ماڈل نکاح نامہ کے موجد 
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
ماڈل نکاح نامہ کے موجد 
از: مولانا قاضی غلام غوث صدیقی اشرفی نظامی‘ صدر قاضی بلہاری (کرناٹک)
تاریخ اسلام میں منصب قضاء بھی بڑی اہمیت کا حامل رہاہے ، بقول مولانا قطب معین الدین انصاری قضاء ت کا منصب تاریخ اسلام میں بہت ارفع واعلیٰ ہے ، جس کی ابتداء خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہوئی خلفائے راشدین بھی اس خدمت کو انجام دیتے رہے قاضی کی ذات راعی سے رعایا تک ان کے اعمال میں انصاف کے ترازو کی حیثیت رکھتی تھی اس لئے قاضی کے لئے ضروری تھا کہ وہ نہایت متقی پر ہیزگار، صاحب وقار ، راستباز ، دیانت دار، ذکی ، فہیم ، سنجید ہ مزاج ، قانون داں ہونے کے ساتھ ساتھ رعایا کے مذہب اورقومی رسم ورواج سے بھی واقف ہو۔ 
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے قاضی کے لئے سودرہم مشاہرہ مقرر فرمایا تھا اور بعد میں اس میں اضافہ بھی ہوتارہا، قضاء ت کے اس منصب کا سلسلہ حضرت شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کے والدمولانا قاضی حافظ ابو محمدشجاع الدین تک پہنچتا ہے اور ان سے ان کے چھوٹے برادر مولانا قاضی محمد امیراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان میں یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مولانا انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ناظم امور مذہبی اور صدرالصدور کے منصب پر فائزہوئے اور انہوںنے قاضیوں کو شاہی ملازمین میں شمار کرنے کی تجویزپیش کی جس کی قبولیت پر شاہی فرمان جاری کردیاگیا، اس ضمن میں مولانا قطب معین الدین انصاری لکھتے ہیں، 
(حضرت شیخ الاسلام )کی توجہ پر عدالت العالیہ نے قانوناً قاضی صاحب کا شمارملازمین شاہی میں کرنے ، مراعات ملازمان شاہی سے استفادہ کرنے ذریعہ احکام 2303مورخہ24!شہریور 1927ء ف اطلاع دے دی۔ 
اس طرح حضرت شیخ الاسلام کی تجویزپر قاضی صاحبان کو صاحب دفتر اور دفاتر قضاء ت کو باضابطہ سرکاری دفاتر قراردیاگیا۔
پیامات نکاح کے تحفظ کے سلسلے میں حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے باضابطہ جو نظام قضاء ت قائم فرمایا مولانا قطب معین الدین انصاری کے بقول سارے ملک میں ان کا یہ منفرد کارنامہ ہے۔ مولانا سید رشیدپاشاہ رحمۃ اللہ علیہ سابق امیر جامعہ نظامیہ کے خیال کی روسے قضاء ت کے نظام میں سیاہہ جات کا ترتیب دیاجانا شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کا ایسانادر کارنامہ ہے کہ اس ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی ایساکام نہیں ہوسکا۔
مولانا ڈاکٹر حمیدالدین شرفی کا خیال ہے کہ مولانا سیاہہ نامے کے موجدہیں۔ انہوںنے جو سیاہہ جات مرتب کروائے ان میں، ایجاب وقبول ، شہادت مقدار مہر وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے اس سے قبل یہ تمام امور زبانی ہوا کرتے تھے ۔ اس قضاء ت کے نظام کو مولانا نے صدارت العالیہ سے متعلق فرماکر اس کے ذمے آپ نے ، اصلاح مسلمانان ، انتظام سیاہہ جات نکاح او رتنقیح خدمات شرعیہ کاکام بھی تفویض فرمایا ، اور عدالت العالیہ کو پابند کیاگیا کہ مقدمہ طلاق وغیرہ پیش ہوتو صدارت العالیہ کو تاریخ طلاق سے آگاہ کیاجائے تاکہ عدت کے اختتام پر احکام شریعت کے مطابق نکاح ثانی کیاجاسکے، 
حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کی ان کاوشوںکا نتیجہ ہے کہ آج بھی یہ سیاہہ نامے ہر ملک کی عدالتوں میں قبول کئے جاتے ہیں، اس سلسلے میں رضی الدین معظم کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ ہو:
’’محسن علم دین حضرت فضیلت جنگ علیہ الرحمہ (مولانا محمدانوار اللہ فاروقی )کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ سرزمین دکن میں محکمہ قضاء ت کاقیام عمل میں آیا جس کے تحت ہر نکاح مسعودپر تحریری دستاویز کانظم قائم ہے یہ امرلائق تحسین ہے کہ قاضی صاحبان کے جاری کردہ سیاہہ نامے ملک وبیرون ملک کی عدالتوں میں قابل قبول ہیں ۔‘‘
(اخذو استفادہ مولانا محمد انوار اللہ فاروقی شخصیت علمی و ادبی کارنامے 
مصنفہ ڈاکٹر عبدالحمید اکبر، گلبرگہ)
آج سے ایک صدی قبل سیاہہ نامہ کا تصور اور اس کا نفاذ حضرت شیخ الاسلام کا ایسا کارنامہ ہے جس کا اعتراف دیوبند کے عالم دین نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
’’ہندستان کے بعض علاقوں میں ’’نکاح نامہ‘‘ کارواج بہت خوب ہے اور شریعت کے مزاج اور منشا کے موافق ہے ، یوں تو مختلف شہروں میں نکاح نامے مروّج ہیں لیکن دکن اور بھوپال کے علاقہ میں قریب ترین عہد تک مسلم حکومت کے موجود ہونے کی وجہ سے نکاح خوانی کا نسبتاً بہتررواج پایاجاتاہے بھوپال کا نکاح نامہ تو دیکھنے کا موقع نہیں ملا، لیکن دکن میں مروّج نکاح نامہ بہت جامع ، منضبط اور شرعی قیودو تنقیحات کی روشنی میں مرتب کردہ ہے جسے ح۔ضرت مولانا انوار اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعہ نظامیہ )نے اپنی نگرانی میں مرتب کرایا تھا ‘‘۔ 
نکاح نامہ یا نکاح کے تحریری ریکارڈ کے بارے میں قرآن مجید کی ایک اصولی ہدایت سے روشنی ملتی ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔ ’’اے وہ لوگ جو ایمان لاچکے ہو‘‘جب کسی مقررہ مدت کے لیے تم آپس میں دَین کے لین دین کا معاملہ کرو، تو اسے لکھ لیا کرو، تمہارے درمیان ایک لکھنے والاانصاف کے ساتھ دستاویزتحریرکرے جسے اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی صلاحیت عطافرمائی ہے اسے لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہئے لہذا وہ لکھے او رجس شخص پر حق باقی ہو وہ املا ء کرائے ، اوراسے اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرتے رہناچاہئیے اور جوبات طے ہوئی ہے اس میں کوئی کمی نہ کرے ، جس پر حق ہے اگر وہ ناسمجھ یا ضعیف ہو، یا املاکرانے کی صلاحیت نہیں رکھتاہو تواس کے ولی کو انصاف کے ساتھ املاء کرانا چاہئیے اور اپنے مردوں میں دوکو گواہ بھی بنالو، اگردو مردنہ ہوں توایک مرداور دوعورتیں ہوں ، یہ ایسے لوگ ہوں جن کی گواہی تمہارے درمیان قابل قبول ہو، (دوعورتیںاس لئے کہ )ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے اور جب گواہوں کو گواہ بننے کے لیے کہاجائے تووہ اس سے انکار نہ کریں ، معاملہ چھوٹا ہویا بڑا ، مدت کی تعےین کے ساتھ اس کو لکھ لینے میں سستی سے کام نہ لیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ صورت زیادہ منصفانہ اور گواہی کے لیے ممدومعاون ہے اور امید ہے کہ اس سے تم شک وشبہ میں مبتلانہیں ہوگے،الخ(البقرۃ:182 )
اس آیت کا تعلق اصل میں مالی معاملات سے ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا نکاح زندگی کا اتنااہم اور سنجیدہ معاملہ ہے کہ اس کی اہمیت مال سے کہیں بڑھ کرہے کیوں کہ اس سے انسانی ع۔زت وشرافت، نسل کی حفاظت اور بہت سے حقوق متعلق ہیں اس لیے جن مالی معاملات کو اللہ تعالی نے لکھنے کا حکم دیاہے تونکاح کا لکھاجانابہ درجہ اولیٰ مطلوب ہوگا، اسی لئے فقہاء نے اس آیت کو ان تمام معالات سے متعلق رکھا ہے جس میں کسی چیزکی مدت متعین کی گئی ہو، ینتظم سائر عقود المداینات التی یصح فیھا الآجال (احکام القرآن للجصاص: 2!379) بلکہ امام ابوبکرجصاص رازی نے خاص طور پر ایسے نکاح کا ذکرکیاہے جس میں مہربعد میں ادا کیے جانے والاہو، او رخلع کو بھی تحریری طور پر منضبط کرنے کی تلقین کی ہے والمھراذاکان مؤجلا،وکذالک الخلع الخ(حوالۂ سابق :2!208)قرآن مجیدکی اس سب سے طویل آیت میں ہمیں ایسی دستاویزات کے لیے واضح اشارات او راصول بھی ملتے ہیں‘‘۔ 
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی معرفت سارے ہندوستان میں اس ماڈل نکاح نامہ کو رائج کیا جاسکتا ہے۔