تقلید شخصی کی شرعی حیثیت
حق تعالیٰ فرماتا ہے ماٰاتکم الرسول فخذوہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماویں اس کو قبول کرلو جس کا مطلب یہ ہوا کہ چوں و چرا کی اجازت نہیں صرف آپ کے ارشاد کو بلا دلیل مان لیا کرو مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کی نماز دو رکعت ہے تو کسی کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ دو رکعت مقرر ہونے کی کیا وجہ اور قرآن میں کہیں اس کا ذکر بھی ہے یا نہیں۔ یہ بحث دوسری ہے کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو تقلید کہتے ہیں یا نہیں مگر صورۃً تقلید ہونے میں کلام نہیں۔ اسی طرح صحابی نے جب کہہ دیا کہ انما الاعمال بالنیات مثلاً حدیث ہے تو تابعی کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ اس کے حدیث ہونے کی کیا دلیل البتہ یہ ضرور ہے کہ جس کی تقلید کی جائے وہ شخص معتمد علیہ اور راستباز ہو اسی وجہ سے محدثین کو رجال کی بحث کرنے کی ضرورت ہوئی جس سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص عادل صادق معتمد علیہ ہو اس کی تقلید کی جائے یہ بات قریب میں معلوم ہوگی کہ رجال کی جرح و تعدیل کا مدار تقلید ہی پر ہے۔ 
تقلید کی ضرورت
فقہا کی تقلید کی ضرورت قرآن شریف سے معلوم ہوتی ہے کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے 
یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم ۔
یعنی اے مسلمانوں اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور ان اولی الامر کی بھی جو تم میں سے ہوں۔ اگرچہ اولی الامر کے معنی اُمرا کے ہوسکتے ہیں مگر قرائن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اولی الامر سے مراد علماء فقہاء ہیں اس لئے کہ مقصود اس آیت شریف میں اطاعت خدا و رسول اور اطاعت اولی الامر ہے اس مطلب کو ادا کرنا صرف حرف عطف سے ہوسکتا تھا یعنی اطیعوا اللہ والرسول واولی الامر سے یہ مقصود معلوم ہوجاتا تھا لفظ اطیعوا کو مکرر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی مگر چونکہ کلام بلیغ میں خصوصاً کلام الہٰی میں کوئی لفظ بے کار نہیں اس سے معلوم ہوا کہ مقصود اس زیادتی سے کچھ دوسرا ہی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو کوئی ضمنی نہ سمجھ لے اور یہ خیال نہ کرلے کہ قرآن شریف میں جتنے احکام ہیں انہی میں حضرت کی اطاعت ضروری ہے اس خیال کے دفع کرنے کے لئے یہ تکرار لفظ اطیعوا مثل اطیعوا اللہ کے مستقل طور پر اطیعوا الرسول ارشاد ہوا جس سے مقصود یہ ہے کہ جو کچھ حضرت فرمائیں خواہ قرآن میں ہو یا نہ ہو سب مان لیں اور اطاعت کریں۔ اور اس کے بعد اولی الامر کے ساتھ لفظ اطیعوا کا ذکر نہ ہوا جس سے یہ بات معلوم کرادی گئی کہ ان کی اطاعت ضمنی ہے یعنی جو احکام حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایئے ہیں انہی میں ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ جو لوگ خلاف شرع حکم کرتے ہیں ان کے باب میں وارد ہے
ومن لم یحکم بما انزل اللّٰہ فاولئک ہم الفاسقون اور ہم الظلمون اور ہم الکفرون۔
