معاصر عالمی علماء ومشائخ
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
کے معاصر عالمی علماء ومشائخ
از: شاہ محمد فصیح الدین نظامی، مہتمم کتب خانہ، جامعہ نظامیہ‘ حیدرآباد۔دکن
حضرت شیخ احمد عرب یمنی شروانی 
(صاحب نفحۃ الیمن) :
مقام حدیدہ شہر زبید (یمن) کے باشندے تھے اس لئے آپ کو یمنی کہا جاتا ہے تیرہویں صدی کے مشہور ادیب اور صاحبِ ذوق عالم تھے۔ نظم و نثر دونوں پر پوری قدرت رکھتے تھے۔ برجستہ اشعار کہنے میں مہارت تامہ حاصل تھی چنانچہ مشہور شاعر مرزا قنبلی کے ساتھ آپ کے مراسلات ومناظرات نظم و نثر ہر دو میں بکثرت ہوتے رہے بارہویں صدی ہجری کے اواخریاتیرہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان آئے اور بڑے بڑے شہروں کی سیاحت کی اکثر کلکتہ میں مقیم رہے ۔ موصوف نے ایک اہم حادثہ کے سلسلہ میں آپ سے مراسلت بھی کی تھی مولوی اوحدالدین بلگرامی صاحب ’’نفائس اللغات‘‘ آپ کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔
علامہ خیرالدین زر کلی نے ’’اعلام‘‘ میں آپ کی تاریخ وفات 1353ھجری لکھی ہے۔ نفحۃ الیمن فیما یزول بذکرالشیخین، متی لمزڈن صدر المدرسین کلکتہ کی خاطر ’’مناقب حیدریہ‘‘ غازی الدین حیدر فرماں روائے لکھنو کی خاطر تصنیف کی ان کے علاوہ 
’’اخوان الصفا‘‘ الجواہر الوقادفی شرح بانت سعاد‘‘
حدیقۃ الافراح لازالۃ الاتراح، 
شمس الاقبال فی مناقب بھوپال ‘‘ اور 
انشاء عجیب العجاب فیما یعنیہ الکتاب آپ کی تصانیف ہیں(1)۔ 
جرجی بن حبیب زیدان(لبنان)
1278ھ مطابق 1861ء بیروت میں پیدا ہوئے۔ وہیں نشو ونما پائی اور تعلیم بھی وہیں حاصل کی فراغت کے بعد مصر گئے وہاں مجلہ ’’الھلال‘‘ بیس برس تک ان کی ادارت میں نکلتا رہا فلسفی‘ لغوی، باکمال صحافی، مقبول ناول نویس اور بڑے تاریخ داں تھے۔ تاریخ و ادب لغت واجتماعیت کے موضوع پر متعدد بیش قیمت تصانیف کے مصنف ہیں:
(1) تاریخ التمدن الاسلامی
(2) تاریخ مصر الحدیث (2) جلد
(3) تاریخ للعرب قبل الاسلام
(4) تاریخ الماسونیۃ العالم
(5) تراجم مشاہیر الشرق (2) جلد
(6) فلسفہ لغویۃ
(7) تاریخ اللغۃ العربیۃ (4)جلد
(8) الشاب العربیۃ القدماء
(9) علم الفراسۃ الحدیث
(10) طبقات الامم
(11) عجائب الخلق
(12) التاریخ العالم
(13) مختصر تاریخ الیونان والرومان،
(14) مختصر جغرافیۃ مصر، علوم العرب وغیرہ
آپ کی علمی یادگار ہیں۔ آپ نے 1332 ھجری م 1914عیسوی میں وفات پائی ۔ تاریخ ادب عربی میں سنہ وفات 1924ء درج ہے۔
علامہ حسین بن محمد مصطفی الجسر طرابلسی رحمۃ اللہ علیہ
علامہ حسین بن محمد مصطفی الجسر 1261ھجری میں طرابلس میں پیدا ہوئے اور وہیں نشو و نما پائی۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی پھر مصر آئے اور 1279ھ میں جامعہ ازھر میں داخلہ لیا اور 1284ھ تک مختلف علوم وفنون کی تعلیم پائی اور جید عالم ہو کر طرابلس واپس ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ جسر کا خاندان مصری الاصل تھا۔
1170ء کے لگ بھگ ان کے اسلاف دمیاط سے نکالے گئے تھے او روہ مختلف مقامات میں جاکر آباد ہوگئے ۔
آپ فقہ و ادب کے بہترین عالم جانے اور مانے جاتے تھے آپ نے مفید کتابیں بھی تالیف کیں جن میں ’’الرسالۃ الحمیدیۃ فی حقیقۃ الدیانۃ الاسلامیۃ‘‘ بہت مشہو رو معروف اور مقبول کتاب ہے۔ اس میں آپ نے شریعت اسلام کے عقائد و رموز واسرار اچھوتے انداز میں بیان کئے ہیں اور فلسفہ جدید کی روشنی میں بہت سے حقائق کا انکشاف کیا ہے یہ کتاب عمدگی کی بناء پر بعض مدارس عربیہ میں شامل نصاب کرلی گئی ۔ اس کے علاوہ آپ نے 
الحصول الحمیدیۃ فی العقائد الاسلامیۃ 
نزھۃ الفکر
اشارات المطاعۃ فی حکم صلواۃ الجماعۃ
ریاض طرابلس الشام (10) جلد
الکواکب الدریۃ فی الفنون الادبیۃتصنیف فرمائی اور’’ طرابلس ‘‘کے نام سے ایک اخبار بھی نکالا تھا
آپ نے طرابلس ہی میں 1327ھجری میں وفات پائی۔
علامہ فتحی پاشاہ زغلول رحمۃ اللہ علیہ
علامہ فتحی پاشاہ زغلول ایک جلیل القدر فقیہ اور محقق تھے قانون مدنی (CIVIL LAW) کے شارح کتاب المحاماۃ کے مصنف، گوسٹاف لوبون کے مترجم اور القوانین المصریہ کے مصنف ہیں۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
علامہ شیخ طاہر الجزائری رحمۃ اللہ علیہ
علامہ شیخ طاہر الجزائری رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے عہدکے مستند و معتمد علیہ مورخ دمشق کے جلیل القدر ادیب و عالم تھے۔ 1925ء میں ان کا انتقال ہوا۔
علامہ فقیہ شہاب الدین الوسی رحمۃ اللہ علیہ(صاحب تفسیر روح المعانی )
سید محمود شکری الوسی (عراق) ادیب کے پوتے تھے جنہوں نے تین جلدوں میں ’’بلوغ الادب فی احوال العرب‘‘ نامی کتاب تصنیف کی۔ حضرت شیخ الاسلام کے وصال کے چھ سال بعد 1923ء میں ان کا انتقال ہوا۔
علامہ سید جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ
مشہور زمانہ عالم وقائد علامہ جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے ہمعصر علماء میں ایک امتیازی مقام کے حامل تھے افغانستان کے ضلع کابل میں جو شیخ الاسلام کا آبائی وطن اور آپ کے جد اعلی حضرت شہاب الدین علی المعروف فرخ شاہ کابلی کا مسکن بھی تھا 1832ء میں پیدا ہوئے۔
آپ کے والد سید صفدر افغانی رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خاندان کا چشم و چراغ تھے۔ مروجہ نصاب کے مطابق علوم عربیہ ادبیہ شرعیہ و عقلیہ کے ساتھ ساتھ عربی فارسی ترکی فرانسیسی زبانوں کے ماہر تھے عظیم شخصیت کے مالک‘ متواضع‘ جرأت مند‘ فیاض طبیعت‘ شیریں مقال اور فصیح اللسان تھے۔ استعماری قوتوں کو ختم کر کے تمام عالم اسلامی کو ایک کرنے کے نیک مقصد کے لئے ساری زندگی وقف کردی۔ اس راہ میں جیل جانے کو ریاضت جلا وطنی کو سیاحت اور قتل ہوجانے کو شہادت سمجھتے تھے۔
افغانستان کے بادشاہ محمد اعظم کے وزیر بنے اور شورائی نظام قائم کیا انگریزوں کی سازش کے نتیجہ میں یہ نظام قائم نہ رہا۔
اسی دوران علامہ جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک تاجر دوست کے پاس حیدرآباد دکن آئے اس وقت آصف جاہ سادس سلطنت آصفیہ کی زمام اقتدار سنبھالے ہوئے تھے اور حضرت شیخ الاسلام‘ آصف جاہ سادس کے اتالیق خاص تھے۔
علامہ جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ، حیدرآباد کے عوام میں اپنی بے باکی وجرات مندی اور اخلاص کی وجہ سے مقبول اور ہر دلعزیز ہونے لگے تو انگریزوں نے انہیں کلکتہ منتقل کردیا‘ دو ماہ بعد انہیں ہندوستان سے نکل جانے کا حکم ملا۔ ہندوستان چھوڑتے وقت انھوں نے انگریزوں کے خلاف ایک مختصر لیکن انقلاب انگیز تقریر کی۔ علامہ آخری سانس تک استعمار کے خلاف لڑتے رہے اور مسلمانوں کو متحد کرنے کی زبردست تحریک چلائی آخر کار اس مرد مجاہد نے 9!مارچ1897ء کو وفات پائی۔ (2)
علامہ امام محمد عبدہ (مصر)
الامام محمد عبدہ بن عبدہ بن حسن خیراللہ رحمۃ اللہ علیہ مصر کے شہر بحیرہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کے معاصر علماء میں آپ کا نمایاں مقام ہے۔ حفظ قرآن مجید کے بعد آپ نے قدیم ترین اسلامی درس گاہ ’’جامعہ ازہر ‘‘میں تعلیم حاصل کی علامہ جمال الدین افغانی کی صحبت اور شاگردی میں آپ نے بے پناہ ترقی کی اور ان کی قیادت و سیادت سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ خود علامہ سید جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہیں بہت زیادہ چاہتے تھے علوم عقلیہ نقلیہ لسانیہ کی تحصیل کے بعد 1294ھ میں انہیں درجہ عالیہ کی سند مل گئی۔
اسی سال حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اعزہ واحباب کی ایک کثیر جماعت کے ساتھ حرمین شریفین کا پہلا سفر کیا اور شیخ وقت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو مکہ مکرمہ میں بلا طلب خرقہ خلافت عطا فرمایا۔
اور جس طرح حضرت مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ الاسلام کو اپنے فیض صحبت سے مشرف کر کے صاحب رشد وہدایت بنا دیا تھا اور دکن کے شاگردوں کو سلوک و حل مشکلات میں حضرت شیخ الاسلام سے رجوع ہو کر ان سے مدد لینے کی ہدایت فرمائی تھی۔ ادھر علامہ جمال الدین افغانی کی صحبت بافیض نے امام محمد عبدہ کو وسیع العلم، کریم الخلق‘ صاحب بصیرت‘ جادو بیان، صائب الرائے بنادیا تھا یہاں تک کہ جب وہ مصر سے جارہے تھے تو انہوں نے کہا تھا ’’میں مصر میں شیخ محمد عبدہ کے علم کی بڑی دولت چھوڑ کر جارہا ہوں‘‘۔ 
خدیو کو معزول کرنے کا فتوی جاری کرنے کی پاداش میں امام محمد عبدہ کو جلا وطن کر دیا گیا یہ ملک شام چلے گئے چھ سال بعد اپنے استاذ محترم علامہ جمال الدین افغانی کے پاس پیرس چلے گئے اور علم و ادب‘ دین کی دعوت عام کرنے میں پر جوش حصہ لیا مغربی علوم و تمدن کی حقیقت سے واقفیت کیلئے فرانسیسی زبان بھی سیکھی ‘درس تفسیر قرآن کے ساتھ منصب افتاء پر فائز ہوئے۔
جس طرح سرزمین دکن پر حضرت شیخ الاسلام نے اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر جامعہ نظامیہ کی بنیادوں کو مضبوط و مستحکم کیا ادھر سرزمین مصر کے اس عالم جلیل محمد عبدہ نے اپنے فکر وعلم کا آفتاب طلوع کرکے باطل کی تاریکیوں کو کافور کردیا اور حق کی بنیادوں کو استوار و محکم کیا۔جس طرح زبان و ادب کی آڑ میں بنیادی عقائد اسلام کی غلط تاویلات کرنے والے اصحاب قلم کی فکری غلطیوں کی نشاندہی کے لئے حضرت الاسلام نے مدلل و دلپذیر انداز اختیار کرتے ہوئے کتابیں تحریر کیں اور رسالہ ’’مقاصد الاسلام ‘‘جاری کیا تھا۔ اسی طرح امام محمد عبدہ نے درس وتدریس کے علاوہ ’’الجریدۃ الرسمیۃ‘‘ نامی رسالہ کے ذریعہ جس کے وہ ایڈیٹر تھے مضامین کا سلسلہ جاری کیا تھا جس میں غلط تحریروں کی نشاندہی کے ساتھ اس کی اصلاح کی جاتی تھی۔
جس طرح حضرت شیخ الاسلام کے فیضانِ علم سے اکتساب کرنے والوں میں بادشاہ، وکلاء امراء ‘صحافی‘ قانون داں عوام طلبہ سبھی شریک تھے اسی طرح امام محمد عبدہ کے درس میں بھی وکلاء ،ادباء، صحافی، ماہرین تعلیم شامل ہوتے تھے۔
