طہارت
کھڑے ہو کر وضو کرنا
سوال :ہمارے مکان کی جدید تعمیر ہوئی۔ اس میں واش بیسن نصب کئے گئے ہیں ۔میں اور میرے افراد خاندان کھڑے ہو کر وضو کر رہے ہیں ۔ کیا کھڑے ہو کر وضو کرنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے۔ یا بیٹھ کر ہی وضوکرنا چاہئے ۔
محمد مظفر عالم کشن باغ
جواب :کھڑے ہو کر وضو کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔ تاہم بیٹھ کر وضو کرنا آداب وضو میں سے ہے ۔جیسا کہ نور الایضاح ص 35 میں ہے من آداب الوضوء اربعۃ عشر شیئاً الجلوس فی مکان مرتفع ۔
اورادو و ظائف کیلئے وضو
سوال : ضعیف عمر میں اور شدید موسم کا لحاظ رکھتے ہوئے بغیر وضو بستر پرلیٹے ہوئے کونسی چیزوں کا ورد کیا جاسکتا ہے اور کونسی چیزوں کا نہیں ۔ بعض حضرات مختصر آیات اور درود شریف سے منع کرتے ہیں ۔اور بعض نہیں ۔ تسبیح فاطمہ اور دیگر وظائف بغیر وضو کے پڑھے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ ۔
احمد منیرالدین فاروقی نور خاں بازار
جواب : قرآن مجید کو چھونے کیلئے شرعاً وضو فرض ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لا یمسہ الا المطھرون( سورہ واقعۃ 79/56) ( اس کو صرف با وضو ہی چھوتے ہیں ) ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :لا یمس القرآن الا طاھر ۔قرآن مجید کو صرف با وضو ہی چھوے گا ( نسائی 58/8 ۔ 59 ) قرآن مجید کی تلاوت حدیث شریف کی روایت درود شریف اور دیگر اوراد وظائف کے ورد کیلئے وضو کرنا مستحب ہے ۔ الثالث مندوب للنوم علی طھارۃ ۔۔۔ و قرآن و حدیث و روایۃ و دراسۃ علم ۔۔۔ (نور الایضاح ص : 34 )۔ لہذا بغیر وضو قرآن شریف کی تلاوت درود شریف تسبیح فاطمہ اور دیگر وظائف کا ورد کرنا شرعاً جائز ہے۔
طہارت کیلئے ڈھیلے کا استعمال
سوال : اگر طہارت کیلئے پانی اور ڈھیلا دونوں ہو ں تو ہمیں استعمال کیلئے زیادہ اہمیت کس کو دینا چاہئے ۔ کیا پانی موجو د نہیں رہنے کی صورت میں ہمیں ڈھیلا استعمال کرنا چاہئے ۔
ایم اے عزیز میدک
جواب : طہارت سے اصل مقصود نجاست کا دور کرنا ہے ۔ طہارت کے لئے پانی کا استعمال پسندیدہ ہے ۔ ڈھیلا اورپانی کا استعمال افضل ہے ۔ نور الایضاح ص : 28 میں ہے ۔ و ان یستنجی بحجر منق و نحوہ والغسل بالماء احب و الافضل الجمع بین الماء و الحجر ۔ اور جو لوگ طہارت کیلئے ڈھیلا اور پانی دونوں کا استعمال کرتے ہیں ان کی قرآن مجید میں تعریف آئی ہے ۔ فیہ رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المطھرین ۔( التوبۃ 108/9 ) ۔ (اس میں ایسے چند لوگ ہیں جو خوب پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاکی کا اہتمام کرنے والوں کو پسند فرماتاہے )۔ یہ آیت شریفہ مسجد قباء کی تعریف میں نازل ہوئی جس میں وہاں رہنے والے انصار صحابہ کی صفائی و ستھرائی کی تعریف کی گئی ۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ تم کیسے طہارت حاصل کرتے ہو تو انھوں نے کہا ہم طہارت میں پتھر اور پانی کا استعمال کرتے ہیں تو آپ نے دیگر صحابہ کوبھی اس کا حکم فرمایا ۔ فقالوا کنا نتبع الجمارۃ بالماء فقا ل ھو ذاک فعلیکموہ (تفسیر جلالین ص : 167 ) ۔
سوتی یا نائلان کے جراب پر مسح کرنا
سوال : جرابوں پر مسح کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اولن سوتی نائلان کے جراب یعنی غیر چرمی موزوں پر مسح کا شریعت میں کیا حکم ہے ۔ اگر کسی شخص نے نائلان کے جراب دو عدد ایک ساتھ ایک کے اوپر ایک پہن رکھے ہوں تو مسح کیسے کریں ۔
محمد انصار علی ایڈوکیٹ ہمایوں نگر
جواب : چرمی موزوں پر مسح درست ہے ۔ سوتی نائلان یا اولن کے پاتابے جو آسانی سے اترتے ہیں اور اس میں قدم تک پانی پہنچتا ہے ان پر مسح کرنا درست نہیں ۔ اور نور الایضاح باب المسح علی الخفین میں ہے یصح المسح علی الخفین ۔۔۔ و یشترط لجواز المسح علی الخفین سبعۃ شرائط ۔۔۔ السادس منعھما وصول الماء الی الجسد ۔ نائلان وغیرہ موزے پر چونکہ اس میں پانی جسم تک پہنچتا ہے اس لئے خواہ اس کو ایک کے اوپر ایک پہناجائے مسح کرنا شرعاً درست نہیں ۔