اب اولوالامر کو یہ معلوم کرنا ضرور ہوا کہ ہم اس آیت شریفہ کی رو سے کون سے اُمور کے امر کرنے کے مجاز ہیں جن کی اطاعت مسلمانوں پر واجب ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ کل آیات و احادیث سے ایسے اُمور کا نکالنا جو واجب الاتباع ہیں فقیہ کا کام ہے۔ غرضکہ اولوالامر کو ضرور ہوا کہ خود فقیہ ہوں یا فقہاء سے مدد لے کر امر کریں بہرحال دونوں صورتوں میں اولی الامر کی اطاعت فقہا ہی کی اطاعت ہوئی پھر اگر اطاعت کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حاکم عالم نہیں تو مشتبہ اُمور میں ان کو ضرور ہوگا کہ علماء سے دریافت کریں کہ وہ امر واجب الاطاعت ہیں یا نہیں اور اگر وہ فتویٰ دیں کہ اِن اُمور میں اطاعت جائز نہیں تو انہی کی اطاعت واجب ہوگی جس سے معلوم ہوا کہ فقہاء اور امرا متعارض ہوں تو اہل اسلام مامور ہیں کہ فقہاء کا امتشالِ امر کریں اور امرا کی اطاعت نہ کریں جیسا کہ اس روایت سے بھی ظاہر ہے۔ 
عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ انما الطاعۃ المعروف متفق علیہ کذافی المشکوۃ کتاب الافادۃ۔
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ معصیت میں کسی کی اطاعت درست نہیں اطاعت صرف انہی اُمور میں ہے جو دین میں معروف ہیں۔
اب دیکھئے کہ امیر اور فقیہ کے اقوال متعارض ہونے کی صورت میں فقیہ کا قول جب واجب العمل ہو تو امرا اولوالامر ہوئے یا فقہا اسی وجہ سے جابر ابن عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عطا اور مجاہد اور ضحاک اور ابوالعالیہ اور حسن بصری وغیرہم رحمہم اللہ نے اولی الامر کی تفسیر میں فقہاء اور علماء ہی لکھا ہے جیسا کہ تفسیر ابن جریر وابن کثیر وغیرہ سے واضح ہے کیونکہ نہ ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء ہی کو اپنا جانشین قرار دیا ہے جیسا کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے۔ 
عن الحسن ابن علی رضی اللہ عنہا قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللہ علی خلفائی قیل ومن خلفائک یا رسول اللہ قال الذین یحیون سنتی ویعلمون بھا الناس رواہ ابوالنصر السجرنی فی الامانۃ وابن عساکر وفی معناہ رواہ الطبرانی والرامہرمزی وابن ابی حاتم کذافیکنزالعمال۔
یعنی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرے میرے خلفا پر کسی نے پوچھا آپ کے خلفا کون ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ فرمایا وہ لوگ جو میری سنت کو زندہ کرتے ہیں اور لوگوں کو سنت کی تعلیم کرتے ہیں۔
غرضکہ فقہاء کی اطاعت قرآن شریف سے بھی ثابت ہے اور احادیث سے بھی اسی وجہ سے عمران بن عبدالعزیزرحمۃاللہ علیہنے شہروں میں حکم جاری کردیا کہ جس باب میں فقہاء کا اتفاق ہو اسی پر عمل کیا جائے جیسا کہ اس روایت سے ثابت ہے جو دارمی میں ہے
عن حمید قال قیل لعمر بن عبدالعزیز لو جمعت الناس علی شی فقال ما لیونی انہم لم یختلفوا قال ثم کتب الی الافاق والا مصار لیقضی کل قوم بما اجتمع علیہ فقہاؤہم۔ 
دیکھے عمر ابن عبدالعزیز نے جو تمام ممالک اسلامیہ میں عام حکم جاری کردیا کہ فقہاء کے اقوال پر عمل کیا جائے اس سے انھوں نے ثابت کردیاکہ اولی الامر جن کی اطاعت واجب ہے وہ صرف فقہاء ہیں حکام کو اس میں کوئی دخل نہیں۔
ابن حزم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ تقلید کو حرام سمجھتے ہیں مگر فقہاء کی تقلید کے وہ بھی قائل ہیں جیساکہ ان کی اس عبارت سے ظاہر ہے جو الفصل فی الملل میں لکھا ہے 
نعم ان التقلید لایحل البتۃ وانما التقلید اخذالمرء قول من دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممن لم یامرنا اللہ عزوجل باتباعہ قط ولا باخذ قولہ بل حرم علینا ذلک ونہانا عنہ۔
یعنی اس میں شک نہیں کہ تقلید ہرگز حلال نہیں مگر تقلید اسی کا نام ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایسے دوسرے شخص کا قول مان لیا جائے جس کی اتباع اور اس کے قول پر عمل کرنے کا حکم خدا نے کبھی نہ دیا ہو بلکہ ان کے ماننے سے منع فرمایا اور اس کو حرام کردیا ہو۔ حاصل یہ کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کی اتباع کا حکم خدائے تعالیٰ نے دیا ہو تو اس کی اتباع اور پیروی کو تقلید ہی نہیں کہتے۔
ابن حزم رحمۃاللہ علیہکے اس قول سے کہ ان التقلید لایحل البتۃ سے دھوکا ہوتا تھا کہ انھوں نے مطلقا تقلید کو حرام کردیا اس لئے انھوں نے فقہا کی اتباع کو سرے سے تقلید ہی میں داخل نہیں کیا کیونکہ وہ تصریح کرتے ہیں کہ تقلید ایسے شخص کی اتباع کو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کے اتباع کا کبھی حکم نہ دیا ہو۔ اور چونکہ فقہا کے اتباع کا حکم واطیعوا الرسول واولی الامر منکم سے دیا ہے اس لئے وہ تقلید ہی نہیں اس سے مقصود ان کا معلوم ہوگیا کہ اگر تقلید ہر طرح سے مذموم ہو تو فقہاء کی تقلید کو ہم تقلید ہی سے خارج کردیں گے۔ اسی وجہ سے انھوں نے تقلید مذموم میں ایسی قید لگادی کہ تقلید اصطلاحی پر وہ صادق ہی نہیں آتی جب ابن حزم جیسے متشدد شخص تقلید فقہا کو بری نہیں سمجھتے تو ان کے پیروؤں کو ضرور ہے کہ اس بات میں اغماض کرجائیں۔ اور مقلدوں کو مشرک نہ بنائیں یوں تو فقہاء اور مجتہدین بہت سے گزرے ہیں اور امام بخاری بھی فقیہ اور مجتہد تھے مگر جو بات اہل مذاہب اربعہ کو حاصل ہوئی وہ کسی کو نصیب نہ ہوئی۔ یہ بات شاہ ولی اللہ صاحب کے قول سے بھی معلوم ہوتی ہے جو الانصاف میں لکھا ہے: 
وخصلۃ رابعۃ قتلوہا وہی ان تنزل لہ القبول من السماء فیقبل الی علمہ جماعات فقہ من العلماء من المفسرین والمحدثین والاصولیین و حفاظ الفقہ ویمضی علی ذلک القبول والاقبال قرون متطاولۃ حتی یدخل ذلک فی صمیم القلوب۔
یعنی مجتہد کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ اس کی قبولیت آسمان سے اترے جس کی وجہ سے علماء اور مفسرین اور محدثین و اصولیین اور حفاظ کتب فقہ اس کے علم کی طرف متوجہ ہوں اور اس قبول و اقبال پر مدتیں گذر جائیں یہاں تک کہ لوگوں کے دل میں یہ باتیں داخل ہوجائیں‘‘۔ 
ہم دیکھتے ہیں کہ سب باتیں مذاہب اربعہ پر صادق آتی ہیں شاہ صاحب ممدوح نے ’’عقد الجید فی مسائل التقلید‘‘ میں اس امر میں ایک باب ہی مدون کیا جس کا ترجمہ یہ ہے۔
