محدث دکن حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ
محدث دکن ابو الحسنات حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی نے جمعہ 10! ذی الحجہ1292 ہجری اس خاکدان عالم میں قدم رکھا یہ وہ دن ہے جس دن حجاج کرام کعبۃ اللہ میں جمع ہوتے ہیں اور طواف کعبہ میں سرگرداں رہتے ہیں گویاآپ آفتاب ولایت بن کر عرفات کا پیغام لے کر تولد ہوئے ۔
آپ کے جد اعلیٰ بلد الحرام مکہ مکرمہ سے بعہد عادل شاہی ارضِ ہندوستان پر قدم رنجہ ہوئے اور فرمان شاہی میں نلدرگ (مہاراشٹرا ) میں فروکش رہ کر امور دینیہ اسلامیہ کی سرپرستی فرمائی ۔ حضرت ابو الحسنات کے والد گرامی حضرت پیر سید مظفر حسین نقشبندی رحمہ اللہ نے حکومت آصفیہ کے زمانہ میں حیدرآباد منتقل ہوکر یہیں قیام پسند کیا ۔ خدا رسیدہ بزرگ حضرت شہزادہ قادری رحمہ اللہ کی صاحبزادی آپ کی والدہ محترمہ ہیں ۔آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ ، کی جانب سے 40 ویں پشت میں اور 44 واسطوں سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ،سے ملتا ہے اس طرح آپ نجیب الطرفین سادات ہیں۔
یہ عجیب اتفاق ہے کہ عالم اسلا م کی مشہور دانش گاہ ازہر ہند جامعہ نظامیہ اسلامیہ کا 1292 ہجری میں سنگ بنیاد رکھا جارہا تھا حضرت ابو الحسنات بھی اسی سنہ 1292ھ میں پیدا ہوئے ، والدین نے آپ کا نام سید عبد اللہ رکھا ، ابو الحسنات آپ کی کنیت ہے مسلکا حنفی اہل سنت وجماعت ، مشرباً نقشبندی ہیں، ہجر رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم میں ہمیشہ بے چین وبے قرار رہنے والے بزرگ حضرت عاقبت شاہ رحمہ اللہ نے آپ کی تسمیہ خوانی پڑھائی۔اس کے بعد تحصیلِ علم اور تربیتِ ذات کا مرحلہ شروع ہوا۔دکن کی مردم خیز اور علم پرور زمین میں اس وقت ایسے اساتذہ وامام الفنون موجود تھے جو علوم شریعت وطریقت کے ہر شعبہ میں کمال دستگاہ کے حامل تھے ۔حضرت ابو الحسنات علیہ الرحمہ نے جن اساتذہ کرام سے ظاہری وباطنی علوم حاصل فرمائے ان میں شیخ العرب والعجم پیر طریقت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اجل شیخ الاسلام حضرت العلام ابوالبرکات حافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمۃ والرضوان بانی جامعہ نظامیہ کے علاوہ شیخ المعقولات حضرت مولانا منصور علی خاں شیخ الحدیث حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ سہارنپوری خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ،ان اکابرین کے علاوہ آپ نے دیگراساتذہ سے بھی اکتساب علم وفن کیا ۔
حضرت ابو الحسنات نے جس عہد میں تعلیم حاصل فرمائی اس وقت مدارس ومکاتب کی کثرت کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے تحت درس وتدریس کا معروف طریقہ یہ تھا کہ مختلف علوم وفنون کیلئے انفرادی تدریسی مراکز قائم تھے ۔حضرت انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمۃ کا بھی ایک خصوصی حلقہ درس قائم تھا جہاں ملک وبیرون ملک کے طالبان علم سیراب ہونے کیلئے جوق در جوق چلے آتے ،اسی حلقہ درس سے حضرت ابو الحسنات نے بھی خوب خوب استفادہ علمی کیا، در حقیقت یہی وہ حلقۂ درس ہے جو بعد میں چل کر ایک عظیم دانش گاہ’’ جامعہ نظامیہ‘‘ کے قیا م کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ حضرت مفتی محمد رکن الدین علیہ الرحمہ کے مطابق حضرت شیخ الاسلام کے اسی فیضان علمی کو باضابطہ وباقاعدہ شکل دینے کیلئے 1292ہجری میںجامعہ نظامیہ کی تاسیس عمل میں آئی اور سارے علماء ومشائخ نے بالاتفاق آپ کو امام العصر تسلیم کرکے جامعہ نظامیہ کی تمام تر تعلیم وتنظیم آپ کے سپرد وحوالہ کردی ۔
علو م ظاہری کی تحصیل وتکمیل کے بعد آپ علوم باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور نقشبندیہ سلسلہ کے مشہوربزرگ پیر طریقت حضرت شاہ سعد اللہ رحمہ اللہ کے خلیفہ حضرت پیر سید محمد بخاری شاہ صاحب رحمہ اللہ سے رجوع ہوکر اکتساب طریقت اور فیض حاصل کیا ۔ 
حضرت پیربخاری شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دریائے معرفت کے غواص تھے۔آپ حیدرآباد کے محلہ سعیدآباد میں قیام پذیر تھے حسینی علم سے حضرت ابو الحسنات بپابندی اپنے پیر کی خدمت میں حاضری دیتے ، درحقیقت پیر بخاری شاہ صاحب کی بارگاہ وہ سینائے مقدس تھی جو حضرت ابوالحسنات کیلئے تجلّی گاہِ ایمن بنی ہوئی تھی ،عدیم المثال حاضری نے آپ کے ہر روز. کو روز عید اور ہر شب کو شب برات بنا دیا تھا۔ آپ کے سوانح نگاروں کا بیان ہے کہ آپ کے مراقبہ کو دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غار حرا میں مراقب ہونے کا تصور سامنے آجاتا تھا ۔ آپ کا مشرب بہت وسیع اور بے مثال تھا ۔خود کو پس پردہ رکھ کر حق کو ظاہر کرنے کا وصف آپ میں بدرجہ اتم موجود تھا ۔جو کرامات آپ سے ظاہر ہوئیں وہ من اللہ ظاہر ہوئیں۔تصرفات آپ کے ہاں محمود تھے مقصود نہیں ،آپ کی گریہ وزاری میں بڑی دلسوزی تھی جس سے شقی القلب بھی رقیق القلب ہوجاتا ،آپ اپنی دعاؤں میں اکثر یہ الفاظ فرماتے ،
’’اے بار الہا تیرے معصوم بندے اس عاجز کو اپنا شیخ جان کر تیری درگاہ میں دعا کی درخواست کرتے ہیں اے اللہ تو میری لاج رکھ لے اور ان سبھوں کی دعا قبول فرمااور نہیں بامراد فرما ۔‘‘
آپ کا وعظ حکمت وموعظت کا بہترین نمونہ ہوتا ، نجی مسائل کے حل میں بھی آپ کی گفتگو بڑی تسلی بخش ہوتی۔قدرت نے آپ کو زبان وبیان کے ساتھ قلم کی قوت سے بھی سرفراز فرمایا تھا ،آپ کے تصنیفات وتالیفات وملفوظات از ابتداء تا انتہاء اپنے موضوعات وعنوانات کے لحاظ سے منفرد سند کا درجہ رکھتے ہیں ، قرآن وحدیث، اقوال صحابہ، تشریحات تابعین،توضیحات تبع تابعین ،اجتہادات مجتہدین وعرفانیاتِ سالکین ،نگارشات مؤرخین سے بھری ہوئی ہیں۔ کُن فیکون سے پہلے کی حقیقتوں کو واضح انداز میں سمجھانے والا ’’ میلاد نامہ ‘‘ یہودونصاری کے جسمانی معراج کے ہرگمان کی نفی وتردید میں ’’معراج نامہ‘‘ احوال یوم آخرت سے آگاہ کرنے والا ’’ قیامت نامہ‘‘ منزل معرفت کے درمیان پیش آنے والے ہر مرحلہ کی بلا تمثیل تشریح ’’یوسف نامہ ‘‘ معراج المومنین کی سیر حاصل تفصیل ’’ فضائل نماز ‘‘ زمینِ دل کو گل وگلزار بنانے کیلئے ’’ گلزارِ اولیائ‘‘ روحانی راہ میں رکاوٹ بننے والی بیماریوں کیلئے ’’ علاج السالکین ‘‘ خدا اور رسول سے قریب ہونے کیلئے ’’ کتاب المحبت‘‘ ایک انسان کے شب وروز کواسوۂ حسنہ میں ڈھالنے ’’ مواعظ حسنہ‘‘ سرورکائنات علیہ التحیۃ سے شرف ہمکلامی کیلئے ’’زجاجۃ المصابیح ‘‘ (پانچ جلدوں میں) تصنیف فرمائیں ۔ 
یہ تصنیفات ایک جامعہ کا درجہ رکھتی ہیں، بالخصوص زجاجۃ المصابیح کو حضرت ابو الحسنات علیہ الرحمہ کی زندگی کا شاہکار کہا جاسکتا ہے،مسلک امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو احادیث کی روشنی میںپاےۂ ثبوت تک پہونچانا قدرت نے آپ کے حصہ میں رکھا تھا جس کے ذریعہ آپ کو حضور فخر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہوئی اس کتاب کو تصنیف کرکے آپ نے بقول عبد الماجد دریا بادی احناف کے سر سے صدیوں کا قرض اتار دیا ۔ اور افغانستان کے فقیہ اعظم علامہ شیخ ابو نصر محمد اعظم ھروی نے دیکھا تو فرمایا کہ ’’ یہ صحیح ترین احادیث کا منبع اور بحر ذخار ہے جو میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور وسعت قلب وانشراح صدر کا موجب ثابت ہو رہی ہیں اللہ تعالی مؤلف کو اور اشاعت میںمدد کرنے والوں کو جزاء خیر مرحمت عطافرمائے ‘‘۔ ملک شام (سیریا) کے عالمی شہرت یافتہ عالم جلیل الشیخ عبد الفتاح ابو غدہ کا کہنا ہے کہ ’’ بیت اللہ شریف کی گرانقدر منفعتوں میں ایک زجاجۃ المصابیح ہے جس کی وجہ سے میری بصارت اور بصیرت دونوں روشن ہوگئے‘‘۔ 
دربانبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبولیت : 
حضرت محدث دکن کا یہ عظیم کارنامہ تائید غیبی کا نتیجہ ہے جس کا اظہار خود آپ نے اپنی کتاب کی ابتداء میں اس طرح فرمایا۔
