بحیثیت بانی جامعہ نظامیہ
شیخ الاسلام امام محمدانوار اللہ فاروقی 
بحیثیت بانی جامعہ نظامیہ 

از: ڈاکٹر محمد عبدالحمید اکبر ، ایم اے، پی ایچ ڈی۔ (گلبرگہ شریف)
حضرت شیخ الاسلام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ1264ھ ناندیڑ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد کے علاوہ دیگر علمائے کرام سے حاصل فرمائی۔ ۱۲۸۱ھ میں آپ کے والد حیدرآبادتشریف لائے تو ساتھ میں حضرت شیخ لاسلام بھی حیدرآباد آگئے اُس وقت آپ کی عمر 173سال تھی۔ حیدرآبادمیں مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی اور مولانا عبدالحی فرنگی محلی سے اکتسابِ علوم وفنون فرمایا۔ حصولِ علم میں کوئی دقیقہ فر وگذاشت نہیں کیا۔ نہایت نظم وضبط کے ساتھ اسلامی علوم کی تکمیل فرمائی کیونکہ آپ کو علوم اسلامیہ سے ذاتی دلچسپی بھی تھی اس لئے درسِ نظامی کی وہ کتابیں جو عام طور سے 12سے 16 سال میں پڑھائی جاتی ہیں، حضرت شیخ الاسلام نے ان کو صرف چار پانچ سال کے قلیل عرصے میں حاصل فرمائیں اس دوران1282 ھ میں آپ کی شادی ہوئی اور 1285ھ میں محکمہ مال گذاری میں ملازمت اختیار فرمائی پھر کسی معقول وجہ کی بنا پر 1287ھ میں ملازمت سے استعفی دے دیا اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ حضرت شیخ الاسلام نے 1287ھ میں افضل گنج موسیٰ ندی کے کنارے ایک مکتب شروع کیاتھا۔ کوئی پانچ سال بعد ۶!ذی الحجہ1292ھ کو حیدرآباد کی علمی مقتدر شخصیت مولانا زماں خاں صاحب کو مسجد میں تلاوتِ قرآن کے دوران شہید کردیا گیا۔ مہدویت کا زور بڑھنے لگا شیعیت بھی اپنے بال وپر بکھیرنے لگی، ادھر نجد میں تحریک وہابیت پروان چڑھ رہی تھی، اِدھر دہلی میں مولوی اسماعیل دہلوی اور ان کے ہمنوا وہابیت کی توسیع کے لئے ہندوستان کو بھی میدانِ عمل بنانا چاہتے تھے اور مرزا غلام احمد قادیانی کا سودا بھی مارکیٹ میں آنے کوتھا۔ ان حالات میں علمائے حق نے یہ سوچا کہ اہل اسلام کی مرکزیت اور اس کی تنظیم کے لئے ایک نہایت اعلی اور معیاری مدرسہ کا قیام ضروری ہے۔ چنانچہ مولانا زماں خان صاحب کی شہادت کے صرف13دن بعد ہی19!ذی الحجہ1292ھ کو حضرت شیخ الاسلام کے ایک دیرینہ رفیق مولانا غلام قادر مہاجر مدنی اور ان کے شاگرد مولانا مظفر الدین معلی نے شیخ الاسلام کے شغفِ علمی کو دیکھ کر ایک مجلس منعقد کی جس میں طئے کیا گیا کہ اب تک حضرت کا فیضان خاص احباب تک محدود تھا اور اب ان کے فیضانِ علمی کو عام کرناایک دینی ضرورت بھی ہے اور وقت کا تقاضہ بھی لہذا اس مدرسے کی صدارت کے لئے حضرت شیخ الاسلام ہی کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس طرح مفتی رکن الدین علیہ الرحمہ کے بیان کے مطابق مدرسہ نظامیہ مولوی مظفر الدین معلی کے مکان واقع افضل گنج میں قائم ہوا۔ دارالاقامہ کے انتظام کے بعد جب جگہ ناکافی ہوئی تو قیام کے دس سال بعد دوسری مرتبہ 1302ھ میں مولوی امیر الدین صاحب پونیری (شاگردِ شیخ الاسلام) کے مکان بمقام چنمپا دروازہ منتقل ہوا جس کے مہتمم امیر الدین پونیری بنائے گئے۔ پونیری صاحب نے نہ صرف مکان حوالے کیا بلکہ دامے درمے قدمے سخنے مدرسے کی بلامعاوضہ خدمت انجام دی اور مدرسہ کو خوب ترقی دی۔ ضرورت کے مطابق دو تین مکانوں میں مزید منتقلی کے بعد مدرسہ کے لئے سرکارِ عالی سے ایک مکان محلّہ شبلی گنج میں عنایت ہوا۔ جہاں جامعہ نظامیہ اب موجود ہے منتقلی کا پانچواں مرحلہ تھا۔ 
حضرت شیخ الاسلام کی نسبت بانی مدرسہ نظامیہ نہ ہونے یا کسی اور کے بانی ہونے پر آج کل کچھ زیادہ ہی خیال آرائیاں ہورہی ہیں۔ اس اختلاف کے سلسلے میں راقم الحروف کی نظر ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور کی کتاب ’’داستانِ ادبِ حیدرآباد‘‘ پر پڑی جس پرانہوں نے یوں لکھاہے۔
’’مدرسہ نظامیہ جس کو امیر الدین پونیری نے قائم کیا تھا اور بعد کو انوار اللہ خان فضیلت جنگ نے اپنے ہاتھ میں لیکر ترقی دی‘‘۔
زور صاحب کے اس بیان سے یہ بات معلوم ہورہی ہے کہ مدرسہ نظامیہ کے بانی مولوی امیرالدین پونیری صاحب تھے۔ حیرت ہے کہ مظفر الدین معلی کے مکان میں 19!ذی الحجہ1292ھ جب مدرسہ نظامیہ کی تاسیس قراردی جارہی تھی تو اس تاسیسی مجلس میں مقتدر علماء کی فہرست میں امیرالدین پونیری صاحب کا ذکر ہی نہیں ملتا۔ یہ وہی امیرالدین پونیری ہیں جن کے مکان میں مدرسہ نظامیہ کے قیام کے دس سال بعد 1302ھ میں مدرسہ کی منتقلی عمل میں آتی ہے اور انہیں اس مدرسہ کا مہتمم بنادیا جاتا ہے۔ جو خود حضرت شیخ الاسلام کے شاگردوں میں سے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے ’’مطلع الانوار‘‘ کا صفحہ84 جہاں شاگردانِ شیخ الاسلام کی ایک طویل فہرست دیگئی ہے جس میں نمبر دس پر مولانا امیر الدین پونیری سابق مہتمم مدرسہ نظامیہ کا نام بھی شامل ہے۔
حضرت شیخ الاسلام روزِ تاسیس ہی سے مدرسہ کے صدر وناظم رہے اور اپنی آخری سانس تک مدرسہ نظامیہ سے دیوانگی کی حد تک وابستہ ہے۔ حضرت کی وابستگی ہی سے مدرسہ نظامیہ اس پورے برِ اعظم ایشیا میں ایسا معروف ہوا کہ دور دور ممالک سے طالبانِ علم وفن اس مدرسے میں شریک ہو کر اپنی علمی پیاس بجھاتے رہے۔حضرت شیخ الاسلام کی خدمات مدرسہ نظامیہ کے سلسلے میں قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہیں۔ مولانا غلام قادر مہاجر مدنی اور مولوی مظفر الدین معلی اور دیگر احباب مدرسہ کی بناء میں معاون ومددگار ضرور رہے۔ سارے اکابر و اصاغر جانتے ہیں کہ مدرسہ کی ترقی وترویج میں حضرت شیخ الاسلام کی مساعیٔ جمیلہ کے علاوہ اُن کا خونِ جگر شامل ہے۔
حضرت شیخ الاسلام کے بانیٔ جامعہ ہونے پر چند معتبر اور مستند حوالے ملاحظہ ہوں۔
1میر محبوب علی خاں آصفِ سادس نے مدرسہ نظامیہ کی سرپرستی قبول فرماتے ہوئے ایک جریدہ اعلامیہ جلد نمبر 49 بتاریخ۸!رمضان المبارک1318ھ دسمبر1900 جاری کرتے ہوئے فرمایا۔