تیز نگاہ، بلیغ و خوش مقال، قوی الحافظہ، ذہین وفطین، زندہ دل، پاکیزہ عقل، صاحب عزیمت، بیباکی و حق گوئی کا پیکر، ابن خلدون سے بہت حد تک مشابہ مفتی محمد عبدہ کا شمار ان عظیم مجتہدین مصلحین،علماء و محققین میں ہوتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ تجدید دین اور حق کی تائید و نصرت کیلئے منتخب فرمالیتا ہے۔ علم و فضل کا یہ بطلِ جلیل 1323ھ اسکندریہ میں وفات پاگیا قاہرہ میں آخری آرام گاہ ہے۔(3)
علامہ سید محمد عمر حسینی قادری حیدرآبادی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت شیخ الاسلام کے ہمعصر علماء میں علامہ سید محمد عمر حسینی قادری خلیق تبحر علمی‘ دینداری ‘تقوی وپرہیز گاری کے ساتھ صاحبِ تصنیف و تالیف شمار کئے جاتے تھے۔ شمالی ہند کے مشہور عالم و شاعر مولانا احمد رضا خاں رضا فاضل بریلی آپ کے بہت قدرداں اور مداح تھے۔
حضرت پیر پرورش علی شاہ کے خانوادہ میں 1282 ھجری محلہ قاضی پورہ میں تولد ہوئے۔ چار سال کی عمر میں والد محترم کا سایہ اُٹھ گیا۔ اسی سال والدہ محترمہ کے ہمراہ حرمین شریفین کا سفر کیا مکمل ایک سال وہاں قیام کیا فیوضات حرمین سے فیضیاب ہوکر وطن واپس لوٹے۔
ابتدائی تعلیم مادر مہربان سے حاصل کی اس کے بعد حضرت زماں خاں شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ’’مدرسہ محبوبیہ‘‘ میں شریک ہوئے جہاں صرف ونحو‘لغت وادب کی تحصیل کے ساتھ ساتھ تفسیر حدیث فقہ منطق وغیرہ حاصل کیا۔اپنے برادر کلاں حضرت سید محمد صدیق عرف خواجہ میاں رحمۃ اللہ علیہ سے بھی اکتساب علم وفن کیا ۔ 
آپ کو شعر و سخن سے بھی کافی دلچسپی تھی فن تجوید میں قرات سبعہ کی مشہور کتاب ’’شاطبیہ‘‘ کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا۔
آپ اپنے عہد کے جلیل القدر مفسر بھی تھے جسکا اندازہ آپ کی ہزاروں صفحات پر مشتمل تفسیر کو دیکھنے سے ہوتا ہے۔ جو ’’تفسیر قادری‘‘ کے نام سے 1319ھ سے کئی سال تک ماہانہ شائع ہوتی رہی اردو میں اس قسم کی تفسیر بہت کم ملتی ہیں یہ تفسیری خزانہ میں بیش قیمت اضافہ بھی ہے اور اردو زبان وادب میں گراں مایہ درجہ کی حامل ہے۔
آپ پہلے تفسیر القرآن، اسکے بعد تفسیر بالحدیث ، تفسیر باقوال الصحابہ‘ اقوال تابعین و اقوال ائمہ سے استدلال کرتے، تفسیر قادری کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں جگہ جگہ عربی عبارات موجود ہیں اگر درمیان میں سے اردو عبارت کو ہٹالیا جائے تو ایک عربی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ اس تفسیر کو آپ کے بڑے فرزند حضرت سید محمد بادشاہ حسینی لئیق رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے حضرت شیخ الاسلام کی خاص نگرانی وسرپرستی میں جامعہ نظامیہ میں تعلیم حاصل کی تھی‘ مکمل کیا اس کے علاوہ تاج العروج (متوفی 707 ھ) مصنفہ تاج الدین اسکندری کا اردو ترجمہ ’’رہبر طریقت‘‘ او ر متروکہ کے مسائل پر مشتمل ایک منظوم رسالہ ’’فرائض قادری ‘‘بھی تحریر کیا۔
امام احمد رضا خاں فاضل بریلی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت خلیق رحمۃ اللہ علیہ کے آپس میں گہرے مراسم اور پر خلوص روابط تھے اعلیٰ حضرت‘ سادات ہونے کی وجہ سے آپ کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔ دارالعلوم منظر الاسلام بریلی کے سالانہ اجلاس میں حضرت خلیق رحمۃ اللہ علیہکو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہنے مدعو کیاتھا جہاں آپ نے وعظ کیا تھا۔ ان دونوں حضرات کے آپسی تعلقات کا اس بات سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب حضرت خلیق رحمۃ اللہ علیہکا انتقال ہوا تو فاضل بریلی رحمۃ اللہ علیہنے بطور تعزیت عربی قصیدہ منظوم کیا ۔
الا سقی اللہ قبرا صوب غادیۃ
وجاد بالجود جودا و ھو ھمار
قبرا ثوی بثواب اللہ فیہ عمر
معمور نور الھدی للدین عمار
نجل لغوث البرایا سید سند
بالغوث معترف بالغیث مدرار
باللطف معتصم بالراف مبتسم
بالعرف متسم بالعرف معطار
سر اسر لہ فی السر اسرار
بر ابرلہ فی البر ابرار
ربح لآل ھدی حرب لاھل ردی
بحر لسیل ندی حبربل احبار
علم و حلم و سلم فی تقی و نقی
سیادۃ سؤدد فضل و یثار
بقدرۃ اللہ تمت قادریتہ
فزادھا القدر والمقدار اقدار
وعاد حبہ حب الحب فی خلدہ
کجنۃ الخلد ازھار و انوار
حماہ عن کل ضیر من یقال لہ
حامی الحقیقۃ نفاع و ضرار
قال الرضا اسفا فی عام فرقتہ
محمد عمر الفاروق شطار (۴)
0 1 3 1 ھ
49!سال کی عمر میں بتاریخ 20 صفر 1330ھ آپ کا وصال ہوا۔ حیدرآباد کی 400سالہ تاریخی مکہ مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد محلہ فلک نما کے قریب بمقام ’’قادری چمن‘‘ تدفین عمل میں آئی(5)۔ 
علامہ یوسف بن اسمٰعیل نبھانی رحمۃ اللہ علیہ(فلسطین)
حضرت شیخ الاسلام کے معاصر عالمی علماء اعلام میں فلسطین کے علامہ یوسف بن اسمٰعیل بن یوسف بن اسمٰعیل بن محمد ناصرالدین بن نبہانی رحمۃ اللہ علیہ بڑے مشہور متبحر، صاحب قلم اور خداداد خوبیوں کے مالک تھے، حضرت شیخ الاسلام کی طرح دین اسلام کی خدمت ان کا سرمایہ حیات تھا اور حدیث شریف کی تبلیغ واشاعت ان کا وظیفہ زندگی۔
علامہ نبہانی 1265ھجری1849ء میں عرب کے ایک بادیہ نشین قبیلہ نبہان میںپیدا ہوئے اسی نسبت سے نبہانی کہلاتے ہیں والد ماجد شیخ اسماعیل نبہانی سے قرآن مجید پڑھا۔ پھر جامعہ ازھر مصر میں محرم الحرام 1282ھ سے رجب 1289ھ تک تحصیل علم میں مصروف رہے۔
علامہ بنہانی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کے ایک استاذ علامہ ابراہیم السقا رحمۃ اللہ علیہ نے سند دیتے ہوئے ان القاب سے نوازا۔
الامام الفاضل والھمام الکامل والجھبذ الابر اللوذعی الادیب والالمعی الادیب ولدنا الشیخ یوسف بن الشیخ اسمعیل النبھانی الشافعی ایدہ اللہ بالمعارف ونصر۔
اسی طرح حضرت شیخ الاسلام کے ایک جلیل القدر استاذ محترم علامہ عبد الحیٔ لکھنوی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’حل المغلق فی بحث المجہول المطلق‘‘ کی تصنیف کے وقت شیخ الاسلام کی ذہانت و فطانت کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی تھی ۔
’’الفتہاء حین قراۃ الذکی المتوقد المولوی الحافظ انوار اللہ بن المولوی الحافظ انواراللہ بن المولوی شجاع الدین الحیدرآبادی علی شرح السلم لمولانا محمد حسن الکھنوی‘‘(6)۔
دکن میں جب حضرت شیخ الاسلام کے تبحر علمی ولیاقت دینی کا شہرہ ہوا تو حکومت آصفیہ کے چھٹویں تاجدار سلطان العلوم نواب میر عثمان علی خاں نے آپ کو امور مذہبی کا وزیر مقرر کیا اسی طرح جب علامہ نبہانی کے علم وفضل کا چرچا ہوا تو بیروت میں محکمۃ الحقوق العلیا کے رئیس مقرر کئے گئے حضرت شیخ الاسلام اور علامہ نبہانی کے اکثر اعمال وافکار میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے حضرت شیخ الاسلام ایک عرصہ مدینہ منورہ قیام پذیر رہے اور آستانہ رسول سے مفارقت گوارا نہ کی اور وہاں دیگر مصروفیات کے ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا ایسے ہی علامہ نبہانی ایک عرصہ تک مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے اور مختلف موضوعات پر تالیف وتصنیف کا تسلسل برقرار رکھا۔
علامہ بنہانی کی کتب کے کئی ایڈیشن چھپ کر مقبول ہو چکے ہیں۔ اسلام اور دیگر ادیان کے تقابل اور عیسائیت کے رد میں آپ نے القصیدۃ الرائیۃ تحریر کیا جو سات سو پچاس اشعار پر مشتمل ہے ۔ سنت کی تعریف اور بدعت و اہل بدعت کی مذمت میں پانچ سو اشعار منظوم فرمائے جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ان قصائد کو آڑ بنا کر آپ کو 1330ھ مدینہ منورہ میں ایک ہفتہ نظر بند کردیا گیا۔ علامہ نبہانی کے ہم عصر علماء ومشائخ سے گہرے مراسم تھے چند علماء نے آپ سے ملاقات کر کے رہائی کی اپیل کی اجازت چاہی علامہ نبہانی نے اسوقت بڑا ہی ایمان افروز جواب دیا اور کہا اپیل کرنا منظور ہے تو سلطان وقت کی بجائے سلطان کو نین صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں استغاثہ کریں۔ اس کے تین دن بعد ہی گرفتاری پر معذرت کرتے ہوئے سلطان عبدالحمید نے رہا کردیا۔
علامہ نبہانی قلم کے دھنی تھے ان کی تصانیف مدلل مستند معتبر مواد سے بھر پور ہیں۔ مورخین نے ان کی تعداد پچاس سے زائد بتائی ہے۔ یہاں چند کتب کے نام درج کئے جاتے ہیں۔
1۔ الفتح الکبیر فی ضم الزیادات الی الجامع الصغیر (حروف تہجی کے اعتبار سے چودہ ہزار چار سو پچاس حدیث مع راوی)
2۔ منتخب الصحیحین۔ (تین ہزار دس احادیث کا مجموعہ)۔
3۔ وسائل الوصول الی شمائل الرسول
4۔ افضل الصلوات علی سید السادات
5۔ خلاصۃ الکلام فی ترجیح دین الاسلام
6۔ ہادی المرید الی طریق الاسانید۔
7۔ الورد الشافی یشتمل علی الادعیۃ والاذکار النبویۃ
8۔ المزدوجۃ الغرافی الاستغاثتہ باسماء اللہ الحسنٰی
9۔ البرہان المسدد فی اثبات النبوۃ
10۔ سبیل النجاۃ فی الحب فی اللہ والبغض فی اللہ
11۔ تہذیب النفوس فی ترتیب الدروس
12۔ جامع کرامات اولیاء (دو جلدوں میں)
13۔ تفسیر قرۃ العین من البیضاوی والجلالین
-14الاسالیب البدیعۃ فی فضل الصحابۃ واقناع الشیعۃ
15۔ ارشاد الحیاریٰ فی تخذیر المسلمین من مدارس النصاریٰ
علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف ’’شواہد الحق‘‘میں ابن عبدالوہاب نجدی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں۔
’’وہ ابن تیمیہ کے پانچ سو سال بعد آیا اور اس کی بدعت کو زندہ کر کے ایسے فتنے اُٹھائے کہ ان کے سبب شر اور بلاعام ہوگئی۔ خون کے سمندر بہادئے گئے اور اتنے مسلمانوں کی جانیں تلف کی گئیں کہ ان کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے‘‘ (7) 
حضرت شیخ الاسلام رقمطراز ہیں۔ 
’’محمد بن عبدالوہاب کا مجملًا حال یہ ہے 1111ھ (گیارہ سو گیارہ) میں وہ پیدا ہوا۔ اور بعد کسی قدر تحصیل علم کے 1143ھ (گیارہ سو تینتالیس) میں اپنے خیالات فاسدہ کو رواج دینے کیواسطہ خطہ نجد میں گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ اس کے دام میں پھنسنے لگے چنانچہ 1150ھ اسکی شہرت ہوئی اور درعیہ اسکے اطراف و جوانب کے لوگ اسکے تابع ہوگئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک لکچر میںکہا: سوائے تم چند شخصوں کے جتنے لوگ آسمان کے تلے ہیں سب مشرک ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر سب سے بیعت لے کر جہاد کا حکم دیا۔ یہ فتنہ ایک مدت تک رہا اس قوم نے ہزارہا مسلمانوں کو شہید اور جلا وطن کردیا اور حرمین شریفین پر قبضہ کر کے کئی سال بالاستقلال حکمرانی کی آخر 1227ھ بحکم سلطان محمود حرمین وغیرہ سے نکالے گئے مادہ تاریخ اُن کے اخراج کا ’’قطع دابر الخوارج‘‘ (1227ھ) ہے‘‘(8)
مذکورہ بالا اقتباسات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت شیخ الاسلام اور ان کے ہم عصر علامہ نبہانی دونوں ہی کس قدر راسخ العقیدہ اور جادئہ حق پر بلا خوف لومۃ لائم گامزن تھے۔
حضرت شیخ الاسلام اور علامہ نبہانی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ ہم آہنگی زمان ومکان کی قید سے بالا تر ہے کیونکہ دونوں کی محبت وعقیدت کا مرکز ومحور ایک ہی ذات رسالت مآب علیہ التحیۃ والثناء ہے۔
’’ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق‘‘
ذوقِ سلیم‘ لطیفِ عمیم کے حامل اور سوادِ اعظم کے قائد عظیم رمضان المبارک 1350ھ اپنے پروردگار سے جاملے۔
حضرت الامام شاہ احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ
امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خاں رضاحضرت شیخ الاسلام کے ہمعصر علماء میں روشنی کا مینار تھے آپ کا سال ولادت 1856ء اور سال وصال 1921ء ہے۔ آپ کی پینسٹھ سالہ زندگی برصغیر پاک وہند میں انگریزی دور اقتدار میں گذری۔
امام اہلِ سنت کی چشم شعور وا ہوائی تو بریلی کا مکتب علم وفکر برصغیر کے تشنگان علوم اسلامیہ کو چشمۂ فیض بن کر سیراب کر رہا تھا۔ آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خاں (م1297ھ) اور تایا حافظ کاظم علی خان رحمۃ اللہ علیہ، اور شاہ رضاعلی خان رحمۃ اللہ علیہ (م1286) بریلی کی علمی اساس تھے۔ اس خانوادہ نے برصغیر کے اہل علم کو اپنی علمی نظریاتی روشنیوں اور مقناطیسی قوت سے متاثر کیا تھا۔ مرزا غلام قادر بیگ بریلوی۔ مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ(والد مکرم) اور مولانا عبدالعلی رامپوری (م1303ھ) نے درسیات میں آپ کی تربیت میں بڑی محنت سے کام لیا وسط شعبان 1286ھ 1869ء علوم درسیہ سے فراغت حاصل کی اور اسی عمر میں پہلا فتویٰ لکھا۔
حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ(تلمیذ خاص شاہ عبدالعزیز دہلوی) نے اپنے تین خلفاء کو ارشاد و ہدایت کا فریضہ سپرد کیا تھا ان میں مولانا سید ابوالحسین احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا احمد رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ شامل تھے۔
ان کے علاوہ آپ نے حرمین شریفین کے علامہ شیخ احمد زینی دحلان شافعی رحمۃ اللہ علیہقاضی شیخ حسین صالح جمل اللیل رحمۃ اللہ علیہ امام مسجد حرام مفتی الشیخ عبدالرحمن سراج جیسے شہرئہ آفاق مشائخ سے بھی اکتساب فیض کیا۔
علمی ادبی اعتقادی رنگ و آہنگ کا آئینہ دار ترجمہ قرآن ’’کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن‘‘ 1320ھ۔ 1911ء میں مکمل ہوا۔ آپ کے قلم سے نکلے ہوئے بعض تفسیری حواشی بھی ہیں جو آپ کی قرآن فہمی پر شاہد عدل ہیں۔ فن حدیث میں آپ کی نمایاں مقام حاصل تھا والدماجد مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ، حضرت سید شاہ آل رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سید عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ، اور علامہ زینی دحلان سے سند حدیث کی اجازت حاصل تھی۔
آپ کا بارہ جلدوں پر مشتمل ’’العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ‘‘فقہی انسائیکلوپیڈیا قرار دیا جاسکتا ہے۔
پروفیسر مولانا سید سلیمان اشرف کے بیان کے مطابق ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا کہ’’ ان فتاویٰ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر اعلیٰ اجتہاد کی صلاحیتوں سے بہرہ ور اور ہندوستان کے کیسے نابغۂ روزگار فقیہ تھے‘‘۔ عقائد وکلام منطق وحکمت کے علاوہ آپ ایک ماہر فلسفی بھی تھے۔
امامِ اہلِ سنت عالم محقق اور کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور اردو کے ماہر قادر الکلام اور ناز ک خیال شاعر بھی تھے۔ نعت، غزل قصیدہ، مثنوی، مستزاد، قطعہ، رباعی متعدد اصناف میں آپ نے طبع آزمائی کی آپ کا ایک شعر اسطرح ہے
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھادئے ہیں
ہر فن میں آپ کو درک حاصل تھا پرفیسر محمد مسعود احمد مجددی کے بموجب ایسے علوم وفنون کی تعداد 45ہے۔ مولانا ےٰسین اختر مصباحی تحریر کرتے ہیں کہ ’’آپ کے قدم اور قلم رضا وغضب ہر حالت میں اعتدال وسنجیدگی کے ساتھ اٹھتے اور کوئی فیصلہ شدت مزاج کی نذر نہ ہوتا‘‘۔ اس مقام پر مجھے حضرت شیخ الاسلام کے شاگرد خاص مورخ نظامیہ مولانا شاہ ابوالخیر کنج نشین کی وہ تحریر یاد آرہی ہے جو انہوں نے عرض حال کے عنوان سے ’’مطلع انوار‘‘ میں تحریر کی تھی۔
’’حضرت قبلہ (مولانا انواراللہ فاروقی) ایک ممتاز عالم دین، عظیم قلمکار، ذی مرتبت، وسیع سیر ت اور زبردست اثرات کے مالک ہونے کے با وجود کسی بھی قسم کے تخرب وتعصب سے ہمیشہ دور رہتے تھے آپ کا ایک مخصوص نظریہ اور طرز فکر تھا یہی وجہ سے کہ آپ کی زندگی ہر قسم کے خرافات سے پاک دیکھی جاسکتی ہے۔ آپ جس مسئلہ کو اپنے دانست میں صحیح سمجھتے اس کا حکیمانہ انداز میں اظہار فرماتے لیکن دوسروں کی علمی ثقاہت کو مجروح نہیں فرماتے‘‘ (9 ) 
عشقِ رسول آپ کی پہچان ، سادات کرام کا احترام آپ کا وطیرہ تھا اور علم رسول کے آپ کس انداز سے قائل تھے خود اپنی تصنیف ’’انباء المصطفی‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں۔
’’علمِ الٰہی ذاتی ہے اور علمِ خَلق عطائی۔ وہ واجب یہ ممکن وہ قدیم یہ حادث۔ وہ نامخلوق یہ مخلوق۔ وہ نامقدور یہ مقدور وہ ضروری البقاء یہ جائز الفناء وہ ممتنع التغیر یہ ممکن التبدل۔‘‘
مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں
’’حضرت فاضل ممدوح (شیخ الاسلام) نے علمِ غیب رسول کے مسئلہ کو جس دل نشین پیرایہ میں واضح کیا ہے وہ ان کے تبحر علمی اور قوت استدلال کی بہترین مثال ہے اس مسئلہ میں صحابۂ کرام کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
جتنے تھے اصحاب سب یہ جانتے تھے بالیقیں
کہ ہیںواقف موت سے ہر اک بشر کے شاہِ دیں
بلکہ تاخیرِ اَجل چاہیں تو کچھ دقّت نہیں
جس کی جو مرنے کی جاٹہراتے وہ مرتا وہیں
اہلِ خلد و نار کا رکھا تھا دفتر ہاتھ میں
گویا تھا ہر شخص کا نقشِ مقدر ہاتھ میں
اس مسئلہ پر حضرت فاضل ممدوح کا ایک اور استدلال ملاحظہ فرمائیں دلیل کی اساس بالکل وہی ہے جو اعلٰی حضرت فاضل بریلی رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر میں جلوہ گر ہے۔
اورکوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
فکر کی ہم آہنگی پر حیرت کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایمان کا نصب العین دونوں کے یہاں مشترک ہے اب پوری توجہ کے ساتھ حضرت ممدوح کا یہ بند پڑھئے۔
حضرت موسیٰ نے جب دیکھی تجلّی طور پر
گو نہ دیکھا حق کو پھر بھی بڑھ گئی ایسی نظر
کہ شب یلدا میں دس فرسخ پر چیونٹی ہواگر
دیکھ لیتے طور کی رویت کا تھا ایسا اثر
پھر جو خود اللہ کو حضرت نے دیکھا دو بار
کونسی شی ہے جو حضرت پر نہ ہوتی آشکار (10)
اگرچہ ان دونوں حضرات کی ملاقات تاریخ سے ثابت نہیں۔ لیکن مراسلت اور خط و کتابت کے سلسلہ میں ڈاکٹر عبد الحمید اکبر گلبرگوی رقمطراز ہیں۔
’’مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلی کے مکتوبات دیکھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کے جلیل الشان علماء سے مراسلت قائم رکھی تھی لیکن کسی عالم کی کتابوں کو اس درجہ شوق سے طلب نہیں فرمایا جس طرح مولانا انوار اللہ فاضل حیدرآبادی کی تصانیف کو قیمتاً طلب فرمایا چنانچہ مولانا احمد رضا خان نے جب ’’افادۃ الافہام‘‘ کا مطالعہ کیا تو ایک مثبت تاثر ان کے مزاج میں قائم ہوا اور انہیں مولانا انواراللہ فاروقی کی دیگر تصانیف بھی دیکھنے کی خواہش ہوئی چنانچہ اپنے خط میں اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ کل تصانیف گرامی کا شوق ہے اگر بہ قیمت ملتی ہوں قیمت سے اطلاع بخشی جائے۔ دو جلد قادیانی مخذول (افادۃ الافہام) کے چند صفحات دیکھتے تھے ایک صاحب سے ان کی تعریف کی وہ لے گئے۔ (11)
فاضل بریلی نے اپنی تصانیف میں جابجا محرمات اور منکرات شرعیہ، بدعات وخرافات کے خلاف لکھا ہے اور مسلمانوں کو ان سے دور رہنے کی تلقین کی ہے ۔
جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے مفتی اول مولانا مفتی محمد رکن الدین ’’مطلع انوار‘‘ میں حضرت شیخ الاسلام کی اصلاحی خدمات کے زیر عنوان تحریر کرتے ہیں۔
’’ قدیم سے یہ دستور تھا کہ اعراس کے موقع پر طوائف، اولیاء کرام کے مزارات پر آکر مجرادیا کرتی تھیں جس سے اقسام کی لغویات ہوتے تھے اور یہ یقینا اولیاء کرام کی ناراضی کا سبب بھی تھا آپ (شیخ الاسلام) نے (بحیثیت ذمہ دار عالم و وزیر امور مذہبی) حکم جاری فرمایا کہ آئندہ سے درگاہوں پر طوائف کے مجرے نہ ہوا کریں۔‘‘
پہلے بعض درگاہوںمیں عرس کے ساتھ مینا بازار(زنانہ بازار) کا بھی انتظام کیا جاتا تھاآپ نے مینا بازار ہی بند کروادئے تاکہ نہ بناء فساد رہے نہ فساد ہونے پائے۔ (12)
مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلی کے متعلق حکیم عبدالحیٔ رائے بریلی سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کا تاثر ملاحظہ فرمائیں۔ 
’’بہت سے فنون بالخصوص فقہ و اصول میں اپنے ہمعصروں پر فائق تھے‘‘ (13)
یہی مولانا عبدالحی حضرت شیخ الاسلام کے متعلق تحریر کرتے ہیں :
وکان اوحد فی زمانہ فی العلوم العقلیۃ والنقلیۃ یعنی اور وہ (حضرت شیخ الاسلام) علوم عقلیہ و نقلیہ میں یگانہ روز گار تھے۔ (14)