باب تاکید الاخذ بہذا المذاہب الاربعۃ والتعذیر فی ترکہا والخروج عنہا اور اس میں لکھتے ہیں اعلم ان فی الاخذ بہذا المذاہب الاربعۃ مصلحت عظیمۃ وفی الاعراض عنہا کل مفسدۃ کبیرۃ نحن نبین ذلک بوجوہ حاصل اس کا یہ کہ مذاہب اربعہ کی تقلید نہایت ضروری ہے۔ اور اس میں بڑی مصلحت ہے اور اس سے اعراض کرنے میں بڑا مفسدہ ہے جس کے متعدد وجوہ ہیں پھر بہت سے وجہ بیان کئے جن کا ذکر موجب تطویل ہے۔ الحاصل تمام روئے زمین پر اہل سنت کے چار ہی مذہب مشہور ہیں اور پانچواں مذہب بخاری کہیں سنا نہیں گیا بلکہ جو لوگ بخاری شریف کو مانتے ہیں، سب سے بڑے ہوئے ہیں۔ وہ سبھی امام بخاری کی تقلید کو عار بلکہ بعضے تو شرک ہی سمجھتے ہیں اور حرمت تقلید پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں ۔
قولہ تعالیٰ اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیاء وقولہ تعالیٰ واذا قیل لہم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ماالفینا علیہ اباء نا وقولہ تعالیٰ اتتخذوا احبارہم و رہبانہم اربابا من دون اللہ۔
اور اصل یہ اور اس قسم کی کئی روایتیں کفار کی شان میں نازل ہوئیں اس وجہ سے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بت پرستی وغیرہ چھوڑ دو تو کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اس لئے آپ کی نہیں سنتے اور اصل اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کو نبوت ہی کی تصدیق نہ تھی پھر جب تصدیق کرتے تو فوراً بتوں کو توڑ دیتے تھے۔ چونکہ یہ آیتیں مقلدوں پر چسپاں کی جاتی ہیں اس لئے ان کی حالت پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ آیا ان کو نبوت پر ایمان ہے یا نہیں اور اگر ہے تو باوجود ایمان کے اپنے نبی کی بات جو خاتم الانبیاء کے بعد پیدا ہوئے اور ان پر وحی اترنے کے بھی قائل ہیں جس کی وجہ سے ان کے مقرر کئے ہوئے احکام کو ناسخ اور پہلے نبی کو یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو منسوخ سمجھتے ہیں اس کی تحقیق یوں ہوسکتی ہے کہ کسی جاہل سے جاہل مقلد سے پوچھ لیا جائے تو وہ ہرگز نہ کہے گا کہ میں اپنے امام کو نبی سمجھتا ہوں اور اسی وجہ سے ان کے قول کو واجب الاتباع جانتا ہوں۔ اس سے یقینی طور پر ثابت ہوجائے گا کہ کفار جو آبا و اجداد کے طریقہ کو نبی کے مقابلہ میں جس وجہ سے پیش کرتے تھے وہ وجہ تو یہاں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ اس لئے کہ اس کا منشا تکذیب نبی تھا اور کوئی مقلد تکذیب نبی نہیں کرسکتا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ مجتہدوں کو اجتہاد کرنے کی اور اس پر عمل کرنے کی ہم کو اجازت دی ہے اس لئے ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔ البتہ احادیث جب مذہب کے خلاف پیش کی جائیں تو یہ ضرور کہا جائے گا کہ احادیث ہمارے سر آنکھوں پر اور وہ سب واجب التعظیم ہیں اسی وجہ سے بخاری شریف کے ختم کو ہم باعث انجاح مرام سمجھتے ہیں اور اس قدر دلدادہ ہیں کہ اہل حدیث بھی نہ ہوں گے مگر چونکہ کل احادیث کے معنی بخاری شریف وغیرہ میں نہیں اور جس قدر ہیں وہ امام بخاری وغیرہ کے اجتہادی ہیں جو ہمارے امام کے شاگردوں کے شاگرد تھے۔ اس وجہ سے ان معنی کو نہیں مانتے جو ہر شخص اپنی رائے سے بیان کرے بلکہ اس تحقیق کو مانتے ہیں جو تمام آیات و احادیث کو پیش نظر رکھ کر ایک جلیل القدر امام الوقت بیان کرے۔ اور ہم لوگ اس کے مامور بھی نہیں کہ جو شخص قرآن و حدیث کو پیش کرے اس کو مان ہی لیں بلکہ سلف صالحین نے ہمیں یہ طریقہ دکھلادیا ہے کہ غیر معتبر شخص قرآن بھی سنائے تو نہ سنا جائے چنانچہ سنن دارمی میں یہ روایت ہے۔