’’جب خطیب تبریزی نے مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق احادیث کو جمع فرمایاتو میر ے دل میں باربار یہ خیال آتاکہ میں مشکوٰۃ ہی کے طرز پر ایک ایسی کتاب تالیف کروں جس میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ والرضوان کے مسلک کے مطابق احادیث جمع کروں مگر میری تنگ دامنی مجھے اس کام کے انجام دینے سے روک رہی تھی یہاں تک کہ میں نے خواب میں شمس الضحی وبدرالدجی ونورالہدی ومصباح الظلم ہمارے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جلوہ گردیکھا اور سلام فرمایا تومیں نے بھی سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحی فداہ نے مجھے اپنے اس سینے سے چمٹایا جو علم وحکمتوں کا منبع ہے مجھے کوگلے لگایا جب میں نیند سے شاداں وفرحاں بیدارہوا تواس نعمت پر میں اللہ کی حمد بجالایااوراس کا شکر ادا کیا یہ مبارک خواب میر ے سینے کے انشراح کا سبب بن گیا جس کی برکت سے اس کی تنگی کشادگی سے تبدیل ہوگئی، اورمیںنے اس کی تالیف کا پختہ ارادہ کرلیا اور اس کے لئے اپنی کمرکس لی اور اس کتاب میں جو بھی حدیث لکھا ہر حدیث کے تحریر کے وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف پڑھا اور میں نے اس کا نام ’’زجاجۃ المصابیح‘‘ رکھا ۔(4)
زجاجۃ المصابیح کی پانچوں جلدیں جو تقریباً ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل ہیں، اس کی تکمیل ہوئی ، عدم سرمایہ کی وجہ سے اس کی طباعت تین سال کے بعد ہوئی اس وقت آصفی سلطنت باقی تھی، حضرت محدث دکن کی متو کلانہ طبیعت کسی عہد یدار سے اس کتاب کی اشاعت کے لئے سرمایہ طلب کرنے پر راضی نہیں تھی بفحوائے۔
مردے ازغیب بروں آیدوکارے بکند
(غیب سے کوئی شخص نمودار ہوگا اورکان انجام دے گا)
حضرت کے ایک مرید جناب عبدالرزاق صاحب گتہ دار بیڑ (مہارشٹرا) حسب معمول ذکرالہی میں تھے، مکاشفہ میں انہوںنے دیکھا کہ پیرومرشد قدس سرہ نور کے ایک ہال میں گھرے ہوئے ہیں لیکن اس نور کو پھیلنے کا راستہ نہیں ہے وہ بہت حیران ہوئے کہ کیا ماجرا ہے، انہوںنے اپنے اس وارد کو حضرت علیہ الرحمہ کے ایک شاگرد جناب حکیم محمد صابر صاحب لکچرر عربی اور نگ آباد کالج سے ذکرکیا انہوں نے بتایا حاجی صاحب آپ کا مکاشفہ بالکل صحیح ہے حضرت پیر و مرشد نے تاجدارمدینہ سرورقلب وسینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی ارشادات یعنی احادیث شریفہ پر مشتمل ایک ضخیم کتاب تالیف فرمائی ہے۔ جو سراسر نورہی نور ہیں اورراستہ یو ں بند ہے کہ حضرت کے پاس اس کی اشاعت کے لئے کوئی سرمایہ نہیں ہے تم راستہ نکالو اور ثواب دارین حاصل کرو۔ چنانچہ موصوف نے تخمینہ مصارف کے بعد آٹھ ہزار روپئے کی خطیر رقم حضرت علیہ الرحمہ کی خدمت میں روانہ فرمائی اور طباعت کا کام شروع ہوگیا اور 1953ء سے1960ء تک زجاجۃ المصابیح کی پانچوں جلدیں زیور طباعت سے آراستہ ہوگئیں اور اس کتاب کا دوسرا ایڈ یشن کوئٹہ (پاکستان ) سے 1991ء میں شائع ہوا ۔(5)
ضرورت تالیف:۔
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ صحاح ستہ اور متعدد کتب حدیث خصوصاً طحاوی شریف کے بعد زجاجۃ المصابیح کی ضرورت کیوں پیش آئی تو یہی سوال مشکوٰۃ المصابیح کی تالیف سے بھی متعلق ہوگا، جو جواب مشکوٰۃ کے متعلق ہوگا وہی جواب زجاجۃ کے بارے میں ہوگا ، مشکوٰۃ المصابیح کی تالیف کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ مذکورہ کتب حدیث میں صرف صاحب کتاب کی سند سے مروی شدہ روایات ہی ہوں گی کسی عنوان کے متعلق جامع معلومات کے لئے ساری کتابوں کے ابواب دیکھنا ہر ایک کے لئے ایک دشوار امر ہے، اس لئے صاحب مشکوٰۃ نے استفاد ہ کے سہولت کی خاطر صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے احادیث کو جمع کیا ، چونکہ صاحب مشکوٰۃ شافعی تھے۔ اس لئے اختلافی مقامات میں وہی احادیث درج کی ہیں جن سے حضرات شافعیہ استدلال کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر زمانے میں یہ ضرورت بڑ ی شدت کے ساتھ محسوس کی گئی کہ مشکوٰۃ کے طرز پر ایک کتاب ایسی ہو جو ان روایات پر مشتمل ہوجن سے احناف کے مسلک کی تائید ہوتی ہو۔ مشکوٰۃ کی تالیف کے بعد سات سوبرس سے یہ قرض جو علماء احناف پر تھا اس کو محدث دکن حضرت عبداللہ شاہ صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نے ادا فرمایا۔ جیسا کہ مولانا عبدالماجد دریابادی نے اعتراف کیا ہے کہ