الغرض حضرت شیخ الاسلام کے معاصرین علماء اعلام میں بقول حضرت علامہ مفتی عبدالحمید رحمۃ اللہ علیہ
’’ مولانا احمد رضا خاںصاحبِ سیف الاسلام اور مجاہد اعظم گذرے ہیں۔ اہل سنت وجماعت کے مسلک وعقائد کی حفاظت کا ایک مضبوط قلعہ تھے۔ آپ کا مسلمانوں پر احسان عظیم ہے کہ ان کے دلوں میں عظمت و احترام رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم اور اولیاء امت کے ساتھ وابستگی برقرار ہے خود مخالفین پر بھی اس کا اچھا خاصہ اثر پڑا اور انکا گستاخانہ لب ولہجہ ایک حد تک درست ہوا بجا طور پر آپ امام اہل سنت وجماعت ہیں آپ کی تصنیفات وتالیفات علوم کا ایک بحرِ زخّار ہیں‘‘( 15)۔ 
علامہ شیخ محمد امین بن فتح اللہ کردی رحمۃ اللہ علیہ
علامہ شیخ محمد امین الدین ارد بیلی کردی شافعی حضرت شیخ الاسلام کے ہمعصر علماء میں وہ عظیم اور متاثر کن شخصیت تھے جن کے متبعین میں انابت الی اللہ، عبادت، اخلاقی دولت اور زہد وتقوی جو ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہے موجود تھے۔ شیخ محمد امین کا شمار صوفیاء کی نقشبندی تحریک کے شیوخ میں ہوتا تھا چنانچہ آپ کے شیخ و مرشد عمر ضیاء الدین سراج نقشبندی نے آپ کو خلیفہ مجاز کیاتھا۔ مکہ مکرمہ میں ایک سال قیام کے دوران آپ کا سینہ فیوضات حرم سے پر نور ہوگیا۔ وہاں سے قاھرہ مصر آئے اور عالم اسلام کی قدیم اسلامی یونیورسٹی جامع ازہر میں قانون اسلامی میں تخصص اور دیگر علوم اسلامیہ کی سند اور مہارت حاصل کی۔
’’تنویر القلوب فی معاملۃ علوم الغیوب‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، یہ تصنیف عقائد، فقہ شافعی اور علم تصوف کا مستند ذخیرہ اور دستاویزی حیثیت کی حامل ہے۔ آپ کی تاریخ پیدائش دستیاب نہ ہوسکی۔ حضرت شیخ الاسلام سے تین سال قبل یعنی 1914ء میں علامہ شیخ محمد امین کا انتقال ہوگیا( 16)۔
علامہ شیخ محمد بدرالدین حسنی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ
تیرہویں صدی ہجری میں جن نابغۂ عصر وفحول زمانہ ہستیوں نے اپنے علم وفن علم وعمل، خوف ورجا، ورع وتقوی سے ایک دنیا کو متاثر کیا اور خدمت دین وملت کو اپنی زندگی کا شعار بنالیا تھا ان میں محدث دمشق علامہ شیخ محمد بدرالدین حسنی بن یوسفین بدرالدین حسنی حنفی دمشقی بھی شامل ہیں۔
علامہ بدرالدین حسنی 1264ھ 1850ء دمشق میں پیدا ہوئے، حیرت انگیز حافظہ کے مالک تھے۔ علوم اسلامیہ میں متون کے بیس ہزار اشعار آپ کو زبانی یاد تھے آپ کے سوانح نگاروں کا کہنا ہے کہ آپ کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف مع سند و متن حدیث یاد تھے۔ اس کے علاوہ فن منطق اور علم لغت میں بھی آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔
درس وتدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف و عبادت و ریاضت میں آپ نمونۂ سلف تھے۔ تقریباً ہر علم پر آپ کی تصانیف پائی جاتی ہیں۔ آپ کے فتاویٰ کو شیخ شعیب ارنوط اور شیخ عبدالوکیل الدروبی نے جمع کیا۔
دمشق کے آسمان علم وفن کا یہ ماہتاب جو بیک وقت محدث، فقیہ حنفی، مفسر، لغوی، مفتی، زاہد، عابد شب زندہ دار اسلاف کرام کی زندہ یادگار تھا۔ 1935ء میں دار فنا سے دار بقا کی وادی میں غروب ہوگیا۔(17)
علامہ شیخ اویس البراوی رحمۃ اللہ علیہ(صومالیہ)
علامہ شیخ اویس البراوی صومالیہ کے جنوبی ساحل پر واقع شہر براوہ میں پیدا ہوئے۔ وطن میں فقہ شافعی تفسیر قواعد عربی اور تعلیمات تصوف حاصل فرمانے کے بعد عروس البلاد بغداد پہنچے تاکہ اپنی نسبت قادریت کی تکمیل کرلیں یہاں کئی برس آپ نے شیخ مصطفی بن السید سلمان الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر طریقہ قادریہ کی تکمیل کی اور خلیفہ مجاز گردانے گئے۔ الحمدللہ شیخ اویس براوی میں ایک شیخ طریقت کے سارے کمالات اخلاق عالیہ اور ارشاد خلق کی کامل استعداد پیدا ہوچکی تھی شیخ نے اس استعداد کو کام میں لاکر اپنے مریدین ومتبعین کو فروغ واشاعت دین کی سرگرمیوں میں مشغول فرمادیا۔ اور اس طرح اویسی قادریہ سلسلہ صومالیہ کے جنوبی علاقہ اور زائر (Zaire) کے مشرقی علاقہ میں اسلام کی توسیع کا سبب بنا۔ علامہ شیخ اویس نے دینی سرگرمیوں کے دوش بدوش شہر براوہ کے شمال میں 150میل دور بلاد الامین اور بئیولے (Biolay)میں زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ ان دینی سرگرمیوں کے سبب براوہ سے زنجبا راور پھر کا نگو تک قادریہ سلسلہ کی عظیم تحریک کا موثر علاقہ بن گیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ جو کوئی اسلام میں داخل ہوتا ہے وہ لازماً قادری ہوتا ہے۔
شریعت کے عالم، قادری طریق کے شیخ اور افریقہ کے اس مبلغ اعظم نے 1909ء 63سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایا رحمۃ اللہ رحمۃ واسعۃ۔
بنا کردند خوش رسمے بخاک وخون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را(18)
حضرت سید محمد دیدار علی شاہ رضوی الوری رحمۃ اللہ علیہ(پاکستان)
مرجع الفقہاء والمحدثین مولانا ابو محمد سید محمد دیدار علی شاہ ابن سید نجف علی، محلہ نواب پورہ، الور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے عم مکرم، مولانا سید نثار علی شاہ علیہ الرحمہ نے آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ کی ولادت سے قبل بشارت دیتے ہوئے فرمایا بیٹی تیرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو دین مصطفوی کو روشن کرے گا اس کا نام ’’دیدار علی‘‘ رکھنا آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام موسیٰ رضا رضی اللہ عنہ تک پہونچتا ہے، آپ کے آباء واجدادمشھد (قدیم طوس) سے ہندوستان آئے اور الور میں قیام پذیر ہوئے الور میں ابتدائی تعلیم کے بعد مولانا کرامت اللہ خان رحمۃ اللہ علیہسے دہلی میں درسی کتابوں اور دورئہ حدیث کی تکمیل کی، فقہ ومنطق مولانا ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہسے، سندِ حدیث مولانا احمد علی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہسے حاصل کی۔ حضرت سید مہر علی شاہ گولڑوی اور مولانا وصی احمد محدّثِ سورتی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے ہم درس تھے۔ آپ سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ سلسلہ چشتیہ میں حضرت مولانا سید علی حسین کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ اور سلسلۂ قادریہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مجاز ہوئے۔
ہندوستان کے مختلف مدارس جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیکر لاہور تشریف لائے اور مسجد وزیر خان میں خطابت کے ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا 1945 میں ’’مرکزی انجمن حزب الاحناف‘‘ قائم کی اور ’’دارالعلوم حزب الاحناف‘‘ کی بنیاد رکھی جہاں سے سینکڑوں علماء فضلاء اور مدرسین پیدا ہوئے۔ حضرت کی ذات ستودہ صفات محتاج تعارف نہیں، بے باکی اور حق گوئی آپ کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی مخالفتوں کے طوفان آپ کے پایۂ ثبات کو جنبش نہ دے سکے علم وفضل کے گویا سمندر تھے کسی مسئلہ پر گفتگو شروع کرتے تو گھنٹوں بیان جاری رہتا سورئہ فاتحہ کا درس ایک سال میں ختم ہوا آپ کے بے شمار تلامذہ میں بعض علماء نے ملک کے طول وعرض میں بڑا نام پیدا کیا ہے خصوصاً مولانا رکن الدین الوری نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے رسالۂ دینیات موسوم بہ ’’ رکن دین‘‘لکھ کر ہندو پاک کے اردو داں مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ آپکی یہ کتاب ہر مسلمان کے گھر میں مسائل کے لئے مرجع بنی ہوئی ہے دوسرے جلیل القدر عالم مولانا عبدالقیوم ہزاروی امداللہ حیاتہ للاسلام والمسلین ناظم جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لاہوری گیٹ لاہور (پاکستان) سے 1991ء میں ملاقات رہی ماشاء اللہ عالم باعمل ہیں۔ حضرت سید دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی محققانہ تصانیف میں تحقیق المسائل بڑی معرکۃ الآراء کتاب ہے جو اہل دیوبند کے مولانا رشید احمد گنگوہی سے بعض فقہی مسائل کے سلسلہ میں خط و کتابت کا مجموعہ ہے جس میں مولانا گنگوہی عاجز آگئے تھے۔22!رجب المرجب 1354ھ کو رب کریم کے دربار میں حاضر ہوئے اور جامع مسجد اندرون دہلی دروازہ لاہور میں محو خواب ہیں ۔ ( 19 )
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی جیلانی قدس سرہ‘ العزیز
ماہِشریعت، مہرِ طریقت ،حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی ابن حضرت مولانا پیر سید نذر الدین شاہ قدس سرھما یکم رمضان المبارک (1275ھ) بروز دوشنبہ گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے آپ کا سلسلہ نسب 25واسطوں سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور ۳۶ واسطوں سے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچتا ہے۔
قرآن مجید پڑھنے کے بعد مولانا غلام محی الدین بزوری سے کافیہ تک کتابیں پڑھیں پھر بھوئی ضلع راولپنڈی میں مولانا محمد شفیع قریشی کے مدرسہ میں داخل ہوئے اور ضلع سرگودھا میں مولانا سلطان محمود (مرید خاص حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ) سے پڑھا اور کانپور میں مولانا احمد حسن کانپوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت مولانا احمد حسن کانپوری سفر حرمین طیبین کے لئے تیار تھے اس لئے آپ استاذ الکل مولانا لطف اللہ علیگڑھی کی خدمت میں حاضر ہوگئے معقولات اور ریاضی کی کتب عالیہ کا درس لیا مولانا احمد علی کانپوری محشی بخاری سے درس لیا اور 1295ھ 1878ء میں سندِ حدیث حاصل کی سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے اور خلافت واجازت سے مشرف۔ تکمیل علوم کے بعد ایک عرصہ تک درس وتدرس کے ذریعہ تشنگان علوم کو سیراب کیا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ کے نظریہ وحدۃ الوجود کے زبردست حامی اور مبلغ 1307ھ۔ 1890ء میں حرمین شریفین کی زیارت کے لئے گئے تو حضرت خواجہ عبدالرحمن چھوہروی قدس سرہ آپ کے ہمراہ تھے مکہ مکرمہ میں مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بانی مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ سے ملاقات ہوئی تو وہ آپ کے علم وفضل سے بہت متاثر ہوئے مولانا محمد غازی رحمۃ اللہ علیہ نائب مدرس مدرسۂ صولتیہ آپ کے فضل وکمال کے اتنے گروید ہ ہوئے کہ ہمیشہ کیلئے گولڑہ شریف آگئے حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت وہ مثنوی شریف کا درس دے رہے تھے ایک شخص مثنوی شریف کے ایک شعر کے بارے میں تشفی حاصل کرنا چاہتا تھا حضرت حاجی صاحب کی اجازت سے حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس شعر کی ایسی عارفانہ تقریر کی کہ حاجی صاحب وجدمیں آگئے اور آپ کو سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں اجازت سے نوازا۔
