عبادات ماہ رمضان (فضائل و احکام)
حدیث شریف : اگر بندوں کو معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت تمنا کرے گی کہ سارا سال رمضان ہوجائے (ابن خزیمہ،بیھقی) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ آسمانوں کی امان جبرئیل علیہ السلام سے ہے ،جب تک آسمانوں میں رہیں گے آسمانوں میں امن رہے گا۔ زمین کا امان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے حضرت کی یہاں تشریف آوری کی وجہ سے زمین والے امن میں رہیں گے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا امان رمضان سے ہے جب تک یہ امت رمضان المبارک کی قدر کرتی رہے گی، اس کی تعظیم کرتی رہے گی اور اس پر عمل کرتی رہے گی وہ امن و امان میں رہیں گے(فضائل رمضان) اس ماہ مبارک کی عبادتوں کے فضائل و احکام مختصراً درج ذیل ہیں تراویح : ۱) نماز تراویح سنت مؤکدہ ہے اور اسکو جماعت سے ادا کرنا بھی مسنون ہے، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالی نے تم پر روزوں کو فرض کیا اور میں تمہارے لئے تراویح کو سنت (مؤکدہ) قرار دیتا ہوں، پس تم میں سے جو کوئی ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھا اور تراویح پڑھا تو اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح وہ اپنے پیدا ہونے کے دن تھا(نسائی) ۲)نابالغ لڑکے کے پیچھے تراویح درست نہیں، ۳)تراویح میں ایک مرتبہ قرآن مجید کا ختم کرنا سنت ہے اسے ترک نہیں کرنا چاہئیے البتہ ممکن ہو تو تین مرتبہ ختم کرنا افضل ہے، ۴)جو شخص فرض کی جماعت کے بعد حاضر ہو تو پہلے عشاء کی نماز پڑھ لے پھر تراویح کی جماعت میں شریک ہو، ۵)جو شخص فرض عشاء جماعت سے نہ پڑھا ہو تو وہ وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے، ۶)نماز تراویح کی بیس رکعتیں ہیں یہ سنت سے ثابت ہیں اور صحابہ کرام کا بھی اسی پر عمل رہا۔ روزہ : طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک عبادت کی نیت سے کھانے پینے اور جماع سے باز رہنے کا نام روزہ ہے۔ حکم : ماہ رمضان کا روزہ ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض عین ہے اسکی فرضیت کا منکر کافر اور بلاعذر ترک کرنے والا سخت گنہگار اور فاسق ہے۔ امور ذیل روزہ میں جائز ہیں: سرمہ لگانا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا یا سونگھنا، سریا بدن میں تیل لگانا، اپنا تھوک نگل لینا، کلی کے بعد منھ کی تری نگل جانا، دانتوں میں اٹکی ہوئی چیز بغیر باہر نکالے نگل جانا بشرطیکہ چنے کے دانے سے کم ہو۔مندرجہ ذیل امور سے روزہ نہیں ٹوٹتا: بھول کر کچھ کھانا یا پینا، بے اختیار حلق میں غبار یا دھواں یا مکھی چلی جائے، بے اختیار قئے ہوجائے اگرچہ منھ بھر ہو، احتلام ہوجائے، دانتوں سے خون نکل کر حلق میں پہنچ جائے مگر تھوک پر غالب نہ ہو۔ قضاء: امور ذیل سے روزہ کی قضاء لازم آتی ہے (یعنی ایک روزہ کے عوض ایک روزہ رکھنا) بھول کر کھانے اور پینے سے یا احتلام ہونے پر یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا ہوگا قصدا کھانا یا پینا، کلی کرتے وقت یا غوطہ لگاتے وقت بے اختیار حلق میں پانی اترجانا، ناس لینا، قصدا منھ بھر کے قئے کرنا، رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھانا، آفتاب غروب ہونے سے قبل غروب ہونے کے گمان پر افطار کرنا، آنسو یا پسینے کے قطروں کا اس قدر منہ میں چلا جانا کہ انکی نمکینی تمام منھ میں محسوس ہو، دھواں سونگھنا، دانتوں میں اٹکی ہوئی چیز کا زبان سے نکال کر نگل جانا جبکہ وہ چنے کے برابر یا اس سے زائد ہو یا چنے سے کچھ کم ہو مگر منہ سے باہر نکال کر پھر کھالینا، کسی دواء کا پیٹ یا دماغ تک پہنچ جانا۔ اعتکاف: مسجد میں عبادت کی نیت کے ساتھ ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے حدیث شریف میں ہے’ جس نے رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرلیا تو گویا اس نے دو حج اور عمرے کئے‘(بیھقی) ماہ رمضان کا اعتکاف سنت مؤکدہ کفایہ ہے یعنی محلہ کا ایک شخص بھی اعتکاف کرلے تو سب کے ذمہ سے ادا ہوجاتا ہے اور اگر ایک فرد بھی نہ کرے تو سارے گنہگار ہونگے اور اس اعتکاف کی مدت ایک عشرہ ہے یعنی بیس رمضان کی شام کو غروب آفتاب سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہوجائے پھر عید کا چاند ہونے کے بعد نکل جائے اور اس اعتکاف میں روزہ رکھنا شرط ہے البتہ مستحب اعتکاف میں نہ تو روزہ شرط ہے اور نہ ہی اسکی کوئی مقدار مقرر ہے، جب بھی مسجد میں داخل ہوں اعتکاف کی نیت کرلی جائے تو ثواب حاصل ہوجائیگا۔ صدقۂ فطر :۱) صدقۂ فطر ہر ایسے مسلمان پر واجب ہے جو آزاد ہو اور کسی ایسے نصاب کا مالک ہو جو اصلی حاجت سے زائد ہو، ۲)صدقۂ فطر ہر مالک نصاب پر واجب ہے خواہ وہ روزہ رکھے یا کسی عذر کی وجہ سے نہ رکھے ۳) صدقۂ فطر پر زکوۃ کے مال کی طرح سال گزرنا یا صاحب مال کا عاقل و بالغ ہونا شرط نہیں حتی کہ نابالغ بچوں اور مجنونوں کے سرپرست حضرات پر واجب ہے کہ انکی جانب سے صدقۂ فطر ادا کریں۔ البتہ بالغ اولاد کی طرف سے قدقۂ فطر ادا کرنا ماں باپ پر واجب نہیں،۴) صدقۂ فطر عید الفطر کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی واجب ہوجاتا ہے پس عید کے دن صبح صادق سے پہلے جو بچہ پیدا ہو اسکی جانب سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے، ۵)عید الفطر کی نماز کیلئے عیدگاہ کو جانے سے قبل صدقۂ فطر ادا کرنا مستحب ہے نماز کے بعد بھی ادا کرے تو جائز ہے اور جب تک ادا نہ کرے برابر واجب الاداء رہے گا، ۶)صدقۂ فطر کی مقدار اگر گیہوں ہو تو آدھا صاع اور اگر جو ہو تو ایک صاعایک فرد کی جانب سے دیا جانا چاہئے، آدھا صاع سوا کیلو کا ہوتا ہے (فتاوی نظامیہ) اور افضل یہ ہے کہ انکی قیمت دی جائے،۷)صدقۂ فطر انہی لوگوں کو دینا چاہئے جن کو زکوۃ دے سکتے ہیں اور جنہیں زکوۃ نہیں دی جاسکتی انہیں صدقۂ فطر بھی نہیں دیا جاسکتا۔ (ماخوذ:اہل خدمات شرعیہ)