دوبارہ اسلام قبول کرنا
سوال : ایک غیر مسلم لڑکی اسلام قبول کی بعدازاں اس کے خاندان والے اس کو مذہب اسلام چھوڑنے پر اصرار کئے وہ مجبوراً اسلام سے برگشتہ ہوگئی اور ان کے مذہب کے مطابق پوجا کرنے لگی ۔ اس کے بعد دوبارہ وہ مسلمان ہوگئی ۔کیا اس کا دوبارہ اسلام لانا شریعت میں قابل قبول ہے ؟ اور اس پر کوئی کفارہ لازم آئیگا ؟ ۔
میر احمد علی مغلپورہ

جواب : لڑکی کا دوبارہ اسلام لانا شرعاً مقبول ہے لڑکی کو چاہئے کہ وہ اپنے پچھلے عمل سے توبہ کرے اور پکا عہد کرے کہ پھر کبھی آئندہ وہ اسلام سے برگشتہ نہیں ہوگی ۔توبہ خود کفارہ ہے اس کے سوا اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کو اسلامی احکامات سے واقف کرائیں ۔ اور اس کے عقیدے کو درست رکھیں تاکہ اس میں اسلام کی محبت اور استقامت پیدا ہو ۔ در مختار کتاب الجھاد باب المرتد میں ہے و کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ الا الکافر بسب نبی او الشیخین او أحدھما و السحر والزندقۃ ۔