مقام مجددیت
شیخ الامام محمدانوار اللہ فاروقی 
اور مقام مجددیت

از: محترم فخرالدین اویسی المدنی(جنوبی افریقہ)، نبیرہ حضرت فخر ملت
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ یبعث لہذہ الا مۃ علی راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا
آج سے ایک ہزار چارسوسال قبل سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت دے دی تھی کہ جب یہ امت مرحومہ یا اس کا کوئی حصہ علم وروح کے لئے پیاسا ہوگا، تو رب ذوالجلال ایسی شخصیتں اٹھا ئیگا جو اس کے صحیح ساقی بینں گے او راسے جام وحدت اور مئے عشقِ رسالت بھربھر کرپلائیںگے ،یہی وہ اشخاص ہیں جنہیں مجددکہاجاتاہے اورجو اس دین کو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تازہ وتر کردیتے ہیں۔
اللہ کے فضل وکرم اور انوار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرزمین ہندوستان کے علاقہ دکن کو بھی اس بشارتِ محمدیصلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ ملا چنانچہ ہمارے سامنے عہدِ قریب کی ایک شخصیت ہے جسے ہم پورے اطمینان سے اسی نبوی بشارت کا ایک حصہ کہہ سکتے ہیں اور وہ شخصیت ہے بانی جامعہ نظامیہ شیخ الاسلام حضرت محمدانواراللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ ، اگر مجددین اسلام کی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں پانچ ایسی باتیں ملیں گی جو ہر مجدد میں پائی گئیں ، وہ پانچ باتیں ہیں: 
شریعت ۔
طریقت ۔
ھیبت۔
خدمت۔
ثمرات۔
اگر حضرت شیخ الاسلام کی حیات دیکھی جائے تو ہمیں یہ پانچوں باتیں آپ میں بدرجۂ اتم ملیں گی۔ علوم شرعیہ کے امام ہونے کے علاوہ حضرت انوار اللہ رحمۃاللہ علیہ سرزمین دکن میں علم وفن کا چراغ روشن کرنے والے بھی تھے۔ آپنے وقت کے اکابر علماء سے سندیں حاصل کیں اور آج بھی آپ کے فتاویٰ ومؤلفات علم شریعت پر گہری نظر کی چمکتی دلیل ہیں۔ انہی شرعی وفقہی صلاحیتوں کی بناء پر آپ مملکت کے صدر الصدور وقاضی القضاۃ بھی بنے۔ 
دوسری طرف آپ علوم طریقت کے بھی حامل تھے اور سلسلہ عالیہ چشتیہ میں اکابروقت سے خلافت حاصل کی زمانے کے علماء ومشائخ نے آپ کی ولایت کا اعتراف کیا۔ 
ہیبت کا معاملہ توآج بھی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ آپ’’استاذ سلاطین دکن ‘‘بلکہ صحیح معنوں میں مخدوم سلاطین تھے نہ کہ خادم، اورشاہی خاندان آصفیہ اپنی شان وشوکت کے باوجود آپ کے سامنے ادب وخشوع سے حاضر ہوتاتھا۔ 
رہی مجددیت جو سب سے اہم صفت ہے آپ کی نظیر عہد قریب میں بہت کم ملتی ہے ۔ کتب خانہ آصفیہ اور دائرۃ المعارف جیسے عظیم عالمی اسلامی اداروںکے قیام کے علاوہ آپ کا سب سے عظیم کارنامہ مشہور آفاق جامعہ نظامیہ کا قیام تھا۔ وہ جامعہ جو (135)سال سے جنوبی ہند کے مسلمانوں کے لئے علم وہدایت کا مینارہے او رجس کے ذریعہ حضرت شیخ الاسلام کی مجددیت آج تک ظاہر ہورہی ہے۔ بے شک دکن کا مسلمان اس عظیم خدمت کے لئے قیامت تک آپ کا مرہون منت رہیگا۔ اسی جامعہ نظامیہ کے ذریعہ حضرت شیخ الاسلام کی بے لوث خدمات کے ثمرات ظاہرہوئے ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مجدد دوسرا مجددپیداکرتا ہے۔حضرت شیخ الاسلام کے اداروں نے بھی دکن میں اسلام کے مختلف پہلوؤں میں مجدد نمایاں کئے ، علم فقہ کی بات آتی تو مولانا ابوالوفاء افغانی رحمۃاللہ علیہ جیسی شخصیتیں چمکتی نظرآتی ہیں، طریقت کا ذکرآتا ہے تو محدث دکن حضرت مولاناسیدعبداللہ شاہ نقشبندی رحمۃاللہ علیہ اور بحر العلوم حضرت عبدالقدیرصدیقی رحمۃاللہ علیہ جیسی ہستیاں نظرآتی ہیں، سیاست کی بات آتی ہے تو راقم کے جدامجد فخر ملت مولانا عبدالواحد اویسی ا نام ذہن میں آتاہے جن کی خدمات نے مسلمانان دکن کو پھر سے مسندعزت وخود داری پر بٹھایا اور جو زندگی بھر جامعہ نظامیہ اور شیخ الاسلام سے اپنی نسبت پر بڑا فخر کرتے تھے ۔ بارگاہ شیخ الاسلام میں اس مختصر نذرانہ کے اختتام میں ہم اللہ عزوجل سے یہ دعاء کرتے ہیں کہ وہ حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی رحمۃاللہ علیہ کے درجات جنات الفردوس میں بلند کرے اور آپ کے بِناکردہ جامعہ نظامیہ کو ترقی دے اور تمام دینی ودنیوی آفتوں سے محفوظ رکھے۔(آمین یارب العالمین)
٭٭٭