علم فقہ کی فضیلت

علماء کرام فرماتے ہیں کہ کتب فقہ کا مطالعہ کرنا قیام اللیل سے(1) بہتر ہے۔ (2)( خلاصہ از درمختار) صاحب ملتقط نے حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے یہ روایت کیا ہے کہ حضرت امام محمد علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ انسان کو سب سے پہلے حلال و حرام اور احکام شرعیہ ومسائل فقہیہ کا علم حاصل کرنا چاہیے اس کے مقابلے میں اسے دیگر علوم کو ترجیح نہیں دینی چاہیے صرف ان ہی میں انہماک مناسب ہے ۔(3)
تمام علوم میں علم فقہ ہی اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ اشرف و اعلیٰ ہے۔ کسی صاحبِ ذوق نے کیا خوب کہا ہے ؎

إِذَا مَا اعْتَزَّ ذُو عِلْمٍ بِعِلْمٍ فَعِلْمُ الْفِقْہِ أَوْلٰی بِاِعْتِزَازٍ
فَکَمْ طِیْبٍ یَّفُوْحُ وَلا کَمِسْکٍ وَکَمْ طَیْرٍ یَّطِیْرُ وَلا کَبَازِی(4)

مطلب :

جب کوئی ذی علم کسی علم سے عزوشرف حاصل کرنا چاہے تو صرف علم فقہ ہی کو یہ عظمت حاصل ہے کہ اس سے عزوشرف حاصل کیا جائے کیونکہ خوشبوئیں تو ساری مہکتی ہیں لیکن مشک جیسی کوئی خوشبو نہیں اورپرندے تو سب ہی اڑتے ہیں لیکن ہر ایک کا اڑنا باز جیسا نہیں ہے۔
علم فقہ کی عظمت و فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تعریف فرمائی اور اس کو لفظ ''خیر''سے تعبیر فرمایا جو کسی شے کی مدح میں ایک جامع اور وسیع المفہوم لفظ ہے فرمایا :

(وَمَنۡ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوۡتِیَ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ؕ) (5)
یعنی جس کو حکمت دی گئی اسے یقیناً خیر کثیر عطا کی گئی ۔ ارباب تفسیر نے لفظ حکمت کی تفسیر فقہ سے فرمائی ہے اس تفسیر کی روشنی
میں علم فقہ خیر کثیر ہے اور فقہائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے خیر کثیر سے نوازا ہے حضور شافع یوم النشور، شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: مَن یُّرِدِ اللہُ بہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ(6) اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں فقیہ بنادیتا ہے۔
علامہ ابن نجیم ''الاشبا ہ والنظائر ''میں فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن بندوں سے ہر شے کے بارے میں سوال کیا جائے گا لیکن علم نافع جو موصل اِلَی اللہ ہو اور حسن نیت اور اخلاص عمل کے ساتھ آفات نفس سے بچنے کے لئے حاصل کیا گیا اور اس کے بارے میں کوئی سوال نہ ہوگا کیونکہ وہ خیر محض ہے۔(1)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو اٹھائے گا پھر فرمائے گا:اے علماء میں نے تمہیں اپنا علم نہیں دیا مگر اس لئے کہ میں تمہیں جانتا تھا اور میں نے تمہیں اپنا علم اس لئے نہیں دیا کہ میں تمہیں عذاب دوں۔ جاؤ میں نے تم سب کو بخش دیا۔(2)
یہ وہ لوگ ہیں جن کا علم و عمل خالصتاً لو جہ اللہ ہے اور جنہوں نے (وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ) (3)کے مقتضی کو سمجھا اور اس پر عمل فرمایا۔ علماء فرماتے ہیں کہ ایسے علماء صالحین سے قیامت میں ان کے علم سے متعلق سوال اس لئے بھی نہ ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دعا کرنے کا حکم دیا (رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا) (4) اے رب تو مجھے علم عظیم عطا فرما کر درجات بلند فرما۔تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیارے حبیب سے اور آپ کی اتباع میں آپ کی امت سے زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کا طالب ہے اس لئے یہ اس کی شان کرم نہیں ہے کہ یہ حکم دینے کے بعد پھر علماء سے ان کے علم کے بارے میں سوال کرے۔ اس لئے فقہ کی مدح و ثناء اور اس کی فضیلت میں کہا گیا ہے۔

