بحیثیت فقیہ وصدر الصدور
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
بحیثیت فقیہ وصدر الصدور 
بقلم : مولاناقاضی محمد قادر علی ، صدر قاضی شریعت پناہ بلدہ، حیدرآباد
مملکت آصفیہ کے ساتویں تاجدار سلطان العلوم نواب میر عثمان علی خاں نے ناظم امور مذہبی و صدر الصدور صوبہ جات دکن کے اہم ترین عہدوں کے لیے شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کا انتخاب کیا۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ بہ حکم کشن پرشاد صیغہ امور مذہبی کی جانب سے مولانا کے نام مورخہ 23!رجب 1330ھ جاری ہوا جس میں مولانا کو بحیثیت ناظم امور مذہبی اور خدمت صدارت کا جائزہ، مولوی لطیف احمد مینائی اور نواب نظامت جنگ بہادر سے لینے کے لیے عرض کیا گیا تھا۔ یہ مراسلہ والی دکن میر عثمان علی خاں کے فرمان مزینہ 19!جمادی الاول 1330ھ کے مطابق تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقی نے مہاراجہ سر کشن پرشاد کو امور مذہبی کے دفتر نظامت کے جائزہ اور معائنے کے بعد اس کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے مراسلے کا جواب ارسال کیا۔ مولانا کے اس جوابی مراسلے کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’دعاء گو نے اجمالی طور پر دفتر نظامت امور مذہبی دیکھا۔ معلوم ہو کہ نہایت ابتر اور ناقابل اعتماد ہے نہ امثلہ باضابطہ ہیں نہ عملہ قابل اطمینان۔ صدہا مثلیں ایسی ہیں کہ جن کی فہرست ہی نہیں جس سے معلوم ہوسکے کہ کل کواغذ مثل محفوظ ہیں۔ امیدوار جن کی کچھ ماہوار نہیں وہ صیغہ دار بنائے گئے ہیں۔ سالہا سال کے مقدمات ملتوی اور کس مپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔
دفتر کی ذمہ داریوں اور مطلوبہ کارگذار کے متعلق مولانا اس مراسلے میں یوں اظہار خیال کرتے ہیں:
’’پھر اس وقت کی ذمہ داریاں بھی بہ نسبت اور دفاتر کے بڑھی ہوئی ہیں، کیونکہ کل مذاہب کا تعلق بحیثیت امور مذہبی اسی دفتر سے ہے۔ کل اہل خدمات شرعیہ اور معاہد، اوقاف وغیرہ کا تعلق اسی دفتر سے ہے جن کے مصارف لاکھوں روپیوں کے ہیں، غرضکہ یہاں کے عہدیدار خصوصاً مددگار جب تک اعلیٰ درجے کے دیانت دار اور کارگذار نہ ہوں جس طرح چاہے کام نہیں چل سکتا چونکہ سب ذمہ داریاں دعا گو سے متعلق کی گئی ہیں اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ مولوی سید احمد صاحب سوم تعلقہ دار مددگار صوبہ گلبرگہ شریف کا تبادلہ میری مددگاری پر فرمایا جائے۔ کیونکہ زمانہ دراز سے میں ان کی دیانت داری اور کارگذاری سے واقف ہوں اور میرا پورا اعتماد ان پر ہے۔ اصولاً اور قانوناً مسلم ہے کہ مددگار ناظم کا معتمد علیہ ہونا چاہیے اس لیے مجھے امید قوی ہے کہ یہ میری درخواست قبول فرمائی جائے‘‘۔
حضرت شیخ الاسلام کے اس مذکورہ جوابی مراسلے پر مہاراجہ سرکشن پرشاد نے ایک تجویز پیش کی جو معتمد صاحب عدالت کے نام ہے۔ تجویز کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’مولوی صاحب کی خواہش بالکل واجبی ہے۔ مددگار مولوی صاحب کے اطمینان کے قابل ہونا ہر حال میں مناسب ہے۔ باضابطہ اس بارے میں کارروائی کی جائے تاکہ اس تغیر و تبدل میں واجبی حقوق پر کسی کے اثر نہ پڑے۔‘‘ (۳)
ان عہدوں کی قبولیت کے لیے مولانا نے عذر خواہی بھی کی تھی لیکن شاہِ وقت کی نظر میں آپ سے زیادہ موزوں کوئی دوسری شخصیت ملک میں موجود نہ تھی اس لیے مولانا کی عذر خواہی کے باوجود ان ہی کو منتخب کیا گیا۔ مفتی رکن الدین صاحب کے مطابق مولانا نے اس طرح والی دکن سے کہا تھا کہ ’’جہاں پناہ، سرکاری ملازمت کے لیے انتہائی عمر پچپن سال مقرر ہے اور پچپن سال سے متجاوز ہوں‘‘ تو شاہِ وقت نے عرض کیا کہ مولانا ’’اس وقت ملک میں ان خدمات کے لیے آپ سے زیادہ کوئی موزوں نہیں‘‘۔ اس طرح حکم شاہی کی بنا پر مولانا نے 12!تیر 1321ف کو ان خدمات کا جائزہ حاصل کیا اور اس کام کو بہت خوبی سے انجام دیا اور انہوں نے نواب مظفر جنگ بہادر معین المہام امور مذہبی کے انتقال کے بعد وزارت امور مذہبی کا عہدہ بھی سنبھالا۔
اس طرح حضرت شیخ الاسلام، ناظم امور مذہبی کے عہدے پر 9!خوردار 1323ف سے دم آخر تک فائز رہے۔ اس عہدے کے ذریعے مولانا نے ملک و قوم کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دئے ہیں۔ نواب میر لائق علی خاں سالارجنگ دوم کو بھی مولانا پر بہت اعتماد تھا وزیراعظم کی حیثیت سے امور مذہبی کے علاوہ دوسرے امور سلطنت میںبھی وہ مولانا کی رائے پر عمل کرتے اور کونسل میں بھی ان کے مشورے بڑی وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔
مولانا کی ان خدمات کا اندازہ نظام ہفتم میر عثمان علی خاں کے اس اعتراف سے بھی ہوتا ہے جو انہوں نے اپنے فرمان مورخہ30!رجب 1336ھ میں لکھا ہے کہ ’’مولوی صاحب (مولانا انوار اللہ فاروقی) نے سر رشتۂ مذہبی میں جو اصلاحات شروع کیں وہ قابل قدر ہیں۔