اجتہاد ، ضرورت ، اہمیت ، افادیت
یہ بات اہل علم جانتے ہیں کہ اجتہاد ایک مشکل کام ہے چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃاللہ علیہ نے ’’عقدالجید‘‘ میں لکھا ہے کہ اجتہاد کے لئے بہت سے علوم کی ضرورت ہے مثلاً علم تفسیر، حدیث ، اقوال علماء ، سلف ، ناسخ منسوخ ، لغت ، طریقہ استنباط احکام ، مجمل ، مفسر وغیرہ جن کی فہرست اگر لکھی جائے تو ایک چھوٹا رسالہ ہوجائے گا۔ انہی اُمور کے مباحث میں ایک بڑا فن ’’اصول فقہ‘‘ مدون ہے۔ اِن اُمور میں کامل دستگاہ حاصل کرنا ہر کسی کا کام نہیں اسی وجہ سے صحابہ میں بھی دس پانچ ہی مجتہد ہوئے جن سے فتوے پوچھے جاتے تھے انھیں حضرات کے اجتہاد کو دیکھ کر مجتہدین نے اجتہاد کے طریقے مدون کئے۔ اور طبیعت خداداد سے ایسے اجتہاد کئے کہ عموماً محدثین نے بھی ان کو اپنے مقتدا مان لئے۔
اب ہم چند نظائر اجتہادات صحابہ و اکابر دین کے پیش کرتے ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ ائمہ مجتہدین نے جو اجتہاد کئے ہیں وہ انہی حضرات کی اتباع تھی۔ منتقی الاخبار میں ابن تیمیہ نے روایت کیا ہے عن عمرو بن العاصرضی اللہ عنہ انہ لما بعث فی غزوۃ ذات السلاسل قال احتلمت فی لیلۃ باردۃ شدیدۃ البرد فاشفقت ان اغتسلت ان اہلک فتیممت ثم صلیت باصحابی صلاۃ الصبح فلما قدمنا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکروا ذلک لہ فقال یا عمرو اصلیت باصحابک وانت جنب فقلت ذکرت قول اللہ تعالیٰ ولا تقتلوا انفسکم ان اللّٰہ کان بکم رحیما فتیممت ثم صلیت فضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یقل شیئا رواہ احمد و ابوداؤد والدارقطنی۔ یعنی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ لہتے ہیں کہ جب غزوہ ذات السلاسل میں لشکر بھیجا گیا تو ایک رات مجھے احتلام ہوا چونکہ سردی نہایت شدت سے تھی اور غسل کرنے میں خوف ہلاک تھا۔ اس لئے میں نے تیمم کرلیا اور نماز صبح میں اپنے رفقاء کی امامت کی۔ جب ہم واپس ہوئے تو لوگوں نے یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ اے عمرو تم نے جنابت کی حالت میں امامت کی میں نے عرض کی کہ مجھے خدائے تعالیٰ کا یہ کلام یاد آیا ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما یعنی مت قتل کرو تم اپنی جانوں کو اللہ کا تم پر رحم ہے اس لئے میں نے تیمم کرکے نماز پڑھی۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کیا اور کچھ نہ فرمایا۔ دیکھئے جب اس واقعہ میں صحابہ کی شکایت بارگاہِ نبوی میں پیش ہوئی اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قدر سختی سے سوال فرمایا کہ کیا تم نے جنابت کی حالت میں امام کی اس وقت انھوں نے جواب میں اپنا اجتہاد پیش کیا کہ گو صراحۃً ایسے موقعہ میں تیمم کی اجازت نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں مگر میں نے اپنے اجتہاد سے یہ رائے قائم کرلی۔ کہ قولہ تعالیٰ ولا تقتلوا انفسکمکی نہی عام ہے اس لئے اس موقع پر غسل جائز نہیں اور پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے اس لئے خوف ہلاک کی صورت کو اسی پر قیاس کرکے تیمم کرلیا۔ پھر اس اجتہاد اور قیاس پر یہ وثوق اور اعتماد کہ اپنی ہی نماز نہیں سب کی نمازوں کا بار اپنے ذمہ لیا اور یہ بھی نہ کہا کہ صاحبو مجھے امامت سے معذور رکھو میں ضرورۃً اپنی نماز ادا کرلیتا ہوں اور اس اجتہاد کی تقلید سب صحابہ نے کی اور کسی نے یہ نہ کہا حضرت ایسے اشتباہی استدلال کو ہم نہ مانیں گے اور یہ قیاس اول من قاس ابلیس کی رو سے صحیح نہ ہوسکتا۔ اس لئے آپ نماز کے مختار ہو ہمیں اقتدا سے معاف رکھئے پھر اسی اجتہاد کو کمال استقلال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں پیش کیا جس کو کمال خوشنودی سے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور اور مقبول فرمایا جس سے مجتہدوں کے حوصلے بڑھے اور معلوم ہوگیا کہ اہلِ رائے کا اجتہاد اور قیاس بھی دین میں ایک باوقعت چیز ہے۔
