قیاس ، قرآن اور حدیث
         قیاس اور قرآن حکیم: پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ قیاس کا طریقہ خود قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے چنانچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے یاایہا الذین امنوا انفقوا من طیبات ما کسبتم وممااخرجنا لکم من الارض ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم بآخذیہ الا ان تغمضوا فیہ۔ اس میں ارشاد ہے کہ اپنے پاکیزہ مال کو خرچ کرو کیونکہ جس طرح تم بری چیز کے لینے کو ناپسند کرتے ہو دوسرا بھی اس کے لینے کو ناپسند کرے گا۔ دیکھئے اس میں مال خبیث کے دینے کا قیاس اس کے لینے پر کیا گیا۔ قیاس اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم: اور اس حدیث شریف سے بھی یہی ظاہر ہے عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ان امراۃ من جہینۃ جاء ت الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وقالت ان امی نذرت ان تحج فلم تحج حتی ماتت افاحج عنہا قال نعم حجی عنہا ارایت لوکان علی امک دین اکنت قاضیۃ اقضوا اللہ فاللہ احق بالوفاء رواہ البخاری یعنی ایک عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں نے حج کی نذر کی تھی اور بغیر ایفائے نذر کے مر گئی کیا میں اس کی طرف سے حج کروں فرمایا ہاں اگر تیری ماں پر کسی کا قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہ کرتی۔ پھر فرمایا کہ خداے تعالیٰ کے حق کو ادا کرو وہ زیادہ تر اِس کا مستحق ہے کہ اس کے حقوق ادا کئے جائیں۔ دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر کا قیاس قرضہ پر فرماکر مجتہدوں کو اجتہاد کا طریقہ بتلادیا ورنہ نظر پیش کرنے اور قیاس کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی نعم حجی عنہا فرما دینا کافی ہے۔ اسی طرح حضرت کا قیاس فرمانا اس روایت سے ثابت ہے عن ابی ھریرہرضی اللہ عنہ ان اعرابیاً اتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال ان امراء تی ولدت غلاما اسودوانی انکرتہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہل لک من ابل قال نعم قال فما الوانہا قال حمرقال بل فیہا من ازرق قال ان فیہا اذرقا فقال فاین تری ذلک قال عرق نزعہا قال فلعل عرق نزعہ ولم یرخص لہ فی الانتفاء منہ متفق علیہ المشکوۃ۔ یعنی ایک اعرابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری عورت نے سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے اس لئے میں نے اس کا انکار کردیا۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے یہاں اونٹ ہیں کہا ہیں فرمایا ان کے رنگ کیسے ہیں کہا سرخ ، فرمایا کیا ان میں کوئی خاکی بھی ہے کہا ہے فرمایا سرخ رنگ والوں میں خاکی کہاں سے آگیا۔ کہا شاید اصل میں کوئی اس رنگ والا بھی ہوگا۔ فرمایا تمہارے لڑکے میں بھی یہی بات ہوگی غرضکہ یہ قیاس پیش کرکے نفی نسب کی رخصت نہ دی۔ دیکھئے یہاں بھی وہی قیاس ہے کہ اونٹ کے رنگ پر آدمی کے رنگ کو قیاس فرمایا اور یہ روایت بھی اس کی موید ہے ۔ عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سئل عن الصائم یقبل قال لاباس ریحانۃ یشمہا کذافی کنزالعمال۔ یعنی کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر روزہ دار بوسہ لے تو اس کا کیا حکم ہے فرمایا کہ کچھ مضائقہ نہیں وہ ایسا ہے جیسے ریحان کو سونگھنا۔ اور کشف بزدوی میں یہ روایت نقل کیا ہے۔ قولہ علیہ السلام لام سلمۃ رضی اللہ عنہا وقد سئلت عن قبلۃ الصائم قال ہلا اخبرتیہ انی اقبل وانا صائم۔ یعنی ام سلمہ سے کسی نے پوچھا کہ صائم کے بوسہ لینے کا حکم کیا ہے انھوں نے حضرت سے ذکر کیا۔ ارشاد ہوا کہ تم نے سائل سے کیوں نہیں کہہ دیا کہ میں روزہ کی حالت میں بوسہ لیا کرتا ہوں مقصود اس سے قیاس کی تعلیم تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل پر اوروں کے فعل کو قیاس کرکے کیوں نہیں جواب دیا۔ اور اس کی تائید ان حدیثوں سے بھی ہوتی ہے جن میں احکام کے ساتھ علتیں بھی بیان کی گئیں۔ مثلاً فرمایا کہ بلی کا جھوٹا نجس نہیں اس لئے کہ وہ گھر میں پھرتی رہتی ہے مقصود یہ کہ ان سے پانی کا بچانا مشکل ہے۔ اس علت کے بیان فرمانے سے مقصود حضرت کا ظاہر ہے کہ جن جانوروں میں یہ علت پائی جائے ان کا جھوٹا نجس نہ ہوگا۔ ورنہ اس علت کا بیان کرنا بے فائدہ ہوتا۔ انہی اُمور پر غور کرکے صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیاس کا طریقہ سیکھ لیا۔ اور ان میں جو اہل رائے تھے وہ برابر قیاس سے استنباط مسائل کیا کرتے تھے اگر اس کی کل نظائر لکھی جائیں تو کتاب ضخیم ہوجائے گی۔ اس لئے چند نظائر بطور مشتے نمونہ ازخروارے یہاں لکھی جاتی ہیں۔ عن عروۃرضی اللہ عنھاان عائشۃ رضی اللہ عنہا اخبرتہ انہ جاء افلح اخوابی القعیس یستاذن علیہا بعد مانزل الحجاب وکان ابوالقعیس ابا عائشۃرضی اللہ عنھا من الرضاعۃ قالت عائشۃ فقلت واللہ لاآذن لا فلح حتی استاذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فان ابا القعیس لیس ہوار ضعنی ولکن ارضعتنی امراتہ قالت عائشۃ فلما دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قلت یا رسول اللہ ان افلح اخا ابی القعیس جاء نی یستاذن علی فکرہت ان اذن لہ حتی استاذنک قال قالت فقال النبیصلی اللہ علیہ وسلم ائذنی لہ قال عروۃ فبذلک کانت عائشۃ تقول حرموا من الرضاعۃ ماتحرمون من النسب۔ (رواہ مسلم ) حاصل اس کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہرضی اللہ عنھا کو صرف رضاعی چچا کے روبرو ہونے کی اجازت دی تھی اس پرانھوں نے قیاس کرکے کہا کہ جو نسبی ناتے حرام ہیں، وہ ناتے رضاعی بھی حرام ہیں۔ قیاس اور صحابہ کرام: عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال لما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واستخلف ابوبکررضی اللہ عنہ بعدہ وکفر من کفرمن العرب قال عمر ابن الخطابرضی اللہ عنہ لابی بکررضی اللہ عنہ کیف تقاتل الناس وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ فمن قال لا الہ الا اللہ فقد عصم منی مالہ ونفسہ الا بحقہ وحسابہ علی اللہ تعالی فقال ابوبکر لاقاتلن من فرق بین الصلوۃ والزکوۃ فان الزکوۃ حق المال واللہ لومنعونی عقالا کانوا یودونہ الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لقاتلتہم علی منعہ فقال عمر ابن الخطاب فواللہ ماہو الا ان رایت اللہ قد شرح صدر ابی بکر للقتال فعرفت انہ الحق رواہ البخاری و مسلم۔ ماحصل اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ایک انقلاب عظیم برپا ہوا کہ بعضے عرب تو بالکل کافر ہوگئے اور بعضے مرتد تو نہ ہوئے مگر زکوٰۃ دینے سے انکار کرگئے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے مرتدوں سے جہاد کرکے چاہا کہ ان لوگوں سے بھی جہاد کریںجو زکوٰۃ دینے سے انکار کرتے ہیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا آپ ان لوگوں سے کیونکر جہاد کروگے وہ تو لا الہ الا اللہ کے قائل ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگیا اس نے اپنی جان و مال کو مجھ سے بچالیا اور اندرونی معاملہ اور محاسبہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا میں ان لوگوں سے ضرور جہاد کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں کیونکہ زکوٰۃ حق مال ہے قسم ہے خدا کی اگر رسی کاایک تکڑا جو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ادا کرتے تھے مجھے نہ دیں تو میں ان سے ضرور جنگ کروں گا ، حضرت عمررضی اللہ عنہ یہ سن کر قائل ہوگئے۔ اور کہا کہ ان کو اس باب میں شرح صدر ہوا اور میں سمجھ گیاکہ وہی بات حق ہے جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہی‘‘۔ اب دیکھئے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو وہ حدیث یاد تھی کہ من قال لا الہ الا اللہ عصم منی مالہ و نفسہ اور حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ بھی اس کو جانتے تھے مگر حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے اجتہاد نے یہ فتویٰ دیا گو وہ لوگ کلمہ گو ہیں مگر مستوجب قتل ہیں اس لئے وہ نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں حالانکہ دونوں خدائے تعالیٰ کے حکم ہیں اور یہ بات مسلم ہے کہ کسی قبیلہ کے لوگ نماز چھوڑ دیں تو ان سے جہاد کیا جاتا ہے پھر کیا وجہ کہ زکوٰۃ نہ دینے والوں سے جہاد نہ کیا جائے۔ غرضکہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کا قیاس نماز پر کرکے حضرت عمررضی اللہ عنہ کو ساکت کردیا اس لئے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ مجتہد کا قیاس شریعت میں قابل وقعت اور واجب التعمیل ہے اس لئے عین مناظرہ میں انھوں نے اس کو مان لیا اور یہ نہ کہہ سکے کہ حضرت میں ایک صحیح نص قطعی پیش کررہا ہوں جس کا علم آپ کو بھی ہے اور اس سے ثابت ہے کہ کوئی کلمہ گو زکوٰۃ نہ دینے کے جرم میں قتل نہ کیا جائے اور آپ ایسے نص کے مقابلہ میں اپنا قیاس پیش کرتے ہو جو اول من قاس ابلیس سے ناجائز ثابت ہوتا ہے۔ اب اس قیاس کے پرزور اثر اور قوی طاقت کو دیکھئے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت کا خون اس نے ہدر کردیا۔ اور کسی صحابی نے چوں و چرا نہ کیا جس سے صحابہ کا اجماع اس بات پر ثابت ہوگیا کہ دین میں قیاس مجتہد بھی گویا ایک مستقل حجت ہے۔ اگر قیاس مجتہد صحابہ کی دانست میں قابل اعتبار نہ ہوتا تو اس عروج اسلام کے زمانہ میں جس میں حمیت اسلامی کا جوش ہر ایک مسلمان کے رگ و پے میں بھرا ہوا اور نمایاں تھا ممکن نہیں کہ حدیث کے مقابلہ میں قیاس کی ترجیح کووہ گوارا کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد صریح کے مقابلہ میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی قیاسی بات چل جاتی۔ کیونکہ وہ زمانہ وہ تھا کہ خلاف شرع کسی کی کوئی بات نہیں چل سکتی تھی۔ تہذیب التہذیب میں امام بخاری کی تاریخ سے نقل کیا ہے کہ ایک روزحضرت عمررضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور آپ کے اطراف مہاجرین و انصار کا مجمع تھا آپ نے ان حضرات سے خطاب کرکے کہا کہ اگر کسی کام میں میں تن آسانی کروں تو آپ لوگ کیا کرو گے بشر ابن سعد نے کہا کہ اگر آپ ایسا کرو گے تو ہم آپ کو ایسے سیدھے کردیں گے جیسے کوئی تیر کو سیدھا کرتا ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا انتم اذا انتم یعنی تم اس وقت تم ہوگے یعنی ایسا ہی کرو گے تو صحابہ سمجھے جاؤ گے۔ اس موقع پر اہل سنت و جماعت میں تو کسی کی مجال نہیں کہ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے قیاس کرنے پر اعتراض کرسکے یا صحابہ کے اجماع کو نہ مانے یا اس حدیث کی صحت میں کلام کرے۔ اول من قاس النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اہل حدیث فقہ کی توہین میں اول من قاس ابلیس نہایت جرات سے کہا کرتے تھے۔ سو بفضلہ تعالیٰ یقینی طور پر ثابت ہوگیا کہ مجتہدوں کے قیاس پر اس کا اطلاق غلط محض ہے وہاں یہ کہنا صادق ہے اول من قاس النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتبعہ الصدیق وغیرہ من الصحابۃ رضی اللہ عنہم ۔ نیل الاوطار میں قاضی شوکانی رحمۃاللہ علیہ نے جو اس مقام میں لکھا ہے ہدیۂ ناظرین کیا جاتا ہے جس کا مطلب اسی کے قریب ہے جو بیان کیا گیا۔ وہو ہذا وقد اجتمع فی ہذہ القضیۃ الاحتجاج من عمررضی اللہ عنہ بالعموم ومن ابی بکر بالقیاس ودل ذلک علی ان العموم یخص بالقیاس وان جمیع ماتضمنہ الخطاب الوارد فی الحکم الواحد من شرط واستثناء مراعی فیہ و معتبر صحۃ فلما استقر عند عمر صحۃ رای ابی بکر وبان لہ صوابہ تابعہ علی قتال القوم وہو معنی قولہ فعرفت انہ الحق یشیر الی انشراح صدرہ بالحجۃ التی اتی بہا والبرہان الذی اقامہ نصا ودلالۃ۔ قاضی شوکانی رحمۃاللہ علیہ نے جو لکھا ہے کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی صحت رائے حضرت عمررضی اللہ عنہ پر ظاہر ہوگئی اس سے ظاہر ہے کہ باوجود یکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی شان میں کان رایہ موافقا للوحی والکتاب وارد ہے مگر حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی رائے ان سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔ امام صاحب جو اصحاب الرائے کے سرگروہ مانے جاتے ہیں، اس کی وجہ یہی تفاضل رائے ہے یعنی اکابر محدثین نے دیکھا کہ صاحب الرائے تو سبھی ہیں مگر اس قابل کہ اصحاب الرائے کہے جائیں ابوحنیفہ اور انکے اتباع ہیں اس وجہ سے وہ ان کا لقب ہی ٹہرادیا مگر اہل حسد نے بجائے مدح اس میں مذموم معنی پیدا کئے جیسے اہل کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو راعنا کہہ کر اس سے مذموم معنی مراد لیتے تھے ۔ عن عبداللہ قال لماقبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قالت الانصار منا امیرومنکم امیر فاتاہم عمر رضی اللہ عنہ فقال یا معشرالانصار الستم تعلمون ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد امر بابکررضی اللہ عنہ ان یوم الناس فایکم تطیب نفسہ ان یتقدم ابابکررضی اللہ عنہ فقالت الانصار نعوذباللہ ان نتقدم ابابکررضی اللہ عنہ رواہ الامام احمد فی المسند۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے ساتھ ہی انصار نے مہاجرین سے کہا کہ اب ایک امیر ہم سے ہوگا اور ایک تم میں سے یہ سن کر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ لوگوں کی امامت کریں اب کہئے کہ آپ حضرات میں کس کا نفس گوارا کرتا ہے کہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے آگے بڑھے انصار نے کہا نعوذباللہ ہم ہرگز ابوبکررضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ دیکھئے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس نازک موقع میں قیاس ہی سے کام لیا کہ جس طرح ابوبکررضی اللہ عنہ امامت میں مقدم کئے گئے تھے امارت و خلافت میں بھی مقدم کئے جائیں اور انصار اس قیاس کو رد نہ کرسکے اور کسی کو یہ کہنے کی مجال نہ ہوئی کہ حضرت ہمیں ان کی خدمت پیش امامی میں کلام نہیں ہر نماز میں ہم ان کی اقتدا کیا کریں گے۔ مگر ہمارا کلام امامت و خلافت میں ہے جس سے تمام اہل اسلام کے جان و مال و حقوق اور حکمرانی اور اشاعت اسلام وغیرہ امور متعلق ہیں۔ اب قیاس کی وقعت و برکت کو دیکھئے کہ کیسے عظیم الشان معاملہ کو جس میںلاکھوں جانیں تلف ہوا کرتی ہیں، کس آسانی سے طے کردیا۔ وجہ اس کی کیاتھی انصار رضی اللہ عنہم کا تدین اور احقاقِ حق کی خواہش جب انہوں نے اس قیاس میں غور کیا اور آثار حقانیت ان سے نمایاں ہوئے ازراہ تدین فوراً اس کو قبول کرلیا گو اس میں ان کاسراسر نقصان تھاغور کیجئے کہ اسلام میں پہلا مہتمم بالشان واقعہ جو پیش آیا وہ امر خلافت تھا اور وہ بمقابلہ مہاجرین و انصار صرف قیاس سے طے ہوا۔ یہ واقعہ تمام صحابہ کی گواہیاں پیش کررہا ہے کہ کل صحابہ قیاس کوفقط مانتے ہی نہ تھے بلکہ بڑے بڑے مہتم بالشان مسائل کا فیصلہ اسی پر محول کرتے تھے اور اہل رائے کے اتباع اور امتثال کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اب اس سے بڑھ کر قیاس کے مشروع ہونے پر کونسااجماع ہوسکتا ہے۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قلت لعثمان ماحملکم علی ان عدمتم الی سورۃالانفال وہی من المثانی والی سورۃ براۃ وہی من المئین فقرنتم بینہما ولم تکتبو بینہما سطر ببسم اللہ الرحمن الرحیم فوضعتموہا فی السبع الطوال فماحملکم علی ذلک قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممایاتی علیہ الزماں وہو ینزل علیہ من السور ذوات العدد فکان اذا نزل علیہ الشی ء دعا بعض من یکتب لہ فیقولوا ضعوا ہذہ الآیۃ فی السورۃ التی یذکر فیہا کذا وکذا واذا نزلت علیہ الایات قالضعوا ہذہ الایات فی السورۃ التی یذکر فیہا کذاوکذا اذاانزلت علیہ الایۃ قال ضعواہذہ الایۃ فی السورۃ التی یذکر فیہا کذاوکذا وکانت سورۃ الانفال من اوائل مانزل بالمدینۃ وکانت سورۃ براء ۃ من اواخرما انزل من القرآن قال فکانت قصتہا شبیہا بقصتہا انہا منہا و قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یبین لنا انہامنہا فمن اجل ذلک قرنت بینہما ولم اکتب بینہما سطر بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ووضعتہافی السبع الطوال رواہ امام الاحمدرحمۃاللہ علیہ فی المسند۔ یعنی ابن عباس نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے سورہ انفال کو جو چھوٹی سورت ہے سورہ برات کے ساتھ کیوں ملادیا کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر متعدد سورتیں اترتی تھیں اور جب آیتیں اترتیں تو فرماتے کہ جس سورۃ میں فلاں قسم کا ذکر ہے اس میں ان آیات کو لکھ دو اور سورۃ انفال مدینہ میں اوائل میں اترا تھا اور سورہ توبہ قرآن کے آخر میں اترا اور حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میںکچھ نہیں فرمایا اور مضمون دونوں کے باہم مشابہ تھے۔ اس لئے اسی قیاس پر ہم نے دونوں کو ملادیا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بلحاظ مضمون آیتوں کو سورتوں میں داخل فرماتے تھے اور دونوں کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی۔ دیکھئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ترتیب قرآن میں بھی قیاس کو دخل دیا۔ عن علیرضی اللہ عنہ قال لما توفی ابوطالب اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقلت ان عمک شیخ قدمات قال اذہب فوارہ ثم لاتحدث شئیا حتی تأتینی قال فواریتہ ثم اتیتہ قال اذہب فاغتسل ثم لاتحدث شئیا حتی تاتینی قال فاغتسلت ثم اتیتہ قال فدعالی بدعوات مایسرنا ان لی بہاحمرالنعم وسودہا قال وکان علیرضی اللہ عنہ اذا غسل المیت اغتسل رواہ الامام احمدرحمۃاللہ علیہ فی مسند۔ یعنی علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب میرے والد ابوطالب کی وفات ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ کے بوڑھے چچا مرگئے۔ فرمایا جاؤ ان کو خاک میںچھپادے کر بغیر اس کے کہ کوئی دوسرا کام کرو میرے پاس چلے آؤ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا پھر فرمایا کہ جاؤ اور غسل کرکے فوراً میرے پاس چلے آؤ اور کوئی دوسرا کام نہ کرو۔ جب میں غسل کرکے حاضر ہوا تو حضرت نے میرے لئے ایسی دعائیں کیں کہ اگر سرخ و سیاہ اونٹ ان کے معاوضہ میں مجھے مل جائے تو ویسی خوشی مجھے نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ علی کرم اللہ وجہہ کی عادت تھی کہ جب کسی میت کو غسل دیتے تو آپ بھی اس کے بعد غسل کرلیتے۔ دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا تھا نہ اور کسی سے کہ غسل میت بھی موجب غسل ہے مگر علی کرم اللہ وجہہ نے اس حکم خاص پر قیاس کرکے ہر میت کے غسل کے بعد غسل کرنے کا التزام کرلیا تھا۔