آمدِ حبیب خدا اورکونین میں اہتمامات
ماہ ر بیع الاوّل کا چاند جیسے ہی افق عالم پر نمودار ہوتاہے محافل میلاد اور اظہارِ فرحت و سرور کے مختلف ومتعدد مناسبات و اہتمامات کا عظیم تسلسل شروع ہوجاتا ہے۔ اہتمام میلاد کے جواز و عدم جواز سے قطع نظر اگر اہل اسلام خاص روز و لادت رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے موقع پر جو جواہتمامات حق تعالیٰ نے فرمائے اور جو کچھ ارہا صات و قوع پذیر ہوئے انکا بنظرانصاف جائزہ لیں تو پھر امید ہیکہ کسی مومن کے دل میں جواز میلاد پر مزید کسی دلیل کی طلب باقی نہ رہیگی ‘ کیونکہ عالم سفلی و علوی میں جو عظیم اہتمام خدائے بے نیاز نے اپنے محبوب کی اس عالم میں آمد کے موقع پر فرمایا وہ اسکے نیاز مند بندوں کیلئے اہتمام میلاد کے جواز کی بین دلیل ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ اپنی تا لیف ’’بشری الکرام فی عمل المولدوالقیام‘‘میں طلوع آفتاب کے وقت عالم کا جو خوشنمااور پر کیف و مسرت منظر ہوتا ہے اسکا ذکر کرنے کے بعدفرماتے ہیں ’’اب غور کیجئے کہ جب اجسام کے روشن کرنے والے آفتاب سے اسقدر فرحت و مسرت ہر طرف جوش زن ہو تو آفتاب روحانی کے قدوم میمنت لزوم سے کسقدر فرحت و سرور کا جو ش ہونا چاہئیے ‘‘پھر آگے اسی کتاب میں مواہب لدنیہ، شفاء او رخصائص کبری و غیرہ کے حوالہ سے بیان فرماتے ہیں ’ اس روز ملائکہ کو حکم ہواتھا کہ تمام آسمانوں اور تمام جنتوں کے دروازے کھول دیں اور زمین پر حاضر ہوجائیں چناچہ کُل ملائکہ کمال مسرت سے زمین پر اترے ‘ نیز اس روز نہر کو ثر پر ستر ہزار خوشبو کے جھاڑ نصب کئے گئے تھے جنکا ثمر اہل جنت کیلئے بخور بنایا جائیگا۔ اس واقعہ کی یادگار میں ہرآسمان پر ایک ستون زمرد کا اور ایک ستون یاقوت کا نصب کیا گیا اور شیاطین اس رات مقید کئے گئے ’ اب ارہاصات کا حال ملاحظہ کیجئے، سیرت حلبیہ میں ہیکہ نو شیرواں کا محل ایک نہایت مضبوط و مستحکم عمارت تھی جو بڑے بڑے پتھروں اور چونے سے بنائی گئی تھی اور یہ محل اپنی کشادگی ‘ بناوٹ اور مضبوطی کے لحاظ سے دنیا کے عجائبات میں سے شمار کیا جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت سے پہلے یہ محل تنکے کی طرح لرز کرپھٹ گیا اسکے بعد اسکے چودہ کنگرے ٹوٹ کر گرپڑے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بادشاہ وقت کے چودہ پشت تک سلطنت رہیگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ چودہویں پشت کے بعد ملک کسری مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ فارس کی ہزاروں سال سے مسلسل جلتی ہوئی قدیم اور مقدس سمجھی جانے والی آگ بجھ گئی جسکی وہ پرستش کیا کرتے تھے اور یہ آگ اس سے قبل کبھی بجھی نہ تھی ۔اور فارس کے تمام آتش کدے سرد پڑگئے۔ فار س کی سر زمین میں تمام چشموںکا پانی سو کھ گیا۔ دریائے ساوہ جو فارس کا مشہور دریاہے اس طرح سوکھ گیا جیسے اس میں پانی کبھی رہا ہی نہ تھا۔ اسی طرح جنوں کی آسمان پر آمد منقطع ہوگئی اور کہانت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