مدینہ منورہ کے سفر میں وادی حمراء میں ڈاکوؤں کے خطرے کی بنا پر حضرت رحمۃ اللہ علیہعشاء کی سنتیں ادا نہ کرسکے خواب میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آراء سے مستفیض ہوئے حضور نے فرمایا:
’’آلِ رسول رانبا یدکہ ترک سنت کند‘‘۔
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ نے عمر بھر شریعت وطریقت کی بے مثال خدمات انجام دیں مسلک اہل سنت کی حمایت اور بد مذہبوں کی سرکوبی پر خاص طور پر توجہ فرمائی ۔
مولانا فیض احمد گولڑوی لکھتے ہیں:
حضرت نے امکان کذب باری تعالی کو محال۔ علم غیب عطائی اور سماع صوت کو برحق اور ندائے یارسول اللہ! زیارت قبور، توسل و استمداد انبیاء و اولیاء علیھم السلام اور ایصال ثواب کو جائز قرار دیا۔
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشن گوئی کے مطابق آپ کی مساعی جمیلہ نے فتنۂ قادیانیت کی سازشوں پرپانی پھیر دیا۔ 1317ھ!190ء میں آپ نے ’’شمس الہدایہ‘‘ لکھ کر حیات مسیح علیہ السلام پر زبردست دلائل قائم کئے آپ کے خلاف وہابیوں کے مشتعل ہونے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ آپ نے ’’سیفِ چشتیائی‘‘ میں مدعیان نبوت کا ذکر کرتے ہوئے مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی کے ساتھ ساتھ محمد بن عبدالوہاب نجدی کو بھی شمار کیا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑی شریعت و طریقت کے رہنما تھے۔ انہوں نے ملکی سیاست میں حصہ نہیں لیا لیکن جب تحریک خلافت اٹھی تو آپ نے کسی کی پرواہ کئے بغیر شرعی نقطہ نظر کو وضاحت سے پیش کیا آپ کی محققانہ تصانیف کے نام یہ ہیں:
1)سیف چشتیائی
2)شمس الہدایہ
3)تحقیق الحق
4)عجالہ بردرسالہ
5)الفتوحات الصمدیہ
6)اعلاء کلمۃ اللہ فی بیان اُھِلّ بہ لغیراللہ7)فتاوی مہریہ۔
29!صفر المظفر1356ھ، 11!مئی1937ء بروز سہ شنبہ آپ کا وصال ہوا گولڑہ شریف میں آپ کے مزار مبارک کا گنبد دور سے دعوت نظارہ دیتا ہے ہر سال آپ کے عرس کے علاوہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا عرس بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔ ( 20 ) 
علامہ شیخ محمد بخیت بن حسین
علامہ شیخ محمد بخیت بن حسین المطیعی الحنفی، مصر کے شہر’ ’مطیعہ‘‘ میں 1271ھجری کو پیدا ہوئے۔ مشہور زمانہ جامع ازہر مصر میں تعلیم حاصل کی۔ اور 1297ھجری میں منصب کی حیثیت سے عدلیہ میں مامور ہوئے۔ اس سے قبل درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ 
1914ء میں مفتی کے عہدہ پر ترقی دی گئی جس پر شیخ نے سات برس کام کیا۔ شیخ محمد بخیت کو علامہ جمال الدین افغانی سے نظری اختلاف تھا۔ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر مصنف بھی تھے۔ حکومت مصر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خدمت افتاء سے سبکدوش ہوگئے کبھی بھی حکومت کی غلط پالیسی کے آگے اپنا سر خم نہیں کیا۔
آپ کا انتقال 1935ء قاہرہ مصر میں ہوا۔ 
حضرت مولانا حسن الزماں حیدرآبادی رحمۃ اللہ علیہ
اسلامی ہند میں سلطنت آصفیہ نظام شاہی کی مرکزیت و مرجعیت محتاج ذکر و بیان نہیں، دارالسلطنت حیدرآباد کا چپہ چپہ مشائخ کبار اور علماء یگانہ کے وجود سے ضوبار تھا، قدوۃ المحدثین رئیس المتصوفین حضرت مولانا خواجہ حسن الزماں چشتی نظامی فخری سلیمانی حافظی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات مبارک شمعِ انجمنِ عرفان تھی وہ علوم اسلامیہ کے مہرِ منیر اور بدرِ کامل تھے تو عشق و معرفت کے ماہتاب تھے۔ انہوں نے علم حدیث کی خدمت ایک انداز سے کی تمام مسائل محققہ اہل سنت والجماعت کا اثبات روایاتِ اہل بیت سے کیا اس مجموعہ کا نام ’’الفقہ الاکبر فی علوم آلِ بیت الاطہر‘‘ تجویز فرمایا۔ یہ آپ کا بے نظیر کارنامہ ہے پہلی جلد کی اشاعت کا اہتمام نواب میر محبوب علی خاں نظام نے کیا۔
حضرت حیدرآبادی علم حقائق کے بیان میں اپنے عہد کے شیخِ اکبر تھے آپ نے حضرت مولانا فخر الدین فخر پاک کی مبارک کتاب فخر الحسن کی مبسوط محقق و مدلل شرح ’’القول المستحسن‘‘ کے نام سے تحریر فرمائی جس میں علوم کا سمندر مواج ہے‘‘۔ 
حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی، مولانا موصوف کی شخصیت اور علمی کارناموں کے بارے میں رقمطراز ہیں۔
’’ہمارے زمانہ میں یہی فاضل اجل مولانا مولوی محمد حسن الزماں صاحب جو فن حدیث میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ایک کتاب حدیث میں لکھی اور اس میں وہ حدیثیں جمع کیں جن کی اسنادوں میں اہل بیت میں سے کوئی ایک مذکور ہوں اور سبب تالیف اس کا یہ لکھا کہ شیعہ کا اعتراض ہے کہ اہل سنت وجماعت کو علومِ اہلِ بیت نہیں پہونچے اس پر مجھے غیرت آئی اور یہ کتاب لکھنی شروع کی۔ اس کتاب سے مقصود مولوی صاحب کا صرف یہ بات معلوم کرادینا ہے کہ ان حضرات کی روایتیں ہماری کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اس سے شیعہ کو الزام دینا مقصود نہیں کہ انہوں نے ان حدیثوں کے مطابق عمل نہیں کیا اور اعتقاد نہیں رکھا کیونکہ وہ تو ان کتابوں کو اور ان روایتوں کو صحیح اور قابل اعتبار سمجھتے ہی نہیں اور نہ مولوی صاحب کا یہ مقصود ہے کہ اہل حدیث ان روایتوں پر عمل کریں کیونکہ وہ تو سوائے بخاری کے کسی کتاب کو مانتے ہی نہیں۔ 
(حقیقۃ الفقہ ص 106۔107)
مولانا کو اس کتاب سے یہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ اہل بیت کا مذہب یہی تھا بلکہ جس طرح امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے الجواہر المکللہ میں ان احادیث کو ذکر کیا جن کی اسنادوں میں کسی قسم کا التزام ہے۔ اسی طرح مولانا ممدوح نے صرف اُن احادیث کا اُس میں الترام کیا جن کے اسنادوں میں حضرات اہل بیت میں سے کسی کا نام ہو خواہ وہ صحیح ہو یا نہ ہو اور وہ کسی کا مذہب ہو یا نہ ہو اسی وجہ سے آغانی تک کی روایتیں اُس میں لی گئیں۔(ص 109)
اس کتاب کے دیکھنے سے اکثر علما مولوی صاحب کے مخالف ہوگئے اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ مولوی صاحب نے یہ کتاب لکھ کر ایک فتنہ کی بنیاد ڈالی جس کا اثر خاص مقلدوں پر پڑنے والا ہے اس لیے کہ نہ شیعہ اس کی طرف التفات کریں گے نہ اہل حدیث البتہ مقلدین میں جو حضرات اہل بیت سے خوش اعتقاد ہیں خصوصاً مشائخین و مریدین جن کا انتساب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طرف ہے وہ ضرور یہ خیال کریں گے کہ جس طرح طریقت میں حضرت کی اتباع ضرور ہے شریعت میں بھی بہتر بلکہ ضرور ہے مگر غور کیا جائے تو یہ الزام مولانا ممدوح کی طرف لگانا زیادتی ہے اس لیے کہ انہوں نے یہ کب دعویٰ کیا کہ طریقت اور شریعت میں ایک ہی کی اتباع ضروری یا بہتر ہے اور ممکن نہیں کہ وہ اس کے قائل ہوں کیونکہ خود ان کے پیر حضرت حافظ محمد علی صاحب قدس سرہ اور ان کے پیر حضرت شاہ سلیمان صاحب اور مولانا فخر صاحب وغیرہم سب حنفی تھے اور خود حضرت محبوب الٰہی مولانا نظام الدین قدس سرہ العزیز بھی حنفی تھے جیسا کہ فوائد الفواد کی جلد چہارم مجلس دہم ماہ رمضان 710ھ سے ظاہر ہے کہ خود حضرت نے اپنے حنفی المذہب ہونے کا اعتراف کرکے امام اعظم کوفی رحمۃ اللہ علیہ کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور حضرت خواجۂ خواجگاں خواجہ معین الدین چشتی قدس اللہ سرہ العزیز وغیرہ اکثر حضرات یہی حنفی المذہب تھے پھر حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلۂ چشتیہ کے اکابر شیوخ سے ہیں اُن کا حال بھی اوپر معلوم ہوا کہ کس طرح امام صاحب کے معتقد تھے اسی طرح تذکروں سے ثابت ہے کوئی طریقہ ایسا نہیں کہ جس کے اکابر اور مقتدا مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب کے مقلد نہ ہوں اگر اہل طریقت کو اہل بیت کی تقلید ضروری یا بہتر ہوتی تو یہ حضرات سوائے اہل بیت کے کسی کی تقلید نہ کرتے۔ ( 21)
علامہ محمد عبدالسمیع بے دل انصاری رحمۃ اللہ علیہ
نام محمد عبدالسمیع اور تخلص ’’بے دل‘‘ ہے، آپ اپنے وطن رام پور منیہاران، ضلع سہارن پور میں پیدا ہوئے جو سہارن پور، شاملی، دہلی برانچ لائن پر سہارن پور شہر سے تقریباً اڑتیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ آپ کا نسبی رشتہ شیخ الاسلام خواجہ عبداللہ انصاری کے واسطے سے مشہور صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔
ابتدائی تعلیم پاےۂ حرمین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی (بانی مدرسہ صولتیہ، مکہ مکرمہ، متوفی 1308ھ) سے حاصل کی۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے 1270ھ سے قبل قصبہ کیرانہ میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا تھا، اس مدرسہ سے سینکڑوں تشنگانِ علوم نے پیاس بجھائی، اسی مدرسے میں مولانا رام پوری نے مولانا کیرانوی سے تعلیم حاصل کی، ان کے علاوہ مولانا احمد علی محدث سہارن پوری، مولانا سعادت علی سہارن پوری، مولانا شیخ محمد تھانوی اور مولوی محمد قاسم نانوتوی سے بھی تعلیم پائی۔
