یا استاد! یا پیر!
شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
یا استاد! یا پیر!

تلمیذ شیخ الاسلام حضرت الحاج مولانا مفتی سید محمود صاحب کان اللہ لہ سابق خطیب مکہ مسجد 
حضرت مفتی صاحب مولانا فضیلت جنگ کے مرید اور شاگرد خاص تھے۔ باوجود علالت کے لیٹے لیٹے آپ نے حسب ذیل تقریر کی جسے مدیر مجلہ ’’ارشاد ‘‘ نے نوٹ کرلیاتھا۔ 
وفور محبت سے مفتی صاحب اپنے پیر کو یاد کرتے جاتے اور آھیں بھرتے جاتے تھے۔ بار بار آنسو آنکھوں سے ڈھلکتے جاتے تھے ۔ عجیب رقت انگیز منظر تھا۔ سعادت مند شاگردوں کی ایسی نشانیاں اب آیندہ کہاں دیکھنے میں آئیں گی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
میرے پیر الحاج مولانا انوار اللہ خاں نواب فضیلت جنگ بہادررحمۃاللہ علیہ پایے کے زاہد ، متقی، شب بیدار اور صائم الدہرتھے۔ اپنے والد محترم حافظ شجاع الدین رحمۃاللہ علیہ سے ارادت تھی۔ (جو)حضرت شاہ رفیع الدین قندھاری رحمۃاللہ علیہ کے خلفاء میں سے تھے۔ علوم ظاہری کی تکمیل نہایت ہی مستند علماء مثلامولوی عبدالحلیم لکھنوی وغیرہ سے کی۔
محکمۂ مالگزاری میں ملازم ہوئے۔ ڈنلپ نامی کوئی انگریز آپ کے عہدہ دار تھے۔ واکر صاحب معین المہام تھے۔ اس زمانے میں مولانا ظہر کی نماز اس مسجد میں ادا فرماتے تھے جو اب حضرت عبداللہ شاہ صاحب رحمۃاللہ علیہ کی مسجد کے نام سے موسوم ہے۔(قریب حسینی علم)۔ بوجہ خشوع وخضوع نماز طویل ہوجاتی تھی۔ ایک دن دو پہر میں ڈنلپ نے آپ کو طلب کیا۔ معلوم ہوا نماز سے واپس نہیں ہوئے۔ اس نے حیرت سے کہا: نوکری اور نماز ۔ کیا تعلق؟
جمعدار پیشی نے جو حضرت کا معتقد تھا آپ کے آنے کے بعد عرض حال کیا۔ آپ نے اسی وقت ملازمت سے استعفاء لکھ دیا۔ قندھار کی قضاء ت بھائی کے نام کردی اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے۔ حاجی امداد اللہ رحمۃاللہ علیہ سے وہیں سلسلۂ چشتیہ میں بیعت فرمائی۔ اسی قیام میں ایک مسدس لکھا اور اس کی شرح ’’انوار احمدی‘‘ لکھنا شروع کی۔ اس پر حاجی صاحب کی تقریظ موجود ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ ’’عقائد اہل سنت کے مطابق اور مستند کتاب ہے‘‘۔
مدینہ میں اوقات اشغال واعمال میں صرف ہوتے تھے۔ باب جبرئیل کے پاس جو کتب خانہ تھا وہاں ذوق مطالعہ کی تکمیل فرماتے۔ وہیں سے کئی غیر مطبوعہ قلمی نسخے لیکر نقلیں کیں۔
رمضان گذار کر مکہ آئے تھے۔ جب مکہ پہونچے حاجی صاحب رحمۃاللہ علیہ نے پوچھا: ’’رات کو بشاریٰ ہوا؟‘‘جواب دیا:’’سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے دکن جانے کا حکم دیا ہے‘‘۔ حاجی صاحب رحمۃاللہ علیہ نے بھی اجازت دی، مگر دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ کرجانا بڑا شاق گذررہا تھا حج سے واپس آنے پر بیوی بیمار ہوکر مرگئیں۔ حاجی صاحبرحمۃاللہ علیہ نے کہا: احکام رسول صلی اللہ علیہ وسلمکی نافرمانی میں دنیا وعقبیٰ کی خرابی ہے۔ عرض کیا: ’’ہجرت کی نیت کس دل سے توڑوں‘‘۔اسی دوران میں اٹھارہ سالہ صاحبزادے نے انتقال کیا۔ مولانا فرمایا کرتے تھے: 