معذور کا وضو
سوال : میں کاغذنگر عادل آباد کا متوطن ہو ں مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے کہ میں طہارت برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ اٹھتے بیٹھتے پیشاب کے قطرے خارج ہوتے رہتے ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں نماز اور روزہ رکھ سکتا ہوں ۔
محمد فضل اللہ بیگ کاغذنگر
جواب : صورت مسؤل عنھا میں آپ معذور ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ ہر نماز کے وقت تازہ وضو کر کے نماز پڑھیں فرض نماز کے ساتھ اس کے نوافل اور سنتیں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔جس نماز کیلئے وضو کیا گیا تھا اس کا وقت ختم ہوتے ہی وضو بھی ختم ہوجائیگا اب دوسری نماز کیلئے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا ۔ نور الایضاح ص : 52 ۔ 53 میں ہے و تتوضأ المستحاضۃ و من بہ عذر کسلس بول و استطلاق بطن لوقت کل فرض و یصلون بہ ما شاء وا من الفرائض والنوافل و یبطل وضوء المعذورین بخروج الوقت فقط ۔ روزہ رکھنے میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں ۔
غسل میں وضو
سوال : اگر کوئی شخص غسل کرتے ہوئے تمام بدن کو ا چھی طرح پانی اور صابن سے د ھولے، کلی بھی کرے اور ناک بھی پانی سے صاف کرے لیکن نہ تو اس نے وضو کی نیت کی اور نہ ترتیب وار اعضاء وضو کو دھویا۔ معلوم کرنا یہ ہے کہ اس طرح کا غسل اور وضو مکمل ہوا یا نہیں یا اس کو دوبارہ وضو کرنا ہوگا ؟
اسلم قریشی ، فلک نما
جواب : غسل میں تین امور فرض ہیں : کلی کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا اور سارے بدن پر پانی ڈالنا۔فتاوی عالمگیری ج : 1 ص : 13 باب الغسل میں ہے الفصل الاول فی فرائضہ وھی ثلاث المضمضۃ والاستنشاق و غسل جمیع البدن۔ فرض کی تکمیل سے غسل ہوگیا۔ غسل میں خود بخود وضو بھی ہوجاتا ہے ۔
ٹیک لگاکر سونے سے وضو کا ٹوٹنا
سوال :میں نے حدیث شریف میں چالیس دن مسلسل تکبیرتحریمہ کے ساتھ پنچ وقتہ نماز با جماعت ادا کرنے کی فضیلت پڑھی۔ اور میں نے اس پر عمل کرنے کا پکا ارادہ کرلیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 19 دن ہر نماز تکبیر تحریمہ کے ساتھ امام کے پیچھے ادا کی۔ بیسویں دن عصر کی نماز پڑھنے کے لئے میں اپنے ضروری کام چھوڑ کر وقت سے پہلے مسجد پہنچا اور وضو کر کے ایک ستون کو ٹیک لگاکر نماز کا انتظار کرتے ہوئے بیٹھا۔ اسی اثناء میں مجھے نیند لگ گئی۔ اقامت کے وقت نیند سے بیدار ہوا تو میں فوراً وضو بنانے کے لئے گیا۔ وضو کر کے واپس ہونے تک امام صاحب ایک رکعت مکمل کرلئے تھے ۔ عرض کرنا یہ ہے کہ اس وقت مجھے وضو کرنا ضروری تھا یا میں باوضو تھا۔ براہ کرم مجھے جلد جواب عنایت فرمائیں۔
ڈاکٹر یوسف حسین ، چلکل گوڑہ
جواب : اگر کوئی شخص باوضو ہو اور اس طرح ٹیکہ لگاکر بیٹھے کہ اس کا مقعد زمین پر متمکن رہے اور نیند لگ جائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا ۔ اگرچیکہ وہ ایسی چیز سے ٹیک لگایا ہو کہ اگر اس سہارے کو ہٹادیا جائے تو وہ گرجاتا ہو۔ نورالایضاح فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضوء ص : 38 میں ہے : ونوم متمکن ولو مستندا الی شئی لو ازیل سقط علی الظاھر فیھما۔ پس دریافت شدہ مسئلہ میں ستون سے ٹیکہ لگا کر آپ اس طرح سوجائیں کہ مقعد زمین پر جمی ہوئی رہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور اگر زمین سے اٹھ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ بہر حال حدیث شریف پر عمل کرنے اور نماز با جماعت تکبیر تحریمہ کے ساتھ ادا کرنے کے آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عمل کی ہمت و توفیق عطا کرے۔