’’اس میں قطعاً اختلاف نہیں ہے کہ ایسی کتاب علماء احناف ایک ہزار سال سے نہیں لکھ سکے ہیں‘‘۔ 
خصوصاً دور حاضر میں اس کتاب کی اشد ضرورت تھی۔ جبکہ ایک جماعت جو حدیث پر عمل کرنے کا دعوی کرتی ہے ، جو حدیث فہمی سے کوسوں دور ہے اور جو اپنی غلط فہمی اور نادانی سے یہ پرو پگنڈہ کرتی ہے کہ احناف قیاس اور رائے پر عمل کرتے ہیں اس کا حدیث سے واسطہ نہیں ۔ زجاجۃ المصابیح ان کے اس پروپگنڈ ہ کا قلع قمع کرتی ہے، جو کوئی انصاف پسند حضرت محدث دکن کی اس جمع کردہ احادیث کے مجموعے اور تحقیقات کو دیکھے گا یہ کہہ اٹھے گا احناف کے مسلک کی تائید جس قدر احادیث سے ہوتی ہے ، اور کسی مسلک کی نہیں حضرات حنفیہ سے زیادہ اور کسی کو حدیث پر اہتمام عمل نہیں ہے فقہ حنفیہ کا ایک ایک جزئیہ حدیث نبوی سے مسنتیرہے حضرت امام صاحب کاقول حدیث کے علاوہ کسی نہ کسی صحابی یا تابعی کے قول سے ماخوذ ہے۔ 
فنی خصوصیات:۔
زجاجۃالمصابیح علم حدیث کا ایک روشن مینارہ ہے، اور احادیث نبویہ کے ذخیرہ میں قابل قدر اضافہ ہے اور خصوصاً احناف کے لئے یہ کتاب دلیل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ 
یہ (29) کتابوں (مثلا کتاب ، کتب الطہارۃ اور کتاب الصلوۃ وغیرہ ) اور327 ابواب پرمشتمل ہے۔ 
’’زجاجۃ المصابیح‘‘ میں مشکوٰۃ المصابیح کی طرح علوم حدیث کے مختلف مضامین عقائد ، احکام ، آداب اور مناقب وغیرہ کو جمع کیا گیا ہے اور صحاح ستہ کے علاوہ موطا امام مالک وموطا امام محمد مسند امام احمد و دارمی جو طبرانی ودارقطنی و بیہقی و مصنف ابن ابی شیبہ وشرح معانی الآثار وغیرہ متعدد کتب حدیث جو چراغوں کی طرح روشن ہیں ۔ جن کی روشنی اس زجاجۃ سے نکھر رہی ہے اور یہ احادیث مقدسہ کا حسین گلدستہ ہے جس سے دماغ ایمان معطر ہوجاتاہے۔ 
مشکوٰۃ میں ایک مسئلہ کے متعلق احادیث تین فصلوں میں منتشر تھیں جس سے پڑھنے والے میں ایک تو کیفیت تسلسل کا برقرار رہنا اور دوسرے مسائل کا بیک نظر تلاش کرنا دشوار تھا، اس لئے حضرت محدث دکن نے ہر مسئلہ کے متعلقہ احادیث کوبلالحاظ فصل یکجا کیا ہے۔ جیسا کہ صاحب مشکوٰۃ نے کتاب الاطعمۃ میں سب سے پہلی حدیث بسم اللہ پڑھنے اور کھانے کے دوران آداب سے متعلق حدیث لائی اور صاحب زجاجۃ نے سب سے پہلی حدیث کھانے پر بیٹھنے سے قبل جس ادب کو ملحوظ رکھا جائے جیسے ’’ہاتھ دھونا‘‘ لائی ہے اور یہی روایت صاحب مشکوٰۃ نے دوسری فصل میں بیان کیاہے۔ کیونکہ صاحب مشکوٰۃ کے پیش نظر بیان احادیث میں بخاری ومسلم ودیگر کتب کی ترتیب ہے اور صاحب زجاجۃ کے پیش نظر مسائل کی ترتیب ہے اس لئے زجاجۃ المصابیح کی ترتیب میں انتہائی معقولیت اورسہولت نظر آتی ہے۔
قارئینِ زجاجۃ اس خصوصیت کو نمایاں پائیں گے کہ ہر باب میں اس سے کلی مطابقت رکھنے والی حدیث کو مقدم رکھا اور مسائل کی تمام روایات درجہ صحت وحسن سے کم نہیں ہے۔ حضرت محمد خواجہ شریف صاحب قبلہ شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے نور المصابیح جلددہم کے ابتداء میں بیان فرمایا، 
’’اصل بات یہ کہ حدیث شریف میں ضعف، سند اور رواۃ کی عدالت وضبط میں کسی طعن کی وجہ سے ہے اور یہ بُعد زمانہ کے ساتھ بڑھتاگیا لیکن ائمہ مجتہدین بالخصوص ان میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا دور خیرالقرون ہے۔ اسی لئے امام صاحب کی مستدل احادیث شریفہ سب صحاح کے مرتبہ میں ہیں‘‘۔ (6)