’’ محمود! تجھ جیسا ہی تھا میرا بیٹا!‘‘۔
حاجی صاحب نے مکہ بلواکر دکن جانے کیلئے سختی کی۔ جدّہ آکر ذریعہ جہاز ہند پہونچے۔ دکن جاکر ایک مدرسہ دینی قائم کرنے کا بارگاہ رسالت سے حکم ہوچکا تھا۔ قیام مدرسہ کے لئے مسجد افضل گنج میں اترے۔ طلباء کو جمع کر کے تعلیم دینا شروع کردی۔ تفسیر ، فقہ، حدیث وغیرہ کی باقاعدہ تعلیم ہوتی۔ ابتدائی شاگردوں میں مظفر الدین معلی وغیر ہ شامل تھے۔ سال بھر تک اس درس کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی سا ل زماں خاں شہیدرحمۃاللہ علیہ کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ مسیح الزماںاستاد شاہ مقرر ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ توشہ خانہ، میز خانہ اور جواہر خانہ بھی انہی سے متعلق تھے۔ کثرت کار کی وجہ سے پریشان تھے۔ نواب سالارجنگ سے ذکر کیا۔ استادی کے کام کو علحدہ کردیا گیا اور مولانا انواراللہ خاںرحمۃاللہ علیہ سے خواہش کی گئی کہ استاد شاہ کے فرائض انجام دیں۔ (300)روپے ماہانہ مشاہرہ مقرر ہوا۔ ظہر کی نماز کے بعد سے چار بجے تک مولانا یہ خدمت انجام دیتے تھے۔ 
حضرت مولانا کا معمول یہ تھا کہ شب بیدار رہتے اور اشراق کے بعد آرام فرماتے۔ ظہر کو بیدار ہو کر خاصہ تناول فرماتے اور پڑھانے چلے جاتے اس زمانے میں مولانا نے مدرسہ نظامیہ قائم فرمایا۔ پرانی حویلی میں پڑھا کر سیدھا مدرسہ آتے اور مغرب تک نگرانی فرماتے۔ 
گھر پر نصف شب تک خاص شاگردوں کو پڑھاتے۔ پھر تین بجے شب تک تصنیف و تالیف میں مشغول رہتے۔ پھر فجر تک تہجد میں مصروف رہتے۔ تہجد کی بارہ رکعتوں میں قرآن شریف ختم فرماتے۔ وتر کے ساتھ اذاں ہوتی۔ بعد نماز فجر تلاوت اور اوراد سے فارغ ہو کر مراقبے میں بیٹھ جاتے۔ روزہ نہ رہتے تو ناشتہ آتا ورنہ سحر کر کے تہجد پڑھتے۔
تصوف کی مشہور کتاب ’’فتوحات مکیہ‘‘ کا درس خاص شاگردوں کو عشاء کے بعد دیتے۔ فتوحات مکیہ کے بعض مضامین بظاہر خلاف شریعت معلوم ہوتے ہیں۔ 
میری عمر21سال کی تھی۔ میں نے بھی درس میں شامل ہونے کی گذارش کی۔ فرمایا: تمہاری عمر ابھی اتنی نہیں کہ اس درس میں شامل کئے جاؤ۔ میں نے ایک دو میری ہی عمر کے شاگردوں کا حوالہ دیا تو فرمایا: وہ شادی شدہ ہیں۔ تم بھی شادی کرلو تو تمہیں بھی شریک کرلوں۔ میں نے عرض کیا: راضی ہوں آپ ہی کسی سے شادی کرادیں۔ پھر میں نے عرض کیا: الماس حسین کی شادی کہا ںہوئی ہے؟ انہیں آپ نے شریک فرمایا ہے۔ مسکرا کر فرمایا: شادی سے مطلب غلامی میں راہ سلوک طے کرنا ہے۔ میں نے عرض کیا: آپ کی غلامی میں حاضر ہوں۔ مجھے بھی مرید فرمالیجئے۔ فرمایا:11!ربیع الثانی کو طریقۂ قادریہ میں مرید کرونگا۔ (بعد میں مجھے سلسلہ چشتیہ میں بھی مرید فرمایا)۔ ایک سال بعد درس میں شریک کروں گا۔ مگر چالیس دن تک کوئی شک دل میں آئے تو خاموش رہنا۔ ایک سال بعد درس میں شریک ہونے کی آرزو پوری ہوئی۔ مولوی رکن الدین اور میں کتاب کی عبارت پڑھتے اور حضرت مولانارحمۃاللہ علیہ تفہیم فرماتے جاتے۔ پہلے ہی درس میںخیال گذرا کہ کتاب کفریات سے مملو ہے۔ مگر ہر دوسرے روز پہلے روز کے شبہات دھلتے جاتے تھے۔ 