عن اسماء بن عبید قال دخل رجلان من اصحاب الہوا علی ابن سیرین فقال یا ابابکر انا نحدثک قال لاقالا فنقراء علیک آیۃ من کتاب اللہ قال لالیقومان عنی اولاقومن فقال بعض القوم یا ابابکر وما علیک ان یقراء علیک آیۃ من کتاب اللہ تعالی قال خشیت ان یقراء علی فیحرفا فانہا فیقر ذلک فی قلبی۔ 
یعنی ابن سیرین کے پاس دو شخص آئے جو اہل ہوا سے تھے اور کہا کہ ہم ایک حدیث آپ کو سناتے ہیں فرمایا میں نہیں سنتا پھر کہا قرآن کی ایک آیت ہی سن لیجئے کہا نہیں اور فرمایا تم یہاں سے چلے جاؤ میں اُٹھ جاتا ہوں۔ لوگوں نے کہا حضرت اگر آپ قرآن کی آیت سن لیتے تو کیا نقصان تھا فرمایا اگر وہ آیت پڑھ کر اس کے مضمون میں تحریف کردیتے اور وہی بات میرے دل میں جم جاتی تو خوف کی بات تھی۔ دیکھئے ان لوگوں نے ابن سیرین رحمۃاللہ علیہ کو کیسا متعصب اور جاہل اپنی قوم میں جاکر بنایا ہوگا کہ انھوں نے نہ حدیث سنی نہ قرآن بلکہ یہ آیت پڑھ کر ان کا کفر بھی ثابت کردیا ہوگا جو حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ 
واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون 
یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور چپ رہو بجائے اس کے کہ سن کر چپ رہتے انھوں نے سننا بھی گوارا نہ کیا پھر کس طرح وہ مستحق رحمت ہوسکتے ہیں اور خدا جانے کیسی کیسی موشگافیاں کرکے ان کو کافر بنانے میں کوشش کی ہو گی۔ مگر اہل اسلام ایسے جلیل القدر تابعی کی نسبت یہ گمان ہرگز نہیں کرسکتے کہ انھوں نے قرآن کے سننے سے انکار اس وجہ سے کیا کہ آیت شریفہ واذا قری القرآن فاستمعوا لہ ۔ ان کو یاد نہ تھی یا اس پر عمل کرنا ان کو منظور نہ تھا بلکہ سبب اس کا یہ تھا کہ قرآن بہ نیت تلاوت یا وعظ نیک نیتی سے پڑھا جائے تو اس کا سننا واجب ہے ا ور اہل ہوا کو ایسے موقعوں میں یہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ قرآن و حدیث کے ذریعہ اپنے خیالات فاسدہ ان کے ذہن نشین کریں۔
اغراض کا مختلف ہونا اس حکایت سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے جو ایک مولوی صاحب نے مجھ سے کلکتہ کا چشم دید واقعہ بیان کیا کہ مقلدوں کی مسجد میں ایک غیر مقلد صاحب آکرجماعت میں شریک ہوگئے جب امام نے آمین کہی تو انھوں نے حسب عادت بآواز بلند آمین کہی اب تمام اہل مسجد مقلد حیران رہے کہ نماز کی حالت میں اس کا کیا تدارک کیا جائے مگر بے چین طبیعتیں کب چپ رہ سکتی ہیںایک صاحب نے فوراً ان کے جواب میں بآواز بلند (شالا) کہہ دیا جو وہاں گالی سمجھی جاتی ہے غیر مقلد صاحب تھے بڑے جری ان سے اس گالی کی برداشت نہ ہوسکی اور اس کے جواب میں پھر آمین بہت زور سے کہی مقلد صاحب یہ لفظ دوبارہ سنتے ہی آگ بگولا بن گئے اور بلند آواز سے (شالا بٹا شالا) اسی آمین کے لہجہ میں ادا کیا پھر انھوں نے کمال غضب سے اسی آمین کو اور پھینک مارا غرضیکہ چند بار یہ سب و شتم طرفین سے ہوتا رہا۔ اس کے بعد لات مکھی کی نوبت آئی مقصود یہ کہ مقلد صاحب کو جو (شالا بٹا شالا) کہنے سے تشفی ہوتی تھی غیر مقلد صاحب کو لفظ آمین سے بھی وہی تشفی ہوتی تھی اب کہئے کہ انھوں نے اس متبرک لفظ کو گالی کے موقع میں استعمال کیا یا نہیں۔ 
