ارکان نماز

نماز
نماز کا حکم: نماز ہر مسلمان عاقل و بالغ (مردو عورت ) پرروزانہ پانچ وقت فرض ہے
نماز کے صحیح ہو نے کی شر طیں :نماز پڑنے کے قابل ہو نے کے لئے یہ چھ چیزیں ضروری ہیں جن کو شرائط نماز کہاجاتاہے۔ (1) جسم کا پاک ہونا (2) کپڑے کا پاک ہونا (3 ) جگہ کاپاک ہونا (4) ستر عورت (جسم کا چھپانا) (5) قبلہ روہونا (6) نیت کرنا ۔ 

نماز کے ارکان
نماز کے ارکان (اندر کے فرائض) سات ہیں
(1)تکبیر تحر یمہ
(2)قیام 
(3)قرات
(4) رکوع
(5)سجدہ
(6) قعدہ اخیرہ
(7)نماز کو اپنے فعل(کام )سے ختم کرنا ۔
ان کی مختصر تفصیل بیا ن کی جاتی ہے
(1)تکبیر تحریمہ: تکبیر تحریمہ یعنی نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہناہے۔ اللہ اکبرکہتے وقت یہ اچھاخیال رکھیںکہ لفظ اللہکے الف کو یا اکبر کے باکو نہ کہینچ یں اوراسی طرح اللہ کے ہ کے بعد الف کو ظا ہرنہ کریںورنہ تکبیرتحریمہ صحیح نہ ہوگی۔ سیدھے کھڑے ہو کر یاکوئی نماز بیٹھ کر پڑھ رہا ہو تو کمر نہ جھکا کے تکبیر کہنا چاہئے اور اگر مقتدی امام کے تکبیر تحریمہ سے پہلے تکبیر کہہ دے تو مقتدی کی نماز نہ ہو گی ۔
(2) قیام:قیام یعنی کھڑا ہو نا فرض ہے بشرط یہ کہ کو ئی عذر نہ ہو لیکن نفل نمازوںمیںقیام فرض نہیںبغیر عذر کے بھی بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ قیام میں ایک آیت کے مقدار کھڑے ہو نا فرض ہے ۔اگر کوئی امام کے رکوع میں جانے کی وجہ سے صرف تکبیر تحریمہ کہہ کے قیام کے مقدار سے کم کھڑے ہو کر رکوع میں چلے جا ئے تو اسکی نماز نہ ہوگی ۔
(3)قرات :قرات یعنی قرآن شر یف کی ایک آیت پڑھنا فرض ہے ۔ مقتدی امام کے پیچھے کسی نماز میںقرات نہ کریں بلکہ خامو ش کھڑے رہیںکیونکہ امام کی قرات مقتدی کی قرات ہے ۔قرات صحیح حروف کے ساتھ ادا ہو نی چاہئے ۔ (4)رکوع: رکو ع جھکنے کو کہتے ہیں۔کھڑے ہو کر رکوع کر نے میںدونوں ہاتھ گھٹنوںتک پہنچ جایں اور بیٹھ کر رکوع کر نے میں پیشا نی گھٹنوںکے مقا بل آجا ئے ۔
(5)سجدہ : زمین پر سر رکھنے کو کہتے ہیں ۔ اس طرح کہ پیشانی گھٹنے اور پاؤںکی کوئی ایک انگلی زمین پر لگی رہے اگر دنوںپاؤںبلکل اٹھ جائے تو سجدہ نہ ہوگا ۔سا ت ا عضا ء زمین پر لگنا واجب ہے ۔ دونوں پاؤ ںکی انگلیاںدونو ںگھٹنے دونوں ہاتھ پیشانی ( پیشانی کے ساتھ ناک بھی ہے)۔سجدہ ایسی سخت چیز پر کرنا کہ جس پر پیشانی ٹھرسکے ورنہ سجدہ نہ ہوگا ۔ پہلا سجدہ کرنے کے بعد بیٹھنے یا بیٹھنے کے قریب ہو نے سے پہلے دوسراسجدہ کر لے تو دوسرا سجدہ صحیح نہ ہوگا۔
(6)قعدہ اخیرہ :قعدہ اخیرہ یعنی نماز کی اخیر رکعت میںدونو ںسجدوںکے بعد بیٹھنا فرض ہے۔ اتنی دیر بیٹھنا کے جس میںتشہد (التحیات)پڑ ھ سکیں۔
(7)نماز کو اپنے فعل سے ختم کرنا:یعنی نماز کو ایسے کوئی کام کے ذریعہ ختم کرنا جو نماز کو توڑنے وا لی ہو مثلاقبلہ سے پھر جانا، بات کرنا وغیرہ۔