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ ایک جوان لڑکا جس کی عمر 15 سال کی ہوگی اُٹھا اور کہا کہ اے عبدالواحد کیا اللہ تعالیٰ نے ہماری جان و مال کو جنت کے عوض میں خرید لیا۔ میں نے کہا ہاں۔ کہا میں آپ کو گواہ رکھتا ہوں کہ میں نے اپنی جان و مال کو جنت کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دیا۔ میں نے کہا تلوار کی دھار بہت سخت ہوتی ہے اور تم لڑکے ہو شاید صبر نہ کرسکو گے کہا کیا اب میں اس بیع کو چھوڑ سکتا ہوں یہ ہرگز نہ ہوگا۔ غرض اس لڑکے نے تمام مال جو اس کی میراث میں ملا تھا خیرات کرکے آمادۂ سفر ہوگیا۔ جس روز ہم لوگ جہاد کے لئے نکلے وہ بھی گھوڑے پر سوار اور مسلح ہوکر ہمارے ساتھ ہو لیا۔ راستہ میں اس کی یہ حالت تھی کہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو نماز پڑھتا اور ہماری حفاظت بھی کرتا۔ جب ہم دارالروم میں پہونچے اور دشمن کا لشکر نمودار ہوا ، اس لڑکے نے لشکر کفار پر حملہ کرکے نو آدمیوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہوگیا۔ حالتِ نزع میں جب ہم اس کے نزدیک پہونچے تو دیکھا کہ مارے خوشی کے اس کی ہنسی تھم نہیں سکتی تھی۔ چنانچہ اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا انا للّٰہ وانا الیہ راجعون سچی بیعت یہ تھی جس طرح صحابہ اپنی جان و مال سے اپنا تصرف اٹھا لیتے تھے ان بزرگوار نے بھی ایسا ہی کیا بیعت یعنی بک جانا اور اس کے لوازم پورے کرنا ایک سخت کام ہے اور اگر لوازم پورے نہ کئے جائیں یعنی انہی خواہشوں کے مطابق کام کرنے لگیں تو بیعت ٹوٹ جائے گی اولیاء اللہ کو درجہ ولایت و تقرب الہٰی اس وجہ سے حاصل ہوا اور ہوتا ہے کہ بیعت کو انھوں نے پوری کی۔ اور کرتے رہتے ہیں۔ الحاصل خالد رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ پیر کامل یعنی خلیفہ و جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ جب بیعت کی وہ خدا کے ہاتھ پر بیعت ہوچکی۔ اس کے بعد اگر حمیت اور غیرت شجاعت وغیرہ سے اپنے نفسانی خواہش کے مطابق کام لیا جائے تو وہ بیعت توٹ جاتی ہے اور جب بیعت ٹوٹ گئی تو قیمت یعنی جنت کا استحقاق باقی نہیں رہتا اور عمر بھی کی جانفشانیاں اکارت ہوتی ہیں۔ اس لئے اس ذلت پر صبر کرنا ان پر آسان ہوگیا ورنہ ممکن نہیں کہ فاتحِعراق و شام ہزاروں ہم چشموں کے مجمع میں کھڑے رہ کر اظہار کردیں۔ اور ایک ضعیف آدمی ان کے گلے میں رسی ڈالکر کھینچے اور ٹوپی سر سے اتارلے اور وہ دم نہ ماریں۔ یہ صرف اسلام کی برکات ہیں جو نفسانی خواہشوں کو پامال کرکے مہذب بنادیتا ہے۔ 
یہاں ایک بات اور معلوم ہوئی کہ حق تعالیٰ نے جو صحابہ رضی اللہ عنہ کے حالات کی خبر دی ہے والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم یعنی صحابہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔ اس سے اس کیفیت کا مشاہدہ بھی ہوگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اسراف کی سزا دی وہ بھی بجا تھی کیونکہ ان کو یہ کہنے کی مجال ہی نہ تھی کہ ہم اپنے مال کے مختار ہیں اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ اب اپنا مال رہا ہی نہیں وہ تو جنت کے معاوضہ میں بک گیا۔ جس کو خدا کی جانب سے خلیفۂ برحق نے مول لیا اسی وجہ سے انھوں نے قبول بھی کرلیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ پیرِ کامل کو اپنے مرید کے مال میں تصرف کرنے کا حق ہے جیسا کہ بعضے اولیاء اللہ سے مروی ہے مگر یہ نہیں کہ خود غرضی سے تصرف کرے۔ اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا مال بیت المال میں داخل کردیا۔ جس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہکو کوئی ذاتی فائدہ مقصود نہ تھا۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جو اس ذلت کی حالت میں کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہوتے فتنہ کا کیا احتمال ہے۔ اس سے عقلاً اندازہ کرسکتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتظام پوری سلطنت میں کس قدر ہوگا۔ کیونکہ یہ اس وقت کہہ رہے ہیں کہ فتنہ پیدا ہونے کا ظن غالب ہوگیا تھا کیونکہ ایسے شخص کو ذلیل کرنا جس کو موافق و مخالف نے بڑی بڑی سلطنت کا فاتح تسلیم کرلیا تھا اور اس مقام میں کہہ رہے ہیں جو مدینہ منورہ سے صدہا کوس پر واقع ہے۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو کیونکر معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں فتنہ کا احتمال نہیں۔ حالانکہ ناسخ التواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لوگ فظا غلیظ القلب کہتے تھے اور وہ عام ناراضی کا سبب ہوتا ہے جس کا ثبوت خود قرآن شریف سے ملتا ہے کہ حق تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فرمایا ولوکنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک یعنی اگر آپ سخت گو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔ پھر آپ کے کام بھی ایسے ہوتے تھے جو دل شکنی کے اسباب ہیں۔ چنانچہ واقعات مذکورہ سے ظاہر ہے پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہنے جو کہا اسی کے موافق ظہور میں بھی آیا۔ اس لئے کہ آپ کے پورے زمانہ خلافت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں ہوا۔ حالانکہ آپ کے زمانہ میں کُل وہ بہادران اسلام موجود تھے جنھوں نے عرب ، عراق، شام ، مصر وغیرہ کو فتح کیا اور بعد کی خلافتوں میں ان میںکے اکثر حضرات معرکوں میں شہید ہوگئے اور بعضے انتقال کرگئے۔ باوجود اس کے ان خلافتوں میں بہت سے فتنے پیدا ہوئے۔ ان تمام اُمور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہ خیال کیا کہ اپنا دل جس میں خوف و ہراس کا گزر ہی نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہکے نام سے گھبراتا ہے اور ہیبت و رعب اس قدر طاری ہوتا ہے کہ بات کرنی مشکل ہوجاتی ہے تو اس سے وہ سمجھ گئے کہ اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فعل کو کوئی دخل نہیں یہ صرف ہیبت حق ہے۔
ہیبت حق است ایں از خلق نیست
ہیبت ایںمرد صاحب دلق نیست
اس پر انھوں نے قیاس کیا کہ آپ کی خلافت میں ممکن نہیں کہ کوئی فتنہ پرداز سر اٹھا سکے۔ یہ بات تو قرآن شریف سے بھی ثابت ہے جو حق تعالیٰ فرماتا ہے وما رمیت اذ رمیت ولکن اللّٰہ رمیٰ یعنی جب اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم نے بدرکی لڑائی میں ایک مٹھی کنکریاں کفار پر پھینک ماریں وہ تم نے نہیں پھینکا ، اللہ نے پھینکا۔ یقینا ہر چند کنکریوں کو پھینکنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل تھا مگر حق تعالیٰ وہ فعل اپنی طرف منسوب فرماتا ہے اور اس کی تصدیق بھی اسی طرح ہوگئی کہ ایک مٹھی کنکریاں تمام لشکر کفار کی آنکھوں میں لگیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل برائے نام تھا ، دراصل وہ فعل الہٰی تھا۔ اسی طرح حضرت عمررضی اللہ عنہکے افعال ہی سمجھے جاتے تھے۔ کیونکہ باوجود اس تذلیل و توہین کے شجاعان عرب میں سے کسی نے آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا۔ کیا وہ تاثیر بندوں کے فعل میں ہوسکتی ہے، یہ اللہ کے ہی فعل کی شان ہے کہ سب کو مقہور اور مسخر بنادے کیوں نہ ہو حضرت عمررضی اللہ عنہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ جانشین اور ظل اللہ تھے۔ اسی وجہ سے ان کو اس قسم کے حکم کرنے میں تامل نہیں ہوتا تھا۔ 
(اقتباس!مقاصد الاسلام حصۂ دہم 50 تا 61 ، مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ حیدرآباد)