ظہر اور عصر کی نماز کو لمبی کرنا

سوال : ہمارے محلے کی مسجد میں امام صاحب ہمیشہ ظہر اور عصر کی نماز لمبی پڑھاتے ہیں جو تقریباً 10 تا 12 منٹ کی ہوتی ہے ان کے اس عمل سے مصلی سخت ناراض ہوتے ہیں ۔ براہ مہربانی آپ یہ بتائیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو نمازوں کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے۔ یا کم از کم ان دو نمازوں میں کتنی آیتیں پڑھ سکتے ہیں۔
مصلیان مسجد عیدی بازار
جواب : حالت حضر میں فجر کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ 40 یا 50 آیات اور ظہر میں اس کے مثل یا اس سے کچھ کم آیتیں پڑھنا اور عصر و عشاء کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ 20 آیات پڑھنا اور مغرب کی ہر رکعت میں ایک مختصر سورہ پڑھنا مسنون ہے ۔ و سنتھا فی الحضر ان یقرأ فی الفجر فی الرکعتین بأربعین او خمسین آیۃ سوی فاتحۃ الکتاب و فی الظہر ذکر فی الجامع الصغیر مثل الفجر و ذکر فی الاصل او دونہ و فی العصر والعشاء فی الرکعتین عشرین آیۃ سوی فاتحۃ الکتاب و فی المغرب یقرأ فی کل رکعۃ سورۃ قصیرۃ (عالمگیری ج : 1 ص : 77) ۔ سورۃ الحجرات سے سورۃ البروج تک کی سورتوں کو طوال مفصل کہا جاتا ہے اور سورۃ البروج سے سورۃ البینۃ یعنی لم یکن الذین تک کی سورتوں کو اوساط مفصل اور لم یکن الذین سے سورۃ الناس تک کی سورتوں کو قصار مفصل کہتے ہیں ۔ فجر اور ظہر میں طوال مفصل اور عصر اور عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل پڑھنا مستحب ہے ۔ عالمگیری ج : 1 ص : 77 میں ہے و استحسنوا فی الحضر طوال المفصل فی الفجر والظہر و اوساطہ فی العصر والعشاء و قصارہ فی المغرب کذا فی الوقایۃ و طوال المفصل من الحجرات الی البروج والاوساط من سورۃ البروج الی لم یکن و القصار من سورۃ لم یکن الی الاخر ھکذا فی المحیط امام کو مذکورہ مستحب قرا ء ت پر اکتفاء کرنا چاہئے۔ مستحب قراء ت سے زیادہ پڑھکر قوم کیلئے ثقل و دشواری کا باعث نہیں بننا چاہئے و لا یزید علی القراء ۃ المستحبۃ ولا یثقل علی القوم ولکن یخفف بعد ان یکون علی التمام والاستحباب کذا فی المضمرات ( عالمگیری ج : 1 ص : 78 ) حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو نماز کو ہلکی پڑھائے کیونکہ تم میں بیمار کمزور عمر رسیدہ ہوتے ہیں ۔اور جب تم تنہا پڑھو تو جتنی چاہئے لمبی نماز پڑھو ۔ ( بخاری و مسلم بحوالہ مشکوۃ المصابیح باب ما علی الامام الفصل الاول ص : 101 ) ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی اور مکمل نماز پڑھایا کرتے ۔ میں نے آپ کے بعد کسی امام کے پیچھے کبھی ایسی نمازنہیں پڑھی جو مختصر بھی ہو اور مکمل بھی عن انس قال ما صلیت وراء امام قط اخف صلوۃ و اتم صلوۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم و ان کان لیسمع بکاء الصبی فیخفف مخافۃ أن تفتن امہ متفق علیہ ( نفس حوالہ ) ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص سے مروی ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری بات مجھ سے ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو ان کیلئے نماز ہلکی پڑھاؤ ۔ عن عثمان بن ابی العاص قال آخر ما عھد الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اممت قوما فاخف لھم الصلوۃ رواہ مسلم ( مشکوۃ المصابیح ص : 101) پس صورت مسؤلہ میں ظہر کی نماز میں طوال مفصل یا سورہ فاتحہ کے علاوہ دو رکعتوں میں 40 یا 50 آیات یا اس سے کچھ کم پڑھنا چاہئے ۔ اور عصر میں اوساط مفصل یا دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ بیس آیات پڑھنا چاہئے ۔ چونکہ جماعت میں کمزور ضعیف عمر رسیدہ بیمار اور بعض کسی کام کی وجہ سے جلد جانا چاہتے ہیں اس لئے امام مصلیوں کی سہولت و راحت کیلئے مستحب قراء ت سے زیادہ نہ پڑھے ۔