غیر مقلدوں کو جب منظور ہوتا ہے کہ مقلدوں کو علانیہ گالی دیں تو ان کی مسجد میں جاکر آمین بآواز بلند کہہ دیتے ہیں۔ جس سے ایک ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے بخلاف اس کے وہی مبارک لفظ شافعیہ وغیرہ بھی نہایت بلند آواز سے کہتے ہیں مگر کسی کو برا نہیں معلوم ہوتا اس وجہ سے کہ ان کو صرف امتثال امر اور تلاوت مقصود ہوتی ہے۔
الحاصل جس طرح اس متبرک لفظ کے کہنے سے مقصود دوسرا تھا اسی طرح اہل ہوا کا قرآن و حدیث سنانے سے مقصود دوسرا ہی ہوا کرتا ہے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کیا وجہ ہے کہ باوجود ایمان اور تبحر علم کے ان حضرات کو اس درجہ کی احتیاط تھی کہ غریب مذہب والوں سے قرآن کی آیت بھی نہیں سنتے تھے اس خیال سے کہ کہیں اس کے عقائد فاسدہ کا اثر اپنے دل پر نہ پڑ جائے اور اس زمانہ میں ہر کم علم بلکہ بے علم شخص بھی اہل مذہب باطلہ کے اقوال کو سننے اور دیکھنے کی کچھ پروا نہیں کرتا بلکہ اس کو دینداری اور حق پسندی سمجھ کر اپنی بے تعصبی کا ثبوت دیتا ہے۔ 
بات یہ ہے کہ جن حضرات کو اپنے ایمان اور اعتقادات کی قدر ہے اور قرآن و حدیث پر پورا ایمان اور جزا و سزا پر کامل یقین ہے ان کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ خود فطرت انسانی کا مقتضی ہے کہ جس چیز کو آدمی بے بہا اور عزیز الوجود سمجھتا ہے اس کی حفاظت میں کمال درجہ کی احتیاط کو کام میں لاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دوست سے بھی بدگمان رہتا ہے سعدی علیہ فرماتے ہیں۔ ؂ 
نگہدارو آں شوخ ور کیسہ دُر
کہ داند ہمہ خلق را کیسہ برُ
اب دیکھئے کہ ایک جماد کی حفاظت میں یہ احتیاط ہو تو ایمان جس پر نجات اُخروی اور ابدالاباد کی بہبودی کا مدار ہے اس کی کس قدر احتیاط چاہئے اور حدیث شریف میں بھی اس کی تعلیم کی گئی ہے۔ چنانچہ مقاصد حسنہ میں امام سخاوی نے یہ حدیث نقل کی ہے 
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم احترسوا من الناس بسوء الظن رواہ احمد وغیرہ ۔ 
یعنی لوگوں سے بدگمانی کرکے اپنی حفاظت کرلو جب تک طبیعتیں تقلید کی جکڑ بندی کی عادی تھیں اہل سنت و جماعت کا ایک گروہ ایک کثیر التعداد اشخاص پر شامل تھا اور جب تک ترک تقلید سے آزادی طبیعتوںمیں آگئی ہے ایسے نئے نئے فرقہ بن جاتے ہیں جن کا وجود خیال میں نہیں آتا تھا اور لامذہبی کا شیوع اس وقت جو صدیوں میں نہیں ہوا تھا اب مہینوں بلکہ دنوں میں ہورہا ہے اور یہ جتنے نئے فرقہ بنتے جاتے ہیں انہی مقلدوں کے ہم مشرب لوگ ہیں جو اب جانی دشمن بن گئے ہیں۔ غرضکہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اہل سنت و جماعت کے متدین علماء نے جو تمام آیات و احادیث کو پیش نظر رکھ کر کمال جانفشانی سے دینی احکام کو منقح کرکے کتب فقہ میں لکھ دیئے ان کو ہرگز نہ چھوڑیں اور مخالفین گو آیات و احادیث پیش کریں ان کو قابل التفات نہ سمجھیں کیونکہ جتنے مذہب والے اپنے کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں سب کا استدلال قرآن و حدیث ہی ہے اب کہئے کہ آدمی کس کس کی پیروی کرے پھر جس طرح قرآن سے ہدایت کا تعلق ہے کبھی ضلالت کا سبب بھی وہی ہوجاتا ہے۔ 
کما قال اللہ تعالیٰ یضل بہ کثیر اویہدی بہ کثیرا
اس لئے مقتضائے عقل یہی ہے کہ اہل مذاہب باطلہ سے نہ قرآن سنے نہ حدیث بلکہ جس طرح کروڑہا اہل سنت و جماعت جن میں علماء محدثین اور اولیاء اللہ شریک ہیں قرناً بعد قرنٍ مذاہبِ اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کے مقلد رہے ہم کو بھی چاہئے کہ ان ہی کی پیروی کریں۔ کیونکہ اسلام میں اجماع بھی بڑی چیز سمجھی جاتی ہے۔ 
یہ بات مشاہد ہے کہ جس کسی کو مقتدا بننا منظور ہوتا ہے تو چند آیات و احادیث میں غور و فکر کرکے اور اقوال سلف اور عقل سے مدد لے کر کسی بات کو مہتمم بالشان بنادیتا ہے اور جہلا جن کو دین کی عقل نہیں ہوتی اس کے دام میں پھنس جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کا ایک فرقہ بن جاتا ہے اور وہ سب اس کے تابع اور مقلد کہلاتے ہیں اور وہ ان کا مقتداء اور جو عقلمند ہوتے ہیں وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں جاہل سمجھ کر چاہتا ہے کہ اپنے تابع اور مقلد بنالے اور خود ہمارا پیشوا اور حاکم بنے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مجتہد تو ہو ہی نہیں سکتے کسی نہ کسی کی تقلید کا قلاوہ ہماری گردن میں ضرور ہوگا تو ہر کس و ناکس کا تقلید کا عار کیوں قبول کریں اور ایسے شخص کی تقلید کیوں نہ کریں جن کے تدین اور اورع اور اعلم اور افقہ ہونے پر امام بخاری کے صدہا اساتذہ نے گواہی دی ہے اور اسی زمانہ کے اکابر محدثین نے ان کو اپنا مقتدا مان لیا اور لاکھوں علماء نے جن میں اکثر صحاح ستہ کی احادیث سے بخوبی واقف تھے ان کی تقلید ایسے جلیل القدر امام کی تقلید کو چھوڑ کر کسی آخری زمانہ والے کے ہاتھ میں اپنا قلاوہ دینا عقل سے بعید ہے۔ 
مثل مشہور ہے 
اذا سرقت فاسرق الدرۃ 
غرض کہ مقلدین جو اپنے آبا و اجداد کے طریقہ پر ہیں یہ بات ان کو بتواتر معلوم ہوئی کہ امام صاحب نے اکابر محدثین کے مجمع میں تحقیقات کرکے فقہ مدون کی تھی جو نسلاً بعد نسل ان تک پہونچی ہے اب اگر اسی کا نام تقلید آبائی رکھ کر کفار کی تقلید آبائی کے ساتھ وہ برابر کردی جائے تو تمام مسلمانوں پر یہی الزام لگ سکتا ہے کیونکہ نہ انھوں نے اپنے نبی کو دیکھا نہ ان کی باتیں سنیں نہ معجزے دیکھے بلکہ اپنے آبا و اجداد ہی سے سن کر ایمان لائے مگر جو لوگ سمجھدار ہیں وہ یہی کہیں گے کہ ہر زمانہ کے معتمد علیہ مسلمان خصوصاً اپنے آبا و اجداد جن پر اعتماد زیادہ ہوتا ہے جب ان تمام امور کی گواہی دیتے آئے تو بعد والوں کو نبوت کا یقینی علم ہوگیا اب اگر یہ تقلید بھی ہے تو ایسے امر میں ہے جو اسلام میں ضروری سمجھا گیا ہے اور جس کا وجود تواتر سے ثابت ہوگیا ہے اسی طرح مقلدین کی تقلید آبائی کا حال ہے۔