وَخَیْرُ عُلُوْمٍ عِلْمُ فِقْہٍ ِلاَ نَّہٗ یَکُوْنُ إِلٰی کُلِّ الْعُلُوْمِ تَوَسُّلا
فَإِنَّ فَقِیْھًا وَّاحِداً مُّتَوَرِّعًا عَلٰی أَلْفِ ذِیْ زُھْدٍ تَفَضَّلَ وَاعْتَلٰی(5)

ترجمہ : تمام علوم کے مقابلہ میں علم فقہ ہی سب سے بہتر علم ہے کیونکہ یہی علم تمام عظمتوں اور بلندیوں کے لئے وسیلہ و
ذریعہ ہے بلاشبہ ایک صاحب ورع وتقویٰ فقیہ ہزار عابدوں، زاہدوں پر فضیلت و بلند ی رکھتا ہے۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاجو علم و معرفت کی عظمتوں کے حامل ہیں:

مَا الْفَضْلُ إِلَّا لِأَھْلِ الْعِلْمِ اَنَّھُمْ عَلَی الْھُدٰ ی لِمَنِ اسْتَھدٰ ی أَدَّلَاءُ
وَوَزْنُ کُلِّ امْرِیئٍ مَّا کَانَ یُحْسِنُہٗ وَالْجَاھِلُوْنَ لِأَھْلِ الْعِلْمِ أَعْدَاءُ
فَفُزْ بِعِلْمٍ وَّلَا تَجْھَلْ بِہٖ أَبَداً اَلنَّاسُ مَوْتٰی وَأَھْلُ الْعِلْمِ أَحْیَاءُ(1)

مطلب:

فضل و شرف تو صرف علمائے شریعت کے لئے ہی ہے کیونکہ یہی علماء رشد و ہدایت چاہنے والوں کی ہدایت کے راہ نماہیں۔ ہر شخص کی قدرو قیمت اس کے حسن عمل سے ہے اور جاہل و بے علم لوگ اہلِ علم کے دشمن ہیں۔ پس تم حصول علم میں کامیابی حاصل کرو اور جہالت سے ہمیشہ بچتے رہو کیونکہ اہلِ علم حیات اَبدی پاتے ہیں اور جاہل عوام بحالت زندگی بھی مردہ ہیں۔
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ''احیاء العلوم''میں فرماتے ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ ''حکمت (یعنی تَفَقُّہ فِی الدِّیْن) اہل شرف کے شرف کو بڑھاتی ہے غلام کا درجہ بلند کرتی ہے اور اسے شاہوں کی مجلسوں میں بٹھا دیتی ہے۔''(2)اور یہ بھی ایک مشہور مقولہ ہے: لَوْلا الْعُلَمَاءُ لَھَلَکَ الْاُمَرَاءُ (3) اگر علماء نہ ہوتے تو امراء ہلاک ہوجاتے ۔مطلب یہ کہ امراء جب اپنی انانیت ، امارت اور حکومت کے زعم میں اللہ و رسول(عزوجل وصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی نافرمانی اور خواہش نفس کی پیروی میں کفر و ضلالت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اس وقت علماء حق ہی انہیں اس سے روکتے ہیں اور عذاب آخرت سے انہیں بچاتے ہیں۔

شرعی اور فقہی اعتبار سے علم کی اقسام:

شرعی نقطہ نگاہ سے حصولِ علم کی کئی قسمیں ہیں۔ پہلی قسم تو وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا شریعت میں ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض عین ہے جیسے عقائد اسلام کا علم کہ اگر وہ اسلام کے ضروری عقائد کو نہ جانے گا جو کہ اسلام کی بنیاد ہیں تو وہ کس طرح اسلام پر قائم رہے گا اور جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جو اسلام کے پانچ ارکان سے ہیں ان پر عمل کرنے کے لئے ان کے فرائض وواجبات اورضروری مسائل کا علم، یہ علم کہ شریعت میں حلال کیا ہے اور اس چیز کا علم کہ کن کن چیزوں سے دین ختم اور برباد ہوجاتا ہے تاکہ ایسی چیزوں سے بچے اور دور رہے اور فرائض و واجبات کی ادائیگی صحیح طریقہ سے انجام دے اور متشابہات میں مبتلا نہ ہو