سال ولادت رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کا فیض :سیرت حلبیہ وغیرہ میں ہیکہ آپ کی ولادت سے پہلے قریش سخت خشک سالی اور تنگی میں مبتلا تھے لیکن جس سال آپ شکم مادر میں تشریف لائے عرب کی زمین سر سبز و شاداب ہوگئی اور درخت پھلوں سے ڈھک گئے اور اس سال قریش کو ہر طرف سے آسودگی حاصل ہوئی ۔حتی کہ انہوں نے اس سال کا نام سنۃ الفتح والابتھاج (کامیابی اور شادمانی کا سال)رکھا۔
آ پ کی ولادت پر شیطان کا غم منانا: حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ فرماتے ہیں ‘ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم رحمت مجسم ہوکر اس عالم میں تشریف لائے توکون ایسا شقی ہوگا جو رحمت سے خوش نہ ہو روایت ہیکہ تمام عالم میں اس روز ہر طرف خوشی تھی مگر شیطان کو کمال درجہ کاغم تھا جس سے زار زار روتا تھا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام اسکی یہ حالت دیکھ کر رہ نہ سکے اور ایک ایسی ٹھوکر اسکو ماری کہ عدن میں جاپڑا
لمحہ فکر : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت کے دن حق تعالے جو ہر شئے سے بے نیاز ہے فرحت و سرور کا اہتمام فرمائے اور ملائکہ اس روز خوشیاں منائیںاور آپ کے امتی اہتمام میلاد کے جواز و عدم جواز کی کج بحثیوں میں مصروف رہیں تو یہ شقاوت اور احسان فراموشی نہ ہو تو پھر کیا ہو؟

اہتمام میلاد کی شرعی حیثیت  
اہل ایما ن کی خدمت میں اہتمامات میلاد سے متعلق عرض ہیکہ یہ چند چیز وں پر مشتمل ہیں مثلاً آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت مبارکہ کی مناسبت سے کسی مقام پر لوگوں کا جمع ہونا ‘ مولود شریف پڑھنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت مبارکہ اور آپکے اوصاف وکمالات کاذکر کرنا ‘ لوگوں کوکھانا کھلانا ‘ محفل نعت اور جلوس و جلسوں کا اہتمام کرنا ‘ عید کی طرح فرحت و سرور اور خوشی منانا وغیرہ ،یہ تمام امور بلاشبہ جائز اور مستحسن ہیں اگر ان پر بدعت کا بھی اطلاق کیا جائے تو یہ بدعت حسنہ کہلائینگے جس پر یقینا اجر وثواب ملیگا کیونکہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مرتبہ کی تعظیم اورآ پ صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق و محبت کے سبب آپکی ولادت پر مسرت اور خوشی کا اظہار ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے قل بفضل اللہ و برحمتہ فبذلک فلیفرحواھوخیرممایجمعون( سورۃ یونس، آیت ۵۸)یعنی اے حبیب آپ فرمادیجئیے کہ اللہ کے فضل اور اسکی رحمت پر مومنوں کو چاہئیے کہ خو شیاں منائیں اسی طرح ارشاد ہے واما بنعمۃ ربک فحدث(سورۃ الضحی آیت ۱۱)یعنی آپ اپنے رب کی نعمت کا (خوب) تذکرہ کریں۔آ پ صلی اللہ علیہ و سلم حق تعالیٰ کا فضل اور اسکی نعمت و رحمت ہیں ،رحمت ہونا تو نص قطعی سے ثابت ہے جیسا کہ ارشاد ہے وما ارسلناک الا رحمۃ لّلعالمین ( سورۃ الانبیاء، آیت 107)یعنی اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے ،اور آپکی ذات اقدس مومنوں کیلئے افضل ترین نعمت ہے اور ایسی عظیم نعمت ہے جس پر اللہ رب العزت نے احسان جتایا۔ فرماتا ہے لقد من اللہ علی المومنین اذبعث فیھم رسولا(سورۃ آل عمران )یعنی تحقیق کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہیکہ ان میں بڑی عظمت والا رسول بھیجا۔ پس جب آپ حق تعالیٰ کی رحمت و نعمت اور اسکا فضل قرارپائے اور فضل و رحمت خداوندی پر خوشی منانے کا اور نعمت کے اظہار کا خود حق تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو پھر اسکو ناجائز کہنا کیونکر جائز ہوگا؟ اسی طرح امام بیہقی نے حضرت انس ر ضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہیکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت کے بعد اپنا عقیقہ فرمایا ‘ حالانکہ آپکے دادا جان حضرت عبدالمطلب نے آپکی پیدائش کے ساتویں دن آپکا عقیقہ کیا تھا اور عقیقہ دوبارہ نہیں ہوتا۔ تو یہ اسی پر محمول کیا جائیگا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنے کیلئے کہ اس نے آپکو رحمت للعلمین بنا کر بھیجا ہے اور امت کیلئے ولادت پاک پر شکر خدا وندی بجالانامشروع فرمانے کیلئے دوبارہ عقیقہ فرمایا‘ لھٰذا ہمیں بھی چاہئیے کہ ہم میلاد پاک میں اجتماع کرکے لوگوں کو کھانا کھلاکر اور اور جائز طریقوں سے خوشی و مسرت کا اظہار کرکے حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں۔  
شریعت میں غم منانا جائز نہیں:اب رہی یہ بات کہ جب ولادت کا بھی مہینہ یہی ہے ا وروصال کا بھی یہی ہے تو خوشی منانا غم منانے سے بہتر کیسے ہوگیا ؟تو اسکا جواب ہیکہ شریعت نے نعمت پر شکر و حمد اور مصیبت پر صبر ورضا اور اخفاء کی تلقین کی ہے یہی وجہ ہیکہ ولادت کے وقت عقیقہ کرنے کا حکم ہے کہ یہ پیدائش پر خوشی و شکر کے اظہار کا نام ہے جبکہ کسی کی موت کے وقت اظہار غم کی اجازت نہیں ہے بلکہ نوحہ کرنے کی بھی ممانعت واردہے۔
برکات اہتمام میلاد: کنزالعمال وغیرہ میں مذکور ہیکہ ابولہب کو جب ثویبہ نے جواسکی باندی تھی خبر دی کہ تمہارے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ کو لڑکا پیدا ہواہے تو اسکو اس پر مسرت خبر سے نہایت خوشی ہوئی اور اس بشارت کے صلہ میں اسکوآزاد کردیا۔ بخاری شریف وغیرہ میں ہیکہ اسکے مرنے کے بعد کسی نے (حضرت عباس  رضی اللہ عنہنے)اسکو خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا تو اس نے اپنے عذاب کا حال بیان کرکے کہا ہر دوشنبہ کی رات اس خوشی کے صلہ میں جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پید ہونے میں ہوئی تھی مجھ سے عذاب کی تخفیف ہوجاتی ہے اور میری انگلیوں سے پانی نکلتاہے جسکو چوسنے سے سکون ملتا ہے، حالانکہ یہ بات مسلمہ ہیکہ کسی کافر کی کوئی نیکی اسکے مرنے کے بعد کا م آنے والی نہیں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے میلاد کی خوشی منانے کا فیض کا فر کو قبر میں بھی نصیب ہوتا ہے ‘ عذاب میں بھی تخفیف ہوتی ہے اور سکون و راحت بھی میسر ہوتاہے پس جب ایک ازلی بدبخت جسکی مذمت میں قرآن میں ایک کامل سورۃ نازل ہے وہ میلا دشریف کی مسرت ظاہر کرنے کی وجہ سے ایک خاص قسم کی رحمت کا مستحق ہوا ہوتو خیال کیا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے امتیوں کو خوشی منانے کے صلے میں کیسی کیسی سرفرازیاں ہونگی۔
اور جو لوگ کسی دن کی تخصیص و تعیین کو ناجائز قرار دیتے ہیں یعنی جن لوگوں کے پاس کسی خاص دن میلاد کا اہتمام کرنا ناجائز ہے انکے لئے دعوت فکر ہے کہ ابو لہب نے تو ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے میلاد کی خوشیاں نہیں منائیں صرف اس خاص دن ہی فرحت و مسرت کا اظہار کیا تھا ،تو کیا حق تعالی اسے ناجائز عمل پر عذاب قبر میں رحمت سے سرفراز فرمارہا ہے؟