ٹیک لگاکر سونے سے وضو کا ٹوٹنا
سوال :میں نے حدیث شریف میں چالیس دن مسلسل تکبیرتحریمہ کے ساتھ پنچ وقتہ نماز با جماعت ادا کرنے کی فضیلت پڑھی۔ اور میں نے اس پر عمل کرنے کا پکا ارادہ کرلیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 19 دن ہر نماز تکبیر تحریمہ کے ساتھ امام کے پیچھے ادا کی۔ بیسویں دن عصر کی نماز پڑھنے کے لئے میں اپنے ضروری کام چھوڑ کر وقت سے پہلے مسجد پہنچا اور وضو کر کے ایک ستون کو ٹیک لگاکر نماز کا انتظار کرتے ہوئے بیٹھا۔ اسی اثناء میں مجھے نیند لگ گئی۔ اقامت کے وقت نیند سے بیدار ہوا تو میں فوراً وضو بنانے کے لئے گیا۔ وضو کر کے واپس ہونے تک امام صاحب ایک رکعت مکمل کرلئے تھے ۔ عرض کرنا یہ ہے کہ اس وقت مجھے وضو کرنا ضروری تھا یا میں باوضو تھا۔ براہ کرم مجھے جلد جواب عنایت فرمائیں۔
ڈاکٹر یوسف حسین ، چلکل گوڑہ
جواب : اگر کوئی شخص باوضو ہو اور اس طرح ٹیکہ لگاکر بیٹھے کہ اس کا مقعد زمین پر متمکن رہے اور نیند لگ جائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا ۔ اگرچیکہ وہ ایسی چیز سے ٹیک لگایا ہو کہ اگر اس سہارے کو ہٹادیا جائے تو وہ گرجاتا ہو۔ نورالایضاح فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضوء ص : 38 میں ہے : ونوم متمکن ولو مستندا الی شئی لو ازیل سقط علی الظاھر فیھما۔ پس دریافت شدہ مسئلہ میں ستون سے ٹیکہ لگا کر آپ اس طرح سوجائیں کہ مقعد زمین پر جمی ہوئی رہے تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور اگر زمین سے اٹھ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ بہر حال حدیث شریف پر عمل کرنے اور نماز با جماعت تکبیر تحریمہ کے ساتھ ادا کرنے کے آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عمل کی ہمت و توفیق عطا کرے۔