اصحاب صحاح ستہ اور دیگر مشہور محدثین کرام میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی طریقہ سے حضرت امام اعظم کے تلامذہ یا تلامذہ کے تلامذہ سے علم حدیث میں استفادہ کیا ہے اورباقاعدہ ان کی شاگردی اختیار کی ہے، اس کی تفصیل حضرت شیخ الاسلام علامہ مولانا محمد انواراللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمہ کی تصنیف ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ میں ملاظہ کیجئے، امام صاحب کے مستدلہ مسائل سے متعلق احادیث میں قرب زبان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ضعیف کا احتمال کم ہے ، مذکورہ محدثین کا زمانہ امام صاحب کے بہت بعد کاہے، مثلاً حضرت امام صاحب کی پیدائش 80ھ میں ہوئی اور حضرت امام بخاری کی پیدائش 194ھ میں ہوئی حضرت امام بخاری حضرت امام صاحب سے ۱۱۴سال چھوٹے اور امام مسلم ۱۲۴ سال چھوٹے ہیں۔ 
فقہ حنفی کے مخالفین اگر ٹھنڈ ے دل سے زجاجۃ المصابیح کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوجائے گاکہ فقہ حنفی کا ہرمسئلہ صحیح احادیث سے ماخوذ ہے۔ مسئلہ عدم قراء ت خلف الامام اور رفع یدین وغیرہ سے متعلق زجاجۃالمصابیح میں موجود احادیث شریفہ کے متعلق جو تحقیق حضرت شیخ الحدیث مولانا خواجہ شریف صاحب قبلہ نے اپنی کتاب ’’امام اعظم امام المحدثین ‘‘ میں فرمائی ، اس کا اقتباس درج ذیل ہے۔
’’ امام کے پیچھے قراء ت کرنے کی کوئی بھی حدیث بخاری شریف میں نہیں ہے اس میں صرف یہ ہے کہ جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں یہ حکم تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے ہے۔ مسلم شریف میں ’’لا قراء ۃ مع الامام فی شئی ‘‘ (امام کے ساتھ نماز کے کسی حصہ میں تلاوت نہیں)کے صاف صاف الفاظ ہیں احادیث کریمہ سے یہ ثابت ہے کہ آیت کریم ’’فاستمعوالہ وانصتوا ‘‘(جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور خاموش رہو)امام کی قراء ت کے وقت مقتدی کو خاموش رہنے سے متعلق ہے‘‘ (روایات زجاجۃ میں ملاحظہ فرمائیے) صحاح ستہ میں اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں حضرت محدث دکن نے اس سلسلہ میں زجاجۃ المصابیح میں جو احادیث جمع فرمائیں انکا اجمالی خاکہ ملاحظہ فرمائے۔ 
امام کے پیچھے قرأ ت نہ کرنے کے متعلق احادیث 
صحابہ کی تعداد جن سے یہ حدیثیں نقل کی گئیں (17) 
کتابوں کی تعداد جن سے احادیث لی گئیں (26)
قراء ت نہ کرنے کے متعلق جملہ احادیث (104)
رفعِ یدین صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت کیاجائے
صحابہ کی تعداد جن سے یہ احادیث نقل کی گئیں (5)
وہ محدثین جن سے یہ احادیث لی گئیں (14) 
جملہ احادیث (29)
نماز میں آمین آہستہ کہنے کے متعلق زجاجۃ المصابیح میں جملہ ۱۲ احادیث نقل کی گئیں ۔ حضرت شیخ الحدیث صاحب قبلہ نے بالکل حق فرمایا:
’’ زجاجۃ المصابیح کو پڑھنے کے بعد بھی اگر کوئی فقہ حنفی کے بارے میں لب کشائی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ فقہ احادیث شریفہ کے مطابق نہیں ہے تو یہ اس کی کم فہمی یاعناد کے سواء کچھ نہیں۔ اللہ ھوالموفق‘‘۔ (7)
حضرت محدث دکن نے ہر بڑے باب کی ابتداء قرآن مجید کی آیات سے فرمائی۔ ابواب سے بالکل متعلق آیات کے انتخاب سے آپ کی قرآن مجید پر گہر ی نظر اور استنباط کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ مثلا ’’باب مایقرا بعد التکبیر‘‘ (نماز کی تکبیرتحریمہ کے بعد کیا پڑھاجائے) کی ابتداء اس آیت سے فرمائی ’’وسبح بحمد ربک حین تقوم‘‘ (اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرو جبکہ تم کھڑے ہو) تکبیر کے بعد ثناء (سبحنک اللھم وبحمدک الخ) کا پڑھنا بالکل اس آیت پر عمل کرناہے۔ 
حضرت محدث دکن کا علمی تبحر اوراس کی وسعت زجاجۃ کے حاشیہ سے ظاہر ہے ۔ او ریہ حواشی تقریباً ۱۰۵سے زائد مصادر سے ماخوذ ہیں۔ 
شرح میں سطحی اقوال کو نہیں بیان فرمایا بلکہ انتہائی مفید اصول تحریر فرمائے جس کے مطالعے سے ایک طالب علم حدیث کی بصیرت میں خوب اضافہ ہوتاہے۔ جس کی ایک مثال یہاں دی جاتی ہے۔ 