’’مدرسہ نظامیہ میرے ملک کا ایک غیر سرکاری دینی تعلیمی ادارہ ہے۔ جس کو حضرت مولوی حافظ محمد انوار اللہ خان بہادر نے قائم کیا ہے‘‘۔
2آصفِ سادس کے بعد ان کے ولی عہد میر عثمان علی خان سلطان العلوم کی رائے بھی دیکھئے ’’مطلع الانوار‘‘ صفحہ 29کے حوالے سے کہ ’’وہ (حضرت شیخ الاسلام) والدِ مرحوم کے اور میرے ونیز میرے دونوں بچوں کے اُستاد بھی تھے اور ترویج علومِ دینیہ کے لئے مدرسہ نظامیہ قائم کیاتھا۔ جہاں اکثر ممالک بعیدہ سے طالبان علوم دینیہ ہوکر فیوض و معارف وعوارف سے متمتع ہوتے ہیں‘‘۔
3۔ ۔ ۔ آصفِ سابع میر عثمان علی خاں، اپنے ایک اور فرمان مصدرہ 22! ربیع الاول1340ھ بحوالہ مطلع الانوار، صفحہ 76,77 حضرت شیخ الاسلام کے بانی مدرسہ نظامیہ ہونے کا ان الفاظ میں ذکر کرتے ہیں۔
’’مدرسہ نظامیہ کی بنیاد، ڈالی ہوئی ایک عالم وفاضل کی ہے جس نے اپنی تمام عمر عبادت ہی میں صرف کی اور دنیاوی معاملات سے احتراز کیا یعنی مولانا انوار اللہ صاحب فضیلت جنگ مرحوم ومغفور، چونکہ یہ مدرسہ خاص انکا ایجاد کردہ ہے‘‘۔
4حضرت شیخ الاسلام کے بانی جامعہ نظامیہ ہونے پر شاہان آصفیہ کی شہادت کے علاوہ حضرت شیخ الاسلام کے ہم عصر عالم لکھنو کے امین ندوۃ العلماء مولانا عبدالحی والدِ بزرگوار مولانا ابوالحسن علی ندوی بھی اپنی معرکتہ الآراء کتاب ’’نزھۃ الخواطر‘‘ عربی، جلد ہشتم صفحہ 80 پر حضرت شیخ الاسلام کے بانی جامعہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں۔
’’واسس الجامعۃ النظامیۃ بحیدرآباد‘‘ اور انہوں نے (مولانا انوار اللہ فاروقی) حیدرآباد میں مدرسہ نظامیہ کی بنیاد ڈالی۔ 
5میر احمد الدین علی خاں ایم۔ اے عثمانیہ، نواب میر عثمان علی خان کی رسم تسمیہ خوانی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مقالے ’’عہد عثمانی میں اُردو خدمات‘‘ صفحہ19! پر لکھتے ہیں۔
’’مولوی انوار اللہ خان صاحب فضیلت جنگ بہادر مدرسہ نظامیہ کے بانی اور صدرالمہام امورِ مذہبی تھے‘‘۔
6ضیاء الدین اے دیسائی اپنی انگریزی تصنیف ’’Centres of Islamic learning in India‘‘کے صفحہ 55پر لکھتے ہیں۔ جس کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
’’وہ (جامعہ نظامیہ) جس کی بنیاد تقریبا دارلعلوم دیوبند کے وقت ہی شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ خان فضیلت جنگ کے ہاتھو ںرکھی گئی‘‘۔
7۔ ۔ ۔ کرنل مرزا بسم اللہ بیگ اپنی کتاب ’’قاریانِ ہند‘‘ جلد دوّم صفحہ 315 ہر کھتے ہیں۔
’’آپ (شیخ الاسلام) نے حیدرآباد میں مدرسہ نظامیہ کی بنیاد ڈالی‘‘
اس طرح حضرت شیخ الاسلام کے بانی مدرسہ نظامیہ ہونے پر ان کے ہم عصر علماء جیسے عبدالحی لکھنوی، میر محبوب علی خان، آصفِ سادس میر عثمان علی خان آصفِ سابع کے علاوہ خود مولانا کے شاگرد مفتی رکن الدین صاحب نے بھی اتفاق کیا ہے۔ معاصر علماء اور بعد کے سوانح نگار اور مضمون نگاروں نے بھی حضرت شیخ الاسلام کے بانی جامعہ نظامیہ ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