پھر1270ھ مطابق 1854ء میں آپ نے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے مرکز علم و ادب دہلی کا رخ کیا اور علمائے دہلی خصوصاً صدر الصدور حضرت مولانا مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی سے عربی علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں۔ انہیں ایام میں شعر گوئی کا شوق ہوا تو اردو کے مشہور شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی شاگری اختیار کی۔ ’’بے دل‘‘ تخلص تھا۔ ابتدا میں طبیعت غزل کی طرف زیادہ مائل رہی۔ بعد میں اس رسمی شاعری کو چھوڑ کر اپنی تمام تر توجہ مذہبی علوم و مسائل پر محدود کردی۔
حمد باری، نور ایمان اور سلسبیل جیسے منظوم رسالے آپ کی شاعرانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے علاوہ ایک نعتیہ دیوان بھی ہے۔
مولانا رام پوری سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں اپنے وقت کے مشہور مرشدِ طریقت شیخ المشائخ حضرت مولانا الحاج امداد اللہ فاروقی چشتی تھانوی مہاجر مکی علیہ الرحمہ (م 1317ھ)سے بیعت تھے۔ آپ کو حضرت حاجی صاحب موصوف سے اجازت و خلافت بھی حاصل تھی، آپ نہایت محتاط، تقویٰ شعار، پرہیزگار اور کامل الاحوال بزرگ تھے۔ مشہور مخیر رئیس حافظ عبدالکریم، رئیس لال کرتی میرٹھ نے اپنے لڑکوں کی تعلیم و تربیت کے لیے آپ کو بارہ روپئے اور روٹی پر مدرس رکھ لیا۔ مدرس ہونے کے بعد دونوں وقت انواع و اقسام کے کھانے پہنچنے لگے، مگر آپ کا معمول یہ رہا کہ ان میں سے کچھ بھی تناول نہ فرماتے، صرف روٹی کھاکر پانی پی لیتے۔ حافظ عبدالکریم صاحب کو خبر ہوئی۔ بلاکر تحقیق حال کرنی چاہی اور پوچھا کہ کیا کھانا پسند نہیں آتا، کہ آپ ایسا کرتے ہیں؟ آپ نے بڑی سادگی سے دوٹوک جواب دیا: کھانے میں کوئی کمی نہیں، بات دراصل یہ ہے کہ معاملہ طے کرنے کے وقت صرف ’’روٹی‘‘ طے ہوئی تھی، اس لیے باقی چیزوں کے کھانے کا مجھے حق نہ تھا۔
آپ حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی کے ان خلفا میں تھے جنہیں حاجی صاحب نے از خود خلافت دی تھی۔ آپ نے پوری طرح مذہب اہل سنت کے عقائد و افکار اور مشربِ صوفیہ کے وظائف و معمولات میں اپنے شخ و مرشد کی پیروی کی اور مشائخ کے روحانی فیوض و برکات سے بہر ور ہوئے۔ 
امداد المشتاق میں خود حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے اپنے خلفا کے بارے میں فرمایا:
’’میرے خلفا دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جنہیں میں نے از خود خلافت دی ہے۔ دوسرے وہ جن کو تبلیغ دین کے لیے ان کی درخواست پر اجازت دی ہے‘‘۔
جن خلفا کو از خود خلافت دی ہے انہوں نے پوری طرح حاجی صاحب کی اتباع کی۔ مثلاً مولانا لطف اللہ علی گڑھی (متوفی 1334ھ)، مولانا احمد حسن کان پوری (متوفی 1322ھ)، مولانا محمد حسین الٰہ آبادی (متوفی 1322ھ) اور مولانا عبدالسمیع رام پوری (متوفی1318ھ)۔
(شیخ الاسلام مولانا شاہ محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن بھی انہیں خلفاء میں شامل ہیں۔ (مرتب)
اور جن خلفا نے حاجی صاحب سے اختلاف کیا ان میں مولوی محمد قاسم نانوتوی (م1297ھ)، مولوی رشید احمد گنگوہی (م1322ھ) اور مولوی اشرف علی تھانوی (م 1362ھ) کے نام سر فہرست ہیں۔ 
اردو کے مشہور ادیب اور قلمکار مالک رام نے تلامذۂ غالب میں لکھا کہ مولانا رام پوری کی فارسی اور عربی کی استعداد بہت اچھی تھی۔ خود آپ کی کتاب انوار ساطعہ کا انصاف و دیانت کے ساتھ مطالعہ کرنے والا اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مذہبی علوم و فنون اور علوم عقلیہ میں آپ کا پایہ بہت بلند اور آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا، جیسا کہ ان کے بزرگوں اور معاصر علمائے کرام نے انوار ساطعہ پر اپنی تقریظات میں کھلے دل سے ان کے علمی تبحر و کمال کا اعتراف کیا ہے۔ انوارِ ساطعہ میں مولانا نے اس عالمانہ اسلوب میں بحث کی ہے کہ طبیعت پھڑک اٹھتی ہے اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔
مولانا رام پوری علیہ الرحمہ نے اسی، نوے کے درمیان عمر پائی اور میرٹھ میں 1318ھ مطابق 1900ء میں انتقال ہوا اور وہیں قبرستان حضرت شاہ ولایت قدس سرہ میں مدفون ہوئے۔ مولانا حکیم محمد میاں آپ کے فرزند تھے، 1940ء میں ان کی رحلت ہوگئی۔ حکیم صاحب کی اولاد میں صرف دو لڑکیاں تھیں، اولادِ نرینہ کوئی نہ تھی۔
مولانا عبدالسمیع رام پوری علیہ الرحمہ نے درج ذیل کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:
(1) نور ایمان (منظوم) (2) سلسبیل (منظوم) (3) راحت قلوب (4) بہارجنت (5) مظہر حق (6) انوار ساطعہ دربیان مولود و فاتحہ ( 7) حمد باری۔ (22)
حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ
اعلی حضرت قدسی منزلت مخدوم الاولیاء مرشد العالم مخدوم سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی محبوب یزدانی قدس سرہ‘کی ولادت باسعادت 22ربیع الثانی 1266ھ مطابق دسمبر1846ء کو بوقت صبح صادق ہوئی، غسل وغیرہ سے فراغت کے بعد آپ کے والد حضرت حاجی سید شاہ سعادت علی قدس سرہ‘ نے سب سے پہلے خاندان اشرفیہ کی روایت اولیٰ انجام دی کہ آپ کے دست مبارک میں قلم تھمایا اور اسے پکڑ کر دوات میں ڈبودیا اور اپنے ہاتھ کے سہارے کاغذ پر ’’اسم جلالت‘‘ لکھوا دیا۔ یہ روایت خاندان اشرفیہ میں علم و فضل کی ترسیل و تحصیل کی علامت مانی جاتی ہے۔ اس کے بعد آب زم زم میں ملا ہوا شہد چٹایا اور حضرت غوث العالم محبوب یزدانی مخدوم پاک کے آستانے کا ’’کاجل‘‘ آنکھوں میں لگایا یوں خاندانی روایت کی تکمیل ہوئی، حضور پر نور اعلیٰ حضرت مخدوم الاولیاء کا اسم گرامی ’’علی حسین‘‘ رکھا گیا حضور ’’محمد علی حسین‘‘ نام نامی تحریر فرمایا کرتے تھے۔ ابو احمد کنیت تھی اس میں جو سر ہے اس کو اہل حقائق جانیں گے۔ 
حضور پر نور مخدوم الاولیاء محبوب ربانی قدس سرہ‘ علمائے نامدار، محدثین کبار، اساتذہ روزگار کی مجلسوں کی زیب و زینت و رونق ثابت ہوئے علوم و فنون میں غیر معمولی رسوخ رکھنے والی شخصیتیں آپ کی بزم عرفانی میں سر بزانو مؤدب بیٹھتی تھیں۔ آپ کی بصیرت قلبی کے سامنے یہ علماء یگانہ اپنی علمی بے چارگی اور بے اطمینانی کو صاف صاف محسوس کرتے تھے۔ آپ کی مجلس نورانی کی برکتوں سے ان پر فاش ہوجاتا تھا کہ: 
’’علم کتابی اور ہے اور علم الٰہی اور ہے‘‘۔
حضور پر نور قدسی منزلت مخدوم الاولیاء مرشد العالم محبوب ربانی قدس سرہ‘ کے گرد اہل علم و فضل کا مجمع رہتا تھا۔ حدیث پاک کے ماہرین بھی حاضر رہتے فقہ و افتاء کے راسخین کو بھی حضوری کی سعادت حاصل رہتی منطق و فلسفہ اور علم کلام کے مرد عقل و دانش کے صدر نشین حاضر خدمت رہتے، شعر و ادب کے تاجور بھی اور نقادان فن بھی بار یابی کا شرف حاصل کرتے، جدید علم گاہوں کے دانشور بھی جگہ پاتے۔ غرض کہ ہر طبقہ اور ہر فن کے اکابر کا مجمع رہتا۔ حضور پر نور ان کے ذوق و معیار کے مطابق بھی گفتگو فرماتے مگر اصل حقیقت وہ تھی جن کا بیان جامع کمالات صوری و معنوی مجمع العلوم حضرت مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے کہ:
’’رحمت الہیہ نے ہر کسی کے حصے مقرر فرمادےئے ہیں کسی کو خدمت الفاظ، کسی کو خدمت معانی کسی کو تحصیل مقاصد، کسی کو ایصال الی المطلوب‘‘۔
راہ سلوک: تکمیل علم ظاہری کے بعد جذب الٰہی نے کشش کی اور آپ کا میلان خاطر تصوف و سلوک کی طرف غیر معمولی طور پر ہوا۔ اس گام پر آپ کے برادر حقیقی حاجی الحرمین اشرف الاولیاء حضرت مولانا سید شاہ اشرف حسین صاحب قیام قدس سرہ‘ نے اپنا دست کرم آپ کی طرف بڑھایا اور آپ سے بیعت طریقت لے کر1282ھ میں اجازت و خلافت عطا فرمائی اور راہ سلوک کی تعلیم و تلقین شروع فرمائی، مجاہدہ و ریاضت اور بزرگان قدیم کی روش و طریقہ پر چلہ کشی کرائی۔ 
1290ھ میں جب حسب ارشاد ارواح بزرگان ایک سال کامل آستانہ اشرفیہ پر حسب قاعدہ مشائخ چلہ کشی فرمائی۔ اسی حجرۂ چلہ کشی میں مردان خدا اولیائے پروردگار نے بفیض روحانی حضرت محبوب یزدانی تشریف لاکر حضور کو فیض یاب فرمایا اور بہت سے اولیائے پاک آپ کی ذات پاک سے فیض یاب ہوئے۔
سجادہ نشینی: راہ سلوک کی روز افزوں ترقی اور اولوالعزمی کو ملاحظہ فرماکر حضور پر نور کے پیر و مرشد حضرت اشرف الاولیاء مولانا شاہ اشرف حسین قدس سرہ‘ نے ۳!ربیع الاول ۱۲۸۶ھ مطابق 14!جون1861ء کو حضرت مخدوم الاولیاء کو سجادگی کا منصب بھی عطا فرما دیا۔ اس وقت آپ کی عمر شریف کا اکیسواں برس تھا۔
حج اول اور دربار نبوی کا عطیہ: اعلی حضرت مخدوم الاولیاء محبوب ربانی قدس سرہ‘ کے باطنی احوال جذب و کیف سے معمور تھے، باطنی اضطراب بے پایاں تھا۔ دربار نبوی میں حاضری کا جذبہ دل پر ضربیں لگایا کرتا تھا، پہلے تو عالم خواب میں دربار نبوی میں حاضری کا شرف حاصل ہوا پھر بحالت بیداری بارہا حاضری ہوئی۔ پھر 1295ھ کا وہ زمانہ بھی آگیا جب بحالت جسمانی بھی حاضری کا شرف حاصل ہوگیا۔ 
1340ھ میں اعلیٰ حضرت شیخ المشائخ محبوب ربانی مولانا شاہ ابو احمد سید علی حسین اشرفی جیلانی سجادہ نشین سرکار کلاں قدس سرہ‘ کی سرپرستی اور حضرت علامہ ابو المحمود سید شاہ احمد اشرف جیلانی ولی عہد سجادہ نشین سرکار کلاں قدس سرہ کے اہتمام و انصرام میں جامعہ اشرفیہ کی بنیاد پڑی تھی۔ یہ جامعہ برسہا برس کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت کرتا رہا اسی جامعہ کے شیخ الحدیث محدث اعظم ہند، استاذ گرامی مولانا عماد الدین سنبھلی، مولانا مفتی احمد یارخاں صاحب، علامہ مفتی عبدالرشید خاں صاحب، علامہ سید شاہ محی الدین اشرف اشرفی جیلانی ( اور ان کے خلف ارشد حضرت مولانا سید شاہ معین الدین اشرف) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نیز دیگر اکابرین علماء مختلف عہدوں میں ہوتے رہے اور یہاں کے فارغین طلبہ آج اکابر ملت اسلامیہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ 
چنانچہ حاجی محمد زبیر صاحب نائب ناظم کتب خانہ مسلم یونیورسٹی علیگڑھ اپنی مؤقر تصنیف ’’اسلامی کتب خانہ‘‘ میں رقمطراز ہیں: 
’’تیرہویں صدی ہجری کے ابتدائی سالوں میں حضرت مولانا سید شاہ علی حسین اشرفی سجادہ نشین سرکار کلاں نے ایک بار پھر خاندانی وقار کو بلند کیا اور حضرت مخدوم کی سنت عالیہ کو زندہ کرنے میں پوری تندہی کے ساتھ دلچسپی لی بقول میر غلام بھیک نیرنگ مرحوم حضرت اشرفی میاں کی تاریخی اہمیت خانوادۂ میں وہی ہے جو بنی امیہ میں حضرت عمر ابن عبدالعزیز کو حاصل تھی۔ 
آپ نے کتب خانہ اشرفیہ کی بھی اصلاح فرمائی اور مختلف مقامات سے نادرات منگوائے، حضرت اشرفی میاں نے اپنے ذاتی مصارف سے اشرفی پریس قائم کیا جس میں بعض نادر کتابیں طبع ہوئیں اور1923ء تا 1928ء اسی پریس سے مجلہ اشرفی نکلتا رہا جس کی ادارت کے فرائض حضرت مولانا ابوالمحامد سید محمد محدث نے بحسن خوبی انجام دےئے، اسی مجلہ کے ذریعہ لطائف اشرفی کا اردو ترجمہ بالاقساط پیش کیاگیا۔
کتب خانہ اشرفیہ اعلیٰ حضرت مخدوم الاولیاء کی گراں قدر جدوجہد کا ثمرہ ہے، اس وقت آپ کے پر پوتے حضرت صدر المشائخ مولانا الحاج سید شاہ اظہار اشرف صاحب قبلہ مدظلہ العالیٰ کی ہمت و توجہ سے درجۂ عروج پر پہنچ رہا ہے، حضرت صدر المشائخ نے خانقاہ سرکار کلاں میں کتب خانہ کے لیے ایک وسیع و عریض شاندار فلک نما عمارت تعمیر کرادی ہے جس کا نام حضرت عالم ربانی کے نام نامی پر حضرت مولانا احمد اشرف ہال ہے اور حضرت مخدوم المشائخ قدس سرہ‘ کے نام نامی سے برکت لینے کے لیے کتب خانہ کا نام حضرت مختار اشرف لائبریری خانوادہ اشرفیہ کے تبرکات و ملبوسات اور قلمی نوادر کے لیے ایک مخصوص حصہ حضرت اشرف حسین میوزیم بھی بن گیا ہے، لاکھوں روپیوں کے سرمایہ سے دور دور سے بلند پایہ مصنفین کی مطبوعہ و قلمی کتابوں کا ذخیرہ بھی جمع کیا جارہا ہے، وہ وقت قریب آرہا ہے، جب کتب خانہ علم و تحقیق کے تشنگان کے لیے سیر ابی کا انتظام کردے گا۔
ماہنامہ اشرفی کا اجراء: کچھوچھا مقدسہ کا آستانہ معرفت و علم کے امتزاج کا مرکز تھا یہاں کے اکابر و اولیاء بھی تصنیف و تالیف کا ذوق رکھتے تھے مگر طباعت و اشاعت کی طرف توجہ نہیں فرماتے تھے۔ اعلیٰ حضرت قدسی منزلت حضور پر نور مخدوم الاولیاء مرشد العالم محبوب ربانی قدس سرہ کے دور ارشاد اور عہد بابرکت کے برکات میں مجلہ علمیہ روحانیہ کا اجراء بھی شامل ہے حاجی محمد زبیر صاحب ناظم مسلم یونیورسٹی علیگڑھ لائبریری رقم طراز ہیں۔
’’حضرت اشرفی میاں نے اپنی ذاتی مصارف سے اشرفی پریس قائم کیا جس میں بعض نادر کتابیں طبع ہوئیں 1923 تا 1928 اسی پریس سے مجلہ اشرفی نکلتا رہا جس کی ادارت کے فرائض حضرت مولانا ابوالمحامد سید محمد محدث نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ اسی مجلہ کے ذریعہ لطائف اشرفی کا اردو ترجمہ بالاقساط پیش کیا گیا‘‘۔ 
وصال :حضور پر نور قدسی منزلت نے نہایت شد و مد سے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر جوار قدس کی راہ لی اور صورت بے صورتی آمد بروں باز شد ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حضور کے نماز جنازہ کی امامت، جانشین حضرت اقدس مخدوم المشائخ سرکار کلاں قدس سرہ نے فرمائی۔تدفین اور ذکر پاک کے بعد مرقد منور پر گل باری کی گئی۔(23 )
حضرت عبدالمقتدر قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت عبدالمقتدر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ علم و عمل میں اسلاف کی نشانی اور تقویٰ و پرہیزگاری میں اولیاء متقدمین کا نمونہ تھے۔ محبت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ گھٹی میں پلائی گئی تھی اور پھر ایک فنا فی الغوث کے صاحبزادے اور جانشین تھے۔ حضرت علامہ تاج الفحول رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آپ کو خرقۂ سجادگی پہنایا گیا۔ حضرت کی ولادت1283ھ میں ہوئی۔ آپ نہایت عالی مرتبت ولی کامل بزرگ تھے۔ شب و روز عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے آپ کے زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ اعلیٰ حضرت تاج الفحول محب رسول عبدالقادر قدس سرہ فرماتے تھے کہ ’’مولانا میرے شاگرد اور مرید ضرور ہیں مگر ان کی شان بالاتر ہے۔ کاش میں مولانا کا مرید ہوتا‘‘۔ 
آپ نے دربار حرمین شریفین کی زیارت کی اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے اور خاندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بغداد معلی بھی حاضر ہوئے۔ گو کہ آپ کی صرف ایک حاضری ہوئی لیکن اسی ایک حاضری میں اتنا نوازے گئے کہ برسوں کے حاضر باش آپ کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔ آپ کے ساتھ بھی ویسا ہی عجیب و غریب معاملہ پیش آیا جیسا کہ آپ کے والد ماجد اعلیٰ حضرت تاج الفحول رحمۃ اللہ علیہکے ساتھ پیش آیا تھا۔ یعنی آپ کو بھی نقیب الاشرف صاحب سجادہ نے بغیر کسی واقفیت اور شناسائی کے اول نظر میں پہچان لیا۔ 
آپ 1332ھ میں بغداد معلی حاضر ہوئے تھے۔ اس سفر میں آپ کے ہمراہ حضرت عاشق الرسول مولانا عبدالقدیر بدایونی اور خطیب اعظم حضرت حکیم عبدالماجد بدایونی بھی تھے۔ اس وقت مسند سجادگی پر حضرت سید عبدالرحمن المحض القادری ابن سیدنا سلمان گیلانی رونق افروز تھے۔ 
واقعہ کی تفصیل مولانا ضیاء القادری صاحب نے یوں لکھی ہے۔
’’جب حضرت شیخی و مرشدی سیدی و مولائی مولانا شاہ مطیع الرسول محمد عبدالمقتدر صاحب قبلہ مدظلہ العالی ربیع الثانی 1332ھ میں حاضر دربار مقدس ہوئے پہلی ملاقات میں کہ اس سے پیشتر حضرت نقیب صاحب قبلہ مولانا سید پیر عبدالرحمن صاحب دامت برکاتھم نے نہ صورت دیکھی تھی نہ نام سے واقف تھے نظر اول ہی میں آپ کو دیکھ کر فرمایا 
ھذا شبہ بجدہ فضل الرسول لکن لحیتہ اطول منہ 
یہ اپنے دادا فضل رسول کے ساتھ بہت مشابہ ہیں لیکن ان کی داڑھی ان سے لمبی ہے۔ 
اس کے بعد آپ بغداد معلی میں حضرت نقیب الاشرف کے مہمان رہے اور غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہکے دریار فیض و کرامت سے مستفیض ہوئے۔ 
سبحان اللہ آپ کو بارگاہ خداوندی کا کتنا قرب حاصل تھا اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ وصال کے وقت آپ فجر کی نماز کے لیے حسب معمول بیدار ہوئے اور سنتیں ادا کرنے کے بعد فرض کی نیت باندھی تو زندگی کا آخری سجدہ بارگاہ خداوندی میں ادا کیا۔ سر جھکایا تو روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
سر جھکائے ہوئے تو سب نے دیکھا
سر اٹھاتے ہوئے کسی نے نہ دیکھا
آپ بحالت سجدہ1334ھ میں اپنے معبود حقیقی سے جاملے۔ (24)
مولانا مفتی تراب الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت فضیلت جنگ مرحوم کے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں میں سے ایک حضرت مفتی تراب الدین صدیقی مرحوم مفتی بنولہ جاگیرو خطیب قصبہ بھینسہ تھے۔ دونوں حضرت زماں خاں شہید (استاذ محبوب علی خاں نظام ششم کے شاگرد) فضیلت جنگ کا وطن قندھار ضلع ناندیڑ تھا وہ وہاں کے محتسب (انعامدار) تھے۔ ان کی شادی امیر الدین صاحب محتسب قصبہ بنولہ کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے شیخ الاسلام سے مفتی تراب الدین مرحوم کی رشتہ داری تھی۔ جب یہ طئے پایا کہ شیخ الاسلام کا ہر ایک ساتھی عالم سلطنت آصفیہ کے ہر ایک ضلع میں جاکر وہاں دینی ادارہ قائم کرے۔ 
فضیلت جنگ نے اپنے رشتے کے بھائی مفتی تراب الدین مرحوم سے کہا کہ میرا اور آپ کا تعلق بھی ناندیڑ سے ہے۔ چونکہ جامعہ نظامیہ کے قیام کے بعد میرا قیام حیدرآبادمیں ضروری ہے۔ اس لیے میرے بجائے آپ ناندیڑ جاکر وہاں دینی علوم کی درسگاہ قائم کریں۔ فضیلت جنگ کے مخلصانہ مشورہ پر مفتی تراب الدین مرحوم نے مستقر ناندیڑ جاکر وہاں پہلی دینی درسگاہ قائم کی اور وہاں پر آپ کی تعلیم و تربیت سے کئی علماء فارغ التحصیل ہوئے۔ مفتی تراب الدین مرحوم کے فرزند اول مفتی و خطیب حضرت عبدالرحمن فخری مرحوم سابق صدرمدرس مدرسہ اسلامیہ عیدروسیہ و امام محلہ مسجد دربار (جو جامعہ نظامیہ کے فارغ التحصیل تھے) بھی 38 سال تک ان خدمات پر فائض اور تاحیات درس و تدریس میں مصروف رہے اور دونوں نے ایک صدی تک ضلع ناندیڑ میں اشاعت علم میں اپنی عمریں صرف کیں۔ ان کی ان تعلیمی خدمات کا اعتراف و تذکرہ مولانا احمد علی بیگ چغتائی نے اپنی کتاب ’’تاریخ ناندیڑ ‘‘میں کیا ہے۔ مفتی تراب الدین مرحوم نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں حج و زیارت کا ارادہ کیا۔ ان کے اس سفر کی روانگی کے وقت ان کے تمام شاگرد علماء انہیں وداع کرنے جمع ہوئے۔ سب علماء نے ٹانگہ (پرانی گھوڑے کی سواری) کے پائیدان میں اپنے عمامے عقیدت سے رکھ دئے کہ ان کے استاد محترم اُن پر پیر رکھ کر ٹانگے میں سوار ہوں۔
اس پر ان کے استاد نے انہیں مخاطب کرکے کہا کہ میں نہ صرف حج و زیارت کے ارادے سے بلکہ ہجرت کی نیت سے جارہاہوں۔ اگر آپ کو اپنے استاد سے خلوص ہے تو یہ دعا کرو کہ میرا خاتمہ حرمین شریفین میں ہو اور میں واپس نہ آؤں‘‘۔ استاد کے اس اظہار پر تمام شاگردوں نے اپنے عمامے ٹانگے کے پائیدان سے نکال لئے اور دعا کی کہ خدا استاد کی نیت اور آرزو کو پورا کرے۔ مفتی مرحوم کے سفر حرمین میں ان کے ایک شاگرد احمد اللہ شاہ نقشبندی فرزند محمود شاہ نقشبندی مرحوم (خلیفہ حضرت مسکین شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ) اپنے استاد کی خدمت کے لیے ان کے ساتھ گئے تھے۔ 
وفات: مفتی مرحوم نے حج کی تکمیل کے بعدمزدلفہ سے منیٰ اونٹ پر واپس ہورہے تھے۔ ایک دو دن پیشتر سے مفتی مرحوم کو پیچش کا عارضہ لاحق ہوکر نقاہت زیاد ہوچکی تھی۔ دوران سفر اونٹ پر فجر کے بعد حالت احرام میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ سیدھے ہاتھ میں تسبیح تھی، بایاں ہاتھ اپنی آنکھ پر رکھ کر آنکھ بند کرلی۔ ان کی وفات پران کے شاگرد پریشان تھے کہ پردیس میں استاد کی تجہیز و تکفین کیسے ہوگی۔ شہر منیٰ پہونچنے پر ڈیرے میں میت کو لٹاکر شاگرد سر کو ہاتھ لگائے پریشان میت کے قریب بیٹھے تھے کہ باہر سے آواز آئی۔ مفتی تراب الدین حیدرآبادی فی این؟ (مفتی تراب الدین حیدرآبادی کہاں ہیں) ۔ اب احمد شاہ مرحوم کو اطمینان اور تعجب ہوا کہ ان کے استاد کے ملاقاتی اس ملک میں بھی موجود ہیں۔ ڈیرہ کے باہر جاکر وہ اجنبی عرب صاحب کو اندر بلاکر لائے۔ انہوں نے کہا خوف مت کرو۔ مرحوم میرے دوست ہیں۔ میں ان کی مکمل تجہیز و تکفین کروں گا۔ اجنبی نے گھڑے سے پانی لایا۔ خود میت کو غسل دیا اور کفن پہنایا۔ مسجد خیف منیٰ میں نماز جنازہ پڑھایا اور مسجد کے پیچھے ایک پرانے قبرستان میں تدفین کی گئی۔ بعد تدفین احمد شاہ نے ان سے ان کا نام دریافت کیا تو انہوں نے اپنا نام حبیب علی بتایا۔ احمد شاہ مرحوم نے مفتی صاحب کے وصال کی اطلاع خط کے ذریعہ ان کے فرزند مفتی عبدالرحمن فخری کو دی۔ جب عیدروس صاحب ناندیڑ تشریف لائے تو مفتی صاحب کے فرزند نے اپنے والد کی وفات کی اطلاع انہیں دی۔ انہوں نے دعائے مغفرت کی۔ جب فخری مرحوم نے حبیب عیدروس صاحب قبلہ سے دریافت کیا وہ اجنبی حبیب علی کون ہیں؟تو حضرت نے فرمایا وہ میرے رشتہ کے چچا ہیں اور بڑے کامل بزرگ ہیں۔ چونکہ آپ کے والد سے مجھے بہت خلوص ہے۔ اس لیے میں نے ان سے خواہش کی تھی کہ وہ آپ کے والد کی تجہیز و تکفین کرے۔ 
کیسے تھے پچھلے زمانے کے لوگ 
حضرت سید شاہ ولی اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ
شریعت مطہرہ کے دفاع کے لیے علماء کاملین کشمیر سے کنیا کماری تک سینکروں مورچوں پر ڈٹے ہوئے تھے تاکہ ناپاک طاقتیں دامنِ اسلام کو داغدار نہ کرسکیں اور یہ ثابت بھی کردیا کہ صبح قیامت تک تحفظ اسلام کے سپوتوں کی نہ کوئی کمی ہے نہ ان کے خون کی گرمی کبھی سرد ہوسکتی، نہ ہی دشمن انہیں کسی مورچے پر مغلوب کرسکتا ہے! انہیں فرزندانِ اسلام میں ایک شخصیت ہے مجاہد ملت حضرت شاہ محمد ولی اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ کی جو ایک طرف شریعت مطہرہ کے تحفظ کے لیے شمالی ہندوستان کے شہر لکھنؤ و بدایون سے لے کر دکن ہندوستان کی سرزمین مدراس حیدرآباد اور صوبہ کرناٹک کے اکثر شہروں میں سرگرم عمل تھے کہ ہندوستان کے کونے کونے میں اسلام اور اہلسنت والجماعت کا وقار برقرار رہے۔
آپ کی ابتدائی تعلیم حضرت ابوالبرکات علامہ مولانا مفتی عبدالحی لکھنو ی رحمۃ اللہ علیہ کی شفیق اسلامی و روحانی درسگاہ میں ہوئی جہاں سے آپ عالم و فاضل محقق و مفتی بن کر نکلے۔
اپنے والد محترم سرکار الشاہ محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ سے پہلا خرقۂ خلافت و ارادت حاصل کیا۔ دوسرے مرحلے میں اعزازی خلافت ارادت کا خرقہ حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ تیسرا اعزازی خرقۂ خلافت و ارادت اپنے والد محترم سرکار شاہ محمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کے پیر محترم حضرت شاہ عبدالقادر ویلوری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند حضرت شاہ رکن الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ 
دینی و اصلاحی خدمات کا مختصر جائزہ:
انگریزوں کی پیدا کردہ و پروردہ غلام احمد قادیانی کی تحریک احمدیہ کی جڑواں تحریک ’’تحریک صدیق چنبسوویشور‘‘ دکن ہندوستان کے مذاہب میں خصوصاً ہندو ازم اور اسلام کے عقائد کے امتزاج ایک انوکھے نظرئیے کا سنگم پیش کردیا جس کو قبول کرکے نہ مسلمان! مسلمان رہے نہ ہندو! ہندو رہے! اس انتہائی خطرناک تحریک ’’صدیق چنبسویشور‘‘ کو نیست و نابود کرنے والی واحد شخصیت کا نام مجاہد ملت عارف باللہ سیدنا شاہ محمد ولی اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ ہے۔ 
جامعہ نظامیہ کے بانی حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ (حیدرآباد) کا یہ مخلص روحانی بھائی جن کو حضرت سید احمد دہلان مکی رحمۃ اللہ علیہ نے مجاہد ملت کے خطاب سے یاد فرمایا تھا حقیقتاً اپنے کردار سے آپ نے کشمیر سے کنیا کماری تک اپنی حیات میں ثابت بھی کردیا کہ مجاہدۂ ظاہر و باطنی کا حقیقی معیار صرف اور صرف خدا کی رضا اور مخلوق خدا کی خدمت ہے۔ 
قومی و ملی خدمات کا تجزیہ:
’’بنام مدنی مسجد‘‘ شہر دھارواڑ کے صدر بازار میں ایک عظیم الشان مسجد وسیع و عریض یعنی خطۂ اراضی پر تعمیر فرمائی جو اپنی مثال آپ ہے۔نیز ’’انجمن اسلام کے نام سے شہر ہبلی میں ایک اسلامی ادارہ قائم فرمایا جس میں آپ کے مریدین و طالبین نے خصوصاً تعاون فرمایا جن میں حضرت سردار و نواب محبوب علی خاں صاحب، جناب شاہدی صاحب اور جناب حسین بیگ صاحب فوجدار (فاروقی) وغیرہ حضرات مشہور و معروف ہیں۔ ادارہ ہذا آج صوبۂ کرناٹک کا رئیس ترین اور مصروف عمل ادارہ ہے کہ جس کے تحت پرائمری اسکولوں سے لے کر ڈگری کالج اور ہسپتال تک خدمت خلق کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ ہلگور تعلقہ شہنور وشہر بیجاپور کے دیہاتوں میں کئی مساجد کے علاوہ چھوٹی چھوٹی دینی درسگاہیں بھی قائم فرمائی تاکہ مسلمان دینی اور دنیوی علوم سے محروم نہ رہ سکے۔ آپ کی مشہور زمانہ تصنیفات یہ ہیں۔
جواز فاتحہ و دُعا:
یہ کتاب قبرپرستی اور بدعت کے الزام کی آڑ میں فاتحہ اور دُعا کو مشرکانہ عقائد ثابت کرنے کی خبیث اور ناپاک کوشش کرنے والے دین فروش علماء کے منہ پر تازیانہ حق ثابت ہوئی اور یہ وہ پہلی مستند کتاب ہے جو وہابیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔
ثبوتِ سماع موتیٰ:
بزرگان دین کو مردہ سمجھ کر ٹھٹا کرنے والے وہابیت کے علمبرداروں کو سرِ بازار بے نقاب کرنے والی یہ وہ مدلل و مفصل کتاب ہے جو وقت کی اہم ضرورت کو پورا کرتے ہوئے قرآن اور احادیث کریمہ کے روشن دلائل سے مسلمانوں کے عقائد حقہ کو عشق رسول کا سیسہ پلا ئی ہوئی آہنی دیوار بنادیتی ہے جس سے ٹکرا کر گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دشمنان اولیاء اللہ سیدھے اپنے انجام تک پہنچ جاتے ہیں۔
راہ سلوک:
گمراہ اور گمراہ کن پیروں کے لیے یہ کتاب مشعل ہدایت کا درجہ رکھتی ہے پہلے اس کتاب کی روشنی میں خود کی ظاہری و باطنی کیفیت اللہ اور اُس کے رسول پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے مطابق ڈھال لیں تاکہ اپنے طالبین یا سالکین اور مریدین کی رہنمائی کا فریضہ حسب منشائے خداوندی ادا کرسکیں۔
جواہر العرفان:
یہ وہ مقدس تصنیف ہے جس میں اسرار و معارف کے دریا بہا دےئے گئے ہیں سلسلہ قادریہ کے معیاری بزرگوں کی تصنیفات میں جواہر العرفان وہی مقام رکھتی ہے جو کتاب کے مضمون و مفہوم سے پہلے کتاب کا عنوان رکھتا ہے۔ یہ کتاب سلوک الی اللہ کے مسافر کے لیے شمع توفیق و ہدایت ہے لہٰذا اگر کسی کو پیر کامل نہ میسر آئے تو کتاب جواہر العرفان طالب کے لیے انشاء اللہ پیر کامل ثابت ہوگی۔
تفہیماتِ کلمہ کی کَل
جو غیر مطبوعہ تھی اور اب یہ کتاب زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے مطالعہ کیجئے بعد مطالعہ کہ آپ خود ہی کہہ اُٹھیں گے کہ ’’جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی کے لیے ہے۔
ملتِ اسلامیہ کا یہ عظیم رہنما و سپوت سن 1925ء میں اس دارِ فانی سے عالم جاویدانی کی طرف رواں دواں ہوا اور (موت العالم موت العالم) (ایک عالم ربانی کا انتقال درحقیقت ایک جہاں کا انتقال ہے) کے مصداق دنیا کی آنکھوں سے اُجھل ہوگیا۔(26) 
٭٭٭
حواشی و حوالہ جات
(1) تذکرہ علمائے ہندباغی ہندوستان بحوالہ تذکرہ حضرت محدث دکن، 
اسپیڈ پرنٹس، سعیدآباد، حیدرآباد۔
(2) تلخیص بحوالہ تاریخ ادبیات عربی ص 401 اسرار کریمی پریس‘ الہ آباد 1985 
(3) اخذ و استفادہ‘ تاریخ ادبیات عربی‘ ص 407-406‘ اسرار کریمی پریس‘ 
الہ آباد۔ 1985ء۔
(4) مولانا پروفیسر محمد سلطان محی الدین ! علماء العربیۃ و مساھماتھم فی الادب 
العربی فی العہد الآصفجاہی ص 121‘
(5) یادگار مجلہ ’’انوار سنت ص 72-71‘ 1994 ‘‘ بمسرت جشن دس سالہ‘ 
ناشر کل ہند مرکزی مجلس اہل سنت و جماعت حیدرآباد۔
(6) مولانا عبدالحی لکھنوی، حل المغلق،ص۱، مطبع نظامی کا نپور1302ھ
(7) علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی‘ شواہد الحق ص 56 
(8) امام محمد انوار اللہ فاروقی‘ انوار احمدی‘ ص 328 ‘ مجلس اشاعۃ العلوم‘ حیدرآباد 2002ء۔
(9)شاہِ ابوالخیر کنج نشین، مطلع الانوار! مولانا مفتی رکن الدین عرض حال 1405ھ
(10) مولانا ارشد القادری‘ تلخیص و تسہیل انوار احمدی‘ ص 37 ‘ مکتبہ جام نو ر دہلی (بار اول)
(11) ڈاکٹر عبدالحمید اکبر‘ مولانا محمد انوار اللہ فاروقی شخصیت ‘ علمی و ادبی خدمات 
ص48 مجلس اشاعت العلوم شبلی گنج حیدرآباد۔
(12) مفتی محمد رکن الدین قادری ‘ مطلع الانوار‘ ص 55-54‘ جمعیۃ الطلبہ 
جامعہ نظامیہ حیدرآباد 1405 ھ
(13) حکیم عبدالحئی لکھنؤی ‘ نزھۃ الخواطر جلد 8 ص 38 
(14) حکیم عبدالحئی لکھنؤی‘ نزھۃ الخواطر جلد8 
(15) ماہنامہ استقامت ڈائجسٹ (کانپور) ص 21-20‘ ستمبر 1976‘ انٹرویو از حضرت علامہ مفتی عبدالحمید صاحب شیخ الجامعۃ النظامیہ حیدرآباد دکن۔
(16) تذکرہ محدث دکن ص304‘ مولانا ڈاکٹر عبدالستار خان نقشبندی‘ 1999ء
(17) (The Relince of Traveller) بحوالہ تذکرہ حضرت محدث 
دکن ص305(1999ئ)
(18)(The Relince of Traveller)(بحوالہ تذکرہ محدث دکن
ص 307، مطبوعہ1999)
(19)ڈاکٹر عبدالستار خاں، تذکرہ محدث دکن، ص546تا 551۔ 
(1999ئ) اسپیڈ پرنٹس حیدرآباد)
(20) ڈاکٹر عبدالستار خاں، تذکرہ محدث دکن، (1999ئ) اسپیڈ پرنٹس حیدرآباد)
(21)حیات مخدوم الاولیاء ص 145، مولانا محمود احمد رفاقتی! امام محمد انوار اللہ فاروقی !
حقیقۃ الفقہ جلد دوم، مجلس اشاعۃ العلوم، حیدرآباد۔ 2000ء
(22) انوار ساطعہ ،ص9تا 11، ناشر۔ طلبہ درجۂ فضیلت جامعہ اشرفیہ، مبارکپور 1428ھ)
(23)حیات مخدوم الاولیاء !مولانا محمود احمد رفاقتی
(24)ماہنامہ مظہر حق، تاج الفحول نمبر ،ص134، 135،143، بدایون شریف یوپی۔ 
(25) بقلم و بشکریہ : فرزند مرحوم حضرت عبدالقیوم صدیقی واصل صاحب، ساکن مانصاحب ٹینک، حیدرآباد
(26)تلخیص مضمون از قلم: حضرت سید شاہ ولی اللہ قادری عرف باشاہ پیراں، تفہیمات کلمہ کی کل ص 100تا 109 ، 2007ء مالا پور، دھاروار کرناٹک)۔