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے صبح کی ایک رکعت سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پالی اس نے صبح کی نماز پالی الخ شوافع اس سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نماز فجر کے دوران سور ج کے طلوع ہونے سے نماز باطل نہیں ہوتی اور احناف کے پاس نماز نہیں ہوتی صاحب زجاجہ اس حدیث کے اصل مفہوم کو اورنماز کے نہ ہونے سے مختلف روایات کو پیش کرتے ہوئے علامہ عینی کے اس قول کو پیش فرمایا کہ ’’جبکہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کی ممانعت سے متعلق کیثر احادیث منقول ہیں ، اباحت صلوٰۃ کے مقابلہ میں نہی کی روایات کا متواتر ہو نا اس کے منسوخ ہو نے کی دلیل ہے‘‘۔ 
صاحب زجاجہ نے اس کے حاشیے میں نسخ کے متعلق ایک ایسا قاعدہ نقل فرمایا جو مختلف مسائل میں ایک جامع اصول کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ تحریر فرمایا۔
نسخ کی حقیقت یہ ہیکہ اس مقام میں محرم (حرمت والی حدیث) ومبیح (جوازوالی حدیث) دونوں جمع ہوگئے او ریہ قاعدہ مشہور ہیکہ محرم و مبیح دونوں جمع ہو جائیں تو عمل محرم (حرمت والی روایت ) پر ہوگا اور مبیح (جواز ) منسوخ سمجھا جائیگا کیونکہ ناسخ کا حکم آخر میں ہوا کرتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ حرمت والا حکم جواز کے بعد ہوا کرتا ہے ، کیونکہ اصل اشیاء میںاباحت ہے(یعنی ہر شی جائز ہے جبتک کہ منع وارد نہ ہو) اور تحریم (اباحت کے بعد) عارض آنے والی شئی ہے او راسکا عکس نہیں ہو سکتا کیونکہ اس صورت میں دومرتبہ نسخ لاز م آجائیگا۔(8)
کتاب کے اصل متن میں اختلافی مسائل کے سلسلہ میں ایسی مفید باتوں کو نقل فرمایا جن سے واقفیت ہر طالب علم حدیث کے لئے ضروری ہے۔ اخیر قعدہ میں تشہد کے اختتام پر حدث ہونے سے نماز کے اعادہ کی ضرورت نہ ہو نے پر حضرت نے ابوداؤد،و ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث سے مرفوع حدیث نقل کرکے تحریر فرمایا۔ 
ابوداؤد نے اس حدیث کے بارے میں سکوت فرمایا اور وہ جب کسی حدیث پر سکوت فرماتے ہیں تو وہ ان کے پاس حسن یا صحیح ہوتی ہے او رترمذی یہ کہہ چکے ہیں کہ ہر وہ روایت جس کو میں نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے جحت ہے ، سوائے چار احادیث کے اور یہ حدیث اس میں نہیں ’’کذافی الشعایۃ ‘‘۔(9)
جب محدثین کسی حدیث کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ صحیح نہیں ہے تو علم حدیث سے ناواقف یہ سمجھتے ہے کہ یہ ضعیف ہے اس بات کا رد کرتے ہوئے ،حضرت محدث دکن نے مذکورہ مسئلہ ہی کے ضمن میں ترمذی کی ایک روایت کردہ حدیث کی شرح میں فرمایا۔ 
’’ملاعلی قاری نے فرمایا اس حدیث کے او ربھی طرق ہیں جن کو طحاوی نے ذکرکیا ہے۔ کثرتِ طُرق، ضعیف حدیث کو درجہ حسن میں پہنچا دیتے ہیں۔ ابن ہمام نے کہا ہے کہ کسی حدیث کے بارے میں کسی کا یہ کہنا کہ ’’یہ صحیح نہیںہے‘‘ اگر اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو باعث عیب نہیں کونکہ حجت صحت پر ہی موقوف نہیں بلکہ حسن بھی کافی یہ (صحیح کی نفی سے ضعیف ہو نا لازم نہیں آتاحسن بھی ہو سکتی ہے)۔(10)
حضرت امام اعظم علیہ الرحمہ کے مسلک کی حقانیت آپ کی سطرسطر سے نمایاںہے ۔ حضرت امام صاحب کی فضیلت میں اس حدیث کے تحت ایک اہم نکتہ ملاحظہ فرمائیے۔ 
حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’انااکثرھم تابعایوم القیامۃ ‘‘ (متفق علیہ) (قیامت کے دن سارے انبیاء میں میر ے متبعین زیادہ ہوںگے) ۔ اس حدیث میں اس بات کا ثبوت سے کہ متبعین کی کثرت متبوع (جس کی اطاعت کی جاتی ہے)کی افضیلت کو بتاتی ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کو (ائمہ میں باعتبار عظمت ) عظیم وافرحصہ حاصل ہے کیونکہ اکثر اہل اسلام فروعی احکام میں آپ ہی کے متبعین ہیں۔ (۱۱)