جہاں تک امیرالدین پونیری کے بانی مدرسہ ہونے کا تعلق ہے اس میں محی الدین قادری زور، عبدالقادر سروری، پروفیسر اکبر الدین صدیقی وغیرہ اپنی کتابوں میں ہجری اور فصلی تاریخ کے مابین تسامح کے پیش نظر غلط فہمیوں کا شکار ہوگئے۔ چنانچہ ابھی حال ہی میں روزنامہ ’’منصف‘‘ میں بھی ایک مضمون چھپا تھا جس میں امیر الدین پونیری کو مدرسہ کا بانی لکھا گیا تھا اور بنیاد کا سنہ1883ء لکھا ہوا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نظامیہ کا قیام1874ء میں ہوا۔ یہ9,10 سال کا فرق بتلارہا ہے کہ مدرسہ کے قیام کے دس سال بعد ان ہی امیرالدین پونیری کے مکان میں مدرسہ منتقل ہواتھا جس کا سنہ 1883ء تھا۔ ان تمام شواہد دلائل براہین وقرائین سبھی سے مولوی امیر الدین پونیری کا بانی مدرسہ ہونا ثابت نہیں۔ جب کہ یہ خود حضرت شیخ الاسلام کے شاگرد ہیں۔
بانی لفظ عربی جس کا معنی بنیاد رکھنے والا ، شروع کرنے والاہیں۔ مصباح اللغات(عربی) میں 
بنی(ض)بنیا وبناء وبنیاناً وبنیۃ وبنایۃ کے معنی گھر تعمیر کرنا یا زمین آباد کرنا، البنیۃ والبنیۃ کے معنی عمارت، ڈھانچہ،شکل لکھے گئے ہیں۔
البانی: اسم فاعل ہے، یعنی تعمیر کرنے والا، آباد کرنے والا، شکل وصورت گری کرنے والا۔
بانی کے ان تمام مذکورہ معانی کے تناظر میں حضرت شیخ الاسلام ہی مدرسہ نظامیہ کے بانی ثابت ہوتے ہیں۔ اختلاف تو کعبہ کی بنیاد پر بھی ہوا ہے۔ کہ آیا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اس کے بانی ہیں یا حضرت آدم علیہ السلام، علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے بانی سرسید ہیں یا کوئی اور اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے بانی مولوی قاسم نانوتوی ہیں یا کوئی اور منظر اسلام کے بانی مولانا احمد رضا خاں ہیں یا کوئی اور، جامعہ نظامیہ کے بانی مولانا انواراللہ فاروقی ہیں یا کوئی اور لیکن ان تمام اختلافات کے باوجود زبان زدِ عام یہی ہے کے کعبہ کی بنیاد ابراہیم علیہ السلام نے ڈالی، مسلم یونیوسٹی کے بانی سر سید ہیں،دارالعلوم دیوبند کے بانی مولوی نانوتوی ہیں، دارالعلوم منظر اسلام کے بانی مولانا احمد رضا خان ہیں، اسی طرح جامعہ نظامیہ کے بانی حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمہ ہی ہیں۔
نواب میر عثمان علی خاں،22!سال کا طویل عرصہ حضرت شیخ الاسلام کی خدمت میں رہ کر تعلیم وتربیت حاصل فرمائی تھی۔ ان کی شان میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کچھ اس طرح نغمہ سنج ہیں
بانی مکتب کی عثماں یاد بھی آتی رہے
نغمے اس ذات کے صبح ومساگاتی رہے
مخفی مبادکہ یہ شعر جامعہ نظامیہ کی اندرونی عمارت کی دیوار پر کندہ ہے۔