عن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ قال اتی علی رضی اللہ عنہ بثلاثۃ وہو بالیمن وقعوا علی امرا فی طہر واحد فسال اثنین اتقران لہذا بالولد قال لاحتی سالہم جمیعا فجعل کل سال اثنین قالا لافاقرع بینہم بالحق الولد بالذی صارت علیہ القرعۃ وجعل علیہ ثلثی الدیۃ قال فذکر ذلک للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فضحک حتی بدت نواجذہ رواہ ابوداؤد یعنی جب علی کرم اللہ وجہہ یمن میں تشریف رکھتے تھے یہ مقدمہ پیش ہوا کہ تین شخص ایک عورت کے ساتھ ایک ہی طہر میں مرتکب ہوئے اور بچہ پیدا ہونے کے بعد دعویٰ پیش ہوا۔ آپ ان میں دو دو شخصوں سے پوچھتے تھے کہ کیا تم منظور کرتے ہو کہ وہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے جب کسی نے منظور نہ کیا تو آپ نے قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اس کے حوالے کرکے دو ثلث دیت اس سے دونوں کو دلادیا۔ جب یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو عرض کیا گیا آپ نہایت خوش ہوئے۔ بخاری اور مسلم میں ایک روایت ہے جس کا حاصل مضمون یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو بعض عرب نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہنے انسے جہاد کرنا چاہا حضرت عمررضی اللہ عنہنے کہا کہ ان کے ساتھ جہاد کیونکر جائز ہوگا وہ تو لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ فمن قال لا الہ الا اللہ فقد عصم منی مالہ ونفسہ الا بحقہ و حسابہ علی اللہ تعالیٰ یعنی جو شخص لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا اس نے اپنی جان و مال کو مجھ سے بچالیا اور اندرونی معاملہ اور محاسبہ ان کا خدا کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہنے کہا کہ ان لوگوں سے جہاد کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ وہ نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں حالانکہ دونوں حقوق اللہ ہیں یہ بات حضرت عمر کے بھی سمجھ میں آگئی چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا اور کل صحابہ نے بھی اس کو مان لیا۔ یہ حدیث آئندہ نقل کی جائے گی۔ 
دیکھئے مانعینِ زکوٰۃ سے جہاد کرنا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث سے بلکہ ظاہر حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ درست نہیں مگر اجتہاد سے یہ مسئلہ ثابت ہوا اور کل صحابہ کے مان لینے سے جواز اجتہاد پر صحابہ کا اجماع بھی ثابت ہوگیا۔
بخاری شریف میں روایت ہے عن عبداللہ بن عبیداللہ ابن ابی ملیکۃ قال توفیت ابنۃ لعثمان رضی اللہ عنہ بمکۃ وجئنا نشہدہا و حضرہا ابن عمر وابن عباس رضی اللہ عنہم وانی لجالس بینہما اوقال جلست الی احدہما ثم جاء الآخر فجلس الی جنبی فقال عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ لعمرو بن عثمان الاتنہی عن البکاء فان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان المیت لیعذب ببکاء اہلہ علیہ فقال ابن عباس رضی اللہ عنہما قدکان عمررضی اللہ عنہ یقول بعض ذلک ثم حدث قال صدرت مع عمررضی اللہ عنہ من مکۃ حتی اذاکنا بالبیداء اذا ہو برکب تحت ظل سمرۃ فقال اذہب فانظر من ہولاء الرکب قال فنظرت فاذا صہیب فاخبرتہ فقال ادعہ الی فرجعت الی صہیب فقلت ارتحل فالحق امیرالمؤمنین فلما اصیب عمر دخل صہیب یبکی یقول وا اخاہ واصاحباہ فقال عمررضی اللہ عنہ یا صہیب اتبکی علی وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان المیت یعذب ببعض بکاء اہلہ علیہ قال ابن عباس رضی اللہ عنہما فلما مات عمر ذکرت ذلک لعائشۃ رضی اللہ عنہا فقالت یرحم اللہ عمر واللہ ماحدث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ لیعذب المؤمن ببکاء اہلہ علیہ لکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ لیزید الکافر عذابا ببکاء اہلہ علیہ وقالت حسبکم القرآن ولا تزر وازرۃ وزر اخری قال ابن عباس رضی اللہ عنہما عند ذلک فاللہ ہواضحک وابکی قال ابن ابی ملیکۃ واللہ ماقال ابن عمر رضی اللہ عنہما شےئا (1)
ماحصل اس کا یہ ہے کہ ابن ابی ملیکۃ کہتے ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا اور لوگ جنازہ میں حاضر ہوئے جن میں ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی تھے زنانے سے رونے کی آواز آئی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہنے عثمان رضی اللہ عنہ کے فرزند سے کہا کیا آپ عورتوں کو رونے سے نہیں منع کرتے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل میت کے رونے سے میت پر عذاب کیا جاتا ہے اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہنے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی کچھ ایسا ہی کہا کرتے تھے چنانچہ جب وہ زخمی ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور وااخاہ اور واصاحباہ کہتے ہوئے زار زار رونے لگے حضرت عمررضی اللہ عنہنے اس حالت میں ان سے کہا کہ اے صہیب کیا تم مجھ پر روتے ہو۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب میت کے علاقہ دار اس پر روتے ہیں تو بعض اسباب سے اس پر عذاب کیا جاتاہے۔ ابن عباسرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا تذکرہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا انھوں نے فرمایا خدائے تعالیٰ عمررضی اللہ عنہ پر رحم کرے خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں فرمایا کہ کسی کے رونے سے مسلمان پر عذاب ہوتا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ رونے سے کافر پر عذاب زیادہ ہوتاہے اور اس پر کافی استدلال یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ولا تزروا زرۃ وزراخری یعنی کسی پر دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کرکے کہا رلانا اور ہنسانا خدا ہی کا کام ہے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن عمررضی اللہ عنہ یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ دیکھئے عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث سے استدلال کیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجتہاد کرکے فرمایا کہ پہلے تو اس حدیث میں مسلمان کا ذکر ہی نہیں پھر قرآن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گناہ کی سزا دوسرے کو نہیں دی جاتی اس لئے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رونے کی وجہ سے کافروں پر عذاب زیادہ ہوتا ہے اس لئے کہ ان کو عذاب کرنا ہر طرح مقصود ہے جب رونے والے اس کی نسبت کوئی تعظیمی الفاظ وغیرہ کہتے ہیں تو فرشتوں کا غضب زیادہ ہوجاتا ہے اور سخت عذاب کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ آیات و احادیث کا مطلب سمجھنا ہر کسی کا کام نہیںاس کے سمجھنے کے لئے دوسرے احادیث و آیات سے مدد لینے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے فہم کامل اور رائے صائب کی ضرورت ہے اس لئے کہ ہر کلام کے وقت کوئی ایک مقصود پیش نظر رہتا ہے جس کے اظہار کے لئے وہ کلام کہا جاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ جمیع پہلو اور جوانب پر نظر ڈال کر اس کو مثل تعریف کے جامع و مانع بنادیا جائے مثلاً اگر کہا جائے کہ ابو حنیفہ اہل الرائے میں ہیں۔ تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ وہ سمجھدار اور صاحب رائے تھے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ان کو حدیث آتی نہ تھی۔ اور نہ یہ کہ اپنی رائے سے وہ خلاف قرآن و حدیث مسئلے نکالتے تھے اور نہ یہ کہ سوائے ان کے کسی محدث کو رائے صائب نصیب ہی نہ ہوئی پھر اگر اس کے ساتھ کچھ قرائن بھی ہوں تو بحسب قرائن دوسرے مقاصد بھی معلوم ہوں گے۔ مثلاً یہی جملہ مدح کے مقام میں دوسرے محدثوں کے ذکر کے ساتھ کہا جائے تو اس سے متکلم کا مقصود یہ معلوم ہوگا کہ تمام محدثین میں وہ اعلیٰ درجے کے شخص تھے۔ احادیث کو خوب سمجھتے تھے چنانچہ اکابر محدثین نے اسی غرض سے ان پر اس لفظ کا اطلاق کیا تھا جیسا کہ قرائن سے ظاہر ہے مگر حاسدوں کو صرف لفظ سے موقع مل گیا اور دوسرے قرائن کو نظرانداز کرکے کہنے لگے کہ ان کو حدیث آتی ہی نہ تھی۔ صرف عقل سے باتیں بنایا کرتے تھے غرضکہ ہر کلام میں ایک خاص مقصود پیش نظر ہوتا ہے جو قرائن سے معلوم ہوتا ہے تمام مضامین کا احتوا اس سے مقصود نہیں ہوتا اس لئے اہل رائے او رمجتہدین قرائن اور معانی اور دوسرے احادیث و آیات پر نظر ڈال کر اس کا حکم اسی حصہ کے ساتھ خاص کرتے ہیں جو وہاں مقصود ہوتا ہے اور دوسرے احکام پر اس کا اثر نہیں ڈالتے۔ بخلاف اس کے جن کو اس درجہ کی قوت نہیں ہوتی اس کو ظاہر پر حمل کرکے مقصود فوت کردیتے ہیں۔ 
جیسا کہ اس حدیث شریف سے جو مسلم میں ہے، یہی بات ظاہر ہے مضمون اس حدیث کا یہ ہے کہ عروہ رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے میں نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ اگر کوئی شخص صفا و مروہ میں سعی نہ کرے تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔ انھوں نے فرمایا کیا وجہ میں نے کہا اس لئے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت اواعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما یعنی صفا و مروہ نشانیاں ہیں اللہ کی جو کوئی حج کرے اس گھر کا یا زیارت تو گناہ نہیں اس کو طواف کرے ان دونوں میں۔ اس سے ظاہر ہے کہ سعی نہ کرنا چاہئے اور اگر کوئی کرلے تو مضائقہ بھی نہیں۔ انھوں نے فرمایا بات یہ ہے کہ جاہلیت میں وہاں دو بت تھے جن کا نام اساف اور نائلہ تھا۔ انصار کی عادت تھی کہ سمندر کے کنارے سے احرام باندھ کر آتے اور ان کا طواف کرتے اور بعض منات کے نام سے احرام باندھتے تو وہ صفا و مروہ کے طواف کو حرام سمجھتے تھے پھر جب وہ مسلمان ہوئے اور حج کرنا چاہاتو ان بتوں کے خیال سے صفا و مروہ کی سعی کو مکروہ سمجھنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر سعی کریں تو کچھ مضائقہ نہیں اس لئے کہ اب نہ وہ بت رہے نہ وہ نیت پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سعی کی اور تمام مسلمانوں نے اقتداء کی جس سے سعی مسنون اور ضروری ہوگئی۔ اگر یہ مقصود ہوتا کہ طواف نہ کریں تو مضائقہ نہیں جیسا کہ تم نے خیال کیا ہے تو فلا جناح علیہ ان لایطوف بہما ہوتا۔ اب دیکھئے کہ ظاہر قرآن سے ہر شخص یہی سمجھے گا کہ طواف نہ کرنا بہتر ہے مگر چونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا شان نزول پر مطلع اور اس واقع سے واقف تھیں اس لئے اسی آیت سے جواب دیدیا کہ آیت میں یہ کہاں ہے کہ طواف نہ کریں تو مضائقہ نہیں جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور یہ بات ثابت کردی کہ اس موقع پر اسی قدر ضرورت تھی کہ طواف کو جو مکروہ سمجھتے تھے ان کے ذہن سے نکل جائے۔ اب رہی یہ بات کہ وہ ضروری ہے یا نہیں اور اس کا وقت کونسا ہے اور اس کے نہ کرنے میں مواخذہ ہوگا یا نہ ہوگا۔ سو یہ اُمور دوسرے ہیں ان سب کا فیصلہ ایک ہی بات میں کردیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماویں اس کو قبول کرلو کماقال تعالی مااتاکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہر چند قرآن شریف میں سب کچھ ہے اور بحسب آیۃ شریفہ الیوم اکملت لکم دینکم دین کی تکمیل بھی ہوچکی، مگر بغیر قبول احادیث کے کسی کا دین کامل نہیں ہوسکتا۔ غرضکہ فہم مضامین میں ہر کسی کا کام نہیں۔ 
درمنشور میں ہے واخرج احمدو عبد ابن حمید والبخاری و مسلم وابن المنذر وابن مردویۃ عن علقمہ قال قال عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمضات والمتفلجات لحسن المغیرات لخلق اللہ فبلغ ذلک امراۃ من بنی اسد یقال لہا ام یعقوب فجاء ت الیہ فقالت انہ بلغنی انک لعنت کیت وکیت قال ومالی لا العن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو فی کتاب اللہ قالت قرات مابین الدفتین فما وجدت فیہ شیئا من ہذا قال لئن کنت قراتہ لقد وجدتیہ اما قرات وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا۔ قالت بلی قال فانہ نہی عنہ یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو چٹلا لگاتی ہیں اور لگواتی ہیں اور چہرہ کے بال نچواتی ہیں۔ اور دانتوں کو ریت کے حسن کی غرض سے تخلیق الہٰی میں تغیر کردیتی ہیں۔ یہ سن کر قبیلہ بنی اسد سے ایک عورت آئی جس کو اُم یعقوب کہتے تھے اور کہا کہ مجھے یہ بات پہونچی ہے کہ آپ فلاں فلاں قسم کی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں فرمایا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور خود قرآن میں موجود ہو تو مجھے لعنت کرنے میں کیا تامل۔ کہا میں نے پورا قرآن پڑھا اس میں تو یہ بات کہیں نہیں فرمایا اگر تو نے قرآن پڑھا ہوتا تو اس کو ضرور پاتی۔ پھر فرمایا کیا یہ آیت نہیں ہے مااتاکم الرسول فخذوہ الایۃ یعنی رسول جو حکم تمہیں دیں اس کو قبول کرو اور بجا لاؤ اور جس بات سے منع کریں اس سے باز رہو۔ اس نے کہا ہاں یہ تو ہے فرمایا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کاموں سے منع فرمادیا۔ دیکھئے قرآن میں ان عورتوں پر لعنت ہونے کا کہیں ذکر نہیں مگر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے استنباط کرکے صاف کہہ دیا کہ وہ قرآن میں مذکور ہے۔
اجتہاد امام بخاری رحمۃاللہ علیہ
اہل علم جانتے ہیں کہ اگر تمام صحابہ و تابعین و تبع تابعین کے اجتہاد لکھے جائیں تو ایک مستقل کتاب ہوجائے گی۔ یہ سلسلہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ تک بھی جاری رہا چنانچہ انھوں نے بھی بہترے مسائل میں اجتہاد کئے جو بخاری شریف میں مذکور ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ آدمی کے بال جس پانی سے دھوئے جائیں وہ پانی پاک ہے اگرچہ صراحۃً یہ بات نہیں لکھی گئی مگر ایک باب مدون کیا جس کا عنوان یہ ہے باب الماء الذی یغتسل بہ شعر الانسان اور اس میں اس حدیث کو نقل کیا۔ عن ابن سیرین قال قلت لعبیدۃ عندنا من شعرالنبی اصبناہ من قبل انس اومن قبل اہل انس فقال لان تکون عندی شعرۃ منہ احب الی من الدنیا وما فیہا۔یعنی ابن سیرینؒ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سے کہا کہ ہمارے یہاں چند موئے مبارک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں جو انس رضی اللہ عنہ کے یہاں سے ہمیں ملے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان میں سے ایک موئے مبارک بھی میرے پاس ہوتا تو وہ دنیا اور اس میں جتنی چیزیں ہیں سب سے زیادہ تر محبوب ہوتا۔ قسطلانی رحمۃاللہ علیہ نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ ترجمۃ الباب سے اس حدیث کو یہ مناسبت ہے کہ حضرت انس نے موئے مبارک کی حفاظت کی اور حضرت عبیدہ رحمۃاللہ علیہ نے اس کی آرزو کی اس سے معلوم ہوا کہ مطلقاً بال پاک ہیں اور جب وہ پاک ہیں تو جس پانی سے وہ دھوئے جائیں وہ بھی پاک ہوگا مگر اس پر اعتراض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک فی نفسہ مکرم ہیں۔ ان پر دوسرے بالوں کا قیاس کیونکر صحیح ہوگا۔ اور اس کا جواب دیا گیا کہ خصوصیت بغیر دلیل کے نہیں ثابت ہوسکتی اور اصل عدم خصوصیت ہے مگر اس کا بھی معارضہ کیا گیا جس کا بیان طویل ہے انتہی۔
یہ بحث دوسری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موے مبارک دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں۔ ان پر ہر کس و ناکس کے بالوں کا قیاس کرنا اور اس سے یہ مضمون پیدا کرنا کہ ان کا دھویا ہوا پانی پاک ہے عقلاً اور اعتقاداً درست ہے یا نہیں حالانکہ نیل الاوطار میں قاضی شوکانی رحمۃاللہ علیہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا نے آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب پی لیا مگرحضرت نے سوائے اس کے کچھ نہ فرمایا کہ تمہارے پیٹ میں اب کوئی بیماری نہ ہوگی غرضکہ حضرت کے فضلات وغیرہ کے خصوصیات کچھ اور ہی تھے ان پر قیاس نہیں ہوسکتا مگر اس سے یہ تو ضرور ثابت ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے بھی اجتہاد کیا۔ 
غرضکہ اجتہاد کے باب میں جو احادیث و روایات وارد ہیں بکثرت ہیں ہر چند اجتہاد کا مفہوم ایسا وسیع ہے کہ قیاس مجتہدین بھی اس میں داخل ہے مگر چونکہ قیاس کے جواز و عدم جواز میں جھگڑے پڑے ہوئے ہیں چنانچہ بعض اول من قاس ابلیس کے لحاظ سے قیاس کو جائز نہیں رکھتے اور بعض اس میں یہاں تک توسیع کردیتے ہیں کہ ابلیسانہ قیاس کی بھی کچھ پرواہ نہیں کرتے اس لئے اس میں بحث کی ضرورت ہے تاکہ حد افراط و تفریط پیش نظر رہے اور معلوم ہوجائے کہ کس قسم کا قیاس جائز ہے اور کس قسم کا ناجائز۔ سنن دارمی میں روایت ہے عن الحسن انہ تلاہذہ الایۃ خلقتنی من نارو خلقتہ من طین قال قاس ابلیس وہو اول من قاس۔ یعنی حسن بصری رحمۃاللہ علیہنے یہ آیت پڑھی جس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس نے حق تعالیٰ سے کہا تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو کیچڑ سے۔ حسن بصری نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ ابلیس نے قیاس کیا اور سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہی ابلیس ہے۔ یہاں غور و تامل کرکے اس قیاس کی حقیقت کو پہلے سمجھ لیجئے تاکہ آئندہ تطبیق کے وقت پیروانِ ابلیس اور پیروانِ سنت میں فرق کرنا آسان ہو۔ یہ بات ظاہر ہے کہ ابلیس نے جو قیاس کیا اس سے مقصود اس کا یہ تھا کہ خدائے تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے سجدہ کا حکم جو اس کو فرمایا تھا وہ باطل کردے اور اُلٹی اپنی فضیلت ان پر ثابت کرے اس غرض سے اس نے یہ قیاس پیش کیا کہ جس طرح نار خاک سے افضل ہے میں بھی آدم علیہ السلام سے افضل ہوں اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ جو بات قرآن و حدیث سے صراحۃً ہو اس کے ابطال کی غرض سے قیاس پیش کیا جائے تو وہ پیروی ابلیس ہوگی، سلفِ صالح نے جس قیاس کی مذمت کی ہے وہ یہی قیاس ہے دارمی میں شعبی سے روایت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شریح سے کسی نے پوچھا کہ انگلیوں کی دیت کیا ہے انھوں نے کہا دس دس درہم اس نے کہا کہ خنصر اور ابہام برابر ہیں شریح نے کہا کہ کان اور ہاتھ کی دیت بھی برابر ہے حالانکہ کان کو سر کے بالوں اور عمامہ سے ڈھانپ سکتے ہیں پھر کہا تمہارے قیاس پر سنت سابق ہے اسی کی اتباع کرو اور بدعت سے بچو۔ اور جب تک تم سنت کی اتباع کرتے رہو گے گمراہ نہ ہوگے۔ پھر شعبیرحمۃاللہ علیہ نے کہا کہ اگر احنف جو عقل و تدبر میں ضرب المثل ہے مارا جائے تو اس کی دیت اور اس لڑکے کی دیت برابر ہوگی جو ہنوز گہوارہ میں پڑا ہوا ہے۔ دیکھئے سائل کا مقصود تھا کہ بحسب عقل خنصر اور ابہام کی دیت برابر نہیںہوسکتی اس لئے کہ ان دونوں کی قوت اور مصالح و فوائد میں فرق بین ہے یہی قیاس ابلیسانہ ہے۔ اس لئے کہ اس سے حکمِ شرعی کا ابطال یا اس پر اعتراض مقصود ہے اس قسم کے قیاس کا مقتضی یہی ہے کہ حلال چیزیں حرام ہوجائیں اور حرام حلال۔ جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے عن الشعبی قال واللہ لئن اخذتم بالمقائس لتحرمن الحلال ولتحلن الحرام رواہ الدارمی یعنی اگر تم قیاس کرنے لگو گے تو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردو گے۔ اس لئے کہ جب احکام شرعیہ کے مقابلہ میں اپنی عقل سے کام لیا جائے تو وہی دین بن جائے گا جو تراشیدہ عقل ہے اور خدا کا مقرر کیا ہوا دین باقی نہ رہے گا پھر اس تراشیدہ دین سے دین اسلام کو تعلق ہی کیا اور جب اس دین کو اسلام سے تعلق نہ ہو تو اس دین کو تراشنے والے اور عمل کرنے والے کو کیا تعلق غرضکہ جو کوئی ابلیسانہ قیاس کرکے حرام کو حلال اور حلال کو حرام بنادے اس کو مسلمان نہیں کہہ سکتے چہ چائے کہ سیدالفقہاء وغیرہ القاب جو محدثین نے امام اعظم کی نسبت استعمال کئے ہیں اب اور سنئے بجائے اسکے کہ امام صاحب کے قیاسات سے حرام حلال اور حلال حرام ہونے کا خیال کیا جائے۔ اکابر محدثین کی تصریح سے ثابت ہے کہ اگر ان کے اقوال کو کوئی نہ دیکھے تو حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنادے گا۔ اور انہی قیاسات اور تفقہ پر وہ حضرات اعتراف کرتے ہیں کہ ہم عطار اور آپ طبیب ہو اور امیرالمومنین فی الحدیث کہہ رہے ہیں کہ جب تک ابوحنیفہ سے مجھے ملاقات نہ ہوئی حلال و حرام کے اُصول مجھے معلوم نہ ہوئے اور اس کے سوا جو تعریفیں ان کے علم و تفقہ وغیرہ کی محدثین نے کی ہیں وہ تو بے حساب ہیں۔ اگر فی الواقع آپ کے قیاس مخالف حدیث ہوتے تو جتنے محدثین نے آپ کی توثیق اور مدح کی ہے وہ معاذ اللہ ایک کافر یا فاسق کی توثیق اور مدح سمجھی جاتی اور اس تقدیر پر بحسب اصول فن حدیث ان اکابر دین کی جرح و تعدیل بے اعتبار محض ثابت ہوتی۔ اور اس بے اعتباری کا اثر جرح و تعدیل تک محدود نہ ہوتا بلکہ ان کی کل احادیث مرویہ بھی بے اعتبار ہوجاتے اور اس کے ساتھ ہی یہ ضرورت واقع ہوگی کہ بخاری شریف سے وہ حدیثیں خارج کرکے ایک نئی بخاری بنائی جائے۔ اور چونکہ یہ بات ثابت ہے کہ جن حضرات پر احادیث صحیحہ کی اسناد کا مدار ہے وہ سب امام صاحب کے مداح ہیں۔ اس وجہ سے تعجب نہیں کہ پوری بخاری شریف ہاتھ سے جاتی رہے غرضکہ امام صاحب کے قیاسوں اور رائے میں کلام کرنے کا یہ اثر ہوگا کہ بخاری بلکہ کل صحاح بے اعتبار ہوجائیں گے۔ اس لئے اہل حدیث کو طوعاً و کرہاً یہ ماننا پڑے گاکہ امام صاحب کے قیاس اور رائے ہرگز مخالف شرع شریف نہیں۔ روایت ہے کہ کسی نے امام صاحب کے قیاس پر اعتراض کرکے اول من قاس ابلیس کہا تھا آپ نے جواب دیا کہ ابلیس نے اپنے قیاس سے خدا کے کلام کو رد کیا تھا جس سے کافر ہوا اور ہم قیاس کو کتاب و سنت اور اقوال صحابہ کی طرف پھیرتے ہیں۔ جس سے اتباع مقصود ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ امام صاحب اُس قسم کے قیاس کو کفر سمجھتے تھے۔