جہاں احادیث شریفہ میں عظمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مضمون آتا ہے حضرت محدث دکن کا قلب مبارک حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوجاتا ہے۔ جو ایمان کی کسوٹی ہے۔ اور آپ کا قلم ایسی ایسی ایمان افروز باتوں کو نقل کرتا ہے جن سے دماغ معطر ہو جاتاہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ’’واناحبیب اللہ ولافخرالخ‘‘ (میں اللہ کا حبیب ہوں اس پر فخر نہیں کرتا) کی شرح میں رقمطرازہیں۔ 
’’ خلیل اور حبیب میںفرق یہ ہے کہ خلیل خلّت سے مشتق ہے جس کے معنی حاجت کے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور حبیب ’’فعیل ‘‘ کے وزن پر فاعل اور مفعول دونوں معنی میں آتا ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محب اور محبوب ہیں خلیل وہ محب ہے جو اپنے محبوب کو اپنی حاجت کی وجہ سے چاہتا ہے او رحبیب بغیر کسی غرض سے چاہنے والا ہو تاہے۔ اور اس کا حاصل یہ ہیکہ خلیل مرید سالک وطالب کے درجہ میں ہوتا اور حبیب مراد ومجذوب اور مطلوب کے درجہ میں ہوتاہے۔ اسی وجہ سے خلیل کا فعل اللہ کی رضاکے لئے ہوتا ہے۔ اور حبیب وہ ہے، اللہ کا فعل اس کی رضاکے لئے ہوتاہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے’’ فلنولینک قبلۃ ترضھا‘‘ (ہم ضرور ضرور تمہیں اس قبلہ کی طرف پھردیں گے جس میں تمہاری رضاہے)’’ولسوف یعطیک ربک فترضی‘‘ (تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ راضی ہوجاؤ گے) خلیل وہ ہے جس کی مغفرت حدطمع میں ہو جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا’’ والذی اطمع ان یغفرلی ‘‘ اور حبیب وہ جس کی مغفرت مرتبہ یقین میں ہوجیسا کہ رب نے حبیب سے فرمایا’’ لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر ‘‘ اور خلیل یہ کہے ’’رب اجعل لی لسان صدق فی الاخرین‘‘ (اے میررب میر ا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں کردے) اور رب تعالی حبیب سے یہ کہے’’ورفعنالک ذکر‘‘ (ہم نے آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند کیا)اور رب نے حبیب سے فرمایا ’’انا اعطینک الکوثر‘‘ (بیشک ہم نے آپ کو خیر کثیر عطافرمایا) ۔(12)
جہاں حضرت محدث دکن نے اختلافی مسائل میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے مسلک کو سب سے بڑ ھ کر احادیث سے قریب ثابت فرمایا ہے ، وہیں مسلک اہل سنت والجماعت کے عقائد کے اثبات میں کوئی کسر نہیں رکھی ، آپ کا نفیس تعلیقات کا انتخاب آپ کے مسلک حق کی حفاظت پر دلالت کرتاہے جس کی چند مثالیں درج ذیل سطورمیں ملاحظہ فرمائیے ۔
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ آپ نے فرمایا میں حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا اور ہم اس کے اطراف واکناف کے ایک حصہ میں نکلے توجس کسی پہاڑی یا درخت کا سامنا ہوتا تو وہ کہتا ’’ السلام علیک یارسول اللہ ‘‘ (رواہ الترمذی والدارمی)
اس حدیث کی شرح مرقاۃ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ او رولی کی کرامت کا ثبوت ہے (کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انسانی عادت کے بر خلاف پہاڑاو ردرخت کے سلام کی آواز کو سن لیا) ۔(13)
زیارتِ قبور کی وہ حدیث جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی اس کے حاشیہ میں نقل فرمایا کہ ’’ابن حجر نے اپنے فتوی میں کہا اولیاء کے قبور کے پاس جو جو منکرات کا صدور ہوتا ہے جیسے مردوں اور رعورتوں کا اختلاط اس کی وجہ سے قابل تقرب امور (زیارت قبور)کو چھوڑا نہیں جاسکتا بلکہ لوگوں پر ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ان برائیوں کا سد باب او رازالہ کریں (نفس زیارت کو منع نہ کریں) ۔(14)
حضرت محدث دکن نے اس کتاب کے ذریعہ عقائدکی بنیاد اور احکام کی حفاظت کا جو انتظام فرمایا اس کی طرف نظر کرتے ہو ئے حضرت مولانا ابوالحسن زید فاروقی رحمہ اللہ نے تاثرات کا یوں اظہار کیا۔ 