چالیس دن کے بعد سبق سے پہلے ہی فرمایا: محمود! آج چو چاہے اعتراض کرو۔ میں نے عرض کیا: آپ کے چالیس روزہ درس کے بعد اعتراض کی کیا گنجایش رہ سکتی ہے۔
کتاب ’’فتوحات مکیہ‘‘ کو مشہور مولف’’ابن عربی‘‘ نے کعبے کے سامنے بیٹھ کر لکھا تھا۔ کتاب لکھ کر کعبے کی چھت پر ڈال دی۔ سال بھر کے بعد بھی اس کا ایک حرف بھی مٹانہیں۔ اس کتاب سے استفادہ کے لئے شیخ پر اعتماد کرکے چالیس روزہ درس لینا پڑتا ہے۔ میرے پیر کے پاس روزانہ ڈھائی گھنٹے اس کا درس ہوتا تھا۔
ایک دن عبدالقادر کتب فروش آیا۔ میزان الصرف کی شرح پسند آئی۔اس نے قیمت دوروپے بتائی۔ میں نے عرض کیا کتاب تو بارہ آنے میں ملتی ہے۔ مگر حضرت رحمۃاللہ علیہ نے مسکرا کر دو روپے ادا کردئے۔ اور فرمایا: وہ ہمارے کام اور ذوق کی کتابیں چن چن کر لاتا ہے۔ گھر بیٹھے ہماری خدمت کرتا ہے۔ اس کو قیمت اضافہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جو کتاب بھی لیتے آٹھ دس روز تک مسلسل زیر مطالعہ رکھتے۔ اور حاشیہ لکھتے جاتے۔ کسی کتاب کو بغیر ختم کئے الماری میں نہ رکھتے۔ میرے پیر کی ساری عمر خدمت علم اور خدمت خلق میں صرف ہوئی۔ 
آخری عمر میں راج پھوڑا ہوا۔ ارسطو یار جنگ علاج کے لئے مامور ہوئے اور آپریشن کرنا تجویز کیا۔ حضرت آپریشن کے مخالف تھے۔ مگر حکم سرکار سے آپریشن کیا جاناطے ہوا۔ اس وقت میں میسرم کا مفتی تھا۔ حضرت رحمۃاللہ علیہ مندوزیٔ کی دیوڑھی میں مقیم تھے۔ میں بھاگا بھاگا آیا معلوم ہوا، آپریشن ہورہا ہے۔ آپریشن کے بعد جب کمرے میں لائے گئے تو بیہوشی طاری تھی۔ دروازے پر حکیم محمود صمدانی متعین تھے۔ وہ میرے طب کے استاد تھے۔ انہوں نے مجھے اندرجانے سے روکا۔میں نے کہا: پیر کو دیکھوں گا۔بہت روکا مگر زور کر کے اندر گھس گیا۔ اس وقت تک ہوش آچکا تھا۔ کرب واضطراب بیحد تھا۔ قبلہ رولیٹے تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا: محمود! مت رو۔ ہم کو بلاوا آچکا ہے۔ یہ وقت مقرر ہے۔ اسی روز دنیا سے پردہ فرمایا۔ اقرباء کا خیال تھا کہ خاندانی ہڑواڑ میں حافظ شجاع الدین رحمۃاللہ علیہ کی گنبد کے بازو رکھاجائے مگر مولوی رکن الدین اور میں نے طے کیا کہ مدرسہ نظامیہ میں رکھنا زیادہ مناسب ہے۔ اس وقت اعلحضرت بمبی میں تشریف فرماتھے۔ بمبی کو تار کئے گئے۔ اور روضۂ مبارک آج تک مرجع خلائق خاص و عام ہے۔
میرا ایقان ہے کہ میرے پیر ہی آج تک وہا ںسے مدرسہ کا انتظام چلا رہے ہیں۔ چالیس سال غلامی میں گذارا ہوں۔ ایک ایک دن کی تفصیل دماغ پر نقش ہے۔ کیا کیا کہا جائے۔ اب بھی انہی کے سرہانے بیٹھاہوں۔ رات دن انہی کا تصور ہے۔
(بشکریہ: ماہنامہ ارشاد ستمبر۔1960