جہاد بالقلم
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
کاجہاد بالقلم

تحریر:۔ جناب اطہرمعز،گلبرگہ شریف، کرناٹک
سرزمین دکن کو ہمیشہ اس بات پر نازرہے گا کہ اس کے پہلومیں اسلام کے ایسے ایسے بطلِ جلیل آرام فرماہیں جن کی تابناک علمی کا وشوںسے ایک عالم منور ہے اور تاقیامت ان کی ضیاء پاشیوں سے مستفید ہوتارہے گا ۔ حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں محو خواب عاشق رسول، متبحرعالم دین حضرت شیخ الاسلام مولانامحمدانواراللہ فاروقی علیہ الرحمہ بانی جامعہ نظامیہ کے کارناموں پرایک نظر ڈالنا حضور شیخ الاسلام کی علمی دینی کاوشوں کے اعتراف کے مترادف ہو گا۔ یہ چند سطور آپکی علمی شخصیت کا احاطہ کرنے سے قطعاً قاصر ہیں ، عاجز اور مجبور ہیں۔ مجھ سمیت ایسے کئی مسلمان ہیں خصوصاً نوجوانان امت و حیدرآبادکے قرب وجوار اور دوردراز کے علاقوں میں رہنے بسنے والوں، کی اکثریت شیخ الاسلام کی عبقری شخصیت سے ناواقف ہے۔یہ ہماری بدبختی ہے کہ نہ ہم نے اور نہ ہی ہمارے سرپرستوںنے کبھی ہم کو ہمارے عظیم و بے مثل اسلاف کے کارناموں سے روشناس کروانے میں دلچسپی دکھائی ، شاید اسی وجہ سے ہم عظیم اسلامی خیالات واحساسات سے تقریباً عاری ہو چکے ہیں۔ بقول حکیم الامت علامہ اقبال
گنوادی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی 
کہ ثریا نے آسماں سے زمیں پہ ہم کودے مارا
بھلاہو محترم قاری ڈاکٹرعبد الحمید اکبر کا کہ موصوف نے اپنے تحقیقی مقالہ ، بعنوان ، شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ شخصیت ، علمی وادبی کارنامے ، کو بشکل کتاب پیش کیا۔ جسکو مجلس اشاعۃالعلوم جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے ایک عظیم خد مت انجام دیتے ہوئے شائع کرکے ملت پر احسان کیا، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ 
شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ موضع قندھار ضلع ناندیڑ میں 4 ربیع الثانی 1264ھ کو پیدا ہوئے۔ آپکے والد گرامی حضرت قاضی حافظ ابو محمد شجاع الدین علیہ الرحمہ متقی وپر ہیز گار بزرگ تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملتاہے۔ ابتدائی تعلیم وہیں ہوئی ۔ پانچ برس کی عمر میں قرآن پاک ناظرہ ختم کیاگیارہ بر س کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی 1282ھ میں جب آپکی عمر صرف 18برس تھی توآپ حیدرآباد تشریف لائے اور مولاناعبد الحئی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ آپ تفسیر، حدیث، فقہ ، ادب اور معقولات کے جید عالم تھے۔ آپ اپنے اساتدہ کا بیحد ادب کرتے تھے۔ آپکی بے مثل وخداداد ذہانت وذکاوت اور علمی استدادکے خود آپ کے اساتذہ بھی معترف تھے ، اور آپکے بے پناہ علمی ذوق کو دیکھتے ہو ئے آپکے اساتذہ بھی باوجود کثرت مشاغل آپ پر اپنی خاص عنایت رکھتے تھے۔ آپ نے علوم شریعت کی تکمیل وتحصیل کے بعد اپنے والد محترم حضرت ابومحمد شجاع الدین علیہ الرحمہ سے سلوک کی تکمیل فرمائی اور سلاسل جملہ میں بیعت کی پھر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے مکہ معظمہ میں موسم حج میں بیعت مکرر فرمائی اور منازل سلوک کی تکمیل بھی فرمائی۔ آپکو بعمر 30 سال حرمین شریفین کی زیارت و سعادت حج حاصل ہوئی۔ آپ ایک بلند پایہ اور قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ آپ کے فارسی و اردو اشعارپر مشتمل مجموعہ کلام ’’شمیم الانوار‘‘ کے نام سے منصہ شہود پرآچکا ہے۔ چونکہ آپکی مصروفیت بے پناہ تھی تصنیف وتالیف، درس وتدریس اور دیگر مشاغل کی وجہ سے آپ شعر گوئی پر زیادہ توجہ نہیں دیا کرتے تھے ، اگر عدیم الفرصتی آپکی شعر گوئی میں آڑے نہ آتی تو یقینا آپ کے قلم سے مزید اعلیٰ پائے کے اشعار ملتے اور صاحبِ ذوق ح۔ضرات کیلئے باعث تسکین ہوتے اور اردو ادب کے سرمایہ میں گرانقدر اضافہ کا موجب بنتے۔ ’’شمیم الانوار‘‘ میں اکثر اشعار بر جستہ ہیں، جو بے ساختہ آپکی زبان مبارک سے نکلے تھے جس سے آپکی شعر گوئی میں آپکے باوصف ہو نے کی دلیل ہے۔ 
آپ نے اپنی تحریروں کے ذریعہ مسلمانوں میں گرمی ایمان کے جذبے کو تازہ کیا، بقول ڈاکٹر عبدالحمید اکبر کہ آپ نے ’’حریفانِ اسلام کے مقابلے میں جہاد بالقلم کیا‘‘ فرنگیوں نے ہو س اقتدار میں جب اہل اسلام کی دینی ومذہبی حیثیت کو مجروح کرنا شروع کیا تو شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے اپنے زور قلم سے ان کی ناپاک سازشوں کا سد باب کیا۔ انگریزوں نے بعض ضیمر فروش علماء ومصنفین کو اپنا ہمنوا بنایا تب شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے اپنے مشہور زمانہ رسالہ ’’رسالہ مقاصد الاسلام ‘‘ کے ذریعہ حق کو واضح کیا او رتمام آزاد خیال علماء ومصنفین کی بیخ کنی فرمائی۔ گیار حصوںپرمشتمل طویل مقاصدالاسلام ، ایک عظیم علمی کارنامہ اور ادبی نکتہ نظر سے ایک شاہکار رسالہ ہے۔ 
پہلی جنگ آزادی 1857ء سے کچھ ہی پہلے مسلمانوں کے انحطاط کا دورشروع ہو چکا تھا۔ مسلمانوں کے اس زوال کا اثر آج تک برقرارہے۔ تنزلی کے اس بھیانک اور طویل دورمیں جو کہ تقریباً دیڑھ سوسال پر مشتمل ہے امت مسلمہ کئی نشیب وفرازسے گزری ہے اورہنوز گذررہی ہے۔ ہر دور میںتقریباً یکساں طرز کے فتنے ہمارے سامنے آکھڑے ہو ئے او راللہ تعالیٰ نے ہر دور میں کوئی نہ کوئی ایسی ہستی پیدا کی جو فتنوں کو خس وخاشاک کی طرح بہا لے گئی ، شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کے دور میں جو حالت مسلمانوں کی تھی اس کا موجودہ دور سے موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ ہم کس تاریک اور بھیانک دور سے گذر رہے ہیں۔نہ ہمارے اندراسلام کی روح باقی ہے اور نہ شعور ، باشعور طبقہ شاید کسی الف ثانی یا اما م احمد رضا یا شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کا منتظر ہے۔ جبکہ ایسی عبقر ی شخصیت باربار پیدا نہیںہوتی بجائے انکا انتظار کرنے کے اگر صرف ان کے کارناموں ، انکی کاوشوں اور رہنمااصولوں کو ہی ہم اپنی زندگی کا نصب العین بنالیں تو میر ے خیال میں نہ صرف ان کے مسائل کا حل دستیاب ہو گا بلکہ امت پھر اپنے آپکو دور نشاۃ ثانیہ میں پائے گی، شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ نے جس وقت علم اسلام بلند کیا وہ دور شاید اسی دور تاریک سے مماثلت رکھتا ہو یاپھر اس دور سے بھی بدتر ہوگا، اگر تھوڑی دیر کیلئے ہم تصور کریںتو ہمیں بخوبی اندازہ ہو گا کہ کس قدر تکالیف ہمارے بے مثل اسلاف کو برداشت کرنی پڑی ہو گی ، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کی یادیں ، ان کی تعلیمات وارشادات ، ان کی گرانقدر تصنیفات وتالیفات ہمارے درمیان انکو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ آپ نے ساری عمر اشاعتِدین وخدمتِ خلق میں گذاری ۔ آپ عالمِ باعمل تھے او راسم بامسمی تھے ، آپ کا روشن کیا ہوا چراغ جسکی ضیاء پاشیوں سے آج ایک عالم جگمگا رہاہے شہرِ حیدرآباد کی پہچان بن گیا ہے۔ جامعہ نظامیہ کے نام سے شان وشوکت سے کھڑا دنیا میں اسلام کی پر نور کرنیں بکھیر رہاہے۔ فیروز بخت ان کرنوں سے اپنے دامنِ علم کو منور کررہے ہیں، ساری دینا میں خواہ آپ کہیں بھی چلے جائیں ، یہ میر ا دعوی ہے کہ آپکو دو، چار ،فارغین جو جامعہ نظامیہ سے فارغ التحصیل ہیں ضرور ملیں گے ، بین الاقوامی سطح علمی ودینی طرز کی یہ منفرد درسگاہ ہے جسکو عالم اسلام میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ آپکے دیگر کارناموں میں ، جامعہ نظامیہ اور ملک گیر سطح پر چھوٹے مدارس کے علاوہ ، دائرۃ المعارف النظامیہ ، کتب خانہ آصفیہ اور اشاعت العلوم قابل ذکر ہیں۔ ان عظیم اداروں کے ساتھ ساتھ تصنیفات وتالیفات کا آپ کا کام بھی چلتارہا۔ آپ نے اپنے زمانے کے فتنہ قادیانی کے رد میں افادۃ الافہام ، مفاتیح الاعلام ، فہرست افادۃ الافہام اور انوار الحق جیسی معر کۃ الآراء کتابیں لکھیں جو کہ آج بھی مرزا قادیانی کے کذب و افتراء پر ایک ٹھوس اور جامع دلیل ہے ، آپ نے سر سید احمد خان اورشبلی کے آزاد نظریات وعقائد جوکہ اسلام کے بنیاد ی عقائد سے متصادم تھے پر سخت تنقید فرمائی۔آپ نے ہر دوحضرات کی بیخ کنی کرتے ہوئے فرمایا کہ عقلی دلائل قائم کرکے اسلامی حقائق کی تکذیب کرنا شعار مومنوںکا نہیں بلکہ طریقہ کفارہے۔ سرسید اور شبلی قرآن حکیم کی تفسیرات میں اختلاف کرتے تھے۔ اورمعجزات ، ملائکہ کے وجود اورشیاطین کی اصلیت کے بھی منکرتھے۔ 
شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کی پوری زندگی خدمت اسلام سے عبارت ہے اور آپ نے دامے ، درمے، سخنے ، ہر طرح سے اسلام کی خدمت کرنے کی کامیاب سعی فرمائی ، آپ ہمہ جہت ، پہلوداراور عظیم المرتبت شخصیت تھے۔ بیک وقت بلند پایہ شاعر، صاحب طرزنثرنگار، فلسفی، متکلم، محدث، مفسر، فقیہ صاحبِ کردار عالم باعمل، مدبر، قومی رہنما،صاحب فکروفن ، مصنف، مترجم اورکئی مدارس کے بانی غرض ایک ورسٹائل اور نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ 1336ھ کو یہ بدردکن72سال کی عمرمیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوا۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
علامہ اقبال کے الفاظ میں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا