islam

فقہ حنفی کی تاریخ

Rate this Entry
Quote Originally Posted by islam View Post
فقہ حنفی کی تاریخ

جہاں تک شریعت میں علم فقہ کی فضیلت واہمیت کا تعلق ہے ، اہل علم اور ہر دیندار مسلمان اس سے بخوبی واقف ہے ، لیکن بدقسمتی سےہندوستان میں انگریزی دور میں ایک فرقہ جدید ( اہل حدیث )کے نام سے پیدا کیا گیا جس کے ذمہ بہت سارے کام لگائے گئے ، ان میں سے ایک اہم ترین کام جس کے لیئے یہ فرقہ جدید ( اہل حدیث ) کے نام سے وجود میں لایا گیا ، وہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور فقہ حنفی اور فقہاء احناف کی مخالفت وعداوت ہے ، اور اس فرقہ میں شامل ہرکس وناکس جاہل مجہول بلاخوف امام اعظم رحمہ اللہ پرطعن وتشنیع کرتا ہے ، لیکن ہمارے نزدیک تو ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسا کہ شاعر کہتا ہے وَلَومُ الخُفاش لاتضرُالشمسَ چمگادڑ کواگرسورج نظرنہیں آتا اور وہ سورج کوملامت کرے تو یہ سورج کوکوئی نقصان نہیں دیتا ، ایک دوسرا شاعرانہی لوگوں کے متعلق کیا خوب کہتا ہے

يا ناطح الجبل العالي ليكلمہ . أشفق على الرأس لا تشفق على الجبل

یعنی بلند ترین پہاڑ پرایک شخص اپنا سر مار رہا تہا تاکہ پہاڑ کو زخمی کرے توشاعر نے کہا کہ اپنے سر پر رحم کرپہاڑ پر رحم نہ کر
یہی حال فرقہ جدید ( اہل حدیث ) کا ہے کہاں امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور کہاں آج کل کی یہ قیامت کی نشانیاں ( چہ نسبت خاک را باعالم پاک ) اوراسی طرح فقہ حنفی کے خلاف رات دن بکواس کرنا اس فرقہ کے عوام وخواص کا محبوب مشغلہ ہے ، اور جاہل عوام کو گمراہ کرنے کے لیئے فقہ حنفی اور فقہاء احناف کی طرف جہوٹی باتیں منسوب کرنا اس فرقہ کے جاہل اداکاروں کا بہترین وظیفہ ہے ، لیکن جس چیزکی رفعت وبلندی کا فیصلہ اللہ تعالی فرما دے اس کو کون کیا نقصان پہنچائے گا بس اپناہی نقصان وخسارہ ہے ، اللہ تعالی فرقہ جدید ( اہل حدیث ) کے فتنہ سے عام اہل اسلام کی حفاظت فرمائے ، یہ تو مختصرطورپر اس فرقہ کی حقیقت واصلیت کی طرف ایک اشارہ تها۔

اب میں اصل موضوع سے متعلق چند کلمات لکهنا چاہتا ہوں ، علماء امت دو قسم پرمنحصرہیں ۔

1. حُفاظ حدیث : جنہوں نے دین کے خزانوں کی حفاظت کی اور اس کے صاف وشفاف چشموں کو تغیر وتکدر سے پاک وصاف رکہا

2. فقہاء اسلام : جن کے اقوال پرمخلوق میں فتوی کا دارو ومدار ہے یہ جماعت استنباط احکام کے ساتھ مخصوص ہے انہوں نےحلال وحرام جائز وناجائز امورکے قواعد کوضبط کرنے کا اہتمام کیا ، اور یہ زمین پرآسمانوں کی ستاروں کی مانندہیں ، کہ ان کی وجہ سے تاریکی میں بہٹکنے والےہدایت پاتےہیں کہانے پینے سے بہی زیادہ انسان ان کے محتاج ہیں ، اور ان کی اطاعت نص کی رُوسے ماں باپ سے بہی زیادہ فرض ہے کیونکہ أولوا الأمر سے مراد علماء وفقہاءہیں ، اور یہی جمہورامت کی رائے ہے ، اور ایک روایت میں اس سے مراد امراء المسلمین بهی ہیں ،

حضرت مسروق رحمہ اللہ کبار تابعی ہیں فرماتےہیں کہ میں صحابہ کی صحبت میں رہا ان کا علم چھ ( 6 ) افراد کو پہنچا ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عمر ، حضرت زید بن ثابت ، حضرت ابوالدرداء ، حضرت ابی بن کعب ،(رضی اللہ عنہم اجمعین ) اور ان چھ (6 ) کا علم دو ( 2 ) حضرات کو پہنچا ، حضرت علی ، حضرت عبداللہ بن مسعود ( رضی اللہ عنہم اجمعین) . التقریب للامام النووی

دین اور مذہب اورعلم امت میں اصحاب عبداللہ بن مسعود ، اور اصحاب زید بن ثابت ، اور اصحاب عبداللہ بن عمر ، اور اصحاب عبداللہ بن عباس ، رضی اللہ عنہم اجمعین سے پہیلا ، اور انہی چار ( 4 ) صحابہ کے اصحاب سے سارے آدمیوں کو علم پہنچا ہے ۔

صحابہ کے بعد ان کے شاگرد کوفہ میں علقمہ بن قَیس النخعی ، أسود النخعي ، عَمرو بن شُرحبيل ، مسروق الہمداني ، قاضي شُريح ، تهے یہ سب کے سب حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے اصحاب وشاگرد ہیں ، اور اکابرتابعین میں سےہیں ، اکابرصحابہ کی موجودگی میں فتوی دیتے تهے، اور وہ اس کو جائز رکہتے تهے۔

اس طبقہ کے بعد علم صحابہ کے حامل وامین ، ابراہیم النخعی ، عامرالشعبی ، سعید بن جُبیر اور ان کے بعدحماد بن ابی سلیمان اور سلیمان بن المعتمر اور سلیمان الاعمش ، اور مسعر بن کدام ، اوران کے بعد محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اور سفیان ثوری ، اور امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے بعد حفص بن غیاث ، اوروکیع بن الجراح ، اور اصحاب ابوحنیفہ مثل أبويوسف ألقاضي ، محمد بن حسن القاضي ، زُفربن ہذيل ، حسن بن زياد اللؤلؤي القاضي ، حماد بن أبي حنيفة رضی اللہ عنہم اجمعین

یہ ساری بحث تفصیل کے ساتھ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اعلام الموقعین اور شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب حجہ اللہ البالغہ میں لکہی ہے ، میں نے اس کا خلاصہ ذکرکیا ہے لہذا ان اقوال بالا کی روشنی میں فقہ حنفی کا سلسلہ بصورت شجرہ اس طرح ہے۔

فقہ حنفي كا شجرہ اورسند

حضرت خاتم الأنبياء صلى اللہ وسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ

حضرت علقمہ ، حضرت أسود النخعي ، حضرت عَمرو بن شُرحبيل ، حضرت مسروق الہمداني ، حضرت قاضي شُريح

حضرت إبراہيم النخعي

حضرت حمادبن سليمان ابي سليمان

حضرت أبوحنيفة

حضرت أبو يوسف ألقاضي ، حضرت محمد بن حسن القاضي ، حضرت زُفر بن ہذيل ، حضرت حسن بن زياد اللؤلؤي القاضي ،

حضرت حماد بن ابي حنيفة

(رضی اللہ عنہم اجمعین )

خلاصہ کلام یہ ہے کہ فقہ حنفی کا مَرجع کل خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کون ہیں ؟

ان کے فضائل ومناقب وکمالات کے لیئے ایک بہت بڑا دفتربهی ناکافی ہے ، مختصرا ان کے اوصاف عالیہ کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔

1. قدیم الاسلام ہونا

2. ابتدا سے انتہاء تک ذات اقدس سے قُرب تام اورشرف خدمت

3. مُعتمد ومَحرَم اسرارہونا

4. کثیر العلم ہونا ، شان مُعلمی وخوبی تعلیم سے مشرفہونا

5. حافظ اور اعلم بکتاب اللہ ہونا

6. علم و فقہ وسنت میں فوقیت اور فقہ وتفقہ میں باریک نظری

7. قُرب الہی اور وسیلہ الی اللہ ہونے میں امتیاز

8.ہیئت ظاہری ، سیرت طریقے اور شان و وقار میں سب سے زیادہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتہہ مشابہ ہونا

9. جن چار صحابہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن سی کہنے کا حکم دیا ، ان میں اول نام حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام لیااسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( تمسکوا بعہد ابن ام عبد ) یعنی ابن مسعود کی ہدایت اورحکم کو مضبوط پکڑے رہو

10. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ان کے علم وتفقہ پراعتماد کُلی ، اور اہل کوفہ کو ان کی اقتداء واطاعت اوران کا حکم ماننے کا امر حضرت علی اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی ان کے علم کتاب وسنت وعلم فقہ میں تبحر وکمال کی توثیق ۔

الحمد للہ فقہ حنفی اسی جلیل القدر عظیم المرتبہ کبیرالشان کثیر العلم صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی کے علم وتفقہ واقوال کا لب لباب ہے ، لہذا کوئى بهی جاہل کوڑمغز جب فقہ حنفی پرلعن طعن کرتا ہے ، تو اس کا اول نشانہ کون بنتا ہے ؟؟

حاصل کلام یہ ہے کہ جس علم کا مَرجع آخر اور خزینہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تهے ، وہ کبارتابعین کو پہنچا ، پهر ان سے ابراہيم النخعي کو پهر ان سے حماد بن سليمان ابي سليمان کو پهر ان سے امام اعظم ابوحنيفة کو پہنچا ، پهر ان سےابويوسف القاضي اور محمد بن حسن القاضي اور زُفربن ہذيل اور حسن بن زياد اللؤلؤي القاضي اور حماد بن ابي حنيفة، وغیرہم رحمہم اللہ کو پہنچا اور الحمد للہ وہی علم آج بہی فقہ حنفی کی صورت میں ہارے پاس موجود ہے ، یہی وہ علم تها جس کی تدوین وترویج کا اہتمام اکابرصحابہ نے اہتمام کتاب اللہ کے بعد اس زمانہ میں کیا ، امام أبوحنيفہ اور آپ کے تلامذہ کی ہی کوشش ومحنت وجد وجہد نے اس علم دین کومرتب ومدون کرکے ایسا آئین شریعت امت وملت کے سامنے رکہا ، جو حق وہدایت اور علم وعرفان اور دلائل وبراہین کی قوت سے بهرپور ہے ، اور اس علم کی عجیب وعظیم خصوصیت یہ ہے کہ چار پُشت تک تابعین کرام کے سینوں میں محفوظ رہنے کے بعد امت مسلمہ کوملا ، لہذا امام اعظم ابوحنیفہ کا علم وتفقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے علم کا مجموعہ ہے ، اور اسی کا نام فقہ حنفی ہے ، لہذاہندوستان میں انگریزی دور میں پیدا شدہ فرقہ جدید ( اہل حدیث ) میں شامل جہلاء وسفہاء کا فقہ حنفی کے خلاف لعن طعن اور رات دن بکواس وخرافات بکنے کا اول نشانہ کون بنتا ہے ؟؟ یقینا سب سے پہلے ان مسخروں کے بکواس کا نشانہ صحابہ کرام ہی بنتے ہیں کیونکہ فقہ حنفی انہی کے علم کا مجموعہ ہے اللہ تعالی ان بيوقوف وبے علم لوگوں کوہدایت دے ۔(آمین)
Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments