مشاہیرعالم کی نظر میں
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
مشاہیرعالم کی نظر میں
مرتب: شاہ محمد فصیح الدین نظامی ، مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد ،دکن
شیخ العرب والعجم حضرت شاہ امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ
’’ان دنوں ایک عجیب وغریب کتاب لاجواب مسمی بانوار احمدی مصنفہ حضرت علامۂ زماں وفرید دوراں، عالم باعمل و فاضل بے بدل، جامع علوم ظاہری و باطنی عارف باللہ مولوی محمد انوار اللہ حنفی وچشتی سلمہ اللہ تعالی فقیر کی نظر سے گزری اور بلسان حق ترجمان مصنف علامہ اول سے آخر تک بغور سنی تو اس کتاب کے ہر ہر مسئلہ کی تحقیق محققانہ میں تائید ربانی پائی گئی کہ اس کا ایک ایک جملہ اور فقرہ امداد مذہب اور مشرب اہل حق کی کررہا ہے اور حق کی طرف بلاتا ہے‘‘۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ونصلی علی سیدنا محمد نبی الکریم
فقیربر مضمون ایں کتاب ازاول تا آخر بخوبی مطلع شد بغایت پسند ید وخوشنود گردید فی الحقیقت ایں ہدایتے است طالبان صادق راوتنبیہی است مرآں ناتجربہ کاراں ناآشنارامابین شریعت و طریقت مغائر ت می گو یند و ہر دوراخلاف مذہب اہلِ تحقیق لازم و ملزوم نمی دانند حالانکہ مذہب و معائنہ حقانیاںاین است کہ ایمان دد جزداردیکے اقراربلساں چوں مومن مقر توحید الہی شد وتمام جوارح ظاہر ی خودرامنبع احکام الہی وارشاد حضرت رسالت پناہی ساخت و سرمورقبہ ظاہری خو دراازقلادہ انقیاد جناب باری بیرو ن نیاورد اقرار بلساں ازو صادق شد و بموجب شرع شریف مومن ومسلم شد لیکن ہنوز تصدیق بالقلب ازو واقع نشدہ تاآنکہ ازمرتبہ انقیا د ظاہری تر قی کر دہ قلب خودراہم بہمہ وجو ہ مطیع مر ضیات الٰہی ساختہ ہمہ مشیت ہائے خودرا درمشیت موجود حقیقی فناسازدوبالکلیہ ازمطلوبات خوددل راپر داختہ باطن خودرانیزدردست رضاو تسلیم الہی تسلیم نماید ایں وقت تصدیق بالقلب ازو صادق آمدو مر تبئہ ایمان کامل حاصل شد ودرمقام طریقت رسید پس مر تبہ اول شریعت است ومرتبہ ثانی طریقت وبے یکے دیگرے ہرگزحاصل نمی شود ومعنی حدیث انما الاعمال بالنیات ہمیں تصدیق بالقلب است وللہ درالمولف دام فیضہ کہ تو ضیح ہمیں حدیث شریف جامع باحسن وجوہ واوثق ثبوت ازآیات بینات واحادیث مستندات نمودہ کسے رادریں کتاب مجال گرفتن نیست حقا کہ طالبانِ شریعت وطر یقت راانواراللہ است ہر کہ در لمعات ایں انوارسالک خواہدشد بتائیدِ الہی بمنزلِ مطلوب خواہد رسید واللہ ولی الھد ایۃ والارشادمنہ الامداد والسداد فقط
حررہ الفقیرامداد اللہ چشتی مہاجرمکہ 
حضرت علامہ عبدالحی فرنگی محلی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ
نے اپنی کتاب ’’حل المغلق فی بحث المجہول المطلق‘‘ میں حضرت شیخ الاسلام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایاہے۔
الَّفتُھَاحِےنَ قِرَاۃِ الذّکِی المُتَوَقِّد المَولَوی الحَافِظ مُحَمَّد اَنوَارُ اللّٰہ بِن المولَوی شُجَاعُ الدِّین الحَےدرآبادِی۔
ترجمہ: اس کتاب کو میں نے اس وقت تحریر کیا جب کہ انتہائی ذہین و فطین مولوی حافظ محمد انواراللہ ولد مولوی شجاع الدین حیدرآبادی زیر درس تھے۔
حضرت علامہ مفتی محمد رکن الدین صاحب علیہ الرحمہ
شیخ الافضل واستاذ الاکمل، قدوۃ العلماء الکرام وعمدۃ الفضلاء العظام، جامع شریعت و طریقت شیخ الاسلام حضرت مولانا مولوی حاجی حافظ محمدانوار اللہ نوراللہ مرقدہ، المخاطب بہ خان بہادر نواب فضیلت جنگ کی ذ ات ستودہ صفات حین حیات اہل زمن کیلئے عموماً اور اہل وطن کے لئے خصوصاً باعث فخر ومباہات تھی۔ خدائے پاک نے آپ کو حسب ونسب اور وجاہت ظاہری و باطنی میں ہر طرح سے ممتاز فرمایاتھا اس امتیاز کے ساتھ آپ کے وجود باوجود سے ملک وملت کو جو فیض و انوار حاصل ہوئے وہ اسم بامسمی تھے راقم الحروف نے1308ھ سے سن وصال 1336ھ تک 29سال خدمت میں رہ کر آپ کے زہد و تقوی، دینداری اور عبادات مالی وبدنی کو بہ چشم خود دیکھا اور ہر امر کو شریعت بیضاء کے مطابق پایا۔ اس لئے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ کی ہستی اس زمانہ میں بہ اعتبار اعمال کے برگزید گان امت مرحومہ سابق اولیاء اللہ وعلماء باللہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی مقدس ہستیوں کا نمونہ تھی۔ 
اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں 
آصف جاہ سابع (سابق مملکت آصفیہ)
مولوی محمد انوار اللہ خان بہادر فضیلت جنگ بہادر (علیہ الرحمہ)اس ملک کے مشائخ عظام میں سے ایک عالم باعمل اور فاضل اجل تھے اور اپنے تقدس و تورع و ایثار نفس وغیرہ خوبیوں کی وجہ سے عامتہ المسلمین کی نظروں میں بڑی وقعت رکھتے تھے۔ وہ والد مرحوم اور میرے نیز میرے دو بچوں کے استاد بھی تھے اور ترویج علوم دینیہ کے لئے مدرسہ نظامیہ قائم کیا تھا جہاں اکثر ممالک بعیدہ سے طالبان علوم دینیہ آکر فیوض معارف و عوارف سے متمتع ہوتے ہیں، مولوی صاحب کو میں نے اپنی تخت نشینی کے بعد ناظم امور مذہبی اور صدر الصدور مقرر کیا تھا اور مظفر جنگ کے انتقال ہونے پر معین المہامی اور امور مذہبی کے عہدہ جلیلہ پر مامور کیا مولوی صاحب نے سررشتہ امور مذہبی میں جو اصلاحات شروع کیں وہ قابل قدر ہیں اگر وہ تکمیل کو پہنچائی جائیں تو یہ سر رشتہ خاطر خواہ ترقی کر سکے گا۔ بلحاظ ان فیوضات کے مولوی صاحب موصوف کی وفات سے ملک اور قوم کو نقصان عظیم پہونچا اور مجھ کو نہ صرف ان وجوہ سے بلکہ تلمذ کے خاص تعلق کے باعث مولوی صاحب مرحوم کی جدائی کا سخت افسوس ہے۔ 
صاحبزادہ میر احمد الدین علی خاں ، ایم۔اے
مولوی انوار اللہ خاں صاحب المخاطب بہ نواب فضیلت جنگ مرحوم جو اس زمانے میں اپنی علمی ادبی خدمات میں ممتاز تھے ان کو (سلطان العلوم کی) عربی دینی تعلیم کے لئے مقرر کیاگیا۔ مولوی انوار اللہ خاں صاحب بہادرمدرسہ نظامیہ کے بانی اور صدر المھام امور مذہبی حیدرآباد کی مایہ ناز ہستیوں میں سے تھے۔ نہ صرف ایک زبردست عالم بلکہ اعلی درجہ کے انشاء پرداز بھی تھے۔ انہوں نے متعدد موضوعوں پر اردو کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں اکثر نہایت اہم ہیں اور اردو زبان میں اپنی قسم کی پہلی کتابیں سمجھی جاتی ہیں۔(6)
حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ
امام احمد رضا خاں رضا محدث بریلی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ الاسلام کے نام تحریر کردہ مکتوبات میں ایک مقام پر تحریر فرمایا ہے۔
’’کل تصانیف گرامی کا شوق ہے، اگر بہ قیمت ملتی ہوں، قیمت سے اطلاع بخشی جائے دو جلد قادیانی مخذول کے چند صفحات دیکھے تھے، ایک صاحب سے ان کی تعریف کی وہ لے گئے۔‘‘
محقق کبیر عالم جلیل مولانا محمد علی الحوبانی 
ایڈیٹر مجلہ ’’العروبۃ‘‘ دمشق
مجھے اس جامعہ میں آنے اور آپ حضرات سے ملاقات کر کے بے انتہاء مسرت و خوشی ہوئی میں نے اس سے قبل جامعہ عثمانیہ کا معائنہ کیا اس خوبصورت عمارت اور علوم عربیہ مغربیہ کی تعلیم نے جو تاثرات میرے قلب و دماغ میں پیدا کئے وہ نہایت فرحت افزاء ہیں۔
جامعہ عثمانیہ کی عظیم عمارت قصر حمراء کی یاد کو تازہ کرتی ہے جہاں علوم عصریہ جدیدہ کی تعلیم وتدریس باحسن الوجوہ ہوا کرتی ہے لیکن اس جامعہ سے جو تاثرات میرے دل و دماغ میں پیدا ہوئے وہ جامعہ عثمانیہ کے تاثرات سے کہیں زیادہ اور نہایت ہی روح افزاء و خوشگوار ہیں جہاں علوم دینیہ مشرقیہ کی حفاظت اور نشر و اشاعت سے دین و ملت کی حفاظت کا کام کیا جارہا ہے اگر میں یہ کہوں تو بیجانہ ہو گا کہ جامعہ عثمانیہ اور جامعہ نظامیہ کی مثال جسم و روح کی طرح ہے جس طرح روح بغیر جسم باقی نہیں رہ سکتی اسی طرح جسم بغیر روح کے باقی نہیں رہ سکتا۔ گویا آپس میں یہ متلازم، جامعہ عثمانیہ اپنی مادی ترقی میں قوم وملت کی دنیاوی ترقی کی جانب رہنمائی کرتا ہے تو جامعہ نظامیہ اپنی روحانی ترقی اور اشاعت علوم دینیہ کے ذریعے مذہب وملت کی حفاظت کرتا ہے میں یہ کہنے میں دریغ نہ کرو ں گا کہ جامعہ نظامیہ علوم دینیہ کی اشاعت میں جامعہ ازھر کی طرح ہے اور جامعہ عثمانیہ اپنے علوم عصریہ مغربیہ کی ترقی میں جامعہ مصریہ کی طرح ہے میں ان جامعات کے طلبہ سے توقع رکھتا ہوں کہ علم کے ذریعہ اپنی اصلاح کر کے ایک دوسرے اور قوم کی اصلاح میں منہمک رہیں گے۔ مدیر جامعہ نظامیہ اور جمیع اساتذہ کرام کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھ کو اپنی ملاقات سے بہرہ ور فرمایا۔حضرت نظام الدین بدایونی نظامی
(انوار اللہ خاں حاجی مولوی) تعلقہ قندھار ضلع ناندیڑ کے قاضی زادہ اور صحیح معنی میں دکنی تھے۔ ابتدائی تعلیم بھی دکن میں پائی۔ بعدہ فرنگی محل (لکھنو) میں جاکر علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ حضور نظام میر عثمان علی خان سلطان دکن کے استاد تھے اور ندوۃ العلماء کے ایک ممتاز رکن۔ آپ نے دارالعلوم ندوہ کی حالت پر دولت آصفیہ کو توجہ دلائی۔ آپ کی تحریک سے سلطان دکن خلداللہ ملکہ کو خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہکے آستانے پر حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اجمیر شریف میں خدام درگاہ کے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ہائی اسکول مدرسئہ دینیات اور یتیم خانہ کے قیام کی کوشش کی جو مدرسہ معینیہ کے نام سے مشہور ہے۔ سلطان دکن نے تخت نشین ہونے کے کچھ عرصے بعد نواب مظفر جنگ کا انتقال ہونے پر مولانا مرحوم کو صدر الصدور اور معین المہام امور مذہبی کے جلیل القدر عہدے پر مامور کیا اور 1917ء میں نواب فضیلت جنگ بہادر کا خطاب عطا فرمایا۔ آپ ہی کی کوشش سے دکن میں عشرہ محرم میںشیر اور بھیڑیوں کے سوانگوں اور ’’دولہا‘‘ وغیرہ کی مذموم رسوم کا انسداد ہوا۔ اس بدعت کے دور کرنے کے سبب مولانا کا نام ہمیشہ دکن کی تاریخ میں یادگار رہے گا۔14!مارچ 1918ء کو بوقت شب بمرض ’’سرطان‘‘ حیدرآباد میں انتقال فرمایا۔ آپ نے اکثر کتابیں محاسنِ اسلام کے ثبوت اور بعض مسائل متنازعہ کی تحقیق میں لکھیں۔ مدرسہ نظامیہ حیدرآباد آپ ہی کی یادگار ہے۔
حضرت مولانا مشتاق احمد انبیٹھویرحمۃ اللہ علیہ
شیخ الاسلام حضرت محمد انواراللہ صاحب دامت بر کاتہم آپ ریاست حیدرآباد کے معین الہام امور مذہبی اور شاہ دکن غفر ان مکان میر محبوب علی خان نو راللہ تربتہ اورحال فرمانرواے دکن نظام الملک آصفجاہ سابع نواب میر عثمان علی خان بہادر دام اقبالہ وزاد اجلالہ و خلداللہ ملکہ و سلطنتہ اور شاہزادگان بلنداقبال بارک فی عمر ہم و علمہم ورقاہم علی ذروۃ الکمال والاجلال کے استاد ہیں۔ علوم معقول ومنقول کے جامع، فاضل مسلم الثبوت مانے جاتے ہیں۔ علم سلو ک اور معر فت عرب شریف پہنچکرحضرت قبلہ عالم حاجی صاحب کی خدمت اقد س میں حاضر رہ کر حاصل کیا دولت خلافت اور اجازت سے مشرف ہو کرواپس ہو ے۔ باوجو د امیرہو نے او رامراء و زراء کی جماعت میں زندگی بسر کرنے کے اتباع ظاہری اور باطنی میںاس وقت عدیم النظیرہیں۔جب حیدرآباد میں ایسے امر اء جمع ہو ے کہ آزاداور نیچروںاور دہر یوں سے ملتے تھے تحریر اور تقر یر سے انکا رد کیا اور’’کتاب العقل‘‘ دہریوں کے رد میں ایسی جامع کتاب لکھی کہ اس سے پہلے ایسی کوئی کتاب نظر سے نہ گذری تھی او رجب وہاں بعض پنجاب کے مر زائی پہنچے جو مرزاغلام احمدقادیانی کے پیروتھے ان کے رد میں ایک کتاب ’’افادۃ افہام‘‘ ایسی مد لل لکھی کہ بیج و بنیادسے ان کے مذہب کو اکھیڑدیا ۔ آپ کی تصانیف میں ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ ہر دو حصہ اہلِ سنت وجماعت کے واسطے نہایت مفید ثابت ہوے ہیں۔ کتاب ’’انواراحمدی‘‘کو پڑھ کر عاشقان حضورسرداردوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی خوش ہو تے ہیں اور حضرت مولاناکے حق میں دعا ئیں کرتے ہیں رسائل ’’مقاصد الاسلام‘‘ آپ کی طرف سے شائع ہوکر مسلمانوں کے اسلام کو تازہ کرتے ہیں غرض وجودباجو د شیخ الاسلام وقت حضرت مولانامولوی حافظ محمدانواراللہ صاحب عم فیضہ کا مسلمانوں کے حق میں سحاب کر د کاکام دے رہاہے کہ دورونزدیک سب ا ن کے فیض سے سیراب ہورے ہیں۔ بارک اللہ فی عمرہم وعلمھم وعرفانہم و عزتہم آمین۔
حضرت مولانا سلیمان علوی صاحبرحمۃ اللہ علیہ
حضرت محمدانواراللہ خان صاحب بہادر من سجایاہ والفاظہ بہاء ودُر آپ کوعالیجناب شیخ الشیوخ مولانامرشدنا حضرت حاجی امداد اللہ شاہ صاحب چشتی قبلہ کہ جن سے ایک عالم کو فیض پہونچا ہے اور بڑے بڑے علماء کرام و مشایخ عظام حضرت ممدوح سے ہندوستان وغیر ہ میں مستفید ہو ے ہیں ایسے بافیض کامل شیخ سے آپ کو طر یقہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں بیعت حاصل ہے اور خلافت بھی ۔ آپ خاص اسی ملک کے ہیں او رفخر اہالی دکن ۔ آپ کا طور ہی جد اہے اور رنگ ہی نرالا ۔ آپ حافظ کلام اللہ ہیں اور عالم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہروقت آپ کے پاس قال اللہ وقال رسول کامشغلہ رہتاہے ، طر یقہ محمدیہ علیہ الف الصلوٰۃ والتحیہ کو بر تنا دن رات آپ کا کام ہے ۔ خوش حال اس شخص کا کہ جو اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو برتے او ردنیا و مافیہا سے خبر نہ رکھے۔ ہم کو صرف ماہ صیام میں صائم رہنا بارہو تاہے آپ ماشاء اللہ اکثر اوقات صایم رہتے ہیں۔ شب بیدار اور تہجد گذار جیسے آپ ہیں شاید اس زمانے میں آپ جیسے اورچند خاصان خداہوں اور ہم ان کو نہ جانتے ہوں ان خصلتوں کاجو شخص ہو اس میں زہد و اتقا کس قدر ہو گا اس کا بیان کرنا تحصیلِ حاصل ہے ۔ آپ کی ذات بابر کات جامع الصفات سے ۔ مدرسہ نظامیہ میں بھی بہت کچھ ترقی ہو ئی اور ہو رہی ہے اور یہ مدر سہ خاص اسلامی ہے او ریہاں کے قوانین دیگر مدارس سرکاری سے جداہیں۔ یتیم بچوں کو پرورش کر نا اس مدرسہ کاکام ہے مفلوک الحال طلبہ کی پو رے طور سے خبر گیر ی کرنا ان میں مدام ہے۔ علماء و فضلاء کا مجمع بھی بیشک اس مدرسہ میں لاکلام ہے سچ یہ ہے کہ ان ہی سب باتو ں سے مدرسہ نظامیہ کا بڑانام ہے ۔بنا اس مدرسہ کی1291ہجری میں مولو ی قاسم صاحب مہاجرمرحوم کے وقت سے پڑی ہے۔ فی زماننا آپ کے وقت میں بہت ہی اس مدرسہ میں اسباب ترقی کے نمایا ں ہو ے ہیں آپ کو اعلحضرت بندگانعالی مدظلہ العالی نے آپ سے استفادہ کلام اللہ فرمایاہے ونیزولیعہد سلطنت ابد مدت نواب میر عثمان علی خان بہادر اطال اللہ عمر ہ و ادام اللہ اقبالہ نے بھی آپ ہی سے کلام مجید پڑھا ہے اور ابتک دیگرعلوم عربی وغیر ہ کا درس آپسے نواب صاحب ولیعہد سلطنت ابدمدت جاری ہے ۔ باوجود اس خصوصیت کے آپ نہایت متواضع ومتورع ہیں اور وسیع الاخلاق و کثیر الاشفاق۔ سچ تویہ ہے کہ آپ اسم بامسمی خدا کے نورہیں بلکہ نورٌعلی نور ،سبحان اللہ کیالوگ ہیں کہ کسی حالت میں اپنے معبود کی یاد سے غافل نہیں ۔ غور کا مقام ہے کہ جس شخص نے باوجود حصول عزت و شہر ت کے اپنی جو انی و بڑھا پے کو صر ف اللہ کی یادمیں صرف کر نے کا پورا خیال جمالیا ہو ا س کو کیسے کچھ علو ّمدارج اُخروی حاصل ہوئے ہو نگے۔ اللہ تعالی آپ جیسے حضرات کوسلامت رکھے کہ آپ سے ایک عالم فیضاب ہے اور مذہب اسلام منور۔
حضرت الحاج محمد الیاس برنی چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ
ایم اے، ایل ایل بی (علیگ)
’’مولاناانوار اللہ شاہ صاحب، اعلی حضرت حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں کے استاذ خاص تھے۔ بڑے ذی اثر بارعب اور حکومت میں بے حد دخیل، عجب شخصیت کہ اس کے رسوخ سے حکومت کاپلڑا جھک جائے۔ اکابر ملت کی شان نظر آئے تبحر علمی کا یہ عالم کہ تقریبا 100تصانیف چھوڑیں۔ میں نے ایک جرمن عالم کو ان کی چند کتابیں بھیجیں تو اس نے تین یونیورسٹیز کو دیں اور مجھے لکھا کہ ہندوستان میں صحیح معنی میں مجھے یہی عالم معلوم ہوتے ہیں میں ان سے ملنے حیدرآباد آنا چاہتا ہوں لیکن وہ جنگ عظیم میں گرفتار ہوگیا۔ 
ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور 
’’ یہ (حضر ت شیخ الاسلام) قندھار کے قاضی تھے اور علوم اسلامی کے ماہر، محبوب علی خاں غفران مکاں اور عثمان علی خاں سلطان العلوم دونوں کے استاذ اور حیدرآباد کے علماء میں ممتاز تھے، وزیر امور مذہبی کی خدمت پر بھی فائز ہوئے اور اس شہر میں مذہبی اصلاح اور علوم دینی کی ترویج میں بڑا حصہ لیا تھا، پچاس سے زیادہ کتابیں مختلف موضوعات پر لکھیں اور چھپوائیں۔ اردو کے علاوہ فارسی کے شاعر بھی تھے۔ انور تخلص کرتے تھے اور حیدر حسین خاں فرزند شیخ حفیظ کے شاگرد، ان کے کلام کا ایک مجموعہ ’’مطلع الانوار‘‘ چھپ چکا ہے اور دوسرے شعری مجموعہ کا قلمی نسخہ ادارہ ادبیات اردو میں محفوظ ہے، انکی تصنیفات میں انوار احمدی، مقاصد الاسلام (کئی جلدیں) مفاتیح الاعلام وغیرہ بہت مشہور ہیں۔رئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ
ناظم جامعہ حضرت نظام الدین دہلی۔ جنرل سیکریٹری ورلڈ اسلامک مشن
’’جامعہ نظامیہ اپنے عظیم المرتبت بانی شیخ الاسلام مولانا حافظ شاہ محمد انواراللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی نسبت سے ایک باوقار دارالعلوم اور ایک عظیم مرکز علم و فن کی حیثیت سے سارے اقطاع ہند میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ جامعہ میں حاضری کے موقع پر وہاں کے اساتذہ نے ازراہ علمی قدر دانی حضرت شیخ الاسلام کی چند گرانقدر تصنیفات بھی مجھے عنایت فرمائیں۔ جن میں مقاصد الاسلام اور انوار احمدی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
انوار احمدی کا مطالعہ کر کے میں حضرت فاضل مصنف کے تبحر علمی، وسعت مطالعہ، ذہنی استحضار، قوت تحقیق، ذہانت ونکتہ رسی اور بالخصوص ان کے جذبہ حبِّ رسول اور حمایت مذہب اہل سنت کی قابل قدر خصوصیات سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔حضرت مولانا سید عبدالوہاب بخاری رحمۃ اللہ علیہ
’’جامعہ نظامیہ ایک باخدا انسان کا لگایا ہوا درخت ہے جسکی بنیادیں تقویٰ پر رکھی گئی ہیں یہی وجہ ہے کہ باوجود حوادث دہریہ ایک سو برس آب وتاب سے چل رہا ہے اور انشاء اللہ العزیز مدتوں جاری رہے گا۔ اور ایک دور اس پر وہ بھی آئے گا جبکہ حسب تمنائے حضرت سلطان العلوم آصف سابع یہ جنوبی ہند کا جامعہ ازہر ہوگا وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
مولانا وبالفضل اولٰناحضرت نواب فضیلت جنگ اور ان کے نیک نہاد شاگرد رشید حضر ت آصف جاہ سابع نور اللہ مرقدھما نے اپنی تمام عمر اس تناور درخت کی آبیاری کی تھی۔ اب یہ ہمارا نہایت اہم فریضہ ہے کہ ہم ان دونوں بزرگوں کے اس زندہ جاوید کارنامہ کو نہ صرف باقی رکھیں بلکہ ان کی نیک تمناؤں کو اپنے صحیح اقدام کے ذریعہ عملی جامہ پہنائیں اور عنداللہ وعند الناس ماجور ہوں۔ 
محترمہ ڈاکٹر زینت ساجدہ (ایم۔ اے، ایم فل، پی ایچ ڈی)
مولانا انواراللہ خاں فضیلت جنگ رحمۃ اللہ علیہدکن کے سربر آوردہ اور برگزیدہ علماء میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے علم و فضل ، حلم وانکسار اور فراست وتدبر کی وجہ سے عوام اور سرکار دونوں میں ممتاز مقام حاصل کرلیاتھا۔ وہ حضرت شاہ رفیع الدین قندھاری رحمۃ اللہ علیہکے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، یہ خاندان کابل سے آکر قندھار میں بس گیا تھا، مولانا انوار اللہ قندھار ہی میں پیدا ہوئے علوم دینی کی تکمیل مولانا عبدالحلیم فرنگی محلیرحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالیٔ فرنگی محلیرحمۃ اللہ علیہ سے کی اور وہ کمال پیدا کیا کہ ان کے معاصرین میں کوئی ان کا ہم پلہ نہ تھا۔ وہ غفران مکاں، حضور نظام اور شہزادوں(اعظم جاہ و معظم جاہ) کے استاد رہے ہیں۔ حضور نظام کے عہد میں وہ پہلے نظامت امور مذہبی اور پھر معین المھامی کے عہدے پر مامور ہوئے اور انتقال تک مؤخر الذکر منصب پر فائز رہے ان کے عہد میں سررشتہ امور مذہبی میں بڑی اصلاحیں ہوئیں اور اس کا وقار بہت بڑھ گیا۔
مولانا جامعہ نظامیہ کے بانی تھے جو آج بھی بہت بڑی دینی درس گاہ ہے۔ مولانا کادوسرا کارنامہ مجلس اشاعۃ العلوم ہے جس نے حیدرآباد اور حیدرآباد کے باہر کے علماء کی بعض قابل قدر تصانیف شائع کی ہیں۔
مولانا علوم اسلامی میں سند تھے۔ ان کی تصانیف میں انوار احمدی، افادۃ الافھام، انوار الحق، اور مقاصد الاسلام قابل ذکر ہیں۔مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد عبدالحمید صاحب علیہ الرحمہ
سابق شیخ الجامعہ نظامیہ و امیر ملت اسلامیہ آندھراپردیش رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ
الحمد لولیہ والصلوۃ والسلام علی حبیبہ وعلی الہ وصحبہامابعد!حضرت عارف باللہ مولانا انواراللہ نوراللہ مرقدہ ان اذکیاء وعقلاء امت سے ہیں جنکی ذہانت وذکاوت کی ان کے اساتذہ اور جنکے زہد وتقویٰ اور علم وفضل کے انکے مرشدین نے تعریف کی ہے چنانچہ مولانا عبدالحی صاحب لکھنویرحمۃ اللہ علیہ نے نور الانوار کے حاشیہ میں اور حضرت مرشد العلماء حاجی امداد رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب (انوار احمدی) کو اہل معرفت کے مشرب ومسلک کی تائید بتلائی ہے۔ 
حسب نام کتاب بلاشبہ پر نور کتاب میں آنحضور سراپا نور کے انوار جلوہ گر ہیں جس سے بخوبی ثابت ہے کہ خالق کائنات کے نزدیک آنحضوصلی اللہ علیہ وسلم کی شان کس قدر عالی ہے اور آپ کی ذات با برکات کتنی گرامی ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ ملکوت کے گلزار آپ کے گلہائے جمال سے پر بہار مرغزار ہیں اور جبروت کے حیاض و انہار آپ کے فیض انوار سے جوش زن و فوارہ واں ہیں اس مبارک کتاب کے مطالعہ سے مومنوں کے دل آپکی عظمت سے مالا مال اور آپ کی محبت سے ان کو ایمان کا کمال حاصل ہوتا ہے پس آپ کی اطاعت واتباع سے رضاء الہی کاحصول آسان ہے۔
فصلوات اللہ وسلامہ من الازل الی الابد۔ العاجز عبدہ الاثیم الراجی شفاعتہ، من ھو بالمومنین رؤف الرحیم۔ 
حضرت علامہ مولانا سید محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ
سجادہ نشین خانقاہ حسنیہ کچھو چھہ درگاہ شریف ضلع فیض آباد
نحمدہ ونصلی علی رسولہ المختار
مورخہ27/جمادی الاولی1402ھ مطابق 24/مارچ 1982ء یوم چہارشنبہ کو بسلسلہ شرکت اجلاس جامعہ نظامیہ و تقسیم اسناد حاضری کا اتفاق ہوا۔ جامعہ نظامیہ کے کتب خانہ اور تعلیمی درسگاہوں کامعائنہ کیا۔ اراکین مدرسہ خصوصاً مہتمم معتمد جامعہ نظامیہ و شیخ الجامعہ مد ظلہما کی دلچسپی وحسن انتظام دیکھ کربڑی مسرت ہوئی مجموعی تعلیمی حالات اطمینان بخش وبہتر ہیں مولی تعالی اس چمن مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو سبز وشاداب رکھے اور ایسے پھول کھلتے رہیں جو عالم کو اپنے خوشبو سے مہکا ئیں اور اراکین معاونین کی خدمات کو قبول فرمائے آمین۔
حضرت الحاج بیکل اتساہی
رکن پارلیمنٹ (انڈیا)
بحمدہ آج حضرت مولانا خادم رسول صاحب مصباحی کی کفش برداری میں جامعہ نظامیہ میں حاضری کا شرف ملا، ایک عرصہ سے یہ حسرت تھی کہ اس قدیم اور ہم مسلک ادارہ میں حاضری دوں یہاں علماء ادارہ اور طلباء سے ملنے کا موقع ملا نہایت متین مہذب اور ہر چہرہ سنت نبوی علیہ الصلاۃ والتسلیم، ہر نشست و برخاست میں اسلاف کی جھلکیاں نظر آئیں۔
اشاعت العلوم کے کارہائے نمایاں سے بے حد متاثر ہو ا۔ عربی، فارسی، اردو کے کتب ضروریہ دینی مسلکی اور معیار انسانیت کو بلند کرنے کی نوعیت کی تحریرات، مسودات، غیر مجلد کتب کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ خاموش تبلیغ سنیت کا مرکز محسوس ہوا۔ میری بد نصیبی کہ مجھے کم وقت نصیب ہوا وقت ہوتا تو تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملتا پھر میں اپنے جذبات کا صحیح اظہار کرسکتا۔ بہر حال علماء اور دیگر عمائدین ادارہ کاخلوص ومحبت، محنت سلوک مہمان نوازی سے اس قدیم ادارہ کو پھر ماضی کی تابناکی، مقبولیت، مستقبل قریب میں مرکز بنے کا فخر ملے گا۔ انشاء المولی القدیر۔
اگر ہے عزم مستحکم تو پھر منجدھار کا ڈرکیا
میری کشتی ہراک طوفاں کا سینہ چیر سکتی ہے جناب عزیز برنی صاحب 
ایڈیٹر راشٹریہ سہارا اردو حیدرآباد و لکھنو
جامعہ نظامیہ کے 125 ویں جشن کے موقع پر میں آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ بالخصوص ان منتظمین اور مدرسین کو جن کے قابل تعظیم اور تقلید عمل نے گذشتہ 125 برسوں میں لاکھوں طلباء کی زندگی کو علم دین کی روشنی سے منور کیا اور آج جامعہ نظامیہ کے یہ روشن چراغ دنیا کے گوشے گوشے میں دین کی روشنی پھیلارہے ہیں۔
میں سلام کرتا ہوں اس عظیم تاریخ ساز شخصیت عالی جناب شیخ الاسلام حضرت مولانا حافظ محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ علیہ الرحمہ کو جنہوں نے 19 ذی الحجہ 1292ھ میں اس دینی درسگاہ کی داغ بیل ڈالی۔ بیشک آج وہ جسمانی اعتبار سے ہمارے بیچ نہیں ہیں لیکن ان کی روحانی موجودگی کو ہم اس وقت بھی محسوس کررہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ انہیں کے ذریعہ جلائی گئی شمع کی روشنی کا کمال ہے کہ آج یہاں دنیا بھر سے آئے دین کے چاہنے والوں کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع ملا۔
میں شکر گذار ہوں پروفیسر محمد سلطان محی الدین صاحب و دیگر منتظمین کا جنہوں نے مجھے اس عظیم الشان تقریب میں شرکت کی دعوت دے کر اظہار خیال کا موقع دیا ہے۔
اظہار خیال کے لیے دےئے گئے مختلف عنوانات میں سے میں نے اپنے نظریات آپ تمام حضرات تک پہنچانے کے لیے جو موضوع منتخب کیا ہے وہ ہے۔ دینی تعلیم قومی تناظر میں
ہم ہندوستان میں رہتے ہیں جہاں ایک سے زیادہ مذاہب کے ماننے والے کثیر تعداد میں رہتے ہیں اور اکثر و بیشتر دینی تعلیم کی کمی کی بنا پر فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر ہم لوگ یعنی تمام ہندوستانی اپنے اپنے مذہب کی باریکیوں کو سمجھیں تو یقینا ایسے حالات سے بچا جاسکتا ہے کیونکہ کوئی بھی مذہب ایک دوسرے سے نفرت کا پیغام نہیں دیتا۔ یہی بات اسلام کے ماننے والوں کے بارے بھی کہی جاسکتی ہے کہ اگر وہ اپنے دین کی تعلیم سے پوری طرح آراستہ ہوں گے تو خود بھی اپنے مذہب کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے اور دیگر ہم وطنوں کو بھی سمجھا جاسکیں گے۔
یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان میں ایک بہت بڑا طبقہ اسلام کے متعلق یہ رائے رکھتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے، اسلام اپنی خوبیوں کی بنا پر پھیلا ہے اور اس کے پھیلنے میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور سیرت کا بہت بڑا رول رہا ہے اس حقیقت کو دنیا میں تمام مذاہب کے ماننے والے جانتے اور مانتے ہیں۔ 
اگر یہی حقیقت ہم اپنے ملک کے تمام لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ امر یقینا ملک میں قومی یکجہتی کی فضا بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوگا اور اسلام کا پیغام ہم اپنے دیگر بھائیوں تک پہنچانے میں بھی کامیاب ہوں گے جس سے نہ صرف ان کی غلط فہمی دور ہوگی بلکہ وہ دین اسلام کی حقیقت سے بھی واقف ہوں گے۔
پروردگار عالم نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے۔ 
٭ ناحق خون نہ بہاؤ اور لوگوں کو گھر سے بے گھر نہ کرو۔ 
٭ بے ایمانی سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ اور رشوت نہ دو۔
٭ گھمنڈ کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا اور نہ کنجوسی اسے پسند ہے اور نہ فضول خرچی۔ 
٭شراب اور جوا سب گندے اور شیطانی کام ہیں۔ 
٭ دوسروں کے دین کو برا مت کہو۔ 
٭ امانت میں خیانت نہ کرو۔ ٭برائی اور بے حیائی سے بچو۔ 
٭ کوئی وعدہ کرکے نہ توڑو۔ 
٭ جھوٹی باتوں سے بچو اور غرور نہ کرو۔ 
٭ بغیر اجازت دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو۔ 
٭ مرد غیر عورتوں اور عورتیں پرائے مردوں سے نظر بچاکر رکھیں۔ 
٭ مجرموں کی مدد نہ کرو۔ 
٭ کسی کا مذاق نہ اڑاؤ اور عیب نہ لگاؤ۔
٭ بدگمانی سے بچو اور کسی کی غیبت نہ کرو۔
یہ اور اس جیسی بے شمار نیک ہدایات دین اسلام میں دی گئی ہیں جو دنیا میں ہمیں ایک اچھی زندگی جینے کا طریقہ بتاتی ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ دینی درسگاہوں اور دینی تعلیم کے بغیر یہ بیش قیمت خزانہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا آج ضرورت جہاں اس بات کی ہے کہ معاشرے میں بہتر زندگی جینے کے لیے اچھی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے جدید تعلیم حاصل کی جائے وہیں ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم دینی تعلیم حاصل کریں،دین کو اچھی طرح سے سمجھیں، اس پر عمل کریں اور دوسروں کو دین سے واقف کرائیں۔
اگر ہم خود دین اسلام سے اچھی طرح واقف ہوں گے اور اس پر عمل پیرا ہوں گے تو بے شک ہمارا کردار ایک سچے پکے مسلمان کے جیسا ہوگا جسے معاشرے میں بھی اچھی نگاہ سے ہی دیکھا جائے گا اور وہ دوسروں کے لیے مشعل راہ بھی بنے گا ساتھ ہی جب جب سیاست دانوں کے ذریعہ مذہب کو آڑ بناکر فرقہ وارانہ کھیل کھیلنے کی کوشش کی جائے گی مذہب کی دیواریں کھڑی کرکے ایک دوسرے کو لڑانے کی کوشش کی جائے گی تو یہی لوگ جو اپنے مذہب سے پوری طرح واقف ہوں گے آگے آکر لوگوں کو یہ سمجھا سکیں گے کہ دین کیا ہے، دینی تعلیم کیا ہے اور اسلام کا اصل پیغام کیا ہے۔
آج جو نام نہاد مذہبی اور سیاسی پیشوا مذہب کے نام پر اپنی سیاسی دکانیں چلارہے ہیں ان کو بے نقاب کرنے میں بھی یہ دینی مدارس بہت کارگر ثابت ہوں گے کیونکہ ذاتی اور سیاسی اغراض سے اوپر اٹھ کر یہاں دینی تعلیم دی جائے گی جسے حاصل کرکے لوگ جذباتی استحصال کرنے والوں سے خود کو بچاسکیں گے لہٰذا میری رائے ہے کہ ملک کے موجودہ تناظر میں دینی تعلیم کی از حد ضرورت ہے جو ملک اور قوم کی نئی تعمیر میں بہت مددگار ثابت ہوں گے۔ جامعہ نظامیہ اس ضمن میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے جس کی روشنی میں بہت سی دینی درسگاہوں کا قیام اس عظیم مقصد کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوگا۔
آخر میں ایک بار پھر میں جامعہ نظامیہ کے 125 سالہ جشن پر سہارا انڈیا پریوار کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ خدا حافظ
عالی جناب محمد رحیم الدین انصاری
صدر نشین اردو اکیڈمی، آندھراپردیش
حیدرآباد تقریبا چارسوسالوں سے علم وادب کاگہوارہ رہاہے ۔ نظام دکن میر عثمان علی خان نے مشاہیر علم وفن ، علماء او ردانشوروں کو شمالی ہند او ردنیا کے دوسرے حصوں سے حیدرآباد دکن میں علم وفن کے ارتقاء کا ایسا ماحول بنایا تھا کہ وہاں سے جامعہ عثمانیہ، دائرۃ المعارف او ردیگر دینی اداروں سے دین اوراسلام کی خدمت کرنے والی بے مثال شخصیتیں نکلیں ، یہ کہنا غلط ہے کہ حیدرآباد میں ان علماء نے دیوبند یا ندوۃ العلماء کی طرز کا دینی ادارہ قائم نہیں کیا۔ جناب محمدرحیم الدین انصاری نے بتایا کہ فضیلت جنگ مولانا انوار اللہ خان نے جامعہ نظامیہ قائم کیا اور اس نے نہ صر ف اپنا ایک عمدہ معیار بنایا بلکہ آج یہاں کے فارغ التحصیل علماء کی ساری دنیا میں قدر ہے یہ جامعہ ، دیوبند کے ساتھ ہی قائم ہوا او راسکے معیار کا اندازہ اس رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو امیر شریعت بہار واڑیسہ جناب منت اللہ رحمانی نے 1986ء میں مرتب کی تھی جس میں جامعہ نظامیہ حیدرآباد کو نہ صرف معیاری قرار دیا بلکہ لکھا کہ جامعہ ازہر میں داخلہ کے لئے ہند وستان کی دیگر دینی جامعات کے طلبہ کو داخلے کا امتحان دینا پڑتا ہے لیکن جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے طلباء کو سند بتلانے کے ساتھ ہی داخلہ دیدیا جاتاہے۔ 
٭٭٭