روزہ مکروہات
روزے کے مکروہات:
(1)کوئی چیزکا چکھنا یا چبانا (چکھنا یعنی زبان پر رکھے اور تھو ک دے یہ نہیںکہ حلق کے نیچے اتر جائے اس سے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے) 
(2)کلی کرنے یا پانی چڑھا نے میںزیادتی کرنا 
(3)غیبت جھوٹ وغیرہ بری باتیںکہنا 
(4)افطار دیرسے کرنا وغیرہ۔ مسئلہ :روزہ دار کو بخار یا کوئی بیما ری آجا ئے یا حاملہ کو کمزوری آجائے یا بھوک پیاس بہت زیادہ ہو جا ئے اور جان کے نقصان کا ڈر ہو توروزہ توڑنا جا ئز ہے ۔ اور عورت کوحیض ونفاس کی حالت پیش آئے تو بھی روزہ توڑنا جائزہے ۔مسئلہ:حالت حیض یا نفاس میںروزہ نہیں رکھنا چاہئے۔بلکہ ان کی قضا طہر(پاک )میںکرلیں ۔نماز کی طرح روزہ معاف نہیں ہوتا
مسئلہ :نذر (منت مانگے ہو ئے روزے رکھنا واجب ہے اگر کسی خا ص دن میںروزہ رکھنے کی نذر ما نگی ہو تو انہی خاص دنوںمیںروزہ رکھنا واجب ہے ۔ مسئلہ: یوم عا شورہ (محرم کی دسویںدن )کا روزہ کے ساتھ نواں یا گیارواںروزہ رکھنا، عرفہ (ذی الحجہ کی نویںتاریخ کا روزہ اور ایام بیض یعنی ہر مہینے کی 15 ,14 ,13ویںتین دن کا رو زہ رکھنا سنت ہے ۔ مسئلہ :شوال کی چھ روزے ، شعبان کی 15تاریخ کا روزہ، جمعہ ،پیر کا روزہ اور صوم داؤدی یعنی ایک دن کے بعد ایک دن روزہ رکھنا نفل ہے ۔ اورعیدین (عیدالفطر یا عیدالا ضحٰی ) کا روزہ ایام تشریق ذی الحجہ کی 11 ,12, 13تاریخ کا روزہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے۔ اور عورت کا اپنے شوہرکے اجازت کے بغیر نفل روزہ رکھنا مکروہ تنزہی ہے ۔