’’ مصابیح ہو یا مشکوٰۃ ان کے مولف شافعی ہیں۔ ہمارے علماء احناف نے ان کتابوں کی شرح یا حاشیہ لکھ کر حنفی مذہب کے استدلالات لکھے ہیں۔ 737ھ سے 1368ھ تک احناف کس مپرسی کی حالت میں رہے مرقات ، لمعات اور اشعۃ اللمعات کوہر شخص خرید نہیں سکتا۔ وہابیت اور غیر مقلدی کے اسباب پو ری طرح اثرانداز ہوتے جارہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت محدث دکن کو توفیق دی کہ وہ حنفی مذہب کے استدلالات احادیث شریفہ کی مستند کتابوں سے جمع کریں۔ حضرت محدث دکن نے وہ کام کیا جو سات سو سال سے کوئی حنفی نہیں کرسکا اس کتاب کی اشاعت سے غیر مقلدی اور وہابیت کے اثرات پھیلنے سے انشاء اللہ بند ہو جائیں گے۔ ‘‘(۱۵)
مولانا محمد منظور نعمانی نے حضرت محدث دکن سے حیدرآباد میں اپنی ملاقات کے دوران زجاجۃ المصابیح کی تالیف کی قدردانی کا اظہار کرتے ہو ئے فرمایا ’’حضرت ! حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قصر عالی شان میں ایک اینٹ رہ گئی تھی الحمد للہ ، آپ نے وہ رکھ دی ہے۔ یعنی زجاجۃ المصابیح کی تصنیف سے حدیث شریف کا یہ قصر مکمل ہوا جب حضرت محدث دکن نے یہ سنا تو آنسو سے ڈبڈ بائی آنکھوں کے ساتھ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قبول فرمالیں‘‘۔(۱۶)
فقیہ ہرات مولانا ابو نصر محمد اعظم برنا بادی نے تیسری جلد کی وصولیابی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے لکھا۔ 
’’زجاجہ کی دوجلدوںکی تدریس نے میری آنکھوں کو ٹھنڈ ک بخشی اور اب تیسری جلدکی وصولیابی میرے وسعتِ قلب اور انشراحِ صدر کا موجب ثابت ہورہی ہے، جو حقیقت میں صحیح ترین حدیثوںکا منبع ہے، اورایسا محسوس ہورہاہے کہ مجھے ایک ایسابحرِزخار حاصل ہوگیاہے جو میرے لئے بالکل کافی ہے احناف کے لئے واضح حجت ہے جہالت اور تنقید کی بیماریوں کے لئے قانون ہے اورمذہب حنفی کے بارے میں جواب قاطع ہے اس کے جملہ فوائد سے آگاہی گہر ی نظر کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ۔(17)
علامہ عبدالفتاح ابو غدہ شہر حلب (ملک شام) کے رہنے والے ہیں جب زجاجۃ کی پہلی جلد د یکھی تو حضرت محدث دکن کی خدمت میں مکتوب ارسال کرتے ہوئے لکھا۔ 
’’ مجھے حضرتِ والا کی تصنیف ’’زجاجہ المصابیح‘‘ کی جلد اول دستیاب ہوئی جس کی وجہ سے میر ی بصر اور بصیرت دونوں روشن ہوگئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بیش بہا نعمت سے جو نوازا ہے اس پر اللہ تعالیٰ شکر ادا کیا اللہ تعالیٰ آپ کو اس کارِ خیر پر اسلام او رحضرات احناف کی طرف سے جزاء خیر عطا فرمائے‘‘۔(18)
مولانا عبد الحکیم شرف قادری شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، پاکستان نے فرمایا:
’’ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کتاب کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے اور اس کی زیادہ اشاعت کی جائے خوشی کی بات یہ ہے کہ فرید بک اسٹال لاہور کی طرف سے یہ کتاب متن اور ترجمہ کے ساتھ شائع کی جاری ہے اس کتاب کی اشاعت سے اہلِ علم قارئین کوپتہ چلے گا کہ فقہ حنفی کس قدر مضبوط دلائل کی بنیاد پر استوارہے‘‘ ۔(19)
الغرض آپ کی یہ تصنیف ایسی زبردست عظمت وشہرت کی مالک ہے کہ جس کی وجہ تا دور شمس و قمر آپ کو فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ آپ کی حیات پر ہمیشہ حیات رسول اور سیرت صحابہ کا پرتو رہا ۔ آپ کے ہر فعل میں سنت طیبہ کی اتباع پائی جاتی تھی اور ساری زندگی شریعت حقہ کی عملی تفسیر تھی ۔حضرت ابو الحسنات نے علم وعمل اور دین حق کی ترویج واشاعت میں اپنی عمر کے ۹۲ سال بسرکئے اور آنے والوں کیلئے نقوش چھوڑے ،اس کو کرامت کے سوا اور کیا عنوان دیا جاسکتا ہے کہ دم آخر جب کہ آپ کی نبض ڈوب چکی ہے لیکن قلب کی حرکت جاری وساری تھی۔18! ربیع الثانی1384 ہجری مطابق 2! اگست 1964ء آپ نے اس دار فانی کو چھوڑاا ور رفیق اعلی سے جاملے ،انا للہ وانا الیہ راجعون۔