اموال زکوٰۃ

اموال زکوٰۃ:

تین طرح کے ہیں جو مال نا می میںذکر کئے گئے ہیں۔(1)مال نقد (سونا، چاندی )(2)مال تجا رت (3)سائمہ وہ جانورہیں جو سال کے اکثر حصہ جنگل میں چرکر بسر کرتے ہوںاور جو دودھ کی غرض سے یا نسل کی زیا دتی یافربہ ہو نے کے لئے رکھے گئے ہوں ۔یہاںپر صرف دو قسموںکو بیان کیا جائیگا کیونکہ تیسری قسم اکثر پیش نہیں آتی۔
(1)سونا ، چاندی کی زکوٰۃ کے احکام : سونا ، چاندی میںمطلق زکوٰۃ واجب ہے خواہ وہ کیسی ہی حالت میںہو یعنی زیور، روپئے ،برتن وغیرہ ۔سونا کا نصاب بیس مثقال ہے (ایک وزن کا نام ہے )۔چاندی کا نصاب دو سو درم ہے ۔ بیس مثقال اس زمانے کے تول میں40 گرام755 ملی گرام سوناہے اور دوسودرم425 گرام 285 ملی گرام چاندی ہے (فتا وٰی نظامیہ )۔ علماء مشرق کے پاس بیس مثقال کا وزن ساڑے سات تولہ72/1 سونا ہے اور دو سو درم کا وزن ساڑے باوزن 2/1 52 تولہ چاندی ہے ۔ اگر کوئی اوپر بیان کردہ وزن سونا یا چاندی کا مالک ہو اور اس پر ایک سال گزر گیا ہو تو اس کا چالیسواںحصہ یعنی ایک گرام 519ملی گرام سونا اور چاندی کاچا لیسواں حصہ دس گرام 632ملی گرام دینا واجب ہے (فتاوٰی نظا میہ )اور علماء مشرق کے پاس سوادو ماشہ سونا اور ایک تولہ تین ماشہ چھ رتی چاندی ہے ۔ نوٹ:صاحب نصاب کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میںسے ہی مقررکردہ مال کو یا اس کی قیمت کو زکوٰۃکے مستحق کودیدے ۔ اگرسونے یا چاندی نصاب سے زیادہ ہے اور یہ زیادتی نصاب کے پانچویں حصے کے برابر ہے ۔ اس زیادہ مال پر بھی چالیسواںحصہ زکوٰۃدینا واجب ہے اور اگروہ زیادتی پانچویں حصہ سے کم ہے تو اس پر زکوٰۃ معاف ہے ۔ اسی طرح ہر پانچویںحصہ کی زیادتی پر زکوٰۃادا کرنا واجب ہے۔
نوٹ:سونے چاندی کے نصاب میںوزن کاا عتبار ہے قیمت کا نہیں۔ 
اگر کسی کے پاس سونا تھو ڑااور چاندی تھوڑی ہو اور دونوںمیںسے کسی کانصاب پورا نہ ہومگر دونوںکے ملا نے سے کسی ایک کا نصاب پورا ہو جاتاہو تواس صورت میںدونوںکو ملا کر زکوٰۃ ادا کرناچاہئے اگر ملانے پر بھی نصاب پورا نا ہو تو زکوٰۃ نہیںہے ۔ اور اگرسو نے کی قیمت کی چاندی ،چا ندی میںملائے تو نصاب پورا ہو جاتا ہے ۔اور چاندی کی قیمت کا سونا، سونے میں ملا ئے تو نصاب پورا نہیںہو تا یا با لعکس (اسکا الٹا )ہے توزکوٰۃ واجب ہے یعنی جس میں نصاب پوراہو وہ ادا کریںاور اگردونوں صورتوں میں نصاب پورا ہو جاتا ہو تو اختیارہے جو چاہے ادا کریںمگر جب کہ ایک صورت میںنصاب پر پنچواںحصہ پڑھ جائے تو وہی اداکرنا واجب ہے ۔
اگر چاندی اور سونے کو ملا کر بھی نصاب پورا نہ ہو اور مال تجارت بھی موجود ہو اور اس کے ملا لنے سے نصاب پورا ہو جا تاہو تو اس کو بھی ملا کر زکوٰۃاداکرنا واجب ہے ۔ اور اگر نصاب پو را نہ ہو تو واجب نہیں۔اور اگر کسی کے پا س سو نا چاندی نہ ہوبلکہ پیسے ہو ںاور ان کی قیمت چاندی یا سو نے کے نصاب کے برابر ہو تو ان میںبھی چالیسو اںحصہ زکوٰۃاد اکرنا واجب ہے یعنی ہر سو روپئے (100) پر 2:50 روپئے۔

(2) مال تجارت کی زکوٰۃکے احکام :

ہر قسم کے تجارتی سامان جو نصاب کو پوراکرتی ہو ںاور اس پر سال گزرگیاہو تو اسی کی قیمت کا چالیسواں حصہ زکوٰۃفرض ہے ۔مال تجارت میںسال گزرنے پر جو قیمت ہوگی اسی کا اعتبار ہے مگر شرط یہ ہے کہ شروع سال میںاس کی قیمت دوسو درم (نصاب چاندی)سے کم نہ ہو لیکن بعدمیںاسکی قیمت اتنی زیادہ ہو جائے کہ دو سو درم کے برابر ہو تو جس وقت سے قیمت بڑھی اسی وقت سے اس کے سال کی شروعات ہوگی ۔ 
مسئلہ :قیمت اسی جگہ کی ہو نی جاہئے جہاںمال تجارت ہے اور اصل کی زکوٰۃکے ساتھ نفع کی زکوٰۃبھی اداکرنی چاہئے اگر چہ نفع پر پو راسال نہ گزراہو ۔ مسئلہ :کرایہ پر چلانے کی دیگوں اور گھر وںپر زکوٰۃنہیںالبتہ انکے کر ایوںپر ہے۔ 

کھیتی پرزکوٰۃ :

جس زمین کو بارش یا چشموںیا نہروںنے پانی دیا اس پر عشرزکوٰۃ واجب ہے یعنی پیداوار کا دسواںحصہ اداکرناواجب ہے۔ اور جس زمین کو جانوروںکے ذریعہ یا کنویںسے سینچکر پانی دیاگیاہو تو اس پر نصف عشر (بیسواںحصہ )واجب ہو گا ۔ 
مسئلہ : عشر میںسال گزرناشرط نہیںہے بلکہ سال میںچند بار ایک کھیت میںکھیتی ہو ئی ہو تو ہر بار عشر یا نصف عشر واجب ہوگا ۔ 
مصارف زکوٰۃ۔:زکوٰۃسات لوگو ںکو دیناچاہئے 
(1) فقیر (جس کے پاس مال و اسباب بقدر نصاب نہ ہو )
(2) مسکین (جسکے پاس ایک وقت کا کھانا بھی نہ ہو )
(3)عامل (حاکم اسلام کی طرف سے زکوٰۃ حصول کرنے والا )
(4)مکاتب (آقاکو اسکے مقررہ پیسے دے کر آزادہونے والا غلام ) 
(5)قرضدار (جو اپناقرض اداکرنے کے بعد مالک نصاب نہ ہو ) 
(6)فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں)
(7)مسافر (جو وطن سے باہر ہو اور سفر کا سامان نہ رکھتاہو اگر چہ اپنے گھر میںمال مو جو د ہو ) ۔مسئلہ : زکوٰۃ کی ادائی صحیح ہو نے کے لئے شرط یہ ہیکہ جس کو زکوٰۃدی جا ئے اس کو مال زکوٰۃکا مالک اور قابض بنادیا چاہئے۔ مسئلہ : زکوٰۃ پورے سات اشخاص میںسے کسی ایک کو یا ہر ایک کو تھوڑ اتھو ڑا دیاجاسکتاہے ۔ زکوٰۃکی ادائیگی میںافضل یہ ہے کہ قرابت